TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

احرام کا ارادہ کرنے والے کا غسل کرنا اور خوشبو لگانا - احرام کا ارادہ کرنے والے کا غسل کرنا اور خوشبو لگانا - احرام، اس کے مواقیت ، طریقے اور اس سے متعلقہ دوسرے احکام کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 3 of احرام، اس کے مواقیت ، طریقے اور اس سے متعلقہ دوسرے احکام کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 3 of 22 · 8 Hadith
۔ (۴۱۵۶)عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا أَرَادَ أَنَّ یُحْرِمَ غَسَلَ رَأْسَہُ بِخَطْمِیٍّ وَأُشْنَانٍ وَدَہَنَہُ بِشَیْئٍ مِنْ زَیْتٍ غَیْرِ کَثِیْرٍ۔ (مسند احمد: ۲۴۹۹۵)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب احرام باندھنے کا ارادہ کرتے تو خطمی بوٹی اور اُشنان گھاس سے اپنا سر دھوتے اور سر پر کچھ زیتون کا تیل بھی لگاتے تھے۔
Takhreej
(۴۱۵۶) تخریج: اسنادہ ضعیف، عبد اللہ بن محمد بن عقیل ضعیفیعتبر بہ، ولم یتابع ھنا۔ أخرجہ البزار: ۱۰۸۵، والدارقطنی: ۲/ ۲۲۶، والطبرانی فی ’’الاوسط‘‘: ۱۱۷۲(انظر: ۲۴۴۹۰)
Explanation
فوائد: …احرام باندھتے وقت غسل کرنا مستحب ہے، جیسا کہ سیدنا زیدبن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم احرام باندھنے کے لیے علیحدہ ہوئے اور غسل کیا۔ (ترمذی: ۸۳۰)
4156
Zaeef
۔ (۴۱۵۷) وَعَنْہَا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: طَیَّبْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِیَدَیَّ (وَفِیْ لَفْظٍ: بِیَدَیَّ ہَاتَیْنِ) بِذَرِیْرَۃٍ لِحَجَّۃِ الْوَدَاعِ لِلْحِلِّ وَالْإِحْرَامِ حِیْنَ أَحْرَمَ وَحِیْنَ رَمٰی جَمْرَۃَ الْعَقَبَۃِیَوْمَ النَّحْرِ قَبْلَ أَنْ یَطُوْفَ بِالْبَیِّتِ (وَفِیْ لَفْظٍ: قَبْلَ أَنْ یُفِیْضَ)۔ (مسند احمد: ۲۶۶۰۶)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: حجۃ الوداوع کے موقع پر میں نے اپنے ان ہاتھوں سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو احرام باندھتے وقت اور احرام کھولتے وقت مختلف اشیاء سے بنی ہوئی خو شبو لگائی تھی،یعنی جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم احرام باندھنے لگے تو اس وقت لگائی اور جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دس ذوالحجہ کو طوافِ افاضہ سے پہلے جمرۂ عقبہ کو کنکریاں ماریں تو اس وقت خوشبو لگائی تھی۔
Takhreej
(۴۱۵۷) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۹۳۰، ومسلم: ۱۱۸۹(انظر: ۲۶۰۷۸)
4157
Sahih
۔ (۴۱۵۸) عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُرْوَہَ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَاہُ یَقُوْلُ: سَأَلْتُ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بِأَیِّ شَیْئٍ طَیَّبْتِ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَتْ: بِأَطْیَبِ الطِّیْبِ۔ (مسند احمد: ۲۴۶۰۶)
۔ عروہ کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے پوچھا: آپ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کونسی خوشبو لگائی تھی؟ انہوں نے کہا: سب سے عمدہ خوشبو (یعنی کستوری)۔
Takhreej
(۴۱۵۸) أخرجہ مسلم: ۱۱۸۹(انظر: ۲۴۱۰۵)
4158
Sahih
۔ (۴۱۵۹) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: کَأَنِّی أَنْظُرُ إِلٰی وَبِیْصِ الْمِسْکِ فِیْ رَأْسِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ مُحْرِمٌ۔ (مسند احمد:۲۴۶۰۸)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتی ہیں: گویا میں اب بھی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سر پر لگی ہو کستوری کی چمک دیکھ رہی ہوں، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم احرام کی حالت میں ہوتے۔
Takhreej
(۴۱۵۹) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۱۹۰(انظر: ۲۴۱۰۷)
4159
Sahih
۔ (۴۱۶۰) (وَعَنْہَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَتْ: کَأَنِّی أَنْظُرُ إِلَی وَبِیْصِ الطِّیْبِ فِیْ مَفْرِقِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (وَفِیْ لَفْظٍ: فِیْ مَفَارِقِہِ) وَہُوَ یُلَبِّی۔ (مسند احمد: ۲۶۹۲۸)
۔ (دوسری سند) سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتی ہیں: گویا کہ میں اب بھی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مانگ میں خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تلبیہ پڑھ رہے ہوتے۔
Takhreej
(۴۱۶۰) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… ترجمہ میں صرف مفرد لفظ ’’مفرق‘‘ کا لحاظ رکھا گیا ہے جبکہ ایک روایت میں مفارق کا لفظ ہے جو مفرق کی جمع ہے یہ سر کی مختلف جہتوں کا لحاظ کر کے بول دیا گیا ہے۔ (بلوغ الامانی)۔ (عبداللہ رفیق)
4160
Sahih
۔ (۴۱۶۱) وَعَنْھَا أَیْضًا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنْہُنَّ کُنَّ یَخْرُجْنَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَیْہِنَّ الضِّمَادُ، قَدْ أَضْمَدْنَ قَبْلَ أَنْ یُحْرِمْنَ ثُمَّ یَغْتَسِلْنَ، وَہُوَ عَلَیْہِنَّ،یَعْرَقْنَ وَیَغْتَسِلْنَ لاَ یَنْہَاہُنَّ عَنْہُ۔ (مسند احمد: ۲۵۰۰۷)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیویاں جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی معیت میں حج و عمرہ کے لئے روانہ ہوتیں تو ان پر خوشبو ملی ہوئی ہوتی تھی، وہ احرام سے پہلے خوشبو ملتی تھیں، پھر غسل کرتی تھیں اور وہ ان پر ہوتی تھی، ان کو پسینہ آتا تھا اور وہ غسل کرتی تھیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کو منع نہیں کرتے تھے۔
Takhreej
(۴۱۶۱) تخریج: اسنادہ صحیح ۔ أخرجہ ابوداود: ۱۸۳۰(انظر: ۲۴۵۰۲)
Explanation
فوائد:… ’’اَلضِّمَاد‘‘ یہ لفظ اصل میں اس پٹی کے لیے وضع کیا گیا ہے جو زخمی عضو پر باندھی جاتی ہے، پھر اس زخم پر دوا وغیرہ لگانے کے معنی میں استعمال کیا گیا، بعد ازاں بطورِ استعارہ اس کو ہر اس چیز کے لیے استعمال کیا گیا، جو جسم پر رکھی جاتی ہے، وہ دوا ہو یا خوشبو یا کوئی اور چیز، اس حدیث میں خوشبو مراد ہے۔ سنن ابوداود کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: ((کُنَّا نَخْرُجُ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلٰی مَکَّۃَ فَنْضْمِدُ جِبَاھَنَا بِالسُّکِّ الْمُطَیَّبِ عِنْدَ الْاِحْرَامِ، فَاِذَا عَرَقَتْ اِحْدَانَا سَالَ عَلٰی وَجْھِھَا فَیَرَاہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَا یَنْھَانَا)) … جب ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ مکہ کی طرف نکلتی تھیں تو ہم احرام باندھتے وقت مشک ملی ہوئی ایک قسم کی خوشبو اپنی پیشانیوں پر ملتی تھیں، جب کسی کو پسینہ آتا تھا تو وہ اس کے چہرے پر بہہ پڑتی تھے، لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دیکھتے تھے اور منع نہیں کرتے تھے۔ ان روایات سے معلوم ہوا کہ احرام باندھنے سے پہلے اس طرح خوشبو لگانا جائز ہے کہ اس کا اثر احرام کے بعد تک جاری رہے، وہ اثر خوشبو کی صورت میں بھی ہو سکتا ہے اور خوشبو کے وجود کے برقرار رہنے کی شکل میں بھی ہو سکتا ہے، لیکن درج ذیل حدیث ِ مبارکہ اس اعتبار سے قابل توجہ ہے کہ اس میں محرم کو خوشبو کا اثر دور کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے: سیدنایعلی بن امیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌کہتے ہیں: ہم جعرانہ مقام میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس موجود تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ایک آدمی آیا، اس نے جبّہ پہنا ہوا تھا اور ’’خلوق‘‘ خوشبو لگائی ہوئی تھی، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے عمرے کے لیے کیا کچھ کرنے کا حکم دیں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((اِخْلَعْ عَنْکَ ھٰذِہِ الْجُبَّۃَ وَاغْسِلْ عَنْکَ اَثَرَ الْخَلُوْقِ وَاصْنَعْ فِیْ عُمْرَتِکَ کَمَا تَصْنَعُ فِیْ حَجِّکَ۔)) … ’’تو یہ جبّہ اتار دے، اس ’’خلوق‘‘ خوشبو کا اثر دھو دے اور جیسے تو حج میںکرتا تھا، اس طرح عمرے میں کر۔‘‘ خلوق: ایک قسم کی خوشبو جس کا بیشتر حصہ زعفران ہوتا ہے۔ اعتراضیہ ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس آدمی کو خوشبو دھونے کا حکم کیوں دیا؟ اس اعتراض کے تین جوابات ممکن ہیں: ۱۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا خوشبولگانے کا عمل۱۰ھ میں حجۃ الوداع کے موقع پر پیش آیا، جبکہ جعرانہ مقام کی بات کا تعلق ۸ھ سے ہے، اس اعتبار سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا آخری عمل خوشبو لگانا ہے اور اسی پر عمل کیا جائے گا۔ ۲۔ ممکن ہے کہ اس آدمی نے احرام باندھنے کے بعد خوشبو لگائی ہو، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو دھو دینے کا حکم دیا ہو، اس تطبیق سے تمام احادیث ِ مبارکہ پر عمل ہو جائے گا، لیکن حدیث نمبر (۴۲۵۵) سے پتہ چلتا ہے کہ اس آدمی نے احرام باندھنے سے پہلے خوشبو لگائی تھی۔ ۳۔ اس خوشبو میں زعفران تھی، جس کا استعمال مردوں کے لیے ناجائز ہے، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے منع فرمایا تھا، حدیث نمبر (۴۲۴۴) میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے محرم کے لباس کا تعین کرتے ہوئے فرمایا: ’’محرِم وہ کپڑے بھی نہیں پہن سکتا، جس کو ورس اور زعفران کی خوشبو لگی ہو ئی ہو۔‘‘ لیکن احرام باندھنے کے بعد خوشبو لگانا حرام ہے، اس کی وضاحت ’’محرم کے لئے جائز اور ناجائز امور کا بیان‘‘ کے تحت پہلے باب میں آئے گی۔
4161
Sahih
۔ (۴۱۶۲) عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌وَجَدَ رِیْحَ طِیْبٍ بِذِی الْحُلَیْفَۃِ، فَقَالَ: مِمَّنْ ہٰذِہِ الرِّیْحُ؟ فَقَالَ مُعَاوِیَۃُ: مِنِّیْیَا أَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ! فَقَالَ: مِنْکَ لَعَمْرِی، فَقَالَ: طَیِّبَتْنِیأُمُّ حَبِیْبَۃَ، وَزَعَمَتْ أَنْہَا طَیَّبَتْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عِنْدَ إِحْرَامِہِ، فَقَالَ: أِذْہَبْ فَأَقْسِمْ عَلَیْہَا لَمَا غَسَلَتْہُ فَرَجَعَ إِلَیْہَا فَغَسَلَتْہُ۔ (مسند احمد: ۲۷۲۹۵)
۔ سلیمان بن یسار کہتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ذوالحلیفہ میں خوشبو کی مہک محسوس کی اور پوچھا: یہ خوشبو کس سے آ رہی ہے؟ سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: امیر المومنین! مجھ سے۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میری زندگی کی قسم! تم سے آ رہی ہے،انھوں نے کہا: مجھے تو ام المؤمنین سیدہ ام حبیبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے یہ خوشبو لگائی ہے اور ان کا خیال ہے کہ انہوں نے احرام باندھتے وقت رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بھی خوشبو لگائی تھی، لیکن سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جائو اور اس کو قسم دوکہ وہ اس کو ہر صورت میں دھو ڈالے، پھر وہ سیدہ کی طرف گئے اور انھوں نے اس کو دھو ڈالا۔
Takhreej
(۴۱۶۲) تخریج: اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، سلیمان بن یسار لم یسمع من عمر۔ أخرجہ البزار: ۱۰۹۹(انظر: ۲۶۷۵۹)
4162
Zaeef
۔ (۴۱۶۳) عَنْ إِبْرَاہِیْمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ عَنْ أَبِیْہِ أَنَّہُ سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الرَّجُلِ یَتَطَیَّبُ عِنْدَ إِحْرَامِہِ؟ فَقَالَ: لَأَنْ أَطَّلِیَ بِقَطِرَانٍ أَحَبُّ إِلَیَّ مِنْ أَنْ أَفْعَلَہُ، قَالَ: فَسَأَلَ أَبِی عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا فَأَخْبَرَہَا بِقَوْلِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما فَقَالَتْ: یَرْحَمُ اللّٰہُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، کُنْتُ أُطَیِّبُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ یَطُوْفُ عَلٰی نِسَائِہِ ثُمَّ یُصْبِحُ مُحْرِمًا یَنْتَضِحُ طِیْبًا۔ (مسند احمد: ۲۵۹۳۵)
۔ محمد بن منتشر نے سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے احرام کے وقت خوشبو لگانے کے بارے میں سوال کیا، انہوں نے کہا: اگر میںگندھک مل لوں، تو یہ مجھے خوشبو لگانے سے زیادہ پسندیدہ ہو گا، پھر انھوں نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ مسئلہ پوچھا اور سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بات بھی ان کو بتائی، تو سیدہ نے کہا: اللہ تعالیٰ ابو عبد الرحمن پر رحم فرمائے، میں خود رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو خوشبو لگایا کرتی تھی، اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی بیویوں کے پاس جاتے، پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صبح کو احرام باندھتے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے خوشبو آ رہی ہوتی تھی۔
Takhreej
(۴۱۶۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۶۷،۲۷۰،و مسلم: ۱۱۹۲(انظر: ۲۵۴۲۱)
Explanation
فوائد:… دراصل سیدنا عمر، سیدنا عبد اللہ بن عمر اور سیدنا عثمان احرام سے پہلے بھی اس طرح خوشبو لگانے کے قائل نہیں تھے کہ اس کا اثر احرام کے بعد تک جاری رہے، لیکن اس باب کے شروع میں مذکورہ احادیث اور ان کی شرح کا تقاضا یہ ہے کہ اس انداز میں خوشبو لگانا جائز ہے۔
4163
Sahih

Chapters

22
01
مواقیت ِاحرام کے مقامات کا بیان
13 Hadith
02
صحابہ کرام کا اس بارے میں اختلاف کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کس جگہ سے تلبیہ پڑھا تھا
5 Hadith
03
احرام کا ارادہ کرنے والے کا غسل کرنا اور خوشبو لگانا
8 Hadith
04
حیض اور نفاس والی عورتیں احرام سے پہلے اور اس کے بعد کیا کریں، ان امور کا بیان
5 Hadith
05
احرام میں شرط لگانے کا بیان
6 Hadith
06
مطلق طور پر احرام باندھنے والے یا اس شخص کا بیان جو یہ کہے: میں نے وہ احرام باندھا جو فلاں نے باندھا
2 Hadith
07
حج تمتع، حج افراد اور حج قران میں سے کوئی ایک ادا کر لینے کا اختیار دینے کا بیان
4 Hadith
08
… حج افراد کا بیان
5 Hadith
09
حج قران کا بیان
12 Hadith
10
حج تمتع کا بیان
18 Hadith
11
حج کے مہینوں میں عمرہ کی ادائیگی کے جائز ہونے اور کسی رکاوٹ کی بنا پر احرام کھول دینے کا بیان
4 Hadith
12
تلبیہ اور اس کی کیفیت اور احکام کا بیان تلبیہ کے الفاظ اور اس کی فضیلت کا بیان
9 Hadith
13
تلبیہ کا حکم اور اسے بآواز بلند پکارنا
8 Hadith
14
تلبیہ کے دورانیہ اور نمازوں کے بعد تلبیہ پکارنے کا بیان
7 Hadith
15
محرم کے لئے جائز اور ناجائز امور کا بیان محرم کا سلے ہوئے کپڑے اتار دینے کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ کون سے کپڑے اور خوشبو اس کے لیے ناجائز ہے
15 Hadith
16
محرم کے لیے سینگی لگوانے، سرمہ لگانے اور سر دھونے کا بیان
8 Hadith
17
احرام کی حالت میں گرمی وغیرہ سے بچنے کے لئے سایہ کرنے، مرد کا سر کو اور عورت کا چہرہ کو ڈھانپنے اور محرم کا اپنے خادم کو مارنے کا بیان
5 Hadith
18
سیدنا کعب بن عجرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ سے مروی حدیث اور اس کے متعدد طرق کا بیان
8 Hadith
19
احرام کی حالت میں نکاح کرنے یا کروانے یا نکاح کا پیغام بھیجنے کا بیان
8 Hadith
20
محرم کے لئے خشکی کا شکار کرنے اور اس کو کھانے کے حرام ہونے کا بیان
7 Hadith
21
اس امر کا بیان کہ اگر محرم نہ تو خود شکار کرے اور نہ اس کی خاطر کیا جائے تو اس کے لیے اس کا کھانا جائز ہو گا
11 Hadith
22
ان حیوانات کا بیان، جن کو حرم کی حدود کے اندر اور باہر قتل کرنا محرم کے لئے جائز ہے
10 Hadith
No chapter matched that.