مسنداحمد

Musnad Ahmad

دفن کے ابواب اور قبروں کے احکام

قبروں کے اوپر عمارت بنانے، ان کو چونا گچ کرنے، ان کے اوپر بیٹھنے اور ان کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے کی ممانعت کا بیان اور میت کی ہڈی توڑنے اور جوتے پہن کر قبروں کے درمیان چلنے (کے جواز یا عدم جواز) کا بیان

۔ (۳۲۷۲) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: سَمِعْتُ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَنْہَی أَنْ یُقْعَدَ عَلَی الْقَبْرِ وَأَنْ یُقَصَّصَ أَوْ یُنْبٰی عَلَیْہِ۔ (مسند احمد: ۱۴۱۹۵)

سیّدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو قبر پر بیٹھنے، اسے چونا گچ کرنے اور اس پر عمارت بنانے سے منع کرتے ہوئے سنا۔

۔ (۳۲۷۳) عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یُبْنَی عَلَی الْقَبْرِ وَأَنْ یُجَصَّصَ۔ (مسند احمد: ۲۷۰۹۰)

سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قبر پر عمارت بنانے اور اسے چونا گچ کرنے سے منع فرمایا۔

۔ (۳۲۷۴) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَرْفَعَہُ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَأَنْ یَجْلِسَ أَحَدُکُمْ عَلٰی جَمْرَۃٍ فَتُحْرِقَ ثِیَابَہُ حَتّٰی تُفْضِیَ إِلٰی جِلْدِہِ خَیْرٌ لَہُ مِنْ أَنْ یَجْلِسَ عَلٰی قَبْرٍ۔ (وَفِی لَفْظٍ) خَیْرٌ مِنْ أَنْ یَطَأَ عَلٰی قَبْرِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ۔)) (مسند احمد: ۸۰۹۳)

سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگرتم میں سے کوئی آدمی آگ کے انگارے پر بیٹھ جائے اور وہ اس کے کپڑے جلا کر اس کے چمڑے تک جا پہنچے، تو یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی قبر پر بیٹھے۔ ایک روایت میں ہے: یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی مسلمان کی قبر کو روندے۔

۔ (۳۲۷۵) عَنْ أَبِی مَرْثَدٍ الْغَنَوِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَا تُصَلُّوْا إِلَی الْقُبُوْرِ وَلَا تَجْلِسُوْا عَلَیْہَا (وَفِی لَفْظٍ) لَا تَجْلِسُوْا عَلَی الْقُبُوْرِ وَلَا تُصَلُّوْا عَلَیْہَا۔)) (مسند احمد: ۱۷۳۴۷)

سیّدناابومرثد غنوی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قبروں کی طرف رخ کر کے نہ نماز پڑھو اورنہ ان پر بیٹھو۔ ایک روایت میںہے: نہ تم قبروں پر بیٹھا کرو اور نہ ان پر نماز پڑھا کرو۔

۔ (۳۲۷۷)(وَعَنْہَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ کَسْرَ عَظْمِ الْمُؤْمِنِ مَیِّتًا مِثْلُ کَسْرِہِ حَیًّا۔)) (مسند احمد: ۲۴۸۱۲)

(دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: فوت شدہ مومن کی ہڈی توڑنا ایسے ہی ہے جیسے زندگی میں اس کی ہڈی توڑی جائے۔

۔ (۳۲۷۸) عَنْ بَشِیْرِ بْنِ الْخَصَاصِیَۃِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، بَشِیْرِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: کُنْتُ أُمَاشِی رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آخِذًا بِیَدِہِ فَقَالَ لِی: ((یَا ابْنَ الْخَصَاصِیَۃِ! مَا أَصْبَحْتَ تَنْقِمُ عَلٰی اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالَیٰ، أَصْبَحْتَ تُمَاشِیْ رَسُوْلَہُ)) قَالَ أَحْسَبُہُ قَالَ آخِذًا بِیَدِہِ، قَالَ: قُلْتُ: مَا أَصْبَحْتُ أَنْقِمُ عَلَی اللّٰہِ شَیْئًا، قَدْ أَعْطَانِیَ اللّٰہُ تَبَارِکْ وَتَعَالٰی کُلَّ خَیْرِ، قَالَ: فَأَتَیْنَا عَلٰی قُبُوْرِ الْمُشْرِکِیْنَ، فَقَالَ: لَقَدْ سَبَقَ ہٰؤُلَائِ خَیْرًا کَثِیْرًا)) ثَـلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ أَتَیْنَا عَلٰی قُبُوْرِ الْمُسْلِمِیْنَ، فَقَالَ: ((لَقَدْ أَدْرَکَ ہٰؤُلَائِ خَیْرًا کَثِیْرًا)) ثَـلَاثَ مَرَّتٍ یَقُوْلُہَا، قَالَ: فَبَصُرَ بِرَجُلٍ یَمْشِی بَیْنَ الْمَقَابِرِ فِیْ نَعْلَیْہِ، فَقَالَ: ((وَیْحَکَ، یَا صَاحِبَ السِّبْتِیَّتَیْنِ! أَلْقِ سِبْتِیَِّتَیْکَ)) مَرَّتَیْنِ أَوْثَـلَاثًا۔ فَنَظَرَ الرَّجُلُ، فَلَمَّا رَأٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَلَعَ نَعْلَیْہِ۔ (مسند احمد: ۲۱۰۶۸)

سیّدنا بشیر بن خصاصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا رکھا ہوا نام بشیر، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ہاتھ پکڑے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ساتھ چل رہا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: خصاصیہ کے بیٹے! تم اللہ تعالیٰ پر کسی چیز کا عیب لگاتے ہو، حالانکہ تم اس کے رسول کے ساتھ چل رہے ہو اور تم نے ان کا ہاتھ بھی تھام رکھا ہے؟ میں نے کہا: میں اللہ تعالیٰ پر کس چیز کا عیب لگا سکتا ہوں، جبکہ اس نے تو مجھے ہر قسم کی خیر عطا کر رکھی ہے۔ اتنے میں ہم مشرکوں کی قبروں تک جا پہنچے، ان کو دیکھ کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ لوگ بڑی بھلائی کو (پیچھے چھوڑ کر) آگے نکل گئے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ بات تین بار ارشاد فرمائی، اس کے بعد ہم مسلمانوں کی قبروں کے پاس پہنچ گئے، ان کو دیکھ کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تین بار فرمایا: ان لوگوں نے (اسلام قبول کر کے) بہت زیادہ بھلائی پائی ہے۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک آدمی کو جوتوں سمیت قبروں میں چلتے ہوئے دیکھا اور اسے فرمایا: اے سبتی جوتوں والے! تو ہلاک ہو جائے! اپنے جوتوں کو اتار دے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو یا تین بار یہ بات ارشاد فرمائی، جب اس آدمی نے دیکھا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر اس کی نظر پڑھی تو اس نے اپنے جوتے اتار دیئے۔

۔ (۳۲۸۰) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وُضِعَ فِی قَبْرِہِ وَتَوَلّٰی عَنْہُ أَصْحَابُہٗ حَتَّی إِنَّہُ لَیَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِہِمْ أَتَاہُ مَلَکَانِ فَیُقْعِدَانِہِ…۔)) الَحْدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۱۲۲۹۶)

سیّدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب بندے کو قبر میں رکھا جاتا ہے اور اس کے دوست اسے چھوڑ کر واپس جاتے ہیں تو وہ ان کے جوتوں کی آواز سنتا ہے، پھر اس کے پاس دو فرشتے آکر اسے بٹھا دیتے ہیں…۔