TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

غلاموں، گھوڑوں اور گدھوں میں زکوۃ کے نہ ہونے کا بیان

Chapter 6 of زکوۃ کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 6 of 7 · 6 Hadith
۔ (۳۳۹۵) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَیْسَ عَلَی الْمُسْلِمِ فِی فَرَسِہِ وَلَا عَبْدِہِ صَدَقَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۷۲۹۳)
سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسلمان پر گھوڑے اور غلام کی زکوۃ فرض نہیں ہے۔
Takhreej
(۳۳۹۵) تخر یـج:… أخرجہ البخاری: ۱۴۶۳، ومسلم: ۹۸۲(انظر: ۷۲۹۵، ۹۳۱۴)
3395
Sahih
۔ (۳۳۹۶) وَعَنْہُ أَیْضًا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((لَیْسَ فِی الْعَبْدِ صَدَقَۃٌ إِلَّا صَدَقَۃَ الْفِطْرِ۔)) (مسند احمد: ۹۴۳۶)
سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: غلام کی زکوۃ فرض نہیں ہے، البتہ (مالک پر اس کا) صدقۂ فطر فرض ہے۔
Takhreej
(۳۳۹۶) تخر یـج:… أخرجہ مسلم: ۹۸۲(انظر: ۹۴۵۵)
3396
Sahih
۔ (۳۳۹۷) عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَحُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمْ یَأْخُذُ مِنَ الْخَیْلِ وَالرَّقِیْقِ صَدَقَۃً۔ (مسند احمد: ۱۱۳)
سیدنا عمر بن خطاب اور سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کا بیان ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے گھوڑوں اور غلاموں کی زکوۃ وصول نہیں کی۔
Takhreej
(۳۳۹۷) تخر یـج:… صحیح لغیرہ (انظر: ۱۱۳)
3397
Sahih
۔ (۳۳۹۸) عَنْ حَارِثَۃَ بْنِ مُضَرِّبٍ، أَنَّہُ حَجَّ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌فَأَتَاہُ اَشْرَافُ أَہْلِ الشَّامِ فَقَالُوْا: یَا أَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ! إِنَّا أَصَبْنَا رَقِیْقًا وَدَوَابَّ فَخُذْ مِنْ أَمْوَالِنَا صَدَقَۃً تُطَہِّرُنَا بِہَا وَتَکُوْنُ لَنَا زَکَاۃً، فَقَالَ: ہٰذَا شَیْئٌ لَمْ یَفْعَلُہُ اللَّذَانِ قَبْلِی وَلٰکِنِ انْتَظِرُوْا حَتّٰي أَسْأَلَ الْمُسْلِمِیْنَ۔ (مسند احمد: ۲۱۸)
حارثہ بن مضرب کہتے ہیں: میں نے سیدناعمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی معیت میں حج کیا، اہل شام کے معزز لوگ آئے اور انھوں نے کہا: اے امیر المومنین! ہم غلاموں اور جانوروں کے مالک بنے ہیں اور چاہتے ہیں کہ آپ ہم سے ہمارے ان مالوں کی زکوۃ وصول کریں تاکہ ہمارے مال پاک ہو جائیں اور یہ چیز ہمارے لیے باعث ِ تزکیہ ہو۔ لیکن آپ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: مجھ سے پہلے والی دو شخصیات(رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ) نے یہ عمل نہیں کیا، لیکن تم انتظار کرو تاکہ میں دوسرے مسلمانوں سے اس بارے میں مشورہ کر لوں۔
Takhreej
(۳۳۹۸) تخر یـج:… حدیث صحیح أخرجہ ابن خزیمۃ: ۲۲۹۰، والحاکم: ۱/ ۴۰۰، واللبیھقی: ۴/ ۱۱۸(انظر: ۸۲، ۲۱۸)
3398
Sahih
۔ (۳۳۹۹) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: جَائَ نَاسٌ مِنْ أَہْلِ الشَّامِ إِلٰی عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌فَقَالُوْا: إِنَّا قَدْ أَصَبْنَا أَمْوَالاً وَخَیْلًا وَرَقِیْقًا نُحِبُّ أَنْ یَکُوْنَ لَنَا فِیْہَا زَکَاۃٌ وَطَہُوْرٌ، قَالَ: مَا فَعَلَہُ صَاحِبَایَ قَبْلِی فَأَفْعَلُہُ وَاسْتَشَارَ أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَفِیْہِمْ عَلِیٌّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌فَقَالَ عَلِیٌّ: ہُوَ حَسَنٌ، إِنْ لَمْ یَکُنْ جِزْیَۃً رَاتِبَۃً یُؤْخَذُوْنَ بِہَا مِنْ بَعْدِکَ۔ (مسند احمد: ۸۲)
(دوسری سند) حارثہ کا بیان ہے کہ شام کے کچھ لوگ عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خدمت میں آئے۔ انہوں نے کہا: ہمیں کچھ اموال، گھوڑے اور غلام دستیاب ہوئے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ان کی زکوۃ ادا کریں تاکہ ہمارے اموال پاک ہو جائیں۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: مجھ سے پہلے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یہ عمل نہیں کیا، پھر انہوں نے صحابہ کرام سے مشورہ کیا، ان میں سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی موجود تھے، انہوں نے کہا: (ان سے قبول کر لینا) اچھی بات ہے، بشرطیکہ اس کو اس طرح مقرر نہ کر دیا جائے کہ بعد والے لوگوں سے بھی لیا جائے۔
Takhreej
(۳۳۹۹) تخر یـج:… انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے قول سے ظاہر ہو رہا ہے کہ وہ گھوڑوں اور غلاموں کی زکوۃ کے قائل نہیں تھے، یہی وجہ ہے کہ وہ اس کو جزیہ سے تعبیر کر رہے ہیں اور یہ شرط لگا رہے ہیں کہ بعد میں یہ وصول نہیں کی جانی چاہیے، اس موقع پر اس وصولی کو اچھا قرار دینے کی بنیاد یہ تھی کہ وہ لوگ بخوشی یہ نیکی کرنا چاہتے تھے۔
3399
Sahih
۔ (۳۴۰۰)عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((قَدْ عَفَوْتُ لَکُمْ عَنِ الْخَیْلِ وَالرَّقِیْقِ وَلَا صَدَقَۃَ فِیْہِمَا۔)) (مسند احمد: ۱۲۶۷)
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں تم سے گھوڑوں اور غلاموں کی زکوۃ معاف کرتا ہوں، ان میں کوئی زکوۃ نہیں۔
Takhreej
(۳۴۰۰) تخریـج:… اسنادہ جید أخرجہ ابوداود: ۱۵۷۴، والترمذی: ۶۲۰، وابن ماجہ: ۱۷۹۰، والنسائی: ۵/ ۳۷ (انظر: ۷۷۱، ۱۲۶۷)
3400
Sahih