TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نماز میں امام کا اپنا نائب بنانے کا اور نائب بنانے والے امام کے آنے کے بعد نائب کا مقتدی بن جانے کا جواز - نماز میں امام کا اپنا نائب بنانے کا اور نائب بنانے والے امام کے آنے کے بعد نائب کا مقتدی بن جانے کا جواز - امامت کا بیان،اماموں کی صفات اور ان سے متعلقہ مزید احکام - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 8 of امامت کا بیان،اماموں کی صفات اور ان سے متعلقہ مزید احکام in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 8 of 13 · 5 Hadith
۔ (۲۵۸۰) عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ قِتَالٌ بَیْنَ بَنِی عَمْرِو ابْنِ عَوْفٍ فَبَلَغَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَتَاھُمْ بَعْدَ الظُّہْرِ لِیُصْلِحَ بَیْنَہُمْ وَقَالَ: ((یَا بِلَالُ! اِنْ حَضَرَتِ الصَّلَاۃُ وَلَمْ آتِ فَمُرْ أَبَا بَکْرٍ یُصَلِّ بِالنَّاسِ۔)) قَالَ: فَلَمَّا حَضَرَتِ الْعَصْرُ أَقَامَ بِلَالٌ الصَّلَاۃَ (وَفِی رِوَایَۃٍ أَذَّنَ ثُمَّ أَقَامَ) ثُمَّ أَمَرَ أَبَا بَکْرٍ فَتَقَدَّمَ بِہِمْ وَجَائَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعْدَ مَا دَخَلَ أَبُوْبَکْرٍ فِی الصَّلَاۃِ فَلَمَّا رَأَوْہُ صَفَّحُوا وَجَائَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَشُقُّ النَّاسَ حَتّٰی قَامَ خَلْفَ أَبِی بَکْرٍ، قَالَ: وَکَانَ أَبُوْبَکْرٍ اِذَا دَخَلَ الصَّلَاۃَ لَمْ یَلْتَفِتْ فَلَمَّا رَأَی التَّصْفِیْحَ لَا یُمْسَکُ عَنْہُ، اِلْتَفَتَ فَرَأَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَلْفَہُ فَأَوْمَأَ اِلَیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِیَدِہِ أَنِ امْضِہْ فَقَامَ أَبُوْبَکْرٍ ھُنَیَّۃً، فَحَمِدَ لِلّٰہِ عَلٰی ذَلِکَ ثُمَّ مَشَی الْقَہْقرٰی، قَالَ: فَتَقَدَّمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَصَلّٰی بِالنَّاسِ، فَلَمَّا قَضٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَاتَہُ قَالَ: ((یَا أَبَا بَکْرٍ! مَا مَنَعَکَ اِذْ أَوْمَأْتُ اِلَیْکَ أَنْ لَاتَکُوْنَ مَضَیْتَ ’’وَفِی رِوَایَۃٍ أَنْ تَمْضِیَ‘‘ فِی صَلَاتِکَ؟)) قَالَ: فَقَالَ أَبُوْ بَکْرٍ: لَمْ یَکُنْ لِاِبْنِ أَبِی قُحَافَۃَ أَنْ یَؤُمَّ رَسُوْلَ اللّٰہَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ فَقَالَ لِلنَّاسِ: ((اِذَا نَابَکُمْ فِی صَلَاتِکُمْ شَیْئٌ فَلْیُسَبِّحِ الرِّجَالُ وَلْیُصَفِّحِ ’’وَفِی رِوَایَۃٍ وَلْیُصَفِّقِ‘‘ النِّسَائُ۔)) وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فَأَنْتُمْ لِمَ صَفَّحْتُمْ؟)) قَالُوْا: لِنُعْلِمَ أَبَابَکْرٍ، قَالَ: ((اِنَّ التَّصْفِیْحَ لِلنِّسَائِ وَالتَّسْبِیْحَ لِلرِّجَالِ)) (مسند احمد: ۲۳۲۰۵)
سیّدنا سہل بن سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: بنی عمرو بن عوف قبیلے کے ما بین کوئی لڑائی ہوگئی، جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ بات موصول ہوئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ظہر کے بعد ان کے درمیان صلح کرانے کے لیے ان کے پاس گئے اور فرمایا: بلال، اگر نماز کا وقت ہوجائے اور میں نہ پہنچ سکوں تو ابوبکر کو حکم دینا کہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں۔ جب عصر کا وقت ہوا تو سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اذان دی ،پھر اقامت کہی اور سیّدنا ابوبکر کو حکم دیا کہ وہ نماز پڑھائیں۔ پس وہ آگے بڑھے (اور نماز شروع کی)، اتنے میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی تشریف لے آئے، جب لوگوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا تو تالیاں بجانا شروع کردیں، اُدھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوگوں کو چیرتے ہوئے آئے اور سیّدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پیچھے کھڑے ہوگئے۔ سیّدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ جب نماز میں داخل ہوتے تو کسی چیز کی طرف متوجہ نہیں ہوتے تھے، اس دفعہ جب انھوں نے سوچا کہ تالیاں رک نہیں رہیں تو وہ پیچھے متوجہ ہوئے اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اپنے پیچھے دیکھا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو اشارہ کیا کہ وہ نماز جاری رکھیں، سیّدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھوڑی دیر تو ٹھہرے رہے، لیکن پھر اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرتے ہوئے الٹے پاؤں پیچھے ا ٓ گئے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آگے بڑھے اورلوگوں کو نماز پڑھائی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز مکمل کی تو فرمایا: اے ابوبکر! جب میں نے تم کو اشارہ کر دیا تھا توتم کو نماز جاری رکھنے سے کس چیز نے روک دیا تھا؟ سیّدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ابن ابی قحافہ کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی امامت کروائے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں سے فرمایا: جب تم کو نماز میں کوئی امر لاحق ہو جائے تو مرودں کو سبحان اللہ کہنا چاہئے اورعورتوں کو تالی بجانا چاہئے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اچھا تم نے تالیاں کیوں بجائی تھیں؟ انہوں نے کہا: ہم ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو (آپ کی آمد کا) بتانا چاہتے تھے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تالی بجانا عورتوں کے لیے ہے اور سبحان اللہ کہنا مردوں کے لیے ہے۔
Takhreej
(۲۵۸۰) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۷۱۹۰، ومسلم: ۴۲۱ (انظر: ۲۲۸۱۶، ۲۲۸۱۷)
2580
Sahih
۔ (۲۵۸۱) عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِالْمُطْلِبِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ فِی مَرَضِہٖ: ((مُرُوْا أَبَا بَکْرٍ یُصَلِّیْ بِالنَّاسِ۔)) فَخَرَجَ أَبُوْبَکْرٍ فَکَبَّرَ، وَوَجَدَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَاحَۃً فَخَرَجَ یُہَادٰی بَیْنَ رَجُلَیْنٍ، فَلَمَّا رَآہُ أَبُوْبَکْرٍ تَأَخَّرَ، فَأَشَارَ اِلَیْہِ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَکَانَکَ، ثُمَّ جَلَسَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلٰی جَنْبِ أَبِی بَکْرٍ فَاقْتَرَأَ مِنَ الْمَکَانِ الَّذِی بَلَغَ أَبُوْبَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ مِنَ السُّوْرَۃِ۔ (مسند احمد: ۱۷۸۵)
سیّدنا عباس بن عبد المطلب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ بے شک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی بیماری میں فرمایا: ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے۔ پس سیّدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نکلے اور اللہ اکبر کہہ کر نماز شروع کی، اتنے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کچھ راحت محسوس ہوئی، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی نکلے اور دو آدمیوں کے سہارے تشریف لے آئے، جب سیّدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا تو وہ پیچھے ہٹنے لگے، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی طرف اشارہ کیا کہ وہ اپنی جگہ پر ٹھہرے رہیں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آ کر ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے (بائیں)پہلو میں بیٹھ گئے اور سورت کے اس مقام سے قراء ت شروع کر دی، جہاں ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پہنچے تھے۔
Takhreej
(۲۵۸۱) تخریـج: …صحیح لغیرہ، قیس بن ربیع مختلف فیہ راوی ہے، اس کی حدیث شواہد میں حسن ہے اور یہ ان میں سے ایک ہے، لیکن حقیقت حال یہ ہے کہ اس حدیث کے سند کے دو راوی قیس بن ربیع اور ارقم بن شرحبیل جمہور اہل علم کے نزدیک ضعیف ہیں، اس لیے اس حدیث کا آخری جملہ منکر ہی رہے گا، جو کہ یہ ہے: آپa نے سورت کے اس مقام سے قراء ت شروع کر دی، جہاں ابو بکر bپہنچے تھے۔ أخرجہ مختصرا البزار: ۱۵۶۶(انظر: ۱۷۸۴)
2581
Sahih
۔ (۲۵۸۲) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: لَمَّا مَرِضَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَمَرَ أَبَا بَکْرٍ أَنْ یُصَلِّیَ بِالنَّاسِ، ثُمَّ وَجَدَ خِفَّۃً فَخَرَجَ، فَلَمَّا أَحَسَّ بِہِ أَبُوْبَکْرٍ أَرَادَ أَنْ یَنْکُصَ فَأَوْمَأَ اِلَیْہِ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَجَلَسَ اِلَی جَنْبِ أَبِی بَکْرٍ عَنْ یَسَارِہِ وَاسْتَفْتَحَ مِنَ الْآیَۃِ الَّتِی انْتَھٰی اِلَیْھَا أَبُوْبَکْرٍ۔ (مسند احمد: ۲۰۵۵)
سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیمار ہوئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیّدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھایا کریں، پھر ایک دن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے راحت محسوس کی، اس لیے (مسجد میں) تشریف لے آئے، جب سیّدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی آمد کو محسوس کیا تو انھوں نے پیچھے ہٹنے کا ارادہ کیا، لیکن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی طرف اشارہ کیا (کہ وہ اپنے مقام پر ہی رہیں)۔ پھر آپ آئے اور سیّدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بائیں جانب بیٹھ گئے اور اس آیت سے تلاوت شروع کر دی، جہاں سیّدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پہنچے تھے۔
Takhreej
(۲۵۸۲) تخریـج: …صحیح۔ أخرجہ ابن ماجہ ضمن قصۃ مرض النبیV الذی توفی فیہ: ۱۲۳۵ (انظر: ۲۰۵۵، ۳۳۳۰)
2582
Sahih
۔ (۲۵۸۳)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ) فَجَائَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی جَلَسَ، قَالَ وَقَامَ أَبُوْبَکْرٍ عَنْ یَمِیْنِہِ وَکَانَ أَبُوْبَکْرٍ یَأْتَمُّ بِالنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَالنَّاسُ یَأْتَمُّوْنَ بِأَبِی بَکْرٍ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَأَخَذَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنَ الْقِرَائَۃِ مِنْ حَیْثُ بَلَغَ أَبُوْبَکْرٍ، وَمَاتَ فِی مَرَضِہِ ذَاکَ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ۔ (مسند احمد: ۳۳۵۵)
(دوسری سند)پھرنبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے اور بیٹھ گئے اور سیّدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ٓپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دائیں جانب کھڑے رہے، وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اور لوگ اُن کی اقتدا کر نے لگے۔ ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہاں سے قراء ت شروع کی، جہاں سیّدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پہنچے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اسی بیماری میں فوت ہو گئے تھے۔
Takhreej
(۲۵۸۳)تخریـج: …انظر الحدیث بالطریق الاول (انظر: ۳۳۵۵)
2583
Sahih
۔ (۲۵۸۴) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَمَرَ أَبَا بَکْرٍ أَنْ یُصَلِّیَ بِالنَّاسِ فِی مَرَضِہِ الَّذِی مَاتَ فِیْہِ، فَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَیْنَ یَدَیْ أَبِی بَکْرٍ یُصَلِّی بِالنَّاسِ قَاعِدًا وَأَبُوْبَکْرٍ یُصَلِّی بِالنَّاسِ وَالنَّاسُ خَلْفَہُ (وَفِی لَفْظٍ) کَانَ أَبُوْبَکْرٍ یَأْتَمُّ بِالنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَالنَّاسُ یَأْ تَمُّوْنَ بِأَبِی بَکْرٍ۔ (مسند احمد: انظر: ۲۶۶۴۲)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مرض
Takhreej
(۲۵۸۴) تخریـج: …أخرجہ مطوّلا و مفصلا و بالفاظ مختلفۃ متقاربۃ البخاری: ۶۶۴، ۶۸۷، ومسلم: ۴۱۸ (انظر: ۲۵۷۶۱، ۲۶۱۱۳، ۲۶۱۳۷)
2584
Sahih

Chapters

13
01
امام کے ضامن ہونے اور فاسق کی امامت کا بیان
5 Hadith
02
اس کا بیان کہ امامت کا زیادہ حق دار کون ہے
11 Hadith
03
نابینا آدمی اور بچے کی اور عورت کی عورتوں کی امامت کا بیان
5 Hadith
04
اس تخفیف کا بیان جس کا امام کو حکم دیا گیا ہے
7 Hadith
05
مقتدیوں کو لمبی نماز پڑھانے کے بارے میں سیّدنا معاذ بن جبل Bکا قصہ اور عذر کی وجہ سے مقتدی کا اکیلے نماز پڑھنے کا جواز
5 Hadith
06
رسول اللہaکا باوجود نماز مکمل کرنے کے لوگوں کو ہلکی نماز پڑھانے کا بیان
17 Hadith
07
اس امام کے حکم کا بیان، جس کو (دورانِ نماز) یہ یاد آجائے کہ وہ بے وضو ہے
5 Hadith
08
نماز میں امام کا اپنا نائب بنانے کا اور نائب بنانے والے امام کے آنے کے بعد نائب کا مقتدی بن جانے کا جواز
5 Hadith
09
اکیلے آدمی کا (دورانِ نماز) امامت کی طرف منتقل ہوجانے کے جواز کا بیان
1 Hadith
10
اس بات کا بیان کہ قبیلے کے امام کی عدم موجودگی میں کیا کیا جائے
1 Hadith
11
امام کا پہلی رکعت کو لمبا کرنے اوراس شخص کا انتظار کرنے کا بیان جس کو وہ داخل ہوتا ہوا محسوس کرے، تاکہ وہ رکعت پا لے
3 Hadith
12
امام کا مقتدیوں کو سنانے کے لیے نماز میں اونچی آواز سے تکبیر کہنے کے جواز کا بیان اور امام کے علاوہ کسی دوسرے کا تکبیر سنانے کا حکم
2 Hadith
13
امام اور ایک مقتدی کے ساتھ جماعت کا منعقد ہو جانا، برابر ہے کہ وہ مقتدی مرد ہو یا عورت ہو یا بچہ
3 Hadith
No chapter matched that.