عورتوں کو مسجد میں جانے کے لیے اجازت کا بیان - عورتوں کو مسجد میں جانے کے لیے اجازت کا بیان - عورتوں کے جماعت کے لیے مسجدوں کی طرف نکلنے کے بیانات - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation
Chapter 1 of عورتوں کے جماعت کے لیے مسجدوں کی طرف نکلنے کے بیانات in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.
سیّدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی باندیوں کو اللہ کی مسجدوں میں جانے سے نہ روکو ۔
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی لونڈیوں کو اللہ کی مسجدوں سے نہ روکو او ر عورتوں کو چاہیے کہ وہ خوشبو استعمال کیے بغیر مسجد میں جایا کریں ۔
سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عورتوں کو رات کے وقت (مسجد میں جانے کی) اجازت دے دیا کرو، اس حال میں کہ انھوں نے خوشبو استعمال نہ کی ہوئی ہو۔ صرف لیث راوی نے تَفِلَات کے الفاظ کا ذکر کیا ہے۔
سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی آدمی اپنے گھر والوں کو مسجدوں میں آنے سے ہر گز نہ روکے۔ سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے ایک بیٹے نے کہا: ہم تو ان کو روکیں گے۔ یہ سن کر سیّدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث بیان کر رہا ہوں اور تو (ان کو منع کرنے کی) بات کرتاہے۔ اس کے بعد سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی وفات تک اُس بیٹے سے کلام نہیں کیا۔
Takhreej
(۲۴۹۲) تخریـج: …اسنادہ صحیح۔ انظر الحدیث: ۱۳۲۷ (انظر: ۴۹۳۳)
سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنی عورتوں کو رات کے وقت مسجدوں میں جانے سے نہ روکا کرو۔ سالم یا کسی اور بیٹے نے آگے سے کہا: اللہ کی قسم! ہم ان کو نہیں جانے دیں گے، کیونکہ یہ تو اس کو دھوکے کا ذریعہ بنا لیں گی۔ سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے سینے پر تھپڑ مارا اور کہا: میں تجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث بیان کر رہا ہوں اور تو یہ کہتا ہے۔
سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ہی سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عورتوں کو مسجدوں میں جانے سے نہ روکا کرو، بہرحال ان کے گھر ان کے لیے بہتر ہیں۔ سیّدنا عبد اللہ بن عمرکے کسی بیٹے نے کہا: کیوں نہیں، اللہ کی قسم! ہم ان کو ضرور روکیں گے۔ سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اسے کہا: تو سن رہا ہے کہ میں رسول اللہ کی حدیث بیان کر رہا ہوں اور تو یہ بول بولتا ہے۔
Takhreej
(۲۴۹۴) تخریـج: …حدیث صحیح، وھذا سند ضعیف، انظر الحدیث السابق: ۱۳۳۲، أما قولہ: ((وبیوتھن خیر لھن)) لہ شاھد من حدیث ابن مسعود أخرجہ ابوداود: ۵۷۰ (انظر: ۵۴۶۸)
سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب عورتیں تم سے اجازت مانگیں تو ان کے حق کو مساجد سے نہ روکو۔ بلال بن عبد اللہ کہنے لگے: اللہ کی قسم! ہم تو ان کو ضرور روکیں گے۔ سیّدناعبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں کہہ رہا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس طرح فرمایاہے اور تو یہ بات کہتا ہے کہ ہم ان کو روکیں گے۔
Takhreej
(۲۴۹۵) تخریـج: …اسنادہ صحیح علی شرط مسلم انظر الحدیث السابق: ۱۳۳۳ (انظر: ۵۶۴۰)
سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ بڑے غیرت مند آدمی تھے، جب وہ نماز کے لیے نکلتے تو (ان کی بیوی) سیدہ عاتکہ بنت زید رضی اللہ عنہا بھی ان کے پیچھے چلی جاتیں، سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ اس کے نکلنے کو نا پسند بھی کرتے، لیکن اس کو روکنا بھی ان کو گوارا نہ تھا، پھر وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تمہاری عورتیں تم سے مسجد میں جانے کے لیے اجازت مانگیں تو ان کو نہ روکا کرو ۔
Takhreej
(۲۴۹۶) تخریـج: …صحیح، الا ان سالم بن عبد اللہ لم یدرک جدہ ولم یسمع منہ، لکن فی الباب احادیث صحیحۃ ثابتۃ (انظر: ۲۸۳)
سیّدنا عبد اللہ بن عمر کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کی بیوی اس سے مسجد میں جانے کے لیے اجازت مانگے، تو وہ اس کو نہ روکے۔ سیّدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کی بیوی بھی مسجد میں نماز پڑھتی تھی، سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو کہا: تو جانتی تو ہے کہ میں کیا پسند کرتا ہوں۔ لیکن اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں اس وقت تک باز نہیں آؤں گی، جب تک آپ مجھے منع نہیں کر دیتے۔ پھر جب سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خنجر مارا گیا تو ان کی بیوی مسجد میں ہی تھی۔
Takhreej
(۲۴۹۷) تخریـج: …اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین أخرجہ البخاری: ۸۷۳ دون قصۃ امرأۃ عمر، وأخرج بنحوہ مسلم: ۴۴۲ (انظر: ۴۵۲۲)