۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خادمہ سیدہ میمونہ بنت سعد رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جب اس آدمی کے بارے میں سوال کیا گیا جو روزے کی حالت میں اپنی بیوی کا بوسہ لیتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس نے تو روزہ افطار کر دیا ہے۔
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے،ایک نوجوان نے آکر کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں روزہ کی حالت میں اپنی بیوی کا بوسہ لے سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ اتنے میں ایک بوڑھا آدمی آیااور اس نے بھییہی سوال کیا کہ وہ روزہ کی حالت میں اپنی بیوی کا بوسہ لے سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ یہ جواب سن کر ہم نے (ازراہِ تعجب) ایک دوسرے کی طرف دیکھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں جانتا ہوں کہ تم نے ایک دوسرے کی طرف کیوں دیکھا ہے،بات یہ ہے کہ بوڑھا آدمی اپنے اوپر کنٹرول کر سکتا ہے۔
۔ سیدنا عبداللہ بن ثعلبہ بن صعیر عذری رضی اللہ عنہ ، جن کے چہرے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہاتھ پھیرا تھا اور انہوں نے بہت سے صحابہ کو پایا تھا، سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:صحابہ کرام اس اندیشہ کی بناء پر مجھے (اپنی بیوی کا) بوسہ لینے سے منع کیا کرتے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس سے اگلی چیز کی طرف تجاوز کر جاؤں اور آج کے مسلمان (تابعین) بھی اس سے (مطلق طور پر) منع کرتے ہیں اور (بطورِ دلیل) یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو حفاظت حاصل تھی، وہ کسی دوسرے کے لیے تو نہیںہے۔