سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وفات سے تین روز قبل یوں فرماتے ہوئے سنا: خبردار! تم میں سے جس کسی کو بھی موت آئے تو وہ اس حال میں مرے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں حسنِ ظن رکھتا ہو۔
(دوسری سند)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جس کسی کو بھی موت آئے تو اس حال میںآئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں اچھا گمان رکھتا ہو، ایک قوم کو اللہ تعالیٰ کے بارے میں ان کے سوئے ظن نے ہلاک کر دیا تھا، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: تمہاری اس بد گمانی نے جو تم نے اپنے رب سے کر رکھی تھی تمہیں ہلاک کر دیا اور بالآخر تم گھاٹا پانے والوں میں ہو گئے۔ (سورہ حم سجدۃ: ۲۳)
سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میرا بندہ میرے بارے جو گمان کرتا ہو، میں بھی اس کے ساتھ ویسا ہی معاملہ کرتا ہوں، اگر وہ میرے بارے میں اچھا گمان رکھتا ہے تو یہ بھی اسی کے لیے ہے اور اگر وہ برا گمان رکھتا ہے تو یہ بھی اسی کے لیے ہی ہے۔
ابو نضر حیان کہتے ہیں:میں سیّدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کے ہمراہ ابو اسود جرشی کی عیادت کے لیے گیا، وہ مرض الموت میں مبتلا تھے، جناب واثلہ نے جا کر ان کو سلام کہا اور وہاں بیٹھ گئے۔ ابو الاسود نے واثلہ کا دایاں ہاتھ پکڑ کر اپنی آنکھوں اور چہرے پر پھیرا، کیونکہ انھوں نے اپنے اس ہاتھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی تھی۔ سیّدنا واثلہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں آپ سے ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں۔ انھوں نے کہا: وہ کیا؟ انھوں نے پوچھا: آپ اللہ کے بارے کیا گمان رکھتے ہیں؟ ابوالاسود نے سر سے اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ اچھا گمان رکھتا ہوں۔ جناب واثلہ رضی اللہ عنہ نے کہا: خوش ہوجائو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اللہ نے فرمایا : میرے بندے کا میرے بارے میں جو گمان ہوتا ہے، میں اس کے ساتھ ویسا ہی معاملہ کرتا ہوں، پس وہ میرے بارے میں جو چاہے (اچھا یا برا) گمان رکھ لے۔
عمر جمعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تووہ اسے استعمال کر لیتا ہے۔ قوم میںسے ایک آدمی نے پوچھا: اسے استعمال کرتا ہے، اس سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اسے موت سے پہلے اچھے عمل کی توفیق دے دیتا ہے، پھر اسے اسی حالت میں موت دے دیتا ہے۔
سیّدناعمرو بن حمق خزاعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو وہ اسے استعمال کرتا ہے۔ کسی نے پوچھا: اسے استعمال کرتے ہے، اس سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے لیے اس کی موت سے پہلے (اچھے اعمال) کھول دیئے جاتے ہیں، یہاں تک کہ اس کے ارد گرد والے لوگ اس سے راضی ہو جاتے ہیں۔
سیّدنا ابو عنبہ خولانی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتاہے تو اسے لوگوں میں محبوب بنا دیتا ہے۔ کسی نے کہا کہ محبوب بنا دینے سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اسے مرنے سے پہلے نیک عمل کرنے کی توفیق دے دیتا ہے، پھر اسی حالت پر اس کو موت دے دیتا ہے۔
سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی جس حالت میں فوت ہو گا، اللہ اسے اسی حالت میں اٹھائے گا۔
سیّدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے سینے سے لگا کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آسرا دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ تعالیٰ کے چہرے کو چاہنے رضا کے لیے لَا إلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کہااور اسی پر اس کا خاتمہ ہوا تو وہ جنت میں جائے گا،جس نے اللہ تعالیٰ کے چہرے کو چاہنے کے لیے ایک روزہ رکھا اور اسی پر اس کا خاتمہ ہوا تو وہ بھی جنت میں جائے گا اور جس نے اللہ تعالیٰ کے چہرے کو چاہنے کے لیے صدقہ کیا اور اسی پر اس کا خاتمہ ہوا تو وہ بھی جنت میں جائے گا۔