مسنداحمد

Musnad Ahmad

عیدین اور ان کے متعلقہ امور مثلا نماز وغیرہ کے ابواب

عید کی نماز میں تکبیرات کی تعداد اور ان کے محل کا بیان

۔ (۲۸۵۲) عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبِ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَبَّرَ فِی عِیْدٍ ثِنْتَیْ عَشْرَۃَ تَکْبِیْرَۃً، سَبْعًا فِی الْأُوْلٰی، وَخَمْسًا فِی الْآخِرَۃِ وَلَمْ یُصَلِّ قَبْلَہَا وَلَا بَعْدَھَا، قَالَ أَبِی وَأَنَا أَذْھَبُ اِلٰی ھٰذَا۔ (مسند احمد: ۶۶۸۸)

سیّدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عید کی نماز میں بارہ تکبیرات کہیں، پہلی رکعت میں سات اور دوسری رکعت میں پانچ اور عید سے پہلے اور بعد میں کوئی (نفل) نماز نہیں پڑھتے تھے۔ عبد اللہ بن احمد کہتے ہیں: میرے باپ امام احمد نے کہاـ: اور میرا مسلک بھی یہی ہے (کہ بارہ تکبیرات کہی جائیں)۔

۔ (۲۸۵۳) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((التَّکْبِیْرُ فِی الْعِیْدَیْنِ سَبْعًا قَبْلَ الْقِرَائَۃِ وَخَمْسًا بَعْدَ الْقِرَائَۃِ۔)) (مسند احمد: ۸۶۶۴)

سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عیدین میں سات تکبیریں قراء ت سے پہلے ہیں اور پانچ قراء ت کے بعد۔

۔ (۲۸۵۴) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُکَبِّرُ فِی الْعِیْدَیْنِ سَبْعًا فِی الرَّکْعَۃِ الْأُوْلٰی، وَخَمْسًا فِی الْآخِرَۃِ سِوَی تَکْبِیْرَتَیِ الرُّکُوْعِ۔ (مسند احمد: ۲۴۹۱۳)

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں کہ بے شک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عیدین کی نماز میں پہلی رکعت میں سات تکبیریں اور دوسری رکعت میں پانچ تکبیریں کہتے تھے، یہ رکوع والی تکبیرات کے علاوہ ہوتی تھیں۔

۔ (۲۸۵۵) عَنْ مَکْحُوْلٍ قَالَ: حَدَّثَنِی أَبُو عَائِشَۃَ وَکَانَ جَلِیْسًا لِأَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ سَعِیْدَ بْنَ الْعَاصِ دَعَا أَبَا مُوْسَی الْأَشْعَرِیَّ وَحُذَیْفَۃَ ابْنَ الْیَمَانِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما فَقَالَ: کَیْفَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُکَبِّرُ فِی الْفِطْرِ وَالْأَضْحٰی؟ فَقَالَ أَبُو مُوْسَی: کَانَ یُکَبِّرُ أَرْبَعَ تَکْبِیْرَاتٍ، تَکْبِیْرَہُ عَلَی الْجَنَائِزِ وَصَدَّقَہُ حُذَیْفَۃُ، فَقَالَ أَبُو عَائِشَۃَ فَمَا نَسِیْتُ بَعْدُ قَوْلَہُ تَکْبِیْرَہُ عَلَی الْجَنَائِزِ وَأَبُو عَائِشَۃَ حَاضِرٌ سَعِیْدَ بْنَ الْعَاصِ۔ (مسند احمد: ۱۹۹۷۲)

سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہم نشین ابو عائشہ کہتے ہیں: سیّدنا سعید بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیّدنا ابو موسی اشعری اور سیّدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو بلایا اور پوچھا: رسول اللہ عید الفطر اور عید الاضحی کی نمازوں میں تکبیرات کیسے کہتے تھے؟ سیّدنا ابو موسی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: (ہر رکعت میں) چار تکبیرات کہتے تھے، جیسے جنازے کی تکبیریں ہوتی ہیں۔ سیّدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان کی تصدیق کی۔ ابو عائشہ کہتے ہیں: میں اس کے بعد ان کی بات جیسے جنازے کی تکبیریں ہوتی ہیں کو نہیں بھول پایا۔ مکحول کہتے ہیں: ابو عائشہ سیّدنا سعید بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی مجلس میں حاضر تھے۔

۔ (۲۸۵۶)عَنْ اِبْرَاھِیْمَ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ فَرُّوخَ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ: صَلَّیْتُ خَلْفَ عُثْمَانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ الْعِیْدَ فَکَبَّرَ سَبْعًا وَخَمْسًا۔ (مسند احمد: ۵۴۲)

عبد اللہ بن فروخ کہتے ہیں: میں نے سیّدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پیچھے عید کی نماز پڑھی، انہوں نے (پہلی رکعت میں) سات اور (دوسری رکعت میں) پانچ تکبیریں کہیں۔