میت کی تجہیز و تکفین اور قرضہ ادا کرنے میں جلدی کرنا - میت کی تجہیز و تکفین اور قرضہ ادا کرنے میں جلدی کرنا - جنازہ کے احکام و مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation
Chapter 9 of جنازہ کے احکام و مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.
سیّدناعلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے علی! تین کاموں میں تاخیر نہ کرنا: نماز کہ جب اس کا وقت ہو جائے، جنازہ کہ جب وہ حاضر ہو جائے اور غیر شادی شدہ کی شادی کرنا کہ جب تو اس کے ہم پلہ رشتہ پا لے۔
Takhreej
(۳۰۳۸) تخریـج: …اسنادہ ضعیف لجھالۃ سعید بن عبد اللہ الجھنی أخرجہ ابن ماجہ: ۱۴۸۶، والترمذی: ۱۷۱ (انظر: ۸۲۸)
Explanation
فوائد: …تینوں مسائل کے بارے میں حکم تو یہی ہے، بہرحال یہ روایت ضعیف ہے۔
سیّدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھائی پھر پوچھا: یہاں بنو فلاں کا کوئی آدمی موجود ہے؟ صحابہ نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے ساتھی کو قرضے کی وجہ سے جنت کے دروازے پر روک دیا گیا ہے۔
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مومن کا نفس اس وقت تک روک کر رکھا جاتا ہے، جب تک اس پر قرضہ باقی ہو۔
سیّدنا سعد بن اطول رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:ان کے بھائی کا انتقال ہو گیا، وہ تین سو درہم چھوڑ کر فوت ہوا تھا،اس کے اہل و عیال بھی تھے۔ میں نے چاہا کہ یہ رقم ان پر صرف کر دوں۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے بھائی کو قرضے کی وجہ سے روک لیا گیا ہے، اس لیے تم اس کی طرف سے قرضہ ادا کر دو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے اس کا تمام قرض ادا کر دیا ہے، لیکن دو دینار رہتے ہیں، ایک عورت نے ان کے بارے میں دعویٰ کر دیا ہے،لیکن اس کے پاس کوئی ثبوت نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اسے بھی دے دو، کیونکہ وہ حق بات کر رہی ہے۔
Takhreej
(۳۰۴۱) تخریـج: …حدیث صحیح، وھذا اسناد ضعیف لجھالۃ عبد الملک أبی جعفر أخرجہ ابن ماجہ: ۲۴۳۳ (انظر: ۲۰۰۷۶)
Explanation
فوائد: …ممکن ہے کہ آپaکو وحی کے ذریعے اس عورت کے سچا ہونے کا علم ہو گیا ہے۔ اس باب کی احادیث ِ صحیحہ سے معلوم ہوا کہ سب سے پہلے میت کا قرضہ اتارنے کی کوشش کرنی چاہیے، اگر وہ خود کوئی مال چھوڑ کر نہ گیا ہو تو اس کے قبیلے والے یہ ذمہ داری ادا کریں، بصورتِ دیگر عام دوسرے مسلمان۔ وگرنہ اگر ممکن ہوا تو بیت المال سے اس کا قرض ادا کیا جائے گا، کیونکہ فتوحات کے سلسلے کے بعد آپaخود فوت ہونے والے مقروض مسلمانوں کا قرضہ ادا کرتے تھے۔ ایک اور بڑی اہم بات ہے اور لکھتے ہوئے ڈر بھی لگتا ہے کہ قرض لینے والے اس سے ناجائز فائدہ نہ اٹھا لیں، وہ یہ ہے جس آدمی کا یہ پکاعزم ہو کہ اس نے اپنا قرضہ چکانا ہے اور پھر وہ عملی طور پر کوشش بھی کرتا ہے اور پہلی فرصت میں قسطیں ادا کرنے کا موقع ضائع نہیں جانے دیتا، پھر بھی وہ قرض چکائے بغیر فوت ہو جاتا ہے اور اس کے لواحقین اور بیت المال بھی ادا نہیں کرتا تو اللہ تعالیٰ اس کی ادائیگی کے اسباب پیدا کر کے اس کی نیکیوں کو محفوظ کر لے گا۔ کئی احادیث سے یہ مسئلہ ثابت ہوتا ہے،جیسے سو افراد کے قاتل کی بخشش کے اسباب مہیا کر دیئے گئے۔ لیکن اتنا ضرور ہے کہ ایسے آدمی نے اللہ تعالیٰ کے ہاںجوابدہ ہونا ہے، اس لیے اسے غور کر لینا چاہیے کہ کیا اس کے پاس کوئی معقول عذر ہے۔جلدی نمازِ جنازہ ادا کرنے کے بارے میں سیّدنا ابو ہریرہ bبیان کرتے ہیں کہ رسول اللہaنے فرمایا: ((أَسْرِعُوْا بِالْجَنَازَۃِ، فَاِنْ تَکُ صَالِحَۃً فَخَیْرٌ تُقَدِّمُوْنَھَا اِلَیْہِ، وَاِنْ تَکُ سِوٰی ذَالِکَ فَشَرٌّ تَضَعُوْنَہٗ عَنْ رِقَابِکُمْ۔)) یعنی: ’’جنازے میں جلدی کرو، پس اگر وہ نیک ہے تو تم اسے خیر کی طرف بھیج رہے ہو اور اگر وہ برا ہے تو وہ تو شرّ ہے جسے تم اپنے کندھوں سے اتار رہے ہو۔‘‘ (بخاری: ۱۳۱۵، مسلم: ۵۰ یا ۹۴۴)