TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 3356 مسنداحمد

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 8 in this chapter
زکوۃ کی فضیلت اور اس کی انواع زکوۃ کی فضیلت کا بیان
۔ (۳۳۵۶) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یَقْبَلُ الصَّدَقَاتِ وَیَأْخُذُہَا بِیَمِیْنِہِ فَیُرَبِّیْہَا لِأَحَدِکُمْ کَمَا یُرَبِّیْ أَحَدُکُمْ مُہْرَہُ أَوْ فَلُوَّہُ أَوْ فَصِیْلَہُ حَتّٰی إِنَّ اللُّقْمَۃَ لَتَصِیْرُ مِثْلَ جَبَلِ أُحُدٍ، قَالَ وَکِیْعٌ فِی حَدِیْثِہِ: وَتَصْدِیْقُ ذَالِکَ فِی کِتَابِ اللّٰہِ {وَہُوَ الَّذِی یَقْبَلُ التَّوْبَۃَ عَنْ عِبَادِہِ وَیَأْخُذُ الصَّدَقَاتِ} {وَیَمْحَقُ اللّٰہُ الرِّبَا وَیُرْبِی الصَّدَقَاتِ۔} (مسند احمد: ۱۰۰۹۰)
سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ صدقات کو قبول کرتا ہے اور ان کو دائیں ہاتھ میں وصول کرتا ہے، پھر وہ ان کو یوں بڑھاتا رہتا ہے، جیسے تم میں سے کوئی گھوڑی، اونٹنی یا گائے کے بچے کی پرورش کرتا ہے،یہاں تک کہ ایک لقمہ احد پہاڑ کے برابر ہو جاتا ہے۔ وکیع نے اپنی روایت میں کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس فرمان کی تصدیق قرآن مجید کی ان آیات سے ہوتی ہے: اللہ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور ان کے صدقات کو پکڑ لیتا ہے۔ (سورۂ توبہ:۱۰۴) اور اللہ سود کو ختم کرنا اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔ (سورۂ بقرۃ:۲۸۶)
3356
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۳۳۵۶) تخر یـج:…حدیث صحیح أخرجہ الترمذی: ۶۶۲ (انظر: ۱۰۰۸۸)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… پہلی آیت کے الفاظ کسی راوی کی بھول چوک کا نتیجہ ہیں، قرآن مجید میں یہ آیت اس طرح ہے: {اَلَمْ یَعْلَمُوْا اَنَّ اللّٰہَ ھُوَ یَقْبَلُ التَّوْبَۃَ عَنْ عِبَادِہِ وَیَأْخُذُ الصَّدَقَاتِ} اور سورۂ شوری کے الفاظ یوں ہیں: {وَھُوَ الَّذِیْ یَقْبَلُ التَّوْبَۃَ عَنْ عِبَادِہٖ وَیَعْفُوْا عَنِ السَّیِّاتِ}۔ اللہ تعالیٰ ہی ہے جو بھول چوک سے پاک ہے۔

Related Chapters

678
1
(2)Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Purification
باب: طہارت کی فضیلت کا بیان​
Jam e Tirmazi
2
Chapter: Virtue Of Performing Salat at the Beginning Of Its Prescribed Time
باب: اول وقت میں نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
3
Chapter: What Has Been Related About The Virtues Of The Adhan
باب: اذان کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
4
Chapter: [What Has Been Related] About The Virtue Of The Five Prayers
باب: پنج وقتہ نمازوں کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
5
Chapter: What Has Been Related About the Virtue Of Salat In Congregation
باب: باجماعت نماز کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
6
Chapter: : What Has Been Related About The Virtue Of Isha And Fajr In Congregation
باب: عشاء اور فجر جماعت سے پڑھنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
7
Chapter: : What Has Been Related About The Virtue Of The First Row
باب: پہلی صف کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
8
Chapter: [What Has Been Related] About the Virtue Of the First Takbir
باب: تکبیر اولیٰ کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
9
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of At-Tamin
باب: آمین کہنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
10
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Building A Masjid
باب: مسجد بنانے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
11
Chapter: What Has Been Related About The Salat Performed In Masjid Quba
باب: مسجد قباء میں نماز کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
12
Chapter: What Has Been Related About Walking To The Masjid
باب: مسجد کی طرف چل کر جانے کی فضیلت
Jam e Tirmazi
13
Chapter: What Has Been Related About The Virtues Of Sitting In The Masjid And Waiting For The Salat
باب: مسجد میں بیٹھنے اور نماز کے انتظار کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
14
Chapter: What Has Been Related About Performing Many Bowings and Prostrations [And Its Virtues]
باب: رکوع اور سجدہ کثرت سے کرنے کی فضیلت
Jam e Tirmazi
15
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of The Two Rak'ah (Before) Fajr
باب: فجر کی دونوں سنتوں کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
16
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Six Voluntary Rak'ah After Al-Maghrib
باب: مغرب کے بعد نفل نماز اور چھ رکعت پڑھنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
17
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Salat During The Night
باب: قیام اللیل (تہجد) کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
18
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Voluntary Salat In The House
باب: نفل نماز گھر میں پڑھنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
19
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Al-Witr
باب: نماز وتر کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
20
Chapter: What Has Been Related About The Virtues Of Sending Salat Upon The Prophet
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم پر صلاۃ (درود) بھیجنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
21
Chapter: [What Has Been Related] About The Virtue Of The Day Of Jumu'ah
باب: جمعہ کے دن کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
22
Chapter: [What Has Been Related] About The Virtue Of Ghusl On Friday
باب: جمعہ کے دن غسل کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
23
Chapter: What Has Been Related About The One Who Works In Collecting Sadaqah In Truth
باب: صحیح ڈھنگ سے صدقہ وصول کرنے والے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
24
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Charity
باب: صدقہ کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
25
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of The Month Of Ramadan
باب: ماہ رمضان کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
26
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Sahar
باب: سحری کھانے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
27
Chapter: What Has Been Related About The Virtue OF Fasting On The Day of Arafah
باب: عرفہ کے دن کے روزے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
28
Chapter: What Has Been Related About The Virtues Of Fasting
باب: روزے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
29
Chapter: What Has Been Related About The Virtue For The Fasting Person When Others Are Eating In His Presence
باب: روزہ دار کی فضیلت کا بیان جب اس کے پاس کھایا جائے
Jam e Tirmazi
30
Chapter: What Has Been Revealed About One Who Provides The Food For A Fasting Person To Break His Fast
باب: روزہ دار کو افطار کرانے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
31
Chapter: Encouragement To Perform The Night Prayer During Ramadan And The Virtues That Accompany It
باب: قیام رمضان (تراویح پڑھنے) کی ترغیب اور اس کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
32
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of The Talbiyah And the Nahr (Sacrifice)
باب: تلبیہ اور نحر (قربانی) کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
33
Chapter: What Has Been Related About The Virtues Of Tawaf
باب: طواف کعبہ کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
34
Chapter: What Has Been Related About The Virtues Of The Black Stone, Its Corner, And The Maqam
باب: حجر اسود، رکن یمانی، اور مقام ابراہیم کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
35
Chapter: What Has Been Related Mentioning The Virtues Of 'Umrah
باب: عمرہ کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
36
Chapter: What Has Been Related About Umrah During Ramadan
باب: رمضان میں عمرہ کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
37
Chapter: The Virtue In The Calamity When One Patiently Seeks A Reward For It
باب: مصیبت پر ثواب کی نیت سے صبر کرنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
38
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Salat For A Funeral
باب: نماز جنازہ کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
39
Chapter: Something Else About The Virtue Of Consoling
باب: تعزیت کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
40
Chapter: What Has Been Related About The Virtues Of Marriage And Encouraging It
باب: شادی کرنے کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
Jam e Tirmazi
41
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of That
باب: لونڈی کو آزاد کر کے اس سے شادی کرنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
42
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Planting
باب: درخت لگانے کی فضیلت
Jam e Tirmazi
43
Chapter: What Has Been Related About The Virtues Of Slaughtering
باب: قربانی کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
44
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Freeing Slaves
باب: غلام اور لونڈی آزاد کرنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
45
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Jihad
باب: جہاد کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
46
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of The One Who Dies Guarding The Frontier From The Enemy
باب: مرابط (سرحد کی پاسبانی کرنے والے) کی موت کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
47
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Fasting In The Cause Of Allah
باب: دوران جہاد روزہ رکھنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
48
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Spending In The Cause Of Allah
باب: اللہ کی راہ (جہاد) میں خرچ کرنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
49
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Service In The Cause Of Allah
باب: جہاد میں خدمت کرنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
50
Chapter: What Has Been Related About The One Who Prepares A Fighter
باب: مجاہد اور غازی کا سامان تیار کرنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

3
Musnad Ahmad
3379
۔ (۳۳۷۹) عَنْ طَارِقٍ قَالَ: خَطَبَنَا عَلِیٌ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَقَالَ: مَا عِنْدَنَا شَیْئٌ مِنَ الْوَحْیِ أَوْ قَالَ کِتَابٌ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلَّا مَا فِی کِتَابِ اللّٰہِ، وَہٰذِہِ الصَّحِیْفَۃِ، الْمَقْرُوْنَہِ بِسَیْفِی، وَعَلَیْہِ سَیْفٌ حِلْیَتُہُ حَدِیْدٌ، وَفِیْہَا فَرَائِضُ الصَّدَقَاتِ۔ (مسند احمد: ۷۹۸)
طارق کہتے ہیں:سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہمیں خطبہ دیا اور اس میں یہ بھی کہا:ہمارے پاس کوئی مخصوص وحی یا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی کوئی الگ تحریرنہیں ہے، ہمیں بھی اللہ تعالیٰ کی کتاب اور اس صحیفہ والی ہدایات دی گئی ہیں، جو صحیفہ میری تلوار کے ساتھ بندھا ہوا ہے۔ اس وقت سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس ایک تلوار تھی اور اس کا زیور لوہے کا تھا، اس میں زکوۃ کا نصاب تحریر تھا۔
Musnad Ahmad
8620
۔ (۸۶۲۰)۔ عَنْ أَ بِی سَعِیدٍ قَالَ بَیْنَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقْسِمُ جَائَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ ذِی الْخُوَیْصِرَۃِ التَّمِیمِیُّ فَقَالَ: ((اعْدِلْ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! فَقَالَ: ((وَیْلَکَ وَمَنْ یَعْدِلُ إِذَا لَمْ أَعْدِلْ؟)) قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: دَعْنِی أَ ضْرِبْ عُنُقَہُ، قَالَ: ((دَعْہُ فَإِنَّ لَہُ أَ صْحَابًا یَحْقِرُ أَحَدُکُمْ صَلَاتَہُ مَعَ صَلَاتِہِ وَصِیَامَہُ مَعَ صِیَامِہِ،یَمْرُقُونَ مِنْ الدِّینِ کَمَا یَمْرُقُ السَّہْمُ مِنْ الرَّمِیَّۃِ،یُنْظَرُ فِی قُذَذِہِ فَلَا یُوجَدُ فِیہِ شَیْئٌ، ثُمَّ یُنْظَرُ فِی نَصْلِہِ، فَلَا یُوجَدُ فِیہِ شَیْئٌ ثُمَّ یُنْظَرُ فِی رِصَافِہِ، فَلَا یُوجَدُ فِیہِ شَیْئٌ ثُمَّ یُنْظَرُ فِی نَضِیِّہِ فَلَا یُوجَدُفِیہِ شَیْئٌ قَدْ سَبَقَ الْفَرْثَ وَالدَّمَ، آیَتُہُمْ رَجُلٌ إِحْدٰییَدَیْہِ أَ وْ قَالَ ثَدْیَیْہِ مِثْلُ ثَدْیِ الْمَرْأَ ۃِ أَ وْ قَالَ مِثْلُ الْبَضْعَۃِ تَدَرْدَرُ یَخْرُجُونَ عَلٰی حِینِ فُرْقَۃٍ مِنْ النَّاسِ۔)) قَالَ أَ بُو سَعِیدٍ أَ شْہَدُ سَمِعْتُ مِنْ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَ شْہَدُ أَ نَّ عَلِیًّا قَتَلَہُمْ وَأَ نَا مَعَہُ جِیئَ بِالرَّجُلِ عَلَی النَّعْتِ الَّذِی نَعَتَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ فَنَزَلَتْ فِیہِ: {وَمِنْہُمْ مَنْ یَلْمِزُکَ فِی الصَّدَقَاتِ۔} (مسند احمد: ۱۱۵۵۸)
۔ سیدنا ابوسعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ایک بار نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مال غنیمت تقسیم کر رہے تھے کہ عبداللہ بن ذی خویصرہ تمیمی آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! ذرا انصاف کرنا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو ہلاک ہو جائے،اگر میں بھی عدل نہ کروں تو اور کون عدل کرے گا؟ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: آپ مجھے اجازت دیں، میں اس کی گردن اڑادیتا ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو چھوڑ دو، اس کے ایسے ساتھی ہوں گے کہ تم میں سے ایک شخص ان کی نماز کے مقابلہ میں اپنی نماز کو حقیر سمجھے گا اور اپنے روزے کو ان کے روزے کے مقابلے میں حقیر سمجھے گا، یہ لوگ دین سے اس طرح نکل جائیں گے، جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے، اس کے پروں میں دیکھا جائے تو معلوم کچھ نہیں ہوتا، پھر اس کے پھل میں دیکھا جائے تو معلوم کچھ نہیں ہوتا، پھر اس کی تانت اور اس کے بعد پیکان اور پر کے درمیان کے حصے کو دیکھتا ہے، تو کچھ معلوم نہیں ہوتا، حالانکہ وہ خون اور گوبر سے ہو کر گزرا ہوتا ہے، ان کی نشانییہ ہوگی کہ ان میں ایک ایسا آدمی ہوگا جس کا ایک ہاتھ یا ایک چھاتی عورت کی ایک چھاتی کی طرح ہوگی،یا فرمایا کہ گوشت کے لوتھڑے کی طرح ہوگی اور ہلتی ہوگی، لوگوں کے تفرقہ کے وقت نکلیں گے۔ ابوسعید نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ سیدنا علی نے ان لوگوں کو قتل کیا، میں ان کے ساتھ تھا، اس وقت ان میں سے ایک شخص کو لایا گیا، وہ اسیصورت کے مطابق نکلا جو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بیان کی تھی، ان ہی لوگوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: {وَمِنْہُمْ مَّنْ یَّلْمِزُکَ فِی الصَّدَقٰتِ فَاِنْ اُعْطُوْا مِنْہَا رَضُوْا وَاِنْ لَّمْ یُعْطَوْا مِنْہَآ اِذَا ہُمْ یَسْخَطُوْنَ۔} (توبہ: ۵۸) اور ان میں سے کچھ وہ ہیں جو تجھ پر صدقات کے بارے میں طعن کرتے ہیں، پھر اگر انھیں ان میں سے دے دیا جائے تو خوش ہو جاتے ہیں اور اگر انھیں ان میں سے نہ دیا جائے تو اسی وقت وہ ناراض ہو جاتے ہیں۔
Musnad Ahmad
12329
۔ (۱۲۳۲۹)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) قَالَ: خَطَبَنَا عَلِیٌّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَقَالَ: مَا عِنْدَنَا شَیْئٌ مِنَ الْوَحْیِ اَوْ قَالَ: کِتَابٍ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، اِلَّا مَا فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ وَہٰذِہِ الصَّحِیْفَۃِ الْمَقْرُوْنَۃِ بِسَیْفِیْ، وَعَلَیْہِ سَیْفٌ حِلْیَتُہٗ حَدِیْدٌ وَفِیْہَا فَرَائِضَ الصَّدَقَاتِ۔ (مسند احمد: ۷۹۸)
۔ (دوسری سند) طارق بن شہاب کہتے ہیں: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہمیں خطبہ دیا اور اس میں کہا: ہمارے پاس اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی کوئی تحریر یا وحی میںسے الگ کوئی چیز نہیں ہے،بس وہی کچھ ہے، جو اللہ تعالیٰ کی کتاب میں ہے اور اس صحیفے میں ہے، جو میری تلوار کے ساتھ ملا ہوا ہے، اس وقت ایک تلوار ان کے پاس تھی، جس کے حلقے لوہے کے تھے اور اس صحیفہ میں زکوٰۃ کے جانوروں کی عمروں کا بیان تھا۔