۔ (۲۹۹۷) عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِی بَکْرَۃَ عَنْ أَبِیْہِ رضی اللہ عنہا أَنَّ رَجُلًا قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَیُّ النَّاسٍ خَیْرٌ؟ قَالَ: ((مَنْ طَالَ عُمُرُہُ وَحَسُنَ عَمَلُہُ۔)) قَالَ: فَأَیُّ النَّاسِ شَرٌّ؟ قَالَ: ((مَنْ طَالَ عُمُرُہُ وَسَائَ عَمَلُہُ۔)) (مسند احمد: ۲۰۶۸۶)
سیّدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کیا: اے اللہ کے رسول ! لوگوں میں سب سے بہتر آدمی کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کی عمر طویل ہو اور عمل اچھا ہو۔ اس نے پھر پوچھا: لوگوں میں سب سے برا آدمی کونسا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کی عمر طویل ہو اور عمل برا ہو۔
Takhreej
(۲۹۹۷) تخریـج: …حدیث حسن، وھذا اسناد فیہ علی بن زید بن جدعان أخرجہ الترمذی: ۲۳۳۰ (انظر: ۲۰۴۱۵، ۲۰۴۹۱)
Explanation
فوائد: …درج ذیل حدیث ِ مبارکہ سے لمبی زندگی کی قیمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ عَنْ طَلْحَۃَ بْنِ عُبَیْدِ اللّٰہِ: أَنَّ رَجُلَیْنِ مِنْ بَلِیٍّ، وَھُوَ حَیٌّ مِنْ قُضَاعَۃَ، قُتِلَ أَحَدُھُمَا فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ، وَاُخِّرَ الآخَرُ بَعْدَہٗ سَنَۃً ثُمَّ مَاتَ، قَالَ طَلْحَۃُ: فَرَأَیْتُ فِی الْمَنَامِ الْجَنَّۃَ فُتِحَتْ، فَرَأَیْتُ الآخَرَ مِنَ الرَّجُلَیْنِ دَخَلَ الْجَنَّۃَ قَبْلَ الأَوَّلِ، فَتَعَجَّبْتُ، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ ذَکَرْتُ ذٰلِکَ، فَبَلَّغْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِVفَقَالَ لِی رَسُوْلُ اللّٰہِV: ((أَلَیْسَ قَدْ صَامَ بَعْدَہٗ رَمَضاَنَ، وَصَلّٰی بَعْدَہٗ سِتَّۃَ آلآفِ رَکْعَۃٍ، وَکَذاَ وَکَذَا رَکْعَۃً لِصَّلَاۃِ السُّنَّۃِ۔)) (رواہ البیھقی فی ’’الزھد‘‘: ۷۳/۲، وأخرج ابن ماجہ: ۳۹۲۵، وابن حبان: ۲۴۶۶ نحوہ، لکن أتم منہ۔ وکذا رواہ احمد: ۱/ ۱۶۱، ۱۶۳، الصحیحۃ: ۲۵۹۱) ’’طلحہ بن عبید اللہb کہتے ہیں کہ قضاعہ کے بلی قبیلے کے دو آدمی تھے، ان میں ایک شہید ہو گیا اور دوسرااس سے ایک سال بعد فوت ہوا۔ طلحہbکہتے ہیں: مجھے خواب آیا کہ جنت کا دروازہ کھولا گیا اور بعد میں فوت ہونے والا، شہید ہونے والے سے پہلے جنت میں داخل ہوا، مجھے بڑا تعجب ہوا۔ جب صبح ہوئی تو میں نے اس خواب کا تذکرہ کیا اور بات رسول اللہ a تک پہنچا دی، آپ aنے فرمایا: ’’کیا اس نے (ایک سال پہلے شہید ہونے والے کے بعد)رمضان کے روزے نہیں رکھے اور ایک سال کی (فرضی نمازوں کی) چھ ہزار اور اس سے زائد اتنی اتنی نفل رکعتیں ادا نہیں کیں ؟‘‘
2997
Sahih