مسنداحمد

Musnad Ahmad

جنازہ کے احکام و مسائل

موت کی تمنا کے مکروہ ہونے اور نیک عمل والی طویل عمر کی فضیلت کا بیان

۔ (۲۹۸۸) عَنْ أَنَسَ بْنِ مَالِکَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یُحَدِّثُ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((لَا یَتَمَنَّ أَحَدُکُمْ الْمَوْتَ مِنْ ضُرٍّ أَصَابَہُ، فَإِنْ کَانَ لَا بُدَّ فَاعِلًا فَلْیَقُلْ: اَللّٰہُمَّ أَحْیِنِی مَا کَانَتِ الْحَیَاۃُ خَیْرًا لِی، وَتَوَفَّنِی مَا کَانَتِ الْوَفَاۃُ خَیْرًا لِّیْ۔)) (مسند احمد: ۱۳۱۹۷)

سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی آدمی کسی تکلیف کی بنا پر موت کی تمنا نہ کرے، اگر کسی کا اس کے علاوہ اور کوئی چارۂ کار نہ ہو تو وہ یہ دعا کرے: اَللّٰہُمَّ أَحْیِنِی مَا کَانَتِ الْحَیَاۃُ خَیْرًا لِی، وَتَوَفَّنِی مَا کَانَتِ الْوَفَاۃُ خَیْرًا لِّیْ۔ (اے اللہ! مجھے اس وقت تک زندہ رکھ، جب تک میرے لیے زندہ رہنا بہتر ہو اور اس وقت مجھے فوت کر دینا، جب میرے لیے فوت ہونا بہتر ہو۔)۔

۔ (۲۹۸۹)عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَتَمَنَّ اَحَدُکُمُ الْمَوْتَ وَلَا یَدْعُ بِہ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاتِیَہٗ، اِنَّہٗ اِذَا مَاتَ اَحَدُکُمْ اِنْقَطَعَ عَمَلُہٗ، وَاِنَّہٗ لَا یَزِیْدُ الْمُؤْمِنُ مِنْ عُمْرِہٖ اِلَّا خَیْرًا)) (مسند أحمد: ۸۱۷۴)

سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی آدمی موت کے آنے سے پہلے نہ اس کی تمنا کرے اور نہ اس کی دعا کرے، کیونکہ جب آدمی فوت ہوتا ہے تو اس کا عمل منقطع ہو جاتا ہے اور مومن اپنی زندگی میں صرف نیکیوں میں ہی اضافہ کرتا ہے۔

۔ (۲۹۹۰)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا یَتمَنّٰی أَحَدُکُمْ الْمَوْتَ، إِمَّا مُسِیْئٌ فَیَسْتَعْفِرُ أَوْ مُحْسِنٌ فَیَزْدَادُ۔)) (مسند احمد: ۱۰۶۷۹)

(دوسری سند)رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی آدمی موت کی تمنا نہ کرے، کیونکہ اگر وہ گنہگار ہے تو اللہ سے گناہوں کی معافی مانگ لے گا اور اگر نیک ہے تو نیکیوں میں اضافہ کر لے گا۔

۔ (۲۹۹۱) عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دَخَلَ عَلَی الْعَبَّاسِ وَہُوَ یَشْتَکِی فَتَمَنّٰی الْمَوْتَ فَقَالَ: ((یَا عَبَّاسُ! یَا عَمَّ رَسُوْلِ اللّٰہِ! لَاتَتَمَنَّ الْمَوْتَ إنْ کُنْتَ مَحْسِنًا تَزْدَادُ إِحْسَانًا إِلَی إِحْسَانِکَ خَیْرٌ لَکَ وَإِنْ کُنْتَ مُسِئْیًا فَإِنْ تُؤَخَّرْ تَسْتَعْتِبْ خَیْرٌ لَکَ فَـلَا تَتَمَنَّ الْمَوْتَ۔ (وَفِی رِوَایَۃٍ) وَإِنْ کُنْتَ مُسِیْئًا فَإِنْ تُؤَخَّرْ تَسْتَعْتِبْ مِنْ إِسَائَ تِکَ خَیْرٌ لَکَ۔)) (مسند احمد: ۲۷۴۱۱)

سیدہ ام فضل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیّدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہاں گئے، جبکہ وہ مریض تھے اور موت کی تمنا کر رہے تھے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے عباس! اے رسول اللہ کے چچا! موت کی تمنا مت کرو، اگر تم نیک ہو تو زندہ رہ کر نیکیوں میں اضافہ کرنا تمہارے حق میں بہتر ہے اور اگر برے ہو تو زندہ رہنے کی صورت میں توبہ کر سکتے ہو، لہٰذا یہ بھی تمہارے حق میں بہتر ہے۔ پس موت کی خواہش نہ کرو۔ ایک روایت میں ہے: اگر تم بدعمل ہو تو موت کی تاخیر کی صورت میں بدعملی سے توبہ کر نا تمہارے لیے بہترہے۔

۔ (۲۹۹۲) عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌جَلَسْنَا إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَذَکَّرَنَا وَرَقَّقَنَا فَبَکٰی سَعْدُ بْنُ أَبِی وَقَّاصٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌فَأَکْثَرَ الْبُکَائَ فَقَالَ: یَالَیْتَنِیْ مِتُّ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا سَعْدُ! اَعِنْدِیْ تَتَمَنَّی الْمَوْتَ؟)) فَرَدَّدَ ذَالِکَ ثَـلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ قَالَ: ((یَا سَعْدُ! إِنْ کُنْتَ خُلِقْتَ لِلْجَنَّۃِ فَمَا طَالَ عُمُرُکَ أَوْ حَسُنَ مِنْ عَمَلِکَ فَہُوَ خَیْرٌ لَکَ۔)) (مسند احمد: ۲۲۶۴۹)

سیّدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں وعظ و نصیحت کی اور اتنی رقت آمیز گفتگو فرمائی کہ سیّدناسعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ رونے لگے اور خوب روئے، بیچ میں انھوں نے یہ بھی کہا: کاش میں مر چکا ہوتا۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سعد! کیا تم میرے پاس موت کی تمنا کر رہے ہو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ بات تین بار دہرائی۔ پھر فرمایا: اے سعد! اگر تم جنت کے لیے پیدا کیے گئے ہو تو تمہاری عمر جس قدر طویل ہوگی یا اعمال جس قدر اچھے ہوں گے وہ اتنے ہی تمہارے حق میں بہتر ہوں گے۔

۔ (۲۹۹۳) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : لَا تَمَنَّوُا الْمَوْتَ فَإِنَّ ہَوْلَ الْمُطَّلَعِ شَدِیْدٌ، وَإِنَّ مِنَ السَّعَادَۃِ أَنْ یَطُوْلَ عُمْرُ الْعَبْدِ وَیَرْزُقَہُ اللّٰہُ الإِنَابَۃَ۔)) (مسند احمد: ۱۴۶۱۸)

سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم موت کی تمنا نہ کیا کرو،کیونکہ (موت کے بعد والے) امور کی گھبراہٹ بھی بڑی سخت ہے، خوش بختی یہ ہے کہ بندے کی عمر لمبی ہو اور اللہ تعالیٰ اسے توبہ کرنے کی توفیق دے دے۔

۔ (۲۹۹۴) عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ حَارِثَۃَ، قَالَ أَتَیْنَا خَبَّابًا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ نَعُوْدُہُ فَقَالَ: لَوْ لَا أَنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَا یَتَمَنَّیَنَّ أَحَدُکُمْ الْمَوْتَ)) لَتَمَنَّیْتُہُ۔ (مسند احمد: ۲۱۳۶۸)

حارثہ کہتے ہیں: ہم سیّدنا خباب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی تیمارداری کرنے کے لیے گئے، انہوں نے کہا: اگر میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا تو میں ضرور موت کی تمنا کرتا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی آدمی ہر گز موت کی تمنا نہ کرے۔

۔ (۲۹۹۵) عَنْ عَلِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: مَرَّ بِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَنَا وَجِعٌ وَأَنَا أَقُوْلُ: اَللّٰہُمَّ إِنْ کَانَ أَجَلِیْ قَدْ حَضَرَ فَأَرِحْنِیْ وَإِنْ کَانَ آجِلاً فَارْفَعْنِی، وَإِنْ کَانَ بَلَائً فَصَبِّرْنِی، قَالَ: ((مَا قُلْتَ؟)) فَأَعَدْتُّ عَلَیْہِ فَضَرَبَنِیْ بِرِجْلِہِ، فَقَالَ: ((مَا قُلْتَ؟)) قَالَ: فَأَعَدْتُّ عَلَیْہِ فَقَالَ: ((اَللّٰہُمَّ عَافِہِ أَوْ اشْفِہِ (وَفِی رِوَایَۃٍ، اَللّٰہُمَّ اشْفِہِ بِدُوْنِ شَکٍ)۔)) قَالَ: فَمَا اشْتَکَیْتُ ذَالِکَ الْوَجَعَ بَعْدُ۔(مسند احمد: ۶۳۷)

سیّدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس سے گزرے جبکہ میں بیمار تھا اور یہ کہہ رہا تھا: یا اللہ! اگر میری موت کا وقت آ چکا ہے تو (موت دے کر) مجھے راحت عطا فرما،اگر موت آنے میں دیر ہے تو مجھے اٹھا لے اور اگر یہ میری آزمائش ہے تو مجھے صبر کی توفیق عطا فرما۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: تم نے کیا کہا ہے؟ جب میں نے اپنے الفاظ دہرائے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا پائوں مجھے مارا اور فرمایا: کیا کہا تم نے؟ میں نے پھر اپنے الفاظ دہرائے، اس بار آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! اس کو عافیت دے۔ یا فرمایا کہ اے اللہ! اس کو شفا دے۔ ایک روایت میں شک کے بغیر صرف یہ الفاظ ہیں: اے اللہ! اس کو شفا دے۔ سیّدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: اس کے بعد مجھے اس تکلیف کی کوئی شکایت نہیں ہوئی۔

۔ (۲۹۹۶) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: جَائَ بِلَالٌ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَاتَتْ فُلَانَۃُ وَاسْتَرَاحَتْ، فَغَضِبَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَالَ: ((إِنَّمَا یَسْتَرِیْحُ مَنْ دَخَلَ الْجَنَّۃَ، وَفِی رِوَایَۃٍ: مَنْ غُفِرَلَہُ)) (مسند احمد: ۲۴۹۰۳)

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ،رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! فلاں عورت فوت ہو گئی ہے اور راحت پا گئی ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غصے میں آگے اور فرمایا: صرف اور صرف راحت تو وہ پاتا ہے جو جنت میں داخل ہوتا ہے، دوسری روایت میں ہے: جس کو بخش دیا جاتا ہے۔