مسنداحمد

Musnad Ahmad

میت کو غسل دینے کے مسائل

میاں بیوی کا ایک دوسرے کو غسل دینے کا بیان

۔ (۳۱۰۰) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: دَخَلَ عَلَیَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْیَوْمِ الَّذِی بُدِیَٔ فِیْہِ ،فَقُلْتُ: وَا رَأْسَاہُ، فَقَالَ: ((وَدِدْتُّ أَنَّ ذَالِکَ کَانَ وَأَنَا حَیٌّ فَہَیَّأْتُکِ وَدَفَنْتُکِ۔)) (مسند احمد: ۲۵۶۲۶)

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتی ہیں: جس دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (کی مرض الموت) کا آغاز ہوا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس تشریف لائے اورمیں نے کہا: ہائے میرا سر۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں تو چاہتا ہوں کہ ایسا ہوتا کہ(تم بیمار ہو جانے کے بعد فوت ہو جاتیں) پھر تم کو تیار کر کے دفن کر دیتا۔

۔ (۳۱۰۱)(وَعَنْہَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ) قَالَ: ((مَا ضَرَّکِ لَوْ مُتِّ قَبْلِی فَغَسَّلْتُکِ وَکَفَّنْتُکِ، ثُمَّ صَلَّیْتُ عَلَیْکِ وَدَفَنْتُکِ۔)) (مسند احمد: ۲۶۴۳۳)

(دوسری سند)آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس سے تمہارا کوئی نقصان نہیں ہو گا کہ اگر تم مجھ سے قبل فوت جاؤ تو میں تم کو غسل دے کر کفن پہناؤں گا اور پھر تمہاری نمازِ جنازہ پڑھ کر تجھے دفن کروں گا۔