مسنداحمد

Musnad Ahmad

دفن کے ابواب اور قبروں کے احکام

قبروں کو برابر کرنا، ان پر پانی چھڑکنا اور ان کو کو ہان نما بنانا تاکہ ان کو پہچانا جا سکے

۔ (۳۲۶۶) عَنْ أَبِی مُحَمَّدٍ عَنْ الْہُذَلِیِّ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی جَنَازَۃِ، فَقَالَ: ((أَیُّکُمْ یَنْطَلِقُ إِلَی الْمَدِیْنَۃِ، فَـلَا یَدَعُ بِہَا وَثَنَا إِلَّأکَسَرَہُ وَلَا قَبْرًا إِلَّا سَوَّاہُ وَلَا صُوْرَۃً إِلَّا لَطَخَہَا؟)) فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَانْطَلَقَ فَہَابَ أَہْلَ الْمَدِیْنَۃِ فَرَجَعَ، فَقَالَ عَلِیٌّ: أَنَا أَنْطَلِقُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: فَانْطَلَقَ، ثُمَّ رَجَعَ، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! لَمْ أَدَعْ بِہَا وَثَنَا إِلَّا کَسَرْتُہُ وَلَا قَبْرًا إِلَّا سَوَّیْتُہُ، وَلَا صُوْرَۃً اِلَّا لَطَخْتُہَا، ثُمَّ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ عَادَ لِصَنْعَۃِ شَیْئٍ مِنْ ہٰذَا فَقَدْ کَفَرَ بِمَا أُنْزِلَ عَلٰی مُحَمَّدٍ۔)) ثُمَّ قَالَ: ((لَاتَکُوْنَنَّ فَتَّانًا وَلَا مُخْتَالاً وَلَا تَاجِرًا اِلَّا تَاجِرَ خَیْرٍ، فَإِنَّ أُوْلٰئِکَ ہُمُ الْمَسْبُوْقُوْنَ بِالْعَمَلِ۔)) (مسند احمد: ۶۵۷)

ابومحمد ہذلی، سیّدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک جنازہ میں شریک تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے وہ کون ہے جو مدینہ جائے اور وہاں جا کر ہر بت کو توڑ دے، ہر قبر کو برابر کر دے اور ہر تصویر کو مسخ کر دے؟ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں یہ کام کروں گا، پھر وہ چلا تو گیا، لیکن مدینہ والوں سے ڈر کر واپس آگیا۔ سیّدناعلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اس کام کے لیے جاتا ہوں، پھر وہ چلے گئے اور واپس آ کر کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے ہر بت کو توڑ ڈالا، ہر قبر کو برابر کر دیا اور ہر تصویر کو مسخ کر دیا۔ اس کے بعد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے دوبارہ اس قسم کا کوئی کام کیا تو اس نے اس دین کا انکار کر دیا جو محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر نازل ہوا۔، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم فتنہ باز اور متکبر نہ بننا اور تاجر بھی نہ بننا، الا یہ کہ خیر کا تاجر ہو، کیونکہ یہ لوگ (اچھے) عمل میں پیچھے رہ جائیں گے۔

۔ (۳۲۶۷) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعَثَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَنْ یُسَوِّیَ کُلَّ قَبْرِ وَأَنْ یَلْطَخَ کُلَّ صَنَمٍ، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِّی اَکْرَہُ أَنْ اَدْخُلَ بُیُوْتَ قَوْمِی، قَالَ: فَأَرْسَلَنِیْ، فَلَمَّا جِئْتُ، قَالَ: ((یَا عَلِیُّ! لَاتَکُوْنَنَّ فَتَّانًا، وَلَامُخْتَالًا وَلَا تَاجِرًا إِلَّا تَاجِرَ خَیْرٍ فَإِنَّ أُوْلٰئِکَ مُسَوِّفُوْنَ اَوْ مَسْبُوْقُوْنَ فِی الْعَمَلِ)) (مسند احمد: ۱۱۷۶)

سیّدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہر قبر کو برابر کرنے اور ہر بت کو توڑ ڈالنے کے لیے ایک انصاری کو بھیجا، لیکن اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اپنی قوم کے گھروں کے اندر داخل ہونے کو ناپسند کرتا ہوں۔ اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے بلا بھیجا، جب میں آ یا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: علی! تم فتنہ باز اورمتکبر نہ بننا اور نہ ہی تاجر بننا، الایہ کہ خیر کا تاجر ہو، یہ لوگ عمل میں ٹال مٹول کرنے والے ہیں یا دوسروں سے پیچھے رہ جائیں گے۔

۔ (۳۲۶۸) عَنْ جَرِیْرِ بْنِ حَیَّانَ عَنْ أَبِیْہِ اَنَّ عَلِیًا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ لأَبِیْہِ: لَأَبْعَثَنَّکَ فِیْ مَا بَعَثَنِی فِیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ أُسَوِّیَ کُلَّ قَبْرٍ وَأَنْ أَطْمِسَ کُلَّ صَنَمٍ۔ (مسند احمد: ۸۸۹)

جنابِ حیان کہتے ہیں: سیّدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے کہا: میں تمہیں ایک ایسے کام کے لیے بھیجوں گا کہ جس کے لیے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے بھیجا تھا، اور وہ یہ تھا کہ میں ہر قبر کو برابر کر دوں اور ہر بت کو توڑ ڈالوں۔

۔ (۳۲۶۹) عَنْ ثُمَامَۃَ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ فََضَالَۃَ بْنِ عُبَیْدٍ الْأَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌إِلٰی أَرْضِ الرُّوْمِ، وَکَانَ عَامِلًا لِمُعَاوِیَۃَ عَلَی الدَّرْبِ، فَأُصِیْبَ ابْنُ عَمٍّ لَنَا، فَصَلّٰی عَلَیْہِ فَضَالَۃُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَقَامَ عَلٰی حُفْرَتِہِ، حَتّٰی وَارَاہُ فَلَمَّا سَوَّیْنَا عَلَیْہِ حُفْرَتَہُ، قَالَ: أَخِفُّوْا عَنْہُ فَإِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَأْمُرُنَا بِتَسْوِیَۃِ الْقُبُوْرِ۔ (مسند احمد: ۲۴۴۳۱)

ثمامہ ہمدانی کہتے ہیں: ہم سیّدنافضالہ بن عبید انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہمراہ روم کی طرف نکلے، وہ وہاں سیّدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف سے درب کے حاکم تھے، ہوا یوں کہ ہمارا ایک چچا زاد بھائی فوت ہو گیا، سیّدنا فضالہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی اور اس وقت تک اس کی قبر پر کھڑے رہے تاآنکہ اس کو دفن کر دیا، جب ہم نے (مٹی ڈال کر) اس کا گڑھا برابر کرنے لگے تو انھوں نے کہا: ذرا مٹی کم ڈالو، کیونکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمیں قبر کو زمین کے برابر کرنے کا حکم دیا کرتے تھے۔

۔ (۳۲۷۰) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: غَزَوْنَا أَرْضَ الرُّوْمِ وَعَلٰی ذَالِکَ الْجَیْشِ فَضَالَۃُ بْنُ عُبَیْدٍالْأَنْصَارِیُّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ، فَقَالَ فَضَالَۃُ: خَفِّفُوْا فَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَأْمُرُ بِتَسْوِیَۃِ الْقُبُوْرِ۔ (مسند احمد: ۲۴۴۳۳)

(دوسری سند) ثمامہ کہتے ہیں: ہم نے روم کے علاقے والوں سے جہاد کیا، اس لشکر کے امیر سیّدنا فضالہ بن عبید انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھے،… سارا واقعہ بیان کیا…، سیّدنا فضالہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: مٹی تھوڑی ڈالو، کیونکہ میںنے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ حکم دیتے ہوئے سنا تھا کہ قبروں کو زمین کے برابر کر دیا جائے۔

۔ (۳۲۷۱)(وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَالِتٍ) عَنْ یَزِیْدَ بْنِ أَبِی حَبِیْبٍ اَنَّ أَبَا عَلِیٍّ الْھَمْدَانِیَّ أَخْبَرَہُ أَنَّہُ رَاٰی فَضَالَۃَ بْنَ عُبَیْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَمَرَ بَقُبُوْرِ الْمُسْلِمِیْنَ فَسُوِّیَتْ بِأَرْضِ الرُّوْمِ وَقَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: سَوُّوْا قُبُوْرَکُمْ بِالْأَرْضِ۔ (مسند احمد: ۲۴۴۵۹)

(تیسری سند) ابو علی ثمامہ ہمدانی بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیّدنا فضالہ بن عبید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دیکھا کہ وہ مسلمانوں کی قبروں کو زمین کے برابر کر دینے کا حکم دیتے تھے، چنانچہ روم کے علاقے میں مسلمانوں کی قبروں کو زمین کے برابر کر دیا گیا۔ پھر انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے سنا کہ تم اپنی قبروں کو زمین کے برابر کر دیا کرو۔