TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

قبروں کے اوپر عمارت بنانے، ان کو چونا گچ کرنے، ان کے اوپر بیٹھنے اور ان کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے کی ممانعت کا بیان اور میت کی ہڈی توڑنے اور جوتے پہن کر قبروں کے درمیان چلنے (کے جواز یا عدم جواز) کا بیان - قبروں کے اوپر عمارت بنانے، ان کو چونا گچ کرنے، ان کے اوپر بیٹھنے اور ان کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے کی ممانعت کا بیان اور میت کی ہڈی توڑنے اور جوتے پہن کر قبروں کے درمیان چلنے (کے جواز یا عدم جواز) کا بیان - دفن کے ابواب اور قبروں کے احکام - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 5 of دفن کے ابواب اور قبروں کے احکام in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 5 of 8 · 9 Hadith
۔ (۳۲۷۲) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: سَمِعْتُ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَنْہَی أَنْ یُقْعَدَ عَلَی الْقَبْرِ وَأَنْ یُقَصَّصَ أَوْ یُنْبٰی عَلَیْہِ۔ (مسند احمد: ۱۴۱۹۵)
سیّدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو قبر پر بیٹھنے، اسے چونا گچ کرنے اور اس پر عمارت بنانے سے منع کرتے ہوئے سنا۔
Takhreej
(۳۲۷۲) تخریـج: …أخرجہ مسلم: ۹۷۰ (انظر: ۱۴۱۴۸)
3272
Sahih
۔ (۳۲۷۳) عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یُبْنَی عَلَی الْقَبْرِ وَأَنْ یُجَصَّصَ۔ (مسند احمد: ۲۷۰۹۰)
سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قبر پر عمارت بنانے اور اسے چونا گچ کرنے سے منع فرمایا۔
Takhreej
(۳۲۷۳) تخریـج: …حدیث صحیح لغیرہ، وھذا اسناد اختلف فیہ علی ابن لھیعۃ (انظر: ۲۶۵۵۵)
Explanation
فوائد: …ترمذی کی روایت میں یہ الفاظ بھی مذکور ہیں: ((…وَاَنْ یُّکْتَبَ عَلَیْہِ…۔)) یعنی: اور قبر پر لکھنے سے بھی منع فرمایا۔ سنن نسائی کی ایک روایت میں بھی قبر پر لکھنے سے منع کیا گیا ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ قبر پر لکھنا بھی منع ہے، لیکن اس وقت قبروں کو اونچا بنانا، پکا کرنا، ان پر لکھنا، سنگ ِ مر مر کی تختیاں لگانا، بار بار ان کی مرمت کرنا، ان کے اوپر کمرے بنانا، قبروں پر بیٹھنا، ان میں بلکہ ان پر جوتوں سمیت چلنا، یہ امور عام ہو چکے ہیں، اس طرح کئی احادیث ِ مبارکہ کی مخالفت ہو رہی ہے۔ البتہ قبر کی شناخت کے لیے لکھنے کے علاوہ کوئی اور علامت لگائی جا سکتی ہے، جیسا کہ درج ذیل حدیث سے معلوم ہوتا ہے:
3273
Sahih
۔ (۳۲۷۴) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَرْفَعَہُ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَأَنْ یَجْلِسَ أَحَدُکُمْ عَلٰی جَمْرَۃٍ فَتُحْرِقَ ثِیَابَہُ حَتّٰی تُفْضِیَ إِلٰی جِلْدِہِ خَیْرٌ لَہُ مِنْ أَنْ یَجْلِسَ عَلٰی قَبْرٍ۔ (وَفِی لَفْظٍ) خَیْرٌ مِنْ أَنْ یَطَأَ عَلٰی قَبْرِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ۔)) (مسند احمد: ۸۰۹۳)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگرتم میں سے کوئی آدمی آگ کے انگارے پر بیٹھ جائے اور وہ اس کے کپڑے جلا کر اس کے چمڑے تک جا پہنچے، تو یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی قبر پر بیٹھے۔ ایک روایت میں ہے: یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی مسلمان کی قبر کو روندے۔
Takhreej
(۳۲۷۴) تخریـج: …أخرجہ مسلم: ۹۷۱(انظر: ۸۱۰۸)
3274
Sahih
۔ (۳۲۷۵) عَنْ أَبِی مَرْثَدٍ الْغَنَوِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَا تُصَلُّوْا إِلَی الْقُبُوْرِ وَلَا تَجْلِسُوْا عَلَیْہَا (وَفِی لَفْظٍ) لَا تَجْلِسُوْا عَلَی الْقُبُوْرِ وَلَا تُصَلُّوْا عَلَیْہَا۔)) (مسند احمد: ۱۷۳۴۷)
سیّدناابومرثد غنوی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قبروں کی طرف رخ کر کے نہ نماز پڑھو اورنہ ان پر بیٹھو۔ ایک روایت میںہے: نہ تم قبروں پر بیٹھا کرو اور نہ ان پر نماز پڑھا کرو۔
Takhreej
(۳۲۷۵) تخریـج: …أخرجہ مسلم: ۹۷۲ (انظر: ۱۷۲۱۵)
3275
Sahih
۔ (۳۲۷۶) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِی عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنَا دَاوُدُ بْنُ قَیْسٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ سَعِیْدٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیْدٍ عَنْ عَمْرَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((کَسْرُ عَظْمِ الْمَیِّتِ کَکَسْرِہِ وَہُوَ حَیٌّ)) قَالَ: یَرَوْنَ أَنَّہُ فِی الإِثْمِ، قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَطْنُّہُ قَوْلَ دَاوُدَ۔ (مسند احمد: ۲۵۸۷۰)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میت کی ہڈی کو توڑنا ایسے ہی ہے، جیسے زندہ کی ہڈی توڑی جائے۔ اہل علم کا خیال ہے کہ (اس حدیث کا تعلق ہڈی توڑنے) کے گناہ سے ہے، عبد الرزاق نے کہا: میرا خیال ہے کہ یہ دائود بن قیس کا قول ہے۔
Takhreej
(۳۲۷۶) تخریـج: …انظر الحدیث بالطریق الثانی
3276
Sahih
۔ (۳۲۷۷)(وَعَنْہَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ کَسْرَ عَظْمِ الْمُؤْمِنِ مَیِّتًا مِثْلُ کَسْرِہِ حَیًّا۔)) (مسند احمد: ۲۴۸۱۲)
(دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: فوت شدہ مومن کی ہڈی توڑنا ایسے ہی ہے جیسے زندگی میں اس کی ہڈی توڑی جائے۔
Takhreej
(۳۲۷۷)تخریـج: …صحیح أخرجہ ابوداود: ۳۲۰۷، وابن ماجہ: ۱۶۱۶(انظر: ۲۴۳۰۸)
Explanation
فوائد: …اس حدیث کا تعلق میت کے احترام سے ہے، جس کی بے حرمتی کا لازمی نتیجہ گناہ ہے، بہرحال میت کی ہڈی توڑنے سے قصاص یا دیت واجب نہیں ہوتی۔
3277
Sahih
۔ (۳۲۷۸) عَنْ بَشِیْرِ بْنِ الْخَصَاصِیَۃِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، بَشِیْرِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: کُنْتُ أُمَاشِی رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آخِذًا بِیَدِہِ فَقَالَ لِی: ((یَا ابْنَ الْخَصَاصِیَۃِ! مَا أَصْبَحْتَ تَنْقِمُ عَلٰی اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالَیٰ، أَصْبَحْتَ تُمَاشِیْ رَسُوْلَہُ)) قَالَ أَحْسَبُہُ قَالَ آخِذًا بِیَدِہِ، قَالَ: قُلْتُ: مَا أَصْبَحْتُ أَنْقِمُ عَلَی اللّٰہِ شَیْئًا، قَدْ أَعْطَانِیَ اللّٰہُ تَبَارِکْ وَتَعَالٰی کُلَّ خَیْرِ، قَالَ: فَأَتَیْنَا عَلٰی قُبُوْرِ الْمُشْرِکِیْنَ، فَقَالَ: لَقَدْ سَبَقَ ہٰؤُلَائِ خَیْرًا کَثِیْرًا)) ثَـلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ أَتَیْنَا عَلٰی قُبُوْرِ الْمُسْلِمِیْنَ، فَقَالَ: ((لَقَدْ أَدْرَکَ ہٰؤُلَائِ خَیْرًا کَثِیْرًا)) ثَـلَاثَ مَرَّتٍ یَقُوْلُہَا، قَالَ: فَبَصُرَ بِرَجُلٍ یَمْشِی بَیْنَ الْمَقَابِرِ فِیْ نَعْلَیْہِ، فَقَالَ: ((وَیْحَکَ، یَا صَاحِبَ السِّبْتِیَّتَیْنِ! أَلْقِ سِبْتِیَِّتَیْکَ)) مَرَّتَیْنِ أَوْثَـلَاثًا۔ فَنَظَرَ الرَّجُلُ، فَلَمَّا رَأٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَلَعَ نَعْلَیْہِ۔ (مسند احمد: ۲۱۰۶۸)
سیّدنا بشیر بن خصاصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا رکھا ہوا نام بشیر، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ہاتھ پکڑے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ساتھ چل رہا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: خصاصیہ کے بیٹے! تم اللہ تعالیٰ پر کسی چیز کا عیب لگاتے ہو، حالانکہ تم اس کے رسول کے ساتھ چل رہے ہو اور تم نے ان کا ہاتھ بھی تھام رکھا ہے؟ میں نے کہا: میں اللہ تعالیٰ پر کس چیز کا عیب لگا سکتا ہوں، جبکہ اس نے تو مجھے ہر قسم کی خیر عطا کر رکھی ہے۔ اتنے میں ہم مشرکوں کی قبروں تک جا پہنچے، ان کو دیکھ کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ لوگ بڑی بھلائی کو (پیچھے چھوڑ کر) آگے نکل گئے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ بات تین بار ارشاد فرمائی، اس کے بعد ہم مسلمانوں کی قبروں کے پاس پہنچ گئے، ان کو دیکھ کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تین بار فرمایا: ان لوگوں نے (اسلام قبول کر کے) بہت زیادہ بھلائی پائی ہے۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک آدمی کو جوتوں سمیت قبروں میں چلتے ہوئے دیکھا اور اسے فرمایا: اے سبتی جوتوں والے! تو ہلاک ہو جائے! اپنے جوتوں کو اتار دے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو یا تین بار یہ بات ارشاد فرمائی، جب اس آدمی نے دیکھا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر اس کی نظر پڑھی تو اس نے اپنے جوتے اتار دیئے۔
Takhreej
(۳۲۷۸) تخریـج: …اسنادہ صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۳۲۳۰، وابن ماجہ: ۱۵۶۸، والنسائی: ۴/ ۹۶(انظر: ۲۲۰۷۸۷)
Explanation
فوائد: …’’سِبْت‘‘ گائے کے اس چمڑے کو کہتے ہیں، جس کو قرظ یا سلم کے درخت کے پتوں سے رنگا گیا ہو اور اس کے بال اتارے نہ گئے ہوں۔ اس چمڑے سے بنائے گئے جوتوں کو ’’نِعَال سِبْتِیَۃ‘‘ کہتے ہیں۔ آپ a نے قبروں کے احترام کی خاطر اس شخص کو جوتے اتار دینے کا حکم دیا تھا۔ سیّدنابشیر بن خصاصیہb کا سابقہ نام ’’زحم‘‘ تھا، رسول اللہaنے ان کا نام تبدیل کر کے بشیر رکھا تھا، اس لیے ان کو آپ a کی طرف منسوب کرتے ہوئے ’’بشیرِ رسول‘‘ کہا جاتا تھا۔
3278
Sahih
۔ (۳۲۷۹) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی ثَنَا وَکِیْعٌ عَنْ سُفْیَانَ عَنِ السُّدِّیِّ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ سُفْیَانَ یَرْفَعُہُ، قَالَ: ((إِنَّ الْمَیِّتَ لَیَسْمَعُ خَفْقَ نِعَالِہِمْ، إِذَا وَلَّوْا عَنْہُ مُدْبِرِیْنَ)) (مسند احمد: ۹۷۴۰)
سیّدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب لوگ میت کو دفن کے بعد واپس جاتے ہیں تو میت ان لوگوں کے جوتوں کی آواز سن رہا ہوتا ہے۔
Takhreej
(۳۲۷۹) تخریـج: …صحیح لغیرہ۔ أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۳/ ۳۷۸، والبزار: ۸۷۳، وابن حبان: ۳۱۱۸(انظر: ۹۷۴۲)
3279
Sahih
۔ (۳۲۸۰) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وُضِعَ فِی قَبْرِہِ وَتَوَلّٰی عَنْہُ أَصْحَابُہٗ حَتَّی إِنَّہُ لَیَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِہِمْ أَتَاہُ مَلَکَانِ فَیُقْعِدَانِہِ…۔)) الَحْدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۱۲۲۹۶)
سیّدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب بندے کو قبر میں رکھا جاتا ہے اور اس کے دوست اسے چھوڑ کر واپس جاتے ہیں تو وہ ان کے جوتوں کی آواز سنتا ہے، پھر اس کے پاس دو فرشتے آکر اسے بٹھا دیتے ہیں…۔
Takhreej
(۳۲۸۰) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۱۳۳۸، ۱۳۷۴، ومسلم: ۲۸۷۰ (انظر: ۱۲۲۷۱)
Explanation
فوائد: …یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ میت کا جوتوں کی آواز سننا، اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ جوتے پہن کر قبروں پر یا ان کے درمیان میں چلنا جائز ہے، لہٰذا ان دو احادیث کا اس حدیث سے کوئی تعارض نہیں ہے، جس میں جوتے پہن کر قبرستان میں چلنے سے منع کیا گیا ہے، جبکہ یہ حدیث ممانعت میں واضح بھی ہے۔
3280
Sahih

Chapters

8
01
’’لحد‘‘ کو ’’شَق‘‘ پر ترجیح دینا، قبر کو گہرا اور وسیع کرنا اور حالات کے تقاضے کے مطابق دو تین تین افراد کو ایک قبر میں دفنانا
7 Hadith
02
اس امر کا بیان کہ میت کو کہاں سے قبر میں داخل کیا جائے،اس وقت کیا کہا جائے اوراس کو اتارنے والا کون ہو، نیز قبر پر مٹی ڈالنے اور دفن سے فراغت کا انتظار کرنے کا بیان
6 Hadith
03
میت کو رات کودفن کرنے کااور ان اوقات کا بیان جن میں تدفین منع ہے
3 Hadith
04
قبروں کو برابر کرنا، ان پر پانی چھڑکنا اور ان کو کو ہان نما بنانا تاکہ ان کو پہچانا جا سکے
6 Hadith
05
قبروں کے اوپر عمارت بنانے، ان کو چونا گچ کرنے، ان کے اوپر بیٹھنے اور ان کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے کی ممانعت کا بیان اور میت کی ہڈی توڑنے اور جوتے پہن کر قبروں کے درمیان چلنے (کے جواز یا عدم جواز) کا بیان
9 Hadith
06
مصیبت زدہ کی تعزیت کرنا، صبر کرنے کا ثواب، صبر کرنے کا حکم اور ایسی صورتوں میں کیا کہا جائے، ان سب امور کا بیان
4 Hadith
07
اہلِ میت کے لیے کھانا تیار کرنے اور اس چیز کے مکروہ ہونے کا بیان کہ یہ کھانا اہل میت خود تیار کریں، کیونکہ وہ لوگوں کے اکٹھ کی وجہ سے مصروف ہوں گے
4 Hadith
08
وہ اعمالِ صالحہ جن کا ثواب فوت شدگان تک پہنچتا ہے
8 Hadith
No chapter matched that.