مسنداحمد

Musnad Ahmad

جنازہ کے احکام و مسائل

قریب الموت کے پاس سورۂ یس کی تلاوت کرنے، شدتِ موت، روح کے عالَم نزع میت کی آنکھیں بند کرنے اور اس کے لیے دعا کرنے کا بیان

۔ (۳۰۱۴) عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی ثَنَا أَبُوْالْمُغِیْرَہِ ثَنَا صَفْوَانُ حَدَّثَنِی الْمَشِیْخَۃُ، أَنَّہُمْ حَضَرُوْا غُضَیْفَ بْنَ الْحَارِثِ الثُمَالِیَّ حِیْنَ اشْتََّد سَوْقُہُ، فَقَالَ: ہَلْ مِنْکُمْ أَحَدٌ یَقْرَأُ یٰس؟ قَالَ: فَقَرَأَہَا صَالِحُ بْنُ شُرَیْحٍ السَّکُوْنِیُّ، فَلَمَّا بَلَغَ أَرْبَعِیْنَ مِنْہَا قُبِضَ، قَالَ: فَکَانَ الْمَشِیْخَۃُ یَقُوْلُوْنَ إِذَا قُرِئَتْ عِنْدَ الْمَیِّتِ خُفِّفَ عَنْہُ بِہَا، قَالَ صُفْوَانُ وَقَرَأَہاَ عِیْسَی بْنُ الْمُعْتَمِرِ عِنْدَ ابْنِ مَعْبَدٍ۔ (مسند احمد: ۱۷۰۹۴)

صفوان کہتے ہیں:مجھے بزرگوں نے بیان کیا کہ وہ غضیف بن حارث ثمالی کے ہاں گئے، جبکہ (وہ عالَم نزع میں تھے اور) روح کے نکلنے میں شدت تھی، ایک بندے نے کہا: کیا تم میں سے کوئی سورۂ یٰسین پڑھ سکتا ہے؟ جواباً صالح بن شریح سکونی نے سورۂ یس کی تلاوت کی اور ابھی تک وہ چالیسویں آیت تک پہنچے تھے کہ ان کی روح قبض ہو گئی۔ اسی لیے اہل علم کہا کرتے تھے کہ جب یہ سورت کسی قریب الموت پر پڑھی جاتی ہے تو اس پر اس کی وجہ سے تخفیف کر دی جاتی ہے۔ صفوان کہتے ہیں کہ عیسی بن معتمر نے ابن معبد پر پڑھی تھی۔

۔ (۳۰۱۵)عَنْ مَعْقِلِ بْنِ یَسَارٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یٓس قَلْبُ الْقُرَآنِ، لَا یَقْرَؤُہَا رَجُلٌ یُرِیْدُ اللّٰہَ تَعَالٰی وَالدَّارَ الْآخِرَۃَ غُفِرَلَہُ،وَاقْرَئُ وْہَا عَلٰی مَوْتَاکُمْ)) (مسند احمد: ۲۰۵۶۶)

سیّدنا معقل بن یسار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سورۂ یٰس قرآن مجید کا دل ہے، جو آدمی اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور آخرت کی کامیابی کے لیے اس کی تلاوت کرتا ہے، اس کو بخش دیا جاتا ہے اور تم فوت ہونے والے کے قریب اس سورت کی تلاوت کیا کرو۔

۔ (۳۰۱۷) عَنِ أُمِّ سَلَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا حَضَرْتُمُ الْمَیِّتَ أَوْ الْمَرِیْضَ فَقُوْلُوْا خَیْرًا، فَإِنَّ الْمَلَائِکَۃَ یُؤَمِّنُوْنَ عَلٰی مَا تَقُوْلُوْنَ۔)) قَالَتْ: فَلَمَّا مَاتَ أَبُوْ سَلَمَۃَ أَتَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّ أَبَا سَلَمَۃَ قَدْ مَاتَ، فَقَالَ: ((قُوْلِی اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلِیْ وَلَہُ وَأَعْقِبْنِی مِنْہُ عُقْبٰی حَسَنَۃً۔)) قَالَتْ: فَقُلْتُ: فَاَعْقَبَنِیَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ مَنْ ہُوَ خَیْرٌ لِی مِنْہُ مُحَمَّدًا ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۷۰۳۰)

سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم کسی مریض یا قریب الموت کے پاس جائو تو خیر والی بات کیا کرو، کیونکہ تم جو کچھ کہتے ہو فرشتے اس پر آمین کہتے ہیں۔ جب میرے شوہر سیّدنا ابو سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا انتقال ہوا تو میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول!ابو سلمہ فوت ہو گیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ دعا کر: اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلِیْ وَلَہُ وَأَعْقِبْنِی مِنْہُ عُقْبًی حَسَنَۃَ (یا اللہ! مجھے اور اس کو بخش دے اور مجھے اس کا بہتر بدلہ عطا فرما۔) پھر اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کے بدلے محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عطا کیے جو میرے حق میں اس سے بہتر تھے۔

۔ (۳۰۱۸) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَمْ یَلْقَ ابْنُ آدَمَ شَیْئًا قَطُّ خَلَقَہُ اللّٰہُ أَشَدَّ عَلَیْہِ مِنَ الْمَوْتِ ثُمَّ إِنَّ الْمَوْتَ لَأَہْوَنُ مِمَّا بَعْدَھُ)) (مسند احمد: ۱۲۵۹۴)

سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں بھی پیدا کی ہیں، ان میں سے آدم کے بیٹے کے لیے سب سے سخت چیز موت ہے اور پھر موت اپنے سے بعد والے مراحل کی بنسبت بہت آسان بھی ہے۔

۔ (۳۰۱۹) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ یَمُوْتُ، وَعِنْدَہُ قَدَحٌ، فِیْہِ مَائٌ فَیُدْخِلُ یَدَہُ فِی الْقَدَحِ، ثُمَّ یَمْسَحُ وَجْہَہُ بِالْمَائِ، ثُمَّ یَقُوْلُ: ((اَللّٰہُمَّ أَعِنِّی عَلٰی سَکَرَاتِ الْمَوْتِ۔)) (مسند احمد: ۲۴۸۶۰)

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وفات پا رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پیالہ پڑا ہوا تھا، اس میں پانی تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنا ہاتھ پیالے میں داخل کرتے، پھر اسے اپنے چہرے پر پھیرتے اور یہ دعا کرتے: اَللّٰہُمَّ أَعِنِّی عَلٰی سَکَرَاتِ الْمَوْتِ ۔ (یا اللہ! موت کی شدتوں میں میری مدد فرما)۔

۔ (۳۰۲۰)وَعَنْہَا أَیْضًا قَالَتْ: تُوُفِّیَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَوْ قُبِضَ أَوْ مَاتَ وَہُوَ بَیْنَ حَاقِنَتِی وَذَاقِنَتِیْ، فَـلَا أَکْرَہُ شِدَّۃَ الْمَوْتِ لأَحَدٍ بَعْدَ الَّذِی رَأَیْتُ بِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۴۹۸۷)

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات اس حال میں ہوئی کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے سینہ اور ٹھوڑی کے درمیان تھے۔ میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی موت کا منظر دیکھنے کے بعد اب کسی کے لیے موت کی شدت کو ناپسند نہیں کرتی۔

۔ (۳۰۲۱) عَنْ ثَابِتِ الْبُنَانِیِّ عَنْ أَنَسَ بْنِ مَالِکِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ لَمَّا قَالَتْ فَاطِمَۃُ ذَالِکَ یَعْنِی لَمَّا وَجَدَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ کَرْبِ الْمَوْتِ مَا وَجَدَ قَالَتْ فَاطِمَۃُ: وَا کَرْبَاہُ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا بُنَیَّۃُ! إِنَّہُ قَدْ حَضَرَ ِأَبِیْکِ مَا لَیْسَ اللّٰہُ بِتَارِکٍ مِنْہُ أَحَدًا لِمُوَافَاۃِ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ)) (مسند احمد: ۱۲۴۶۱)

سیّدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے موت کی سختی کو محسوس کیا تو سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: ہائے مصیبت! یہ سن کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیٹی! روز قیامت کو پانے کے لیے تیرے باپ کے پاس وہ چیز پہنچ چکی ہے کہ جس کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ کسی کو نہیں چھوڑنا۔

۔ (۳۰۲۲) عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا حَضَرَتُمْ مَوْتَاکُمْ فَأَغْمِضُوْا الْبَصَرَ، فَإِنَّ الْبَصَرَ یَتْبَعُ الرُّوْحَ، وَقُوْلُوْا خَیْرًا، فَإِنَّہُ یُؤَمَّنُ عَلٰی مَا قَالَ أَہْلُ الْبَیْتِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۲۶۶)

سیّدنا شداد بن اوس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم اپنے موت شدہ افراد کے پاس آئو تو ان کی آنکھیں بند کر دیا کرو، کیونکہ نظر روح کا پیچھا کرتی ہے اور خیر والی بات کیا کرو کیونکہ گھر والے اس وقت جو کچھ کہتے ہیں، اس پر آمین کہی جاتی ہے۔