سیّدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں دیکھتا ہوں کہ نماز اس وقت تک کھڑی نہ کی جاتی تھی جب تک ہم صفوں کو مکمل نہ کر لیتے تھے، جس کو یہ بات خوش کرتی ہے کہ وہ کل اللہ تعالیٰ کو بحیثیت ِ مسلمان ملے تو اس کو چاہیے کہ وہ فرض نمازوں کی حفاظت اس مقام پر کرے جہاں ان کے لیے بلایا جاتا ہے،کیونکہ یہ ہدایت کے طریقوں میں سے ہیں اوربے شک اللہ نے اپنے نبی کے لیے ہدایت کے طریقے مقرر کیے ہیں۔
سیّدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب نماز کے لیے اقامت کہی جائے تو تم اس وقت تک کھڑے نہ ہوا کرو جب تک مجھے نہ دیکھ لو اور سکون کو لازم پکڑو۔
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نماز کے لیے اقامت کہہ دی گئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں ایک آدمی سے سرگوشی کرتے اور نماز کی طرف نہ آئے، حتیٰ کہ لوگوں سونا شروع ہو گئے۔
(دوسری سند) وہ کہتے ہیں: نماز کے لیے اقامت کہہ دی گئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک آدمی سے سرگوشی کرتے رہے، (اور نماز کے لیے نہ آئے) حتیٰ کہ لوگ اونگھنے لگ گئے یا قریب تھا کہ وہ اونگھنے لگ جائیں۔
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نماز کے لیے اقامت کہہ دی گئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آنے سے پہلے صفیں برابر ہو گئیں،پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور جب مصلے پر کھڑے ہوئے تو آپ کو یاد آیا کہ آپ جنبی تھے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں فرمایا کہ اپنی جگہوں پر ٹھہرے رہو، پھر آپ واپس لوٹ گئے ۔ جب غسل کر کے تشریف لائے تو آپ کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تکبیر کہی اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔