مسنداحمد

Musnad Ahmad

جنازہ کے احکام و مسائل

میت کی تجہیز و تکفین اور قرضہ ادا کرنے میں جلدی کرنا

۔ (۳۰۳۸) عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((ثَـلَاثَہٌ یَا عَلِیُّ! لَا تُؤَخِّرْہُنَّ: اَلصَّلَاۃُ إِذَا اَتَتْ، وَالْجَنَازَۃُ إِذَا حَضَرَتْ، وَالْأَیِّمُ إِذَا وَجَدَتَ کُفُوًا۔)) (مسند احمد: ۸۲۸)

سیّدناعلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے علی! تین کاموں میں تاخیر نہ کرنا: نماز کہ جب اس کا وقت ہو جائے، جنازہ کہ جب وہ حاضر ہو جائے اور غیر شادی شدہ کی شادی کرنا کہ جب تو اس کے ہم پلہ رشتہ پا لے۔

۔ (۳۰۳۹) عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: صَلَّی النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الصُّبْحَ فَقَالَ: ((مَا ہُنَا أَحَدٌ مِنْ بَنِیْ فُلَانِ؟)) قَالُوْا: نَعَمْ، قَالَ: ((إِنَّ صَاحِبَکُمْ مُحْتَبَسٌ عَلٰی بَابِ الْجَنَّۃِ فِی دَیْنٍ عَلَیْہِ۔)) (مسند احمد: ۲۰۳۸۵)

سیّدنا سمرہ بن جندب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صبح کی نماز پڑھائی پھر پوچھا: یہاں بنو فلاں کا کوئی آدمی موجود ہے؟ صحابہ نے کہا: جی ہاں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارے ساتھی کو قرضے کی وجہ سے جنت کے دروازے پر روک دیا گیا ہے۔

۔ (۳۰۴۰) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((نَفْسُ الْمُؤْمِنِ مُعَلَّقَۃٌ مَا کَانَ عَلَیْہِ دَیْنٌ۔)) (مسند احمد: ۱۰۱۵۹)

سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مومن کا نفس اس وقت تک روک کر رکھا جاتا ہے، جب تک اس پر قرضہ باقی ہو۔

۔ (۳۰۴۱) عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ عَنْ سَعْدِ بْنِ الْأَطْوَلِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ أَخَاہُ مَاتَ وَتَرَکَ ثَلٰثَمِائَۃِ دِرْہَمٍ، وَتَرَکَ عِیَالًا فَأَرَدْتُّ أَنْ أُنْفِقَہَا عَلٰی عِیَالِہٖ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ أَخَاکَ مَحْبُوْسٌ بَدَیْنِہِ فَاقْضِ عَنْہُ۔)) فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَقَدْ أَدَّیْتُ إِلَّا دِیْنَارَیْنِ، اِدَّعَتَہْمُاَ امْرَأَۃٌ وَلَیْسَ لَہَا بَیِّنَۃٌ، قَالَ: ((فَأَعْطِہَا فَإِنَّہَا مُحِقَّۃٌ)) (مسند احمد: ۲۰۳۳۶)

سیّدنا سعد بن اطول ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:ان کے بھائی کا انتقال ہو گیا، وہ تین سو درہم چھوڑ کر فوت ہوا تھا،اس کے اہل و عیال بھی تھے۔ میں نے چاہا کہ یہ رقم ان پر صرف کر دوں۔ لیکن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارے بھائی کو قرضے کی وجہ سے روک لیا گیا ہے، اس لیے تم اس کی طرف سے قرضہ ادا کر دو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے اس کا تمام قرض ادا کر دیا ہے، لیکن دو دینار رہتے ہیں، ایک عورت نے ان کے بارے میں دعویٰ کر دیا ہے،لیکن اس کے پاس کوئی ثبوت نہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اسے بھی دے دو، کیونکہ وہ حق بات کر رہی ہے۔