مسنداحمد

Musnad Ahmad

میت پر رونے، سوگ کرنے اور موت کی اطلاع دینے کے ابواب

نوحہ کرنے، نوحہ کرنے والی اور اسے سننے والی کے حق میں ثابت ہونے والی سختی کا بیان

۔ (۳۰۵۶) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا تُصَلِّی الْمَلَائِکَۃُ عَلٰی ناَئِحَۃٍ وَلَا عَلٰی مُرِنَّۃٍ۔)) (مسند احمد: ۸۷۳۱)

سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: فرشتے نوحہ کرنے والی اور بلند آواز سے رونے والی عورت کے لیے رحمت کی دعا نہیں کرتے۔

۔ (۳۰۵۷) عَنْ أَبِی سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: لَعَنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم النَّائِحَۃَ وَالْمُسْتَمِعَۃَ۔ (مسند احمد: ۱۱۶۴۵)

سیّدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نوحہ کرنے والی اور نوحہ سننے والی عورت پر لعنت فرمائی ہے۔

۔ (۳۰۵۸) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((شُعْبَتَانِ مِنْ أَمْرِ الْجَاہِلِیِّۃِ لَا یَتْرُکُہُمَا النَّاسُ أَبَدًا: النِّیاحَۃُ وَالطَّعْنُ فِی النَّسَبِ۔)) (مسند احمد: ۹۵۷۱)

سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دورِ جاہلیت کے دو کام ہیں، لوگ ان کو کبھی بھی نہیں چھوڑیں گے: نوحہ کرنا اور نسب پر طعن کرنا۔

۔ (۳۰۵۹) عَنْ أَبِی مَالِکِ الأَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَرْبَعٌ مِنَ الْجَاہِلِیَّۃِ لَا یُتْرَکْنَ، اَلْفَخْرُ فِی الْأَحْسَابِ، وَالطَّعْنُ فِی الْأَنْسَابِ، وَالْاِسْتِسْقَائُ بِالنُّجُوْمِ، وَالنِّیاحَۃُ، وَالنَّائِحَۃُ إِذَا لَمْ تَتُبْ قَبْلَ مَوْتِہَا تُقَامُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَعَلَیْہَا سِرْبَالٌ مِنْ قَطِرَانٍ أَوْ دِرْعٌ مِنْ جَرَبٍ۔)) (مسند احمد: ۲۳۲۹۱)

سیّدنا ابو مالک اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چار امورِ جاہلیت ہیں،لیکن ان کو چھوڑا نہیں جائے گا: حسب پر فخر کرنا، نسب پر طعن کرنا، تاروں کے ذریعہ بارش طلب کرنا اورنوحہ کرنا۔ نوحہ کرنے والی عورت اگر وفات سے پہلے توبہ نہیں کر لیتی تو اسے اس حال میں قیامت کے دن کھڑا کیا جائے گا کہ اس پر تارکول یا خارش کی قمیص ہو گی۔

۔ (۳۰۶۰)( وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِنَّ فِی أُمَّتِی أَرْبَعًا مِنَ الْجَاہِلِیَّۃِ لَیْسُوا بِتَارِکِیْھِنَّ: اَلْفَخْرُ بِالْأَحْسَابِ، وَالطَّعْنُ فِی الْأَنْسَابِ والْإِسْتِسْقَائُ بِالنُّجُوْمِ وَالنِّیَاحَۃُ عَلَی الْمَیِّتِ، فَإِنَّ النَّائِحَۃَ إِنْ لَمْ تَتُبْ قَبْلَ أَنْ تَمُوْتَ فَإِنَّہَا تَقُوْمُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَلَیْھَا سَرَابِیْلُ مِنْ قَطِرَانٍ، ثُمَّ یُعْلٰی عَلَیْہَا دِرْعٌ مِنْ لَہَبِ النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۲۳۲۹۲)

(دوسری سند)آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت میں جاہلیت کے چار کام ایسے ہیں، جنہیں وہ ترک نہیں کریں گے:حسب پر فخر کرنا، نسب پرطعن کرنا، تاروں کے ذریعہ بارش طلب کرنا اور میت پر نوحہ کرنا۔ نیز فرمایا: اگر نوحہ کرنے والی عورت نے مرنے سے پہلے توبہ نہ کی تو قیامت کے دن اس طرح کھڑی ہو گی کہ اس پر تارکول کرے کرتے ہوں گے پھر ان پر آگ کے شعلوں کی قمیص چڑھا دی جائے گی۔

۔ (۳۰۶۱) عَنْ یَحْیَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ حَاطِبٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: مَرَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِقَبْرٍ فَقَالَ: ((إِنَّ ہٰذَا لَیُعَذَّبُ الآنَ بِبُکَائِ أَہْلِہِ عَلَیْہِ۔)) فَقَالَتْ عَائِشَۃُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا : غَفَرَ اللّٰہُ لِأَبِی عَبْدِ الرَّحْمٰنِ إِنَّہُ وَہِلَ، إِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی یَقُوْلُ: {وَلَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ أُخْرٰی} إِنَّمَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ ہٰذَا لَیُعَذَّبُ الْآنَ وَأَہْلُہُ یَبْکُوْنَ عَلَیْہِ۔)) (مسند احمد: ۴۸۶۵)

سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک قبر کے پاس سے گزرے اورفرمایا: اس میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے اب عذاب ہو رہا ہے۔ یہ سن کر سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: اللہ تعالیٰ ابو عبد الرحمن کو معاف فرمائے، انہیں غلطی لگ گئی ہے، اللہ تعالیٰ کا تو ارشاد یہ ہے: {وَلَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ أُخْرٰی} (سورۂ انعام: ۱۶۴) یعنی: کوئی کسی کا بوجھ نہ اٹھائے گا۔ اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تو یہ فرمایا تھا: بیشک اس میت کو اب عذاب دیا جا رہا ہے اور اس کے گھر والے اس پر رو رہے ہیں۔

۔ (۳۰۶۲) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: قِیْلَ لَہَا: إِنَّ ابْنَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَرْفَعُ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((إِنَّ الْمَیِّتَ یُعَذَّبُ بِبُکَائِ الْحَیِّ۔)) قَالَتْ: وَہِلَ أَبُوْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، إِنَّمَا قَالَ: ((إِنَّ أَہْلَ الْمَیِّتِ یَبْکُونَ عَلَیْہِ وَإِنَّہُ لَیُعَذَّبُ بِجُرْمِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۴۸۰۶)

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ کسی نے ان سے کہا کہ سیّدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ حدیث بیان کرتے ہیں کہ میت کو زندوں کے رونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا: ابوعبد الرحمن کو غلطی لگ گئی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تو یوں فرمایا تھا کہ: میت کے لواحقین اس پر رو رہے ہیں، جبکہ اسے اپنے گناہوں کی وجہ سے عذاب ہو رہا ہے۔

۔ (۳۰۶۳)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ قَالَ: حَدَّثَنِی أَبِی أَنَّ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ لَہُ: یَا ابْنَ اُخْتِیْ، إِنَّ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ تَعْنِی ابْنَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَخْطَأَ سَمْعُہُ؟ إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَکَرَ رَجُلًا یُعَذَّبُ فِی قَبْرِہِ بِعَمَلِہِ وَأَہْلُہُ یَبْکُوْنَ عَلَیْہِ وَإِنَّہَا وَاللّٰہِ مَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ أُخْرٰی۔ (مسند احمد: ۲۵۱۴۴)

(دوسری سند)سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے عروہ سے کہا: میرے بھانجے! ابو عبد الرحمن یعنی ابن عمر کو سننے میں غلطی لگی ہے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تو ایک آدمی کا ذکر کیا تھا، جسے اس کے اعمال کے جرم میں عذاب ہو رہا تھا اور اس کے اہل و عیال اس پر رو رہے تھے۔ اللہ کی قسم ہے کہ کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے نفس کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔

۔ (۳۰۶۴) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أَبِی بَکْرٍٍعَنْ أَبِیْہِ عَنْ عَمْرَۃَ أَنَّہَا أَخْبَرَتْہُ أَنَّہَا سَمِعَتْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا وَذَکَرَ لَہَا أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما یَقُوْلُ: إِنَّ الْمَیِّتَ لَیُعَذَّبُ بِبُکَائِ الْحَیِّ۔ فَقَالَتْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا : یَغْفِرُ اللّٰہُ لِأَبِی عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، أَمَا إِنَّہُ لَمْ یَکْذِبْ وَلَٰکِنَّہُ نَسِیَ أَوْ أَخْطَأَ، إِنَّمَا مَرَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی یَہُوْدِیَّۃٍ یُبْکٰی عَلَیْہَا فَقَالَ: ((إِنَّہُمْ لَیَبْکُوْنَ عَلَیْہَا وَإِنَّہَا لَتُعَذَّبُ فِی قَبْرِہَا)) (مسند احمد: ۲۶۵ ۲۵)

عمرہ کہتی ہیں کہ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے سامنے یہ ذکر ہواکہ سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کہتے ہیں کہ میت کو زندگان کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: اللہ تعالیٰ ابو عبد الرحمن کو معاف کرے، وہ جھوٹ نہیں بول رہے، یوں لگتا ہے کہ وہ بھول گئے ہیں یا ان سے غلطی ہو گئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا گزر ایک ایسی یہودی عورت کے پاس سے ہوا تھا کہ جس کے گھر والے اس پر رو رہے تھے، اس وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا: یہ لوگ رو رہے ہیں اور اسے قبر میں عذاب دیا جا رہا ہے۔

۔ (۳۰۶۵) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ نِیْحَ عَلَیْہِ فَإِنَّہُ یُعَذَّبُ بِمَا نِیْحَ عَلَیْہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ)) (مسند احمد: ۵۲۶۲)

سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس پر نوحہ کیا گیا تو اس کو نوحہ کی وجہ سے قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا۔

۔ (۳۰۶۶) عَنْ أَبِی الرَّبِیْعِ قَالَ: کُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌فِیْ جَنَازَۃٍ فَسَمِعَ صَوْتَ إِنْسَانٍ یَصِیْحُ فَبَعَثَ إِلَیْہِ فَأَسْکَتَہُ، فَقُلْتُ: یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ! لِمْ أَسْکَتَّہُ؟ قَالَ: إِنَّہُ یَتَاَذّٰی بِہِ الْمَیِّتُ حَتّٰی یَدْخُلَ قَبْرَہُ۔ الْحَدِیْثِ۔ (مسند احمد: ۶۱۹۵)

ابوربیع کہتے ہیں: میں ایک جنازہ میں سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ تھا، جب انہوں نے ایک رونے والے کی آواز سنی تو اس کی طرف ایک آدمی کوبھیج کر اسے خاموش کرایا۔ میں نے کہا: اے ابو عبد الرحمن! آپ نے اسے خاموش کیوں کرا دیا ہے؟انھوں نے کہا: جب تک میت کو قبر میں داخل نہ کر دیا جائے تو اسے اس رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔

۔ (۳۰۶۷) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((کَانَ الْکَافِرُ مِنْ کُفَّارِ قُرَیْشٍ یَمُوْتُ فَیَبْکِیْہِ أَہْلُہُ،فَیَقُوْلُوْنَ: اَلْمُطْعِمُ الْجِفَانِ، الْمُقَاتِلُ الَّذِیْ، فَیَزِیْدُہُ اللّٰہُ عَذَابًا بِمَا یَقُوْلُوْنَ)) (مسند احمد: ۲۴۸۷۷)

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کفار قریش میں سے جب کوئی کافر مرتا تو اس کے گھر والے اس پر روتے ہوئے کہتے:لوگوں کو بہت کھلانے والا، لڑنے والا جو…، توان باتوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کو مزید عذاب دیتا۔

۔ (۳۰۶۸) وَعَنْہَا أَیْضًا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ إِنَّہُمْ لَیَبْکُوْنَ عَلَیْہِ، وَإِنَّہُ لَیُعَذَّبُ فِی قَبْرِہِ بِذَنْبِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۵۰۰۰)

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم، جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یہ لوگ اس پر رو رہے ہیں اور اسے قبر میں اپنے گناہوں کی وجہ سے عذاب دیا جا رہا ہے۔

۔ (۳۰۶۹) عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلْمَیِّتُ یُعَذَّبُ فِی قَبْرِہِ بِالنِّیَاحَۃِ عَلَیْہِ۔)) (مسند احمد: ۱۸۰)

سیّدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میت پر نوحہ کیے جانے کی وجہ سے اس کو قبر میں عذاب دیا جاتا ہے۔

۔ (۳۰۷۰) عَنْ أَنَسَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌لَمَا عَوَّلَتْ عَلَیْہِ حَفْصَۃُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا فَقَالَ: یَا حَفْصَۃُ! أَمَا سَمِعْتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اَلْمُعَوَّلُ عَلَیْہِ یُعَذَّبُ؟)) قَالَ: وَعَوَّلَ صُہَیْبٌ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، فَقَالَ عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: یَا صُہَیْبُ! أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْمُعَوَّلَ عَلَیْہِ یُعَذَّبُ۔ (مسند احمد: ۲۶۸)

سیّدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب سیدہ حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ،سیّدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پر بلند آواز سے روئیں تو انھوں نے کہا: اے حفصہ! کیا تو نے نہیں سنا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو عذاب دیا جاتا ہے، جس پربلند آواز سے رویا جاتا ہے۔ پھر سیّدنا صہیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بلند آواز سے روئے، اس پر سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: صہیب! کیا تم نہیں جانتے کہ جس پر بلند آواز سے رویا جاتا ہے، اس کو عذاب دیا جاتا ہے۔

۔ (۳۰۷۱)عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: أَرْسِلُوْا إِلَیَّ طَبِیْبًا یَنْظُرُ إِلٰی جُرْحِی ہٰذَا، قَالَ: فَأَرْسَلُوْا إِلٰی طَبِیْبٍ مِنْ الْعَرَبِ فَسَقٰی عُمَرَ نَبِیْذًا، فَشُبِّہَ النَّبِیْذُ بِالدَّمِ حِیْنَ خَرَجَ مِنَ الطَّعْنَۃِ الَّتِی تَحْتَ السُّرَّۃِ، قَالَ: فَدَعَوْتُ طَبِیْبًا آخَرَ مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ بَنِی مُعَاوِیَۃَ، فسَقَاَہُ لَبَنًا فَخَرَجَ اللَّبَنُ مِنَ الطَّعْنَۃِ صَلْدًا أَبْیَضَ، فَقَالَ لَہُ الطَّبِیْبُ: یَا أَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ! اِعْہَدْ، فَقَالَ عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: صَدَقَنِیْ أَخُوْ بَنِی مُعَاوِیَۃَ ، وَلَوْ قُلْتَ غَیْرَ ذَالِکَ کَذَّبْتُکَ، قَالَ: فَبَکٰی عَلَیْہِ الْقَوْمُ حَیْنَ سَمِعُوْا ذَالِکَ، فَقَالَ: لَا تَبْکُوْا عَلَیْنَا، مَنْ کَانَ بَاکِیًا فَلْیَخْرُجْ، أَلَمْ تَسْمَعُوْا مَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یُعَذَّبُ الْمَیِّتُ بِبُکَائِ أَہْلِہِ عَلَیْہِ۔)) فَمِنْ أَجْلِ ذَالِکَ کَانَ عَبْدُ اللّٰہِ لَا یُقِرُّ أَنْ یُبْکٰی عِنْدَہُ عَلٰی ہَالِکٍ مِنْ وَلَدِہِ وَلَا غَیْرِہِمْ۔ (مسند احمد: ۲۹۴)

سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: کسی طبیب کو بلائو،وہ میرے زخم کا معائنہ کرے، چنانچہ ایک عربی طبیب کو بلوایا گیا۔ اس نے سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو نبیذ پلایا، جب وہ ناف کے نیچے والے زخم سے (خون آمیز نبیذ کی صورت میں) خارج ہو گیا، تو نبیذ خون کے مشابہ ہوگیا۔ سیّدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: پھر میں بنی معاویہ کے انصار میں سے ایک دوسرا طبیب بلایا۔ اس نے آ کر سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دودھ پلایا، لیکن وہ تو زخم کے راستے سے صاف سفیددودھ ہی نکل آیا۔ طبیب نے کہا: امیر المومنین! وصیت کر لو، (آپ فوت ہونے والے ہیں)۔ یہ سن کر سیّدناعمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: بنو معایہ کا یہ بھائی سچ کہہ رہا ہے، اگر تم کوئی اور بات کرتے تو میں اس کو غلط سمجھتا۔ یہ بات سن کر لوگ رو پڑے۔ جس پر سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ہمارے اوپر نہ روئوو، جو رونا چاہتا ہے وہ باہر چلا جائے۔ کیا تم لوگوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا یہ ارشاد نہیں سنا کہ میت کو اس کے اہل و عیال کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیّدنا عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میت کے پاس رونے نہیں دیتے تھے۔ رونے والی ان کی اولاد ہو یا کوئی اور۔

۔ (۳۰۷۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی ثَنَا إِسْمَاعِیْلَ حَدَّثَنَا أَیُّوْبُ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ، قَالَ: کُنْتُ عِنْدَ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ وَنَحْنُ نَنْتَظِرُ جَنَازَۃَ أُٔمِّ أَبَانَ ابْنَۃِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، وَعِنْدَہُ عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، فَجَائَ ابْنُ عَبَّاسَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَقُوْدُہُ قَائِدُہُ، قَالَ: فَأُرَاہُ أَخْبَرَہُ بِمَکَانِ ابْنِ عُمَرَ، فَجَائَ حَتّٰی جَلَسَ إِلٰی جَنْبِی وَکُنْتُ بَیْنَہُمَا، فَإِذَا صَوْتٌ مِنَ الدَّارِ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: إِنَّ الْمَیِّتَ یُعَذَّبُ بِبُکَائِ أَہْلِہِ عَلَیْہِ۔)) فَأَرْسَلَہَا عَبْدُ اللّٰہِ مُرْسَلَۃً۔ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: کُنَّا مَعَ أَمِیْرِ الْمُؤْمِنِیْنَ عُمَرَ، حَتَّی إِذَا کُنَّا بَالْبَیْدَائِ إِذَا ہُوَ بِرَجُلٍ نَازِلٍ فِی ظِلِّ شَجَرَۃٍ، فَقَالَ لِیْ: اِنْطَلِقْ فَاعْلَمْ مَنْ ذَالِکَ، فَانْطَلَقْتُ فَإِذَا ہُوَ صُہَیْبٌ، فَرَجَعْتُ إِلَیْہِ، فَقُلْتُ: إِنَّکَ أَمَرْتَنِی أَنْ أَعْلَمَ لَکَ مَنْ ذَالِکَ، وَإِنَّہُ صُہَیْبٌ فَقَالَ: مُرُوْہُ فَلْیَلْحَقْ بِنَا، فَقُلْتُ: إِنَّ مَعَہُ أَہْلَہُ؟ قَالَ: وَإِنْ کَانَ مَعَہُ أَہْلُہُ، وَرَبُّمَا قَالَ أَیُّوْبُ مَرَّۃً: فَلْیَلْحَقْ بِنَا، فَلَمَّا بَلَغْنَا الْمَدِیْنَۃَ لَمْ یَلْبَثْ أَمِیْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ أَنْ أُصِیْبَ، فَجَائَ صُہَیْبٌ فَقَالَ: وَا أَخَاہُ وَا صَاحِبَاہُ، فَقَالَ عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: أَلَمْ تَعْلَمْ أَوْ لَمْ تَسْمَعْ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِنَّ الْمَیِّتَ لَیُعََذَّبُ بِبَعْضِ بُکَائِ أَہْلِہِ عَلَیْہِ۔)) فَأَمَّا عَبْدُ اللّٰہِ فَأَرْسَلَہَا مُرْسَلَۃً وَأَمَّا عُمَرُ فَقَالَ بِبَعْضِ بُکَائِ فَأَتَیْتُ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا فَذَکَرْتُ لَہَا قَوْلَ عُمَرَ، فَقَالَتْ: لَا وَاللّٰہِ! مَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِنَّ الْمَیِّتَ یُعَذَّبُ بِبُکَائِ أَحَدٍ وَلٰکِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِنَّ الْکَافِرَ لَیَزِیْدُہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ بِبُکَائِ أَہْلِہِ عَذَابًا، وَإِنَّ اللّٰہَ لَہُوَ أَضْحَکَ وَأَبْکٰی، {وَلَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ أَخْرٰی} قَالَ أَیُوْبُ: وَقَالَ ابْنُ أَبِی مُلَیْکَۃَ: حَدَّثَنِی الْقَاسِمُ، قَالَ: لَمَّا بَلَغَ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَوْلُ عُمَرَ وَابْنِ عُمَرَE قَالَتْ: إِنَّکُمْ لَتُحَدِّثُوْنِی عَنْ غَیْرِ کَاذِبَیْنِ وَلَا مُکَذَّبَیْنِ وَلٰکِنَّ السَّمَعَ یُخْطِیئُ۔ (مسند احمد: ۲۸۸)

عبد اللہ بن ابی ملیکہ کہتے ہیں:میں سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ تھا، ہم سیّدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیٹی ام ابان کے جنازہ کا انتظار کر رہے تھے، وہاں پر عمرو بن عثمان بھی موجود تھے، اتنے میں سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بھی تشریف لے آئے،جبکہ ایک آدمی ان کی رہنمائی کر رہا تھا (کیونکہ وہ نابینا ہو چکے تھے)، میرا خیال ہے کہ اس آدمی نے انہیں سیّدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے متعلق بتلایا، پس وہ آ کر میرے پہلو میں بیٹھ گئے، جبکہ میں ان دونوںکے درمیان آگیا۔ جب گھر سے رونے کی آواز سنائی دی تو سیّدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: میت کو اس کے اہل و عیال کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔ سیّدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس حدیث کو مطلق طور پر بیان کیا اور (یہودی کے ساتھ خاص نہیں کیا)۔ یہ سن کر سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ہم امیر المومنین سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہمراہ تھے، جب ہم بیداء مقام میں پہنچے تو درخت کے سائے میں ایک آدمی بیٹھا دکھائی دیا، امیر المومنین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھ سے کہا: دیکھ کر آئو، یہ آدمی کون ہے؟ میں نے جا کر دیکھا تو وہ سیّدنا صہیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھے۔ میں نے واپس آ کر عرض کیا کہ آپ نے مجھے حکم دیا تھا کہ یہ پتہ کرکے آئوں وہ آدمی کون ہے تو وہ سیّدنا صہیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہیں۔ امیر المومنین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ان سے جا کر کہو کہ ہمارے ساتھمل جائیں۔ میں نے کہا: ان کے ہمراہ ان کے اہل خانہ بھی ہیں۔آپ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اگرچہ ان کے ساتھ اہل خانہ بھی ہوں، بس وہ ہمارے ساتھ مل جائیں۔ جب ہم مدینہ منورہ پہنچے تھے تو امیر المومنین پر حملہ کر دیا گیا (اور آپ زخمی ہو گئے)۔ سیّدنا صہیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آئے اور کہا: ہائے میرے بھائی! ہائے میرے دوست! یہ سن کر سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: کیا آپ نے نہیں سنا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا ہے کہ میت کو اس کے بعض اہل و عیال کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔ سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس حدیث کو مطلق طور پر بیان کیا اور سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بعض اہل و عیال کی قید لگائی۔ سیّدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کہتے ہیں: پھر میں سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس گیا اور سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی حدیث ان کو بیان کی، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس طرح نہیں فرمایا کہ میت کو کسی کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تو یوں فرمایا تھا: بیشک اللہ تعالیٰ کافر کو اس کے اہل و عیال کے رونے کی وجہ سے مزید عذاب دیتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ ہی ہے جو ہنساتا اور رلاتا ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسری کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ قاسم نے کہا: جب سید عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا تک سیّدنا عمر اور سیّدنا ابن عمر کی بات پہنچی تو انھوں نے کہا: بیشک تم مجھے ایسے لوگوں سے بیان کر رہے ہو جو نہ خود جھوٹ ہیں اور نہ ان کو جھٹلایا گیا ہے، اصل بات یہ ہے کہ سننے میں غلطی ہو جاتی ہے۔

۔ (۳۰۷۳) عَنْ عَلِیِّ بْنِ رَبِیَعَۃ الْأَسْدِیِّ قَالَ: مَاتَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ یُقَالُ لَہُ قَرَظَۃُ بْنُ کَعْبٍ فَنِیْحَ عَلَیْہِ (وَفِی رِوَیَۃٍ إِنَّ أَوَّلَ مَنْ نِیْحَ عَلَیْہِ بَالْکُوْفَۃِ قَرَظَۃُ بْنُ کَعْبٍ الْأَنْصَارِیُّ) فَخَرَجَ الْمُغِیْرَۃُ بْنُ شُعْبَۃُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، فَصَعِدَ الْمِنْیَرَ فَحَمِدَ اللّٰہِ وَأَثْنٰی عَلَیْہِ، ثُمَّ قَالَ: مَا بَالُ النَّوْحِ فِی الْأِسْلَامِ، أَمَا إِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((إِنَّ کَذِبًا عَلَیَّ لَیْسَ کَکذِبٍ عَلٰی أَحَدٍ، أَلَا وَمَنْ کَذَبَ عَلَیَّ متُعَمِّدًا فَلْیَتَبَوَّأْ مَقْعَدَہُ مِنَ النَّارِ۔)) أَلَا وَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ یُنَحْ عَلَیْہِ یُعَذَّبْ بِمَا نِیْحَ بِہِ عَلَیْہِ۔)) (مسند احمد: ۱۸۳۲۰)

علی بن ربیعہ اسدی کہتے ہیں: قرظہ بن کعب نامی ایک انصاری آدمی فوت ہو گیا اور اس پر نوحہ کیا جانے لگا، ایک روایت میں ہے کہ کوفہ میں سب سے پہلے قرظہ بن کعب انصاری پر نوحہ کیا گیا، سیّدنامغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ منبر پر تشریف لائے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرنے کے بعد کہا: اسلام میں نوحہ کا کیا کام؟ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: مجھ پر جھوٹ بولنا، یہ عام آدمی پر جھوٹ بولنے کی طرح نہیں ہے، خبردار!جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ بولا، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم سے تیار کر لے۔ اور میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے بھی سنا: جس پر نوحہ کیا گیا تو اسے اس وجہ سے عذاب دیا جائے گاکہ اس پر نوحہ کیا گیا۔

۔ (۳۰۷۴) عَنْ أَسِیْدِ بْنِ أَبِی أَسِیْدٍ عَنْ مُوْسَی بْنِ أَبِی مُوْسَی اْلأَشْعَرِیّ عَنْ أَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلْمَیِّتُ یُعَذَّبُ بِبُکَائِ الْحَیِّ عَلَیْہِ، إِذَا قَالَتِ النَّائِحَۃُ وَاعَضُدَاہُ، وَانَاصِرَہُ، وَاکَاسِیَاہُ، جُبِذَ الْمَیِّتُ وَقِیْلَ لَہُ: أَنْتَ عَضُدُہَا، أَنْتَ نَاصِرُہَا، أَنْتَ کَاسِیْہَا۔)) فَقُلْتُ: سُبْحَانَ اللّٰہِ! یَقُوْلُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: {وَلَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ أُخْرٰی} فَقَالَ: وَیْحَکَ أُحَدِّثُکَ عَنْ أَبِی مُوْسٰی عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَتَقُوْلُ ہٰذَا؟ فَأَیُّنَا کَذَبَ؟ فَوَاللّٰہِ! مَا کَذَبْتُ عَلٰی أَبِی مَوْسٰی، وَلَا کَذَبَ أَبُوْ مُوْسٰی عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۱۹۹۵۴)

سیّدنا ابو موسی اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میت کو زندوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے، جب نوحہ کرنے والی کہتی ہے: ہائے میرے بازو! ہائے میرے مدد گار! ہائے مجھے کپڑے پہنانے والے! تو فرشتے میت کو جھنجوڑتے اور کہتے ہیں:تو اس کا بازو تھا؟ تو اس کا مدد گار تھا؟ تو اس کو کپڑے پہناتا تھا؟ اسید کہتے ہیں: میں نے (تعجب کرتے ہوئے) کہا: سبحان اللہ! اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے: {وَلَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ أُخْرٰی} (سورۂ نعام:۱۶۴) یعنی: کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ لیکن موسی بن ابی موسیٰ نے کہا: تو ہلاک ہو جائے، میں تجھے سیّدنا ابو موسی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے واسطے سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی حدیث بیان کر رہا ہوں اور تو اس طرح کہتا ہے؟ ہم میں سے کس نے جھوٹ بولا؟ اللہ کی قسم! میں نے سیّدنا ابو موسی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پر جھوٹ نہیں بولا اور نہ ابو موسی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر جھوٹ بولا ہے۔