مسنداحمد

Musnad Ahmad

عیدین اور ان کے متعلقہ امور مثلا نماز وغیرہ کے ابواب

’’سیّدناعبد اللہ بن عمرd عید والے دن نکلے اور نمازِ عید سے پہلے یا بعد میں کوئی نفلی نماز نہ پڑھی، پھر انھوں نے کہا کہ نبی کریمaنے ایسے ہی کیا تھا۔‘‘

۔ (۲۸۷۱) عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ حَفْصٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّہُ خَرَجَ یَوْمَ عِیْدٍ فَلَمْ یُصَلِّ قَبْلَہَا وَلَا بَعْدَھَا فَذَکَرَ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَعَلَہُ۔ (مسند احمد: ۵۲۱۲)

سیّدناعبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما عید والے دن نکلے اور نمازِ عید سے پہلے یا بعد میں کوئی نفلی نماز نہ پڑھی، پھر انھوں نے کہا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایسے ہی کیا تھا۔

۔ (۲۸۷۲) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی فِطْرٍ لَمْ یُصَلِّ قَبْلَہَا وَلَا بَعْدَھَا، ثُمَّ أَتَی النِّسَائَ وَمَعَہُ بِلَالٌ فَجَعَلَ یَقُوْلُ: ((تَصَدَّقْنَ)) فَجَعَلَت الْمَرْأَۃُ تُلْقِی خُرْصَھَا وَسِخَابَھَا۔ (مسند احمد: ۲۵۳۳)

سیّدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عیدالفطر کے دن نکلے،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پہلے اور بعد میں کوئی نماز نہ پڑھی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عورتوں کے پاس آئے، جبکہ سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو یہ فرمانے لگ گئے: صدقہ کرو۔ پس عورت نے اپنا چھلا اور ہار (سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے کپڑے میں) ڈالنا شروع کر دیا۔

۔ (۲۸۷۳) عَنْ أَبِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُفْطِرُ یَوْمَ الْفِطْرِ قَبْلَ أَنْ یَخْرُجَ، وَکَانَ لَا یُصَلِّی قَبْلَ الصَّلَاۃِ، فَاِذَا قَضٰی صَلَاتَہُ صَلّٰی رَکْعَتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۱۱۲۴۴)

سیّدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عید الفطر کے دن عید گاہ کی طرف نکلنے سے قبل ناشتہ کرتے تھے اور عید کی نماز سے پہلے کوئی نماز نہیں پڑھتے تھے،لیکن جب نماز عید پڑھ لیتے تو (گھر لوٹ کر) دو رکعت ادا کرتے تھے۔