مسنداحمد

Musnad Ahmad

جنازہ کے احکام و مسائل

روح سے متعلقہ مسائل


۔ (۳۰۳۰) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِیْسَ (یَعْنِی الشَّافِعِیَّ) عَنْ مَالِکَ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّہُ أَخْبَرَہُ أَنَّ أَبَاہُ کَعْبَ بْنَ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کَانَ یُحَدِّثُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِنَّمَا نَسَمَۃُ الْمُؤْمِنِ طَائِرٌ یَعْلُقُ فِی شَجَرِ الْجَنَۃِ حَتّٰی یَرْجِعَہُ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی إِلٰی جَسَدِہِ یَوْمَ یَبْعَثُہُ)) (مسند احمد: ۱۵۸۷۰)

سیدہ ام مبشر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے سیّدنا کعب بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جبکہ وہ مرض الموت میں مبتلا تھے، سے کہا: میرے بیٹے مبشر کو میرا سلام پہنچا دینا۔ سیّدناکعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ام مبشر! اللہ تعالیٰ آپ کو معاف کرے، کیا آپ نے نہیں سنا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا ہے: مسلمان کی روح ایک پرندہ ہوتی ہے، جنت کے درختوں سے کھاتی رہتی ہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کو اس کے جسم میں لوٹا دے گا۔ اس نے کہا: تم نے سچ کہا، پس میں اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرتی ہوں۔

Status: Sahih
حکمِ حدیث: صحیح
Conclusion
تخریج
(۳۰۳۱) تخریـج: …انظر الحدیث السابق: ۳۰۳۰
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد: …حقیقت یہ ہے کہ اچھے مقام میں جمع ہونے والی روحوں کا آپس تعارف ہوتا ہے اور وہ دنیا والوں کے بارے میں باتیں بھی کرتی ہیں، اگلی اور فوائد میں دی گئی روایات سے ایسے ہی ثابت ہوتا ہے۔