مسنداحمد

Musnad Ahmad

افطار وسحری کے مسائل اور آداب

سحری سے فراغت اور نماز فجر کے درمیان کے وقفہ کی مقدار کا بیان

۔ (۳۷۴۶) عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ وَزَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ تَسْحَّرَا فَلَمَّا فَرَغَا مِنْ سُحُوْرِہِمَا قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلَی الصَّلَاۃِ فَصَلّٰی فَقُلْنَا لِاَنَسٍ: کَمْ کَانَ بَیْنَ فَرَاغِہِمَا مِنْ سُحُوْرِہِمَا وَدُخُولِہِمَا فِی الصَّلاَۃِ؟ قَالَ: قَدْرُ مَا یَقْرَاُ رَجُلٌ خَمْسِیْنَ آیَۃً۔ (مسند احمد: ۱۲۷۶۹)

۔ سیدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنازید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سحری کی، پھر جب وہ سحری سے فارغ ہوئے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز کے لیے کھڑے ہو گئے۔ قتادہ کہتے ہیں: ہم نے سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے پوچھا: ان کا سحری سے فارغ ہونے اور نماز شروع کرنے کے درمیان کتنا وقفہ تھا؟ انھوں نے کہا: ایک آدمی کا پچاس آیات پڑھ لینے کے برابر وقفہ تھا۔

۔ (۳۷۴۷) وَعَنْہُ اَیْضًا عَنْ اَنَسٍ عَنْ زِیْدِ بْنِ ثَابِتٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: تَسَحَّرْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَخَرَجْنَا إِلَی الْمَسْجِدِ فَاُقِیْمَتِ الصَّلَاۃُ، قُلْتُ: (وَفِی رِوَایَۃٍ قُلْتُ لِزَیْدٍ:) کَمْ کَانَ بَیْنَہُمَا؟ قَالَ: قَدْرُ مَا یَقْرَاُالرَّجُلُ خَمْسِیْنَ آیَۃً۔ (مسند احمد: ۲۱۹۱۸)

۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ،سیدنازید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ سحری کی، اس کے بعد ہم مسجد میں چلے گئے اور وہاں نماز کے لیے اقامت کہی گئی۔ میں نے سیدنا زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے پوچھا: ان دونوں کاموں کے درمیان کتنا وقفہ تھا؟ انھوں نے کہا: اتنا کہ جتنی دیر میں ایک آدمی پچاس آیات پڑھ لیتا ہے۔