سیّدناعبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما عید والے دن نکلے اور نمازِ عید سے پہلے یا بعد میں کوئی نفلی نماز نہ پڑھی، پھر انھوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے ہی کیا تھا۔
سیّدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عیدالفطر کے دن نکلے،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلے اور بعد میں کوئی نماز نہ پڑھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عورتوں کے پاس آئے، جبکہ سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو یہ فرمانے لگ گئے: صدقہ کرو۔ پس عورت نے اپنا چھلا اور ہار (سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں) ڈالنا شروع کر دیا۔
سیّدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عید الفطر کے دن عید گاہ کی طرف نکلنے سے قبل ناشتہ کرتے تھے اور عید کی نماز سے پہلے کوئی نماز نہیں پڑھتے تھے،لیکن جب نماز عید پڑھ لیتے تو (گھر لوٹ کر) دو رکعت ادا کرتے تھے۔