مسنداحمد

Musnad Ahmad

دفن کے ابواب اور قبروں کے احکام

میت کو رات کودفن کرنے کااور ان اوقات کا بیان جن میں تدفین منع ہے

۔ (۳۲۶۳) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ الْأَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: تُوُفِّیَ رَجُلٌ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ بَنِی عُذْرَۃَ فَقُبِرَ لَیْلًا، فَنَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یُقْبَرَ الرَّجُلُ لَیْلًا حَتّٰی یُصَلّٰی عَلَیْہِ إِلَّا أَنْ یَضْطَرُّوْا إِلٰی ذَالِکَ۔ (مسند احمد: ۱۵۳۶۱)

سیّدنا جابربن عبداللہ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں بنو عذرہ خاندان کا ایک آدمی رات کو فوت ہوا اور اسے رات کو ہی دفن کر دیا گیا، تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رات کو دفن کرنے سے منع فرما دیا، جب تک اس کی نماز جنازہ ادا نہ کر لی جائے، الا یہ کہ لوگ (رات کو دفن) کرنے پر مجبور ہو جائیں۔

۔ (۳۲۶۴) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: مَا عَلِمْنَا بِدَفْنِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی سَمِعْتُ صَوْتَ الْمَسَاحِی مِنْ آخِرِ اللَّیْلِ لَیْلَۃَ الْأَرْبِعَائِ، قَالَ مُحَمَّدٌ، وَالْمَسَاحِی الْمَرُوْرُ۔ (مسند احمد: ۲۴۸۳۷)

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: ہمیں تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دفن ہو جانے کا اس وقت علم ہوا کہ جب نے بدھ والی رات کے آخری حصے میں بیلچوں وغیرہ کی آوازیں سنیں۔ محمد بن اسحاق کہتے ہیں: اَلْمَسَاحِیْ کا معنی بیلچہ ہے۔

۔ (۳۲۶۵) عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ الجْہُنَیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: ثَـلَاثُ سَاعَاتٍ کَانَ یَنْہَانَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ نُصَلِّیَ فِیْہَا أَوْ أَنْ نَقْبُرَ فِیْہِنَّ مَوْتَانَا: حِیْنَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ بِازِغَۃً حَتّٰی تَرْتَفِعَ، وَحِیْنَ یَقُوْمُ قَائِمُ الظَّہِیْرَۃِ حَتّٰی تَمِیْلَ الشَّمْس، وَحِیْنَ تَضَیَّفُ لِلْغُرُوْبِ حَتّٰی تَغْرُبَ۔ (مسند احمد: ۱۷۵۱۲)

سیّدناعقبہ بن عامر جھنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں ان تین اوقات میں نماز پڑھنے اور مردوں کو دفن کرنے سے منع فرمایا: (۱) جب سورج طلوع ہو رہا ہوتا ہے، یہاں تک کہ وہ بلند ہو جائے، (۲) جب دوپہر کے وقت کھڑا ہو جانے والا کھڑا ہو جائے، یہاں تک کہ سورج ڈھل جائے، اور (۳) جب سورج غروب ہونے کے لیے جھک جائے، یہاں تک کہ وہ غروب ہو جائے۔