TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

مقتدیوں کو لمبی نماز پڑھانے کے بارے میں سیّدنا معاذ بن جبل Bکا قصہ اور عذر کی وجہ سے مقتدی کا اکیلے نماز پڑھنے کا جواز - مقتدیوں کو لمبی نماز پڑھانے کے بارے میں سیّدنا معاذ بن جبل Bکا قصہ اور عذر کی وجہ سے مقتدی کا اکیلے نماز پڑھنے کا جواز - امامت کا بیان،اماموں کی صفات اور ان سے متعلقہ مزید احکام - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 5 of امامت کا بیان،اماموں کی صفات اور ان سے متعلقہ مزید احکام in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 5 of 13 · 5 Hadith
۔ (۲۵۵۳) عَنْ أَنَسٍ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ یَؤُمُّ قَوْمَہُ فَدَخَلَ حَرَامٌ وَھُوَ یُرِیْدُ أَنْ یَسْقِیَ نَخْلَہُ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ لِیُصَلِّیَ مَعَ الْقَوْمِ، فَلَمَّا رَأٰی مُعَاذًا طَوَّلَ تَجَوَّزَ فِی صَلَاتِہِ وَلَحِقَ بِنَخْلِہِ یَسْقِیْہِ، فَلَمَّا قَضٰی مُعَاذُ الصَّلَاۃَ قِیْلَ لَہُ: اِنَّ حَرَامًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَلَمَّا رَآکَ طَوَّلْتَ تَجَوَّزَ فِی صَلَاتِہِ وَلَحِقَ بِنَخْلِہِ یَسْقِیْہِ، قَالَ: اِنَّہُ لَمُنَافِقٌ أَیَعْجَلُ عَنِ الصَّلَاۃِ مِنْ أَجْلِ سَقْیِ نَخْلِہِ؟ قَالَ: فَجَائَ حَرَامٌ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَمُعَاذٌ عِنْدَہُ، فَقَالَ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! اِنِّی أَرَدْتُّ أَنْ أَسْقِیَ نَخْلًا لِیْ فَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ لِاُصَلِّیَ مَعَ الْقَوْمِ، فَلَمَّا طَوَّلَ تَجَوَّزْتُ فِی صَلَاتِی وَلَحِقْتُ بِنَخْلِیْ أَسْقِیْہِ فَزَعَمَ أَنِّی مُنَافِقٌ فَأَقْبَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی مُعَاذٍ فَقَالَ: ((أَفَتَّانٌ أَنْتَ، أَفَتَّانٌ أَنْتَ، لَا تُطَوِّلْ بِہِمْ، اِقْرَأْ بِـ {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلٰی، وَالشَّمْسِ وَضُحَاھَا} وَنَحْوِھِمَا۔ (مسند احمد: ۱۲۲۷۲)
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: سیّدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اپنی قوم کی امامت کرواتے تھے، ایک دن حرام (بن ملحان) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ (مسجد میں) داخل ہوئے، جبکہ وہ اپنی کھجوروں کو سیراب کرنے کا ارادہ بھی رکھتے تھے، وہ لوگوں کے ساتھ نماز پڑھنے کے لیے مسجد میں داخل ہوئے، لیکن جب انھوں نے دیکھا کہ سیّدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نماز کو لمبا کر رہے ہیں تو انھوں نے مختصر سی نماز پڑھی اور اپنی کھجوروں میں جا کر ان کو پانی دینے لگ گئے۔ جب سیّدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے نماز پوری کی تو ان کو بتلایا گیاکہ حرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مسجد میں داخل ہوئے تھے، لیکن جب انہوں نے آپ کی طویل نماز دیکھی تو انہوں نے اختصار کے ساتھ اپنی نماز پڑھ لی اور کھجوروں کو پانی دینے کے لیے وہاں چلے گئے ہیں۔ سیّدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: بیشک وہ منافق ہے، کیا وہ کھجوروں کو پانی دینے کی خاطر نماز سے جلدی کرتا ہے! سیّدنا حرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے جبکہ سیّدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی وہاں بیٹھے ہوئے تھے۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! میرا ارادہ کھجوروں کو پانی دینے کا تھا، لیکن میں پہلے مسجد میں آگیا تاکہ لوگوں کے ساتھ نماز پڑھ لوں۔لیکن جب میں نے اِن کو دیکھا کہ یہ تو طویل نماز پڑھا رہے ہیں تو میں نے اختصار کے ساتھ نماز پڑھی اور اپنی کھجوروں کو پانی دینے کے لیے وہاں چلا گیا، تو سیّدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا ہے کہ میں منافق ہوں۔ یہ سن کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیّدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پر متوجہ ہوئے اور فرمایا: کیا تو فتنہ باز ہے! کیا تو فتنہ باز ہے، ان کو لمبی نماز نہ پڑھایا کر اور سورۂ اعلی، سورۂ شمس اور ان جیسی سورتیں پڑھ لیا کر۔
Takhreej
(۲۵۵۳) تخریـج: …اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین أخرجہ البزار: ۴۸۱، والنسائی فی ’’الکبری‘‘: ۱۱۶۷۴، والضیاء فی ’’المختارۃ‘‘: ۲۲۹۲ (انظر: ۱۲۲۴۷)
2553
Sahih
۔ (۲۵۵۴) حدثنا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی ثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَمْرٍو سَمِعَہُ مِنْ جَابِرٍ کَانَ مُعَاذٌ یُصَلِّیْ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ یَرْجِعُ فَیَؤُمُّنَا وَقَالَ مَرَّۃً ثُمَّ یَرْجِعُ فَیُصَلِّی بِقَوْمِہٖ فَأَخَّرَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَیْلَۃً الصَّلَاۃَ وَقَالَ مَرَّۃً الْعِشَائَ، فَصَلّٰی مُعَاذٌ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ جَائَ قَوْمَہُ، فَقَرأَ الْبَقَرَۃَ، فَاعْتَزَلَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَصَلّٰی، فَقِیْلَ: نَا فَقْتَ یَا فُلَانُ، قَالَ: مَا نَافَقْتُ، فَأَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: اِنَّ مُعَاذًا یُصَلِّیْ مَعَکَ ثُمَّ یَرْجِعُ فَیَؤُمُّنَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّمَا نَحْنُ أَصْحَابُ نَوَاضِحَ وَنَعْمَلُ بِأَیْدِیْنَا، وَاِنَّہُ جَائَ یَؤُمُّنَا فَقَرَأَ سُوْرَۃَ الْبَقَرَۃِ فَسَأَلَ: ((یَا مُعَاذُ! أَفَتَّانٌ أَنْتَ؟ أَفَتَّانٌ أَنْتَ؟ اِقْرَأْ بِکَذَ وَکَذَا قَالَ أَبُو الزُّبَیْرِ بِـ {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْأَعْلٰی۔ وَاللَّیْلِ اِذَا یَغْشٰی} فَذَکَرْنَا لِعَمْرٍو فَقَالَ أُرَاہُ قَدْ ذَکَرَہُ۔ (مسند احمد: ۱۴۳۵۸)
سیّدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: سیّدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے، پھر وہاں سے لوٹتے اور ہمیں نماز پڑھاتے تھے،ایک روایت میں ہے: پھر وہ لوٹتے اور اپنی قوم کو نماز پڑھاتے تھے، ایک رات نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نمازِ عشاء کو مؤخر کر دیا۔ سیّدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ (عام عادت کے مطابق) نماز پڑھی، پھر وہ اپنی قوم کی طرف گئے اور نماز میں سورۂ بقرہ کی تلاوت شروع کر دی، (اِس طویل قیام کی وجہ سے) ایک آدمی نے علیحدہ ہو کر نماز پڑھ لی۔ اس کہا گیا: او فلاں! تو تو منافق ہو گیا ہے، لیکن اس نے کہا: میں منافق نہیں ہوا۔ پھر وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! بیشک سیّدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ٓپ کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں، پھر وہ یہاں سے واپس جا کر ہماری امامت کرواتے ہیں، ہم اونٹوں والے لوگ ہیں اوراپنے ہاتھ سے کام کرتے ہیں، لیکن جب سیّدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہمیں نماز پڑھانے لگے تو انھوں نے سورۂ بقرہ کی تلاوت شروع کر دی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: معاذ! کیا تو فتنہ باز ہے؟ کیا تو لوگوں کو فتنے میں مبتلا کرنا چاہتا ہے؟ فلاں فلاں سورت پڑھ لیا کر۔ ابوزبیر ((حدیث بیان کرتے ہوئے)) کہتے ہیں: تو سورۂ اعلی اور سورۂ لیل پڑھا کر۔ پھر ہم نے یہ بات عمرو بن دینار کے لیے ذکر کی، تو انہوں نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ سیّدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس کو ذکر کیا تھا۔
Takhreej
(۲۵۵۴) تخریـج: …أخرجہ مطولا ومختصرا البخاری: ۷۰۵، ۷۱۱، ۶۱۰۶، ومسلم: ۴۶۵، وابوداود: ۶۰۰، ۷۹۰، والنسائی: ۲/۱۰۲ (انظر: ۱۴۱۹۰، ۱۴۳۰۷)
2554
Sahih
۔ (۲۵۵۵)(وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَحَجَّاجُ قَالَا ثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ الْأَنْصَارِیَّ قَالَ: أَقْبَلَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ وَمَعَہُ نَاضِحَانِ لَہُ وَقَدْ جَنَحَتِ الشَّمْسُ وَمُعَاذٌ یُصَلِّی الْمَغْرِبَ فَدَخَلَ مَعَہُ الصَّلَاۃَ فَاسْتَفْتَحَ مُعَاذُ الْبَقَرَۃَ أَوِ النِّسَائَ، مُحَارِبٌ الَّذِی یَشُکُّ، فَلَمَّا رَأَی الرَّجُلُ ذٰلِکَ صَلّٰی ثُمَّ خَرَجَ، قَالَ: فَبَلَغَہُ أَنَّ مُعَاذًا نَالَ مِنْہُ، قَالَ حَجَّاجٌ یَنَالُ مِنْہُ، قَالَ: فَذَکَرَ ذٰلِکَ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((أَفَتَّانٌ أَنْتَ یَا مُعَاذُ؟ أَفَتَّانٌ أَنْتَ یَا مُعَاذُ؟ أَوْ فَاتِنٌ فَاتِنٌ فَاتِنٌ!؟)) وَقَالَ حَجَّاجٌ: ((أَفَاتِنٌ أَفَاتِنٌ أَفَاتِنٌ، فَلَوْلَا قَرَأْتَ {سَبِّحٍ اسْمَ رَبِّکَ الْأَعْلٰی، وَالشَّمْسِ وَضُحَاھَا} فَصَلّٰی وَرَائَ کَ الْکَبِیْرُ وَذُوا لْحَاجَۃِ وَالضَّعِیْفُ، أَحْسِبُ مُحَارِبًا الَّذِی یَشُکُّ فِی الضَّعِیْفِ۔ (مسند احمد: ۱۴۲۳۹)
(دوسری سند)سیّدنا جابر بن عبد اللہ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ایک انصاری آدمی آیا، اس کے ساتھ دو اونٹنیاں بھی تھیں، اُدھر سورج غروب ہوچکا تھا اور سیّدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مغرب کی نماز پڑھا رہے تھے، اس لیے وہ بھی نماز میں شامل ہو گیا، سیّدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سورۂ بقرہ یا سورۂ نساء کی تلاوت شروع کردی، جب اس آدمی نے یہ صورتحال دیکھی تو اس نے علیحدہ نماز پڑھ لی اور چلا گیا۔جب اسے پتہ چلا کہ سیّدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے تو اس کی عیب جوئی کی (کہ وہ منافق ہے) تو اس نے یہ بات نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تک پہنچا دی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے معاذ! کیا تو فتنہ باز ہے؟ معاذ! کیاتو فتنہ باز ہے؟ تو نے {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلٰی} اور {وَالشَّمْسِ وَضُحَاھَا} جیسی سورتیں کیوں نہیں پڑھیں، وجہ یہ ہے کہ تیرے پیچھے بوڑھے، حاجت مند اور کمزور لوگ بھی نماز پڑھتے ہیں۔
Takhreej
(۲۵۵۵)تخریـج: …انظر الحدیث بالطریق الاول
2555
Sahih
۔ (۲۵۵۶) عَنْ مُعَاذِ بْنِ رِفَاعَۃَ الْأَنْصَارِیِّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِی سَلِمَۃَ یُقَالُ لَہُ سُلَیْمٌ أَتٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ یَأْتِیْنَا بَعْدَ مَا نَنَامُ وَنَکُوْنُ فِی أَعْمَالِنَا بِالنَّہَارِ فَیُنَادِی بِالصَّلَاۃِ فَنَخْرُجُ اِلَیْہِ فَیُطَوِّلُ عَلَیْنَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا مُعَاذُ بْنَ جَبلٍ! لَا تَکُنْ فَتَّانًا، اِمَّا أَنْ تُصَلِّیْ مَعِیَ وَاِمَّا أَنْ تُخَفِّفَ عَلٰی قَوْمِکَ۔)) ثُمَّ قَالَ: ((یَا سُلَیْمُ! مَاذَا مَعَکَ مِنَ الْقُرْآنِ؟)) قَالَ: اِنِّی أَسْألُ اللّٰہَ الْجَنَّۃ وَأَعُوْذُ بِہِ مِنَ النَّارِ، وَاللّٰہِ مَا أُحْسِنُ دَنْدَنتَک وَلَا دَنْدَنۃَ مُعَاذٍ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَھَلْ تَصِیْرُ دَنْدَنَتِیْ وَدَنْدَنَۃُ مُعَاذٍ اِلَّا أَنْ نَسْأَلَ اللّٰہَ الْجَنَّۃَ وَنَعُوْذَ بِہِ مِنَ النَّارِ، ثُمَّ قَالَ سُلَیْمٌ: سَتَرَوْنَ غَدًا اِذَا التَقَی الْقَوْمُ اِنْ شَائَ اللّٰہُ، قَالَ: وَالنَّاسُ یَتَجَہَّزُوْنَ اِلٰی أُحُدٍ فَخَرَجَ وَکَانَ فِی الشُّہَدَائِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ وَرِضْوَانُہُ عَلَیْہِ۔ (مسند احمد: ۲۰۹۷۵)
معاذ بن رفاعہ انصاری ، بنو سلمہ کے ایک سُلَیم نامی آدمی سے بیان کرتا ہے، وہ کہتا ہے: اے اللہ کے رسول! سیّدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہمارے پاس (نمازِ عشاء پڑھانے کے لیے) اس وقت آتے ہیں، جب ہم سو چکے ہوتے ہیں، جبکہ دن میں ہم کاموں میں مصروف رہتے ہیں، پھر وہ اذان دیتے ہیں اور جب ہم نماز پڑھنے کے لیے جاتے ہیں تو وہ لمبی نماز پڑھاتے ہیں۔ یہ سن کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے معاذ ! تو فتنہ پیدا کرنے والا نہ بن، یا تو میرے ساتھ نماز پڑھ ((اور واپس جا کر لوگوں کو نماز نہ پڑھا)) اوریا پھر اپنی قوم پر تخفیف کر۔ پھر فرمایا: اے سلیم! تجھے کتنا قرآن یاد ہے؟ اس نے کہا: میں اللہ سے جنت کا سوال کرتا ہوں اور آگ سے اس کی پناہ مانگتا ہوں، اللہ کی قسم! میں آپ اور معاذ کے گنگنانے کی طرح نہیں گنگنا سکتا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرا اور معاذ کی گنگناہٹ بھی یہی ہوتی ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال کرتے ہیں اور آگ سے اس کی پناہ طلب کرتے ہیں۔ پھر سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تم کل دیکھ لوگے جب ان شاء اللہ قوم دشمن سے ملے گی۔ اس وقت لوگ جنگ ِ احد کی تیاری کر رہے تھے۔ پھر وہ نکلا اور (اس دن کے)شہداء میں ہو گیا، اس پر اللہ کی رحمت اور اس کی رضا مندی ہو۔
Takhreej
(۲۵۵۶) تخریـج: …صحیح لغیرہ، وھذا اسناد منقطع، معاذ بن رفاعۃ لم یمسع ھذا الحدیث من سلیم أخرجہ البخاری فی ’’التاریخ الکبیر‘‘: ۳/ ۱۱۰، والطحاوی فی ’’شرح معانی الآثار‘‘: ۱/ ۴۰۹، والطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۶۳۹۱ (انظر: ۲۰۶۹۹)
2556
Sahih
۔ (۲۵۵۷) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِی بُرَیْدَۃَ الْأَسْلَمِیَّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ یَقُوْلُ: اِنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ صَلّٰی بِأَصْحَابِہِ صَلَاۃَ الْعِشَائِ فَقَرَأَ فِیْہَا {اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ} فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ قَبْلِ أَنْ یَفْرُغَ فَصَلّٰی وَذَھَبَ، فَقَالَ لَہُ مُعَاذٌ قَوْلًا شَدِیْدًا، فَأَتَی الرَّجُلُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاعْتَذَرَ اِلَیْہِ، فَقَالَ: اِنِّی کُنْتُ أَعْمَلُ عَلَی الْمَائِ۔ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((صَلِّ بِالشَّمْسِ وَضُحَاھَا وَنَحْوِھَا مِنَ السُّوَرِ۔)) (مسند احمد: ۲۳۳۹۶)
سیّدنا بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: بیشک سیّدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنے ساتھیوں کو عشاء کی نماز پڑھائی، اوراس میں {اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ} سورت کی تلاوت کی، ایک آدمی نماز سے فارغ ہونے سے پہلے ہی کھڑا ہو گیا اور علیحدہ نماز پڑھ کر چلا گیا، سیّدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس کے متعلق بڑی سخت بات کی۔ وہ آدمی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گیا اور آپ سے معذرت کرتے ہوئے کہا: میں نے پانی ڈھونے کا کام کیا، (اس لیے تھکا ہوا تھااور اس طرح نماز پڑھ لی)۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے (سیّدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو) فرمایا: تم سورۂ شمس جیسی سورتوں کے ساتھ امامت کروایا کرو۔
Takhreej
(۲۵۵۷) تخریـج: …صحیح لغیرہ، لکن لفظۃ: ’’فقرأ فیھا: اقتربت الساعۃ‘‘ شاذ فی حدیث بریدۃ الاسلمی، والمحفوظ انہ قرأ فیھا سورۃ البقرۃ (انظر: ۲۳۰۰۸)
2557
Sahih

Chapters

13
01
امام کے ضامن ہونے اور فاسق کی امامت کا بیان
5 Hadith
02
اس کا بیان کہ امامت کا زیادہ حق دار کون ہے
11 Hadith
03
نابینا آدمی اور بچے کی اور عورت کی عورتوں کی امامت کا بیان
5 Hadith
04
اس تخفیف کا بیان جس کا امام کو حکم دیا گیا ہے
7 Hadith
05
مقتدیوں کو لمبی نماز پڑھانے کے بارے میں سیّدنا معاذ بن جبل Bکا قصہ اور عذر کی وجہ سے مقتدی کا اکیلے نماز پڑھنے کا جواز
5 Hadith
06
رسول اللہaکا باوجود نماز مکمل کرنے کے لوگوں کو ہلکی نماز پڑھانے کا بیان
17 Hadith
07
اس امام کے حکم کا بیان، جس کو (دورانِ نماز) یہ یاد آجائے کہ وہ بے وضو ہے
5 Hadith
08
نماز میں امام کا اپنا نائب بنانے کا اور نائب بنانے والے امام کے آنے کے بعد نائب کا مقتدی بن جانے کا جواز
5 Hadith
09
اکیلے آدمی کا (دورانِ نماز) امامت کی طرف منتقل ہوجانے کے جواز کا بیان
1 Hadith
10
اس بات کا بیان کہ قبیلے کے امام کی عدم موجودگی میں کیا کیا جائے
1 Hadith
11
امام کا پہلی رکعت کو لمبا کرنے اوراس شخص کا انتظار کرنے کا بیان جس کو وہ داخل ہوتا ہوا محسوس کرے، تاکہ وہ رکعت پا لے
3 Hadith
12
امام کا مقتدیوں کو سنانے کے لیے نماز میں اونچی آواز سے تکبیر کہنے کے جواز کا بیان اور امام کے علاوہ کسی دوسرے کا تکبیر سنانے کا حکم
2 Hadith
13
امام اور ایک مقتدی کے ساتھ جماعت کا منعقد ہو جانا، برابر ہے کہ وہ مقتدی مرد ہو یا عورت ہو یا بچہ
3 Hadith
No chapter matched that.