سیّدناعبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب سیّدناجعفر بن ابی طالب کی شہادت کی اطلاع آئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آلِ جعفر کے لیے کھانا تیار کرو، کیونکہ ان کے پاس ایسی خبر آئی ہے، جس نے انہیں مشغول کر دیا ہے۔
سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا اپنے شوہر سیّدناجعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی وفات کا ذکر کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اہل خانہ سے فرمایا: آلِ جعفر کے لیے کھانا تیار کرنے میں غفلت نہ برتو، کیونکہ وہ اپنے سربراہ (کی شہادت) کہ وجہ سے مصروف ہیں۔
عروہ کہتے ہیں: جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے خاندان میں سے کوئی فوت ہوتا اور عورتیں جمع ہوتیں اور پھر ان کے چلے جانے کے بعد خاص خاص عورتیں باقی رہ جاتے تو وہ حکم دیتیں کی ہنڈیا میں تلبینہ پکایا جائے، پس وہ تیار کیا جاتا، پھر ثرید بنا کر اس پر تلبینہ ڈال دیا جاتا، پھر وہ کہتیں: عورتو! اس سے کھاؤ، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: تلبینہ مریض کے دل کو سکون پہنچاتا ہے اور کسی حد تک غم کو بھی ہلکا کرتا ہے۔
سیّدناجریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:ہم تدفین کے بعد میت کے لواحقین کے ہاں لوگوں کے جمع ہونے کو اور کھانا تیار کرنے کو نوحہ شمار کرتے تھے۔