TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

قبروں کو برابر کرنا، ان پر پانی چھڑکنا اور ان کو کو ہان نما بنانا تاکہ ان کو پہچانا جا سکے - قبروں کو برابر کرنا، ان پر پانی چھڑکنا اور ان کو کو ہان نما بنانا تاکہ ان کو پہچانا جا سکے - دفن کے ابواب اور قبروں کے احکام - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 4 of دفن کے ابواب اور قبروں کے احکام in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 4 of 8 · 6 Hadith
۔ (۳۲۶۶) عَنْ أَبِی مُحَمَّدٍ عَنْ الْہُذَلِیِّ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی جَنَازَۃِ، فَقَالَ: ((أَیُّکُمْ یَنْطَلِقُ إِلَی الْمَدِیْنَۃِ، فَـلَا یَدَعُ بِہَا وَثَنَا إِلَّأکَسَرَہُ وَلَا قَبْرًا إِلَّا سَوَّاہُ وَلَا صُوْرَۃً إِلَّا لَطَخَہَا؟)) فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَانْطَلَقَ فَہَابَ أَہْلَ الْمَدِیْنَۃِ فَرَجَعَ، فَقَالَ عَلِیٌّ: أَنَا أَنْطَلِقُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: فَانْطَلَقَ، ثُمَّ رَجَعَ، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! لَمْ أَدَعْ بِہَا وَثَنَا إِلَّا کَسَرْتُہُ وَلَا قَبْرًا إِلَّا سَوَّیْتُہُ، وَلَا صُوْرَۃً اِلَّا لَطَخْتُہَا، ثُمَّ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ عَادَ لِصَنْعَۃِ شَیْئٍ مِنْ ہٰذَا فَقَدْ کَفَرَ بِمَا أُنْزِلَ عَلٰی مُحَمَّدٍ۔)) ثُمَّ قَالَ: ((لَاتَکُوْنَنَّ فَتَّانًا وَلَا مُخْتَالاً وَلَا تَاجِرًا اِلَّا تَاجِرَ خَیْرٍ، فَإِنَّ أُوْلٰئِکَ ہُمُ الْمَسْبُوْقُوْنَ بِالْعَمَلِ۔)) (مسند احمد: ۶۵۷)
ابومحمد ہذلی، سیّدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک جنازہ میں شریک تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے وہ کون ہے جو مدینہ جائے اور وہاں جا کر ہر بت کو توڑ دے، ہر قبر کو برابر کر دے اور ہر تصویر کو مسخ کر دے؟ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں یہ کام کروں گا، پھر وہ چلا تو گیا، لیکن مدینہ والوں سے ڈر کر واپس آگیا۔ سیّدناعلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اس کام کے لیے جاتا ہوں، پھر وہ چلے گئے اور واپس آ کر کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے ہر بت کو توڑ ڈالا، ہر قبر کو برابر کر دیا اور ہر تصویر کو مسخ کر دیا۔ اس کے بعد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے دوبارہ اس قسم کا کوئی کام کیا تو اس نے اس دین کا انکار کر دیا جو محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر نازل ہوا۔، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم فتنہ باز اور متکبر نہ بننا اور تاجر بھی نہ بننا، الا یہ کہ خیر کا تاجر ہو، کیونکہ یہ لوگ (اچھے) عمل میں پیچھے رہ جائیں گے۔
Takhreej
(۳۲۶۶) تخریـج: …اسنادہ ضعیف، ابو محمد الھذلی لایعرف أخرجہ الطیالسی: ۹۶، وابویعلی: ۵۰۶ (انظر: ۶۵۷)
3266
Zaeef
۔ (۳۲۶۷) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعَثَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَنْ یُسَوِّیَ کُلَّ قَبْرِ وَأَنْ یَلْطَخَ کُلَّ صَنَمٍ، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِّی اَکْرَہُ أَنْ اَدْخُلَ بُیُوْتَ قَوْمِی، قَالَ: فَأَرْسَلَنِیْ، فَلَمَّا جِئْتُ، قَالَ: ((یَا عَلِیُّ! لَاتَکُوْنَنَّ فَتَّانًا، وَلَامُخْتَالًا وَلَا تَاجِرًا إِلَّا تَاجِرَ خَیْرٍ فَإِنَّ أُوْلٰئِکَ مُسَوِّفُوْنَ اَوْ مَسْبُوْقُوْنَ فِی الْعَمَلِ)) (مسند احمد: ۱۱۷۶)
سیّدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہر قبر کو برابر کرنے اور ہر بت کو توڑ ڈالنے کے لیے ایک انصاری کو بھیجا، لیکن اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اپنی قوم کے گھروں کے اندر داخل ہونے کو ناپسند کرتا ہوں۔ اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے بلا بھیجا، جب میں آ یا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: علی! تم فتنہ باز اورمتکبر نہ بننا اور نہ ہی تاجر بننا، الایہ کہ خیر کا تاجر ہو، یہ لوگ عمل میں ٹال مٹول کرنے والے ہیں یا دوسروں سے پیچھے رہ جائیں گے۔
Takhreej
(۳۲۶۷) تخریـج: …انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… یعنی آج کرتے ہیں، کل کر لیں گے، بس کر ہی لیں گے۔ وہ یہی باتیں کرتے کرتے وقت گزار دیتے ہیں، ان کو کام کرنے کی توفیق نہیں ملتی۔ یہ بڑا خطرناک انداز ہے، جس کا نتیجہ محرومی ہی ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ اس انداز سے بچائے۔ (آمین) نیکی کے کام جلد اور اول فرصت میں کرنے کی عادت بنانی چاہیے۔ (عبداللہ رفیق)
3267
Zaeef
۔ (۳۲۶۸) عَنْ جَرِیْرِ بْنِ حَیَّانَ عَنْ أَبِیْہِ اَنَّ عَلِیًا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ لأَبِیْہِ: لَأَبْعَثَنَّکَ فِیْ مَا بَعَثَنِی فِیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ أُسَوِّیَ کُلَّ قَبْرٍ وَأَنْ أَطْمِسَ کُلَّ صَنَمٍ۔ (مسند احمد: ۸۸۹)
جنابِ حیان کہتے ہیں: سیّدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے کہا: میں تمہیں ایک ایسے کام کے لیے بھیجوں گا کہ جس کے لیے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے بھیجا تھا، اور وہ یہ تھا کہ میں ہر قبر کو برابر کر دوں اور ہر بت کو توڑ ڈالوں۔
Takhreej
(۳۲۶۸) تخریـج: …اسنادہ ضعیف جدا، یونس بن خباب کذبہ یحیی بن سعید، وقال ابن معین: رجل سوء ضعیف، وقال البخاری: منکر الحدیث۔ أخرجہ البزار: ۹۱۱(انظر: ۶۸۳، ۸۸۹)
Explanation
فوائد: …اس سلسلے میں سیّدنا علیbسے مروی درج ذیل روایت صحیح ہے: ابو ہیاج اسدی کہتے ہیں:
3268
Zaeef
۔ (۳۲۶۹) عَنْ ثُمَامَۃَ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ فََضَالَۃَ بْنِ عُبَیْدٍ الْأَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌إِلٰی أَرْضِ الرُّوْمِ، وَکَانَ عَامِلًا لِمُعَاوِیَۃَ عَلَی الدَّرْبِ، فَأُصِیْبَ ابْنُ عَمٍّ لَنَا، فَصَلّٰی عَلَیْہِ فَضَالَۃُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَقَامَ عَلٰی حُفْرَتِہِ، حَتّٰی وَارَاہُ فَلَمَّا سَوَّیْنَا عَلَیْہِ حُفْرَتَہُ، قَالَ: أَخِفُّوْا عَنْہُ فَإِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَأْمُرُنَا بِتَسْوِیَۃِ الْقُبُوْرِ۔ (مسند احمد: ۲۴۴۳۱)
ثمامہ ہمدانی کہتے ہیں: ہم سیّدنافضالہ بن عبید انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہمراہ روم کی طرف نکلے، وہ وہاں سیّدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف سے درب کے حاکم تھے، ہوا یوں کہ ہمارا ایک چچا زاد بھائی فوت ہو گیا، سیّدنا فضالہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی اور اس وقت تک اس کی قبر پر کھڑے رہے تاآنکہ اس کو دفن کر دیا، جب ہم نے (مٹی ڈال کر) اس کا گڑھا برابر کرنے لگے تو انھوں نے کہا: ذرا مٹی کم ڈالو، کیونکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمیں قبر کو زمین کے برابر کرنے کا حکم دیا کرتے تھے۔
Takhreej
(۳۲۶۹) تخریـج: …أخرجہ مسلم: ۹۶۸ (انظر: ۲۳۹۳۴)
3269
Sahih
۔ (۳۲۷۰) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: غَزَوْنَا أَرْضَ الرُّوْمِ وَعَلٰی ذَالِکَ الْجَیْشِ فَضَالَۃُ بْنُ عُبَیْدٍالْأَنْصَارِیُّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ، فَقَالَ فَضَالَۃُ: خَفِّفُوْا فَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَأْمُرُ بِتَسْوِیَۃِ الْقُبُوْرِ۔ (مسند احمد: ۲۴۴۳۳)
(دوسری سند) ثمامہ کہتے ہیں: ہم نے روم کے علاقے والوں سے جہاد کیا، اس لشکر کے امیر سیّدنا فضالہ بن عبید انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھے،… سارا واقعہ بیان کیا…، سیّدنا فضالہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: مٹی تھوڑی ڈالو، کیونکہ میںنے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ حکم دیتے ہوئے سنا تھا کہ قبروں کو زمین کے برابر کر دیا جائے۔
Takhreej
(۳۲۷۰) تخریـج: …انظر الحدیث بالطریق الاول
3270
Sahih
۔ (۳۲۷۱)(وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَالِتٍ) عَنْ یَزِیْدَ بْنِ أَبِی حَبِیْبٍ اَنَّ أَبَا عَلِیٍّ الْھَمْدَانِیَّ أَخْبَرَہُ أَنَّہُ رَاٰی فَضَالَۃَ بْنَ عُبَیْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَمَرَ بَقُبُوْرِ الْمُسْلِمِیْنَ فَسُوِّیَتْ بِأَرْضِ الرُّوْمِ وَقَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: سَوُّوْا قُبُوْرَکُمْ بِالْأَرْضِ۔ (مسند احمد: ۲۴۴۵۹)
(تیسری سند) ابو علی ثمامہ ہمدانی بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیّدنا فضالہ بن عبید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دیکھا کہ وہ مسلمانوں کی قبروں کو زمین کے برابر کر دینے کا حکم دیتے تھے، چنانچہ روم کے علاقے میں مسلمانوں کی قبروں کو زمین کے برابر کر دیا گیا۔ پھر انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے سنا کہ تم اپنی قبروں کو زمین کے برابر کر دیا کرو۔
Takhreej
(۳۲۷۱) تخریـج: …حدیث صحیح، وھذا اسناد ضعیف، عبد اللہ بن لھیعۃ سییء الحفظ، وانظر الحدیث بالطریق الاول أخرجہ الطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۱۸/ ۸۱۰، وفی ’’الاوسط‘‘: ۳۱۸۸ (انظر: ۲۳۹۵۹)
Explanation
فوائد: …اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ قبر کو زمین سے بلند کر کے بنایا جائے گا اور اسے زمین کے بالکل برابر نہیں کیا جائے گا، تاکہ اس کی حفاظت ہوتی رہے اور اس کی توہین نہ ہونے پائے۔ تو پھر سیّدنا فضالہbکی روایت کردہ اس حدیث اور اس سے ان کے کیے ہوئے استدلال کا کیا بنے گا؟ اس کے مختلف جوابات ہیں: (۱) آپ a کے اس فرمان کا تعلق غیر شرعی اونچی قبروں سے تھا، جیسا کہ سیّدنا علیbکی روایت میں گزر چکا ہے، لیکن سیّدنا فضالہbنے اس کو عام سمجھ لیا اور (۲) یہ بھی ممکن ہے کہ قبروں کو زمین کے برابر کر دینے کا معنی یہ ہو کہ ان کو کم بلند رکھا جائے۔ قبر کے بارے میں مزید احادیث:
3271
Sahih

Chapters

8
01
’’لحد‘‘ کو ’’شَق‘‘ پر ترجیح دینا، قبر کو گہرا اور وسیع کرنا اور حالات کے تقاضے کے مطابق دو تین تین افراد کو ایک قبر میں دفنانا
7 Hadith
02
اس امر کا بیان کہ میت کو کہاں سے قبر میں داخل کیا جائے،اس وقت کیا کہا جائے اوراس کو اتارنے والا کون ہو، نیز قبر پر مٹی ڈالنے اور دفن سے فراغت کا انتظار کرنے کا بیان
6 Hadith
03
میت کو رات کودفن کرنے کااور ان اوقات کا بیان جن میں تدفین منع ہے
3 Hadith
04
قبروں کو برابر کرنا، ان پر پانی چھڑکنا اور ان کو کو ہان نما بنانا تاکہ ان کو پہچانا جا سکے
6 Hadith
05
قبروں کے اوپر عمارت بنانے، ان کو چونا گچ کرنے، ان کے اوپر بیٹھنے اور ان کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے کی ممانعت کا بیان اور میت کی ہڈی توڑنے اور جوتے پہن کر قبروں کے درمیان چلنے (کے جواز یا عدم جواز) کا بیان
9 Hadith
06
مصیبت زدہ کی تعزیت کرنا، صبر کرنے کا ثواب، صبر کرنے کا حکم اور ایسی صورتوں میں کیا کہا جائے، ان سب امور کا بیان
4 Hadith
07
اہلِ میت کے لیے کھانا تیار کرنے اور اس چیز کے مکروہ ہونے کا بیان کہ یہ کھانا اہل میت خود تیار کریں، کیونکہ وہ لوگوں کے اکٹھ کی وجہ سے مصروف ہوں گے
4 Hadith
08
وہ اعمالِ صالحہ جن کا ثواب فوت شدگان تک پہنچتا ہے
8 Hadith
No chapter matched that.