مسنداحمد

Musnad Ahmad

افطار وسحری کے مسائل اور آداب

سحری کے وقت اوراس کو تاخیر سے کھانے کے مستحب ہونے کا بیان

۔ (۳۷۳۹) عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَمْنَعَنَّکُمْ مِنْ سَحُوْرِکُمْ اَذَانُ بِلَالٍ، وَلَا الْفَجْرُ الْمُسْتَطِیْلُ، وَلٰکِنِ الْفَجْرُ الْمُسْتَطِیْرُ فِی الاُفُقِ۔)) (مسند احمد: ۲۰۴۲۰)

۔ سیدناسمرہ بن جندب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی اذان اور صبح کاذب تم کو سحری کھانے سے نہ روکے،ہاں جب افق میں پھیلنے والی روشنییعنی صبح صادق ہو جائے (تو کھانے سے رک جائو)۔

۔ (۳۷۴۰) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ): قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَغُرَّنَّکُمْ نِدَائُ بِلَالٍ وَہٰذَا الْبَیَاضُ حَتّٰییَنْفَجِرَ الْفَجْرُ اَوْ یَطْلُعَ الْفَجْرُ۔)) (مسند احمد: ۲۰۳۳۹)

۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی اذان اور یہ (صبح کاذب) والی سفیدی تم کو کسی شک و شبہ میں نہ ڈالے، البتہ جب فجر پھٹ جائے یا طلوع ہو جائے (تو سحری کا وقت ختم ہو جاتا ہے)۔

۔ (۳۷۴۱) عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لاَ یَمْنَعُکُمْ اَذَانُ بِلَالٍ مِنَ السَّحُوْرِ، فَإِنَّ فِی بَصَرِہِ شَیْئًا۔)) (مسند احمد: ۱۲۴۵۵)

۔ سیدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی اذان تمہیں سحری سے نہ روکے، کیونکہ ان کی نظر میں کچھ خلل ہے۔

۔ (۳۷۴۲) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ بِلَالًا یُؤَذِّنُ بِلَیْلٍ فَکُلُوْا وَاشْرَبُوْا حَتّٰییُؤَذِّنَ ابْنُ اُمِّ مَکْتُوْمٍ۔)) (مسند احمد: ۴۵۵۱)

۔ سیدناعبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ رات کے وقت اذان کہتا ہے، اس لیے تم کھاتے پیتے رہا کرو، یہاں تک کہ ابن ام مکتوم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اذان دے دے۔

۔ (۳۷۴۳) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ بِلَالًا یُؤَذِّنُ بِلَیْلٍ فَکُلُوْا وَاشْرَبُوْا حَتّٰییُؤَذِّنَ ابْنُ اُمِّ مَکْتُوْمٍ۔)) قَالَتْ: فَلَا اَعْلَمُہُ اِلَّا کَانَ قَدْرَ مَا یَنْزِلُ ہٰذَا وَیَرْقٰی ہٰذَا۔ (مسند احمد: ۲۴۷۷۷)

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ رات کے وقت اذان کہتا ہے، اس لیے تم کھاتے پیتے رہا کرو، یہاں تک کہ ابن ام مکتوم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اذان دے دے۔ سیدہ کہتی ہیں: میرے علم کے مطابق (ان دو اذانوں میں اتنا وقفہ ہوتا تھا کہ) ایک اذان کہہ کر اترتا تھا تو دوسرا اذان کہنے کے لیے چڑھ جاتا تھا۔

۔ (۳۷۴۴) عَنْ خُبَیْبٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَمَّتِیْ تَقُوْلُ وَکَانَتْ حَجَّتْ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((إِنَّ ابْنَ اُمِّ مَکْتُوْمٍ یُنَادِی بِلَیْلٍ فَکُلُوْا وَاشْرَبُوْا حَتّٰییُنَادِیَ بِلَالٌ اَوْ، إِنَّ بِلَالاً یُنَادِی بِلَیْلٍ فَکُلُوْا وَاشْرَبُوْ حَتّٰییُنَادِیَ ابْنُ اُمِّ مَکْتُوْمٍ۔)) وَکَانَ یَصْعَدُ ہٰذَا وَیَنزِلُ ہٰذَا فَنَتَعَلَّقُ بِہِ فَنَقُوْلُ: کَمَا اَنْتَ حَتّٰی نَتَسَحَّرَ۔ (مسند احمد: ۲۷۹۸۵)

۔ خبیب کہتے ہیں: میں نے اپنی پھوپھی (سیدہ انیسہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا )، جنہوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ حج بھی کیا تھا، سے سنا وہ کہتی تھیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابن ام مکتوم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ رات کے وقت اذان کہتا ہے، اس لیے تم کھاتے پیتے رہا کرویہاں تک کہ بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اذان دے دے۔ یا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یوں فرمایا: بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ رات کے وقت اذان کہتا ہے، اس لیے تم ابن ام مکتوم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی اذان تک کھاتے پیتے رہا کرو۔ (دونوں اذانوں میں معمولی وقفہ ہوتا تھا، بس) ایک اذان کہہ کر نیچے آتا تو دوسرا کہنے کے لیے چڑھ جاتا، (بسا اوقات) ہم دوسرے موذن کے ساتھ چمٹ جاتے اور کہتے کہ ذرا رک جائو تاکہ ہم سحری کھا لیں۔

۔ (۳۷۴۵) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ): عَنْ عَمَّتِہِ اُنَیْسَۃَ بِنْتِ خُبَیْبِ قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا اَذَّنَ ابْنُ اُمِّ مَکْتُوْمٍ فَکُلُوْا وَاشْرَبُوْا وَإِذَا اَذَّنَ بِلَالٌ فَلَا تاْکُلُوْا وَلَا تَشْرَبُوْا۔)) قَالَتْ: کَانَتِ الْمَرْاَۃُ لَیَبْقٰی عَلَیْہَا مِنْ سُحُوْرِہَا فَتَقُوْلُ لِبِلَالٍ: أَمْہِلْ حَتّٰی اَفْرُغَ مِنْ سُحُوْرِی۔ (مسند احمد: ۲۷۹۸۶)

۔ (دوسری سند) خبیب اپنی پھوپھی سیدہ انیسہ بنت خبیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے بیان کرتا ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب ابن ام مکتوم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اذان دے تو کھاتے پیتے رہا کرو، لیکن جب بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اذان دے دے تو کھانا پینا چھوڑ دیا کرو۔ سیدہ انیسہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: جب کسی عورت کی سحری باقی ہوتی تو وہ سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہتی:ذرا رک جاؤ، تاکہ میں سحری سے فارغ ہو جائوں۔