مسنداحمد

Musnad Ahmad

میت کو غسل دینے کے مسائل

شہید کو غسل نہ دینے کا بیان

۔ (۳۱۰۳) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: لَمَّا کَانَ یَوْمُ أُحُدٍ أَشْرَفَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی الشَّہُدَائِ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا یَوْمَئِذٍ، فَقَالَ: ((زَمِّلُوْھُمْ بِدِمَائِہِمْ فَإِنِّی قَدْ شَہِدْتُّ عَلَیْہِمْ)) فَکَانَ یُدْفَنُ الرَّجُلَانِ وَثَـلَاثَۃٌ فِی الْقَبْرِ الْوَاحِدِ،وَیُسْأَلُ أَیُّہُمْ کَانَ أَقْرَأَ لِلْقُرْآنِ فَیُقَدِّمُوْنَہُ، قَالَ: فَدُفِنَ أَبِی وَعَمِّی یَوْمَئِذٍ فِی قَبْرٍ وَاحِدٍ۔ (مسند احمد: ۲۴۰۵۹)

سیّدناجابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:احد کے دن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شہداء پرمتوجہ ہوئے اور فرمایا: ان کو خون سمیت ڈھانپ دو، میں ان کے حق میں گواہی دوں گا۔)) پھر دو دو، تین تین آدمیوں کو ایک ایک قبر میں دفن کیا گیا اور دفن کے وقت یہ پوچھا جاتا ہے کہ ان میں سے کون زیادہ قرآن پڑھا ہوا ہے، پھر اسے قبر میں مقدم کرتے تھے۔ سیّدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: اس روز میرے والد اور چچا کو ایک قبر میں دفن کیا گیا۔

۔ (۳۱۰۴) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ ثَعْلَبَۃَ بْنِ صُعَیْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: لَمَّا أَشْرَفَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی قَتْلٰی أُحُدٍ قَالَ: ((أَشْہَدُ عَلٰی ہٰؤُلَائِ، مَا مِنْ مَجْرُوْحٍ جُرِحَ فِی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ إِلَّا بَعَثَہُ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَجُرْحُہُ یَدْمٰی، اَللَّوْنُ لَوْنُ الدَّمِ وَالرِّیْحُ رِیْحُ الْمِسْکِ، اُنْظُرُوْا أَکْثَرَہُمْ جَمْعًا لِلْقُرْآنِ، فَقَدِّمُوْہُ أَمَامَہُمْ فِی الْقَبْرِ)) (مسند احمد: ۲۴۰۵۸)

سیّدنا عبد اللہ بن صعیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شہدائے احد پر متوجہ ہوئے تو فرمایا: میں ان پر گواہ ہوں، جو آدمی بھی اللہ تعالیٰ کی راہ میں زخمی ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن اس حال میں اٹھائے گا کہ اس کے زخم سے خون جاری ہو گا، اس کا رنگ تو خون جیسا ہی ہو گا، لیکن خوشبو کستوری کی سی ہو گی۔ اب دیکھو! ان میں سے جس کو قرآن مجید زیادہ یاد ہو، اسے قبر میں آگے کی طرف رکھو۔

۔ (۳۱۰۵) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ فِی قَتْلٰی أُحُدٍ: ((لَا تُغَسِّلُوْہُمْ فَإِنَّ کُلَّ جُرْحٍ أَوْ کُلَّ دَمٍ یَفُوْحُ مِسْکًا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) وَلَمْ یُصَلِّ عَلَیْہِمْ (مسند احمد: ۱۴۲۳۸)

سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے شہدائے احد کے متعلق فرمایا: انہیں غسل نہ دو، کیونکہ قیامت کے دن ہر زخم یا ہر خون سے کستوری کی خوشبو آئے گی۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی نماز جنازہ بھی نہیں پڑھی۔

۔ (۳۱۰۶) عَنْ إِبْرَاہِیِْمَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ فَرُّوخَ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ: شَہِدْتُّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ دُفِنَ فِی ثِیَابِہِ بِدِمَائِہِ وَلَمْ یُغَسَّلْ۔ (مسند احمد: ۵۳۱)

عبد اللہ بن فروخ کہتے ہیں:میں موجود تھا، سیّدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو خون سمیت ان کے کپڑوں میں دفن کیا گیا اور ان کو غسل نہیں دیا گیا۔