سیّدناجابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:احد کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شہداء پرمتوجہ ہوئے اور فرمایا: ان کو خون سمیت ڈھانپ دو، میں ان کے حق میں گواہی دوں گا۔)) پھر دو دو، تین تین آدمیوں کو ایک ایک قبر میں دفن کیا گیا اور دفن کے وقت یہ پوچھا جاتا ہے کہ ان میں سے کون زیادہ قرآن پڑھا ہوا ہے، پھر اسے قبر میں مقدم کرتے تھے۔ سیّدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس روز میرے والد اور چچا کو ایک قبر میں دفن کیا گیا۔
سیّدنا عبد اللہ بن صعیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شہدائے احد پر متوجہ ہوئے تو فرمایا: میں ان پر گواہ ہوں، جو آدمی بھی اللہ تعالیٰ کی راہ میں زخمی ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن اس حال میں اٹھائے گا کہ اس کے زخم سے خون جاری ہو گا، اس کا رنگ تو خون جیسا ہی ہو گا، لیکن خوشبو کستوری کی سی ہو گی۔ اب دیکھو! ان میں سے جس کو قرآن مجید زیادہ یاد ہو، اسے قبر میں آگے کی طرف رکھو۔
سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شہدائے احد کے متعلق فرمایا: انہیں غسل نہ دو، کیونکہ قیامت کے دن ہر زخم یا ہر خون سے کستوری کی خوشبو آئے گی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ بھی نہیں پڑھی۔
عبد اللہ بن فروخ کہتے ہیں:میں موجود تھا، سیّدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو خون سمیت ان کے کپڑوں میں دفن کیا گیا اور ان کو غسل نہیں دیا گیا۔