مسنداحمد

Musnad Ahmad

افطار وسحری کے مسائل اور آداب

روزے کو باطل کردینے والے اور دورانِ روزہ مکروہ اور مباح امورکا بیان ان امورکے ابواب جن سے روزہ باطل ہو جاتا ہے۔ اور ان امور کا بیان جو روزہ کی حالت میں مکروہ یا مباح ہیں۔ روزہ دار کے لیے سینگی لگوانے کا بیان

۔ (۳۷۴۸) عَنْ شَدَّادِ بْنِ اَوْسِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّہُ مَرَّ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم زَمَنَ الْفَتْحِ عَلٰی رَجُلٍ یَحْتَجِمُ بِالْبَقِیْعِ لِثَمَانِیْ عَشْرَۃَ خَلَتْ مِنْ رَمَضَانَ وَہُوَ آخِذٌ بِیَدِی فَقَالَ: ((اَفْطَرَ الْحَاجِمُ الْمَحْجُوْمُ۔)) (مسند احمد: ۱۷۲۴۱)

۔ سیدنا شداد بن اوس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: فتح مکہ کے موقع پر میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک ایسے آدمی کے پاس سے گزرے جو بقیع مقام پر سینگی لگوا رہا تھا، یہ اٹھارہ رمضان کا واقعہ تھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرا ہاتھ بھی پکڑا ہوا تھا، (اسے دیکھ کر) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سینگی لگانے والے اور لگوانے والے دونوں نے روزہ افطار کر دیا ہے۔

۔ (۳۷۴۹) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ): قَالَ: مَرَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَیَّ وَاَنَا اَحْتَجِمُ فِی ثَمَانِیْ عَشْرَۃَ خَلَوْنَ مِنْ رَمَضَانَ فَقَالَ: ((اَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ)) (مسند احمد: ۱۷۲۵۹)

۔ (دوسری سند) وہ کہتے ہیں:رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس سے گزرے، جبکہ میں سینگی لگوا رہا تھا، یہ اٹھارہ رمضان کی بات تھی، آپ نے فرمایا: سینگی لگانے والے اور لگوانے والے دونوں نے روزہ افطار کر دیا ہے۔

۔ (۳۷۵۰) عَنْ مَعْقِلِ بْنِ سِنَانِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَرَّ بِہِ وَہُوَ یَحْتَجِمُ لِثَمَانِیْ عَشْرَۃَ، قَالَ: ((اَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُوْمُ)) (مسند احمد: ۱۶۰۴۰)

۔ سیدنا معقل بن سنان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کے پاس سے گزرے، جبکہ وہ سینگی لگوا رہا تھا، اس دن ماہِ رمضان کی اٹھارہ تاریخ تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سینگی لگانے والے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ افطار ہو گیا۔

۔ (۳۷۵۱) عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَتٰی عَلٰی رَجُلٍ یَحْتَجِمُ فِی رَمَضَانَ فَقَالَ: ((اَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُوْمُ۔)) (مسند احمد: ۲۲۷۴۱)

۔ مولائے رسول سیدنا ثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک ایسے آدمی کے پاس سے گزرے جو ماہِ رمضان میں سینگی لگوا رہا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سینگی لگانے والے اور لگوانے والے دونوں نے روزہ افطار کر دیا ہے۔

۔ (۳۷۵۲) عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِیْجٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہِ وَصَحْبِہِ وَسَلَّمَ: ((اَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُوْمُ۔‘‘ (مسند احمد: ۱۵۹۲۲)

۔ سیدنارافع بن خدیج ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سینگی لگانے والے اور لگوانے والے دونوں نے روزہ افطار کر دیا ہے۔

۔ (۳۷۵۳) وَعَنْ بِلَالِ بْنِ اَبِی رَبَاحٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ۔ (مسند احمد: )

۔ سیدنابلال بن ابی رباح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اسی قسم کی روایت بیان کی ہے۔

۔ (۳۷۵۴) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ۔ (مسند احمد: ۲۲۶۱)

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے۔

۔ (۳۷۵۵) وَعَنْ اُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ۔ (مسند احمد: ۹۵۷۶)

۔ سیدنااسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہی حدیث بیان کی ہے۔