مسنداحمد

Musnad Ahmad

احرام، اس کے مواقیت ، طریقے اور اس سے متعلقہ دوسرے احکام کے ابواب

احرام کا ارادہ کرنے والے کا غسل کرنا اور خوشبو لگانا

۔ (۴۱۵۶)عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا أَرَادَ أَنَّ یُحْرِمَ غَسَلَ رَأْسَہُ بِخَطْمِیٍّ وَأُشْنَانٍ وَدَہَنَہُ بِشَیْئٍ مِنْ زَیْتٍ غَیْرِ کَثِیْرٍ۔ (مسند احمد: ۲۴۹۹۵)

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب احرام باندھنے کا ارادہ کرتے تو خطمی بوٹی اور اُشنان گھاس سے اپنا سر دھوتے اور سر پر کچھ زیتون کا تیل بھی لگاتے تھے۔

۔ (۴۱۵۷) وَعَنْہَا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: طَیَّبْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِیَدَیَّ (وَفِیْ لَفْظٍ: بِیَدَیَّ ہَاتَیْنِ) بِذَرِیْرَۃٍ لِحَجَّۃِ الْوَدَاعِ لِلْحِلِّ وَالْإِحْرَامِ حِیْنَ أَحْرَمَ وَحِیْنَ رَمٰی جَمْرَۃَ الْعَقَبَۃِیَوْمَ النَّحْرِ قَبْلَ أَنْ یَطُوْفَ بِالْبَیِّتِ (وَفِیْ لَفْظٍ: قَبْلَ أَنْ یُفِیْضَ)۔ (مسند احمد: ۲۶۶۰۶)

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: حجۃ الوداوع کے موقع پر میں نے اپنے ان ہاتھوں سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو احرام باندھتے وقت اور احرام کھولتے وقت مختلف اشیاء سے بنی ہوئی خو شبو لگائی تھی،یعنی جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم احرام باندھنے لگے تو اس وقت لگائی اور جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دس ذوالحجہ کو طوافِ افاضہ سے پہلے جمرۂ عقبہ کو کنکریاں ماریں تو اس وقت خوشبو لگائی تھی۔

۔ (۴۱۵۸) عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُرْوَہَ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَاہُ یَقُوْلُ: سَأَلْتُ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بِأَیِّ شَیْئٍ طَیَّبْتِ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَتْ: بِأَطْیَبِ الطِّیْبِ۔ (مسند احمد: ۲۴۶۰۶)

۔ عروہ کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے پوچھا: آپ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کونسی خوشبو لگائی تھی؟ انہوں نے کہا: سب سے عمدہ خوشبو (یعنی کستوری)۔

۔ (۴۱۵۹) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: کَأَنِّی أَنْظُرُ إِلٰی وَبِیْصِ الْمِسْکِ فِیْ رَأْسِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ مُحْرِمٌ۔ (مسند احمد:۲۴۶۰۸)

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتی ہیں: گویا میں اب بھی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سر پر لگی ہو کستوری کی چمک دیکھ رہی ہوں، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم احرام کی حالت میں ہوتے۔

۔ (۴۱۶۰) (وَعَنْہَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَتْ: کَأَنِّی أَنْظُرُ إِلَی وَبِیْصِ الطِّیْبِ فِیْ مَفْرِقِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (وَفِیْ لَفْظٍ: فِیْ مَفَارِقِہِ) وَہُوَ یُلَبِّی۔ (مسند احمد: ۲۶۹۲۸)

۔ (دوسری سند) سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتی ہیں: گویا کہ میں اب بھی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مانگ میں خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تلبیہ پڑھ رہے ہوتے۔

۔ (۴۱۶۱) وَعَنْھَا أَیْضًا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنْہُنَّ کُنَّ یَخْرُجْنَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَیْہِنَّ الضِّمَادُ، قَدْ أَضْمَدْنَ قَبْلَ أَنْ یُحْرِمْنَ ثُمَّ یَغْتَسِلْنَ، وَہُوَ عَلَیْہِنَّ،یَعْرَقْنَ وَیَغْتَسِلْنَ لاَ یَنْہَاہُنَّ عَنْہُ۔ (مسند احمد: ۲۵۰۰۷)

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیویاں جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی معیت میں حج و عمرہ کے لئے روانہ ہوتیں تو ان پر خوشبو ملی ہوئی ہوتی تھی، وہ احرام سے پہلے خوشبو ملتی تھیں، پھر غسل کرتی تھیں اور وہ ان پر ہوتی تھی، ان کو پسینہ آتا تھا اور وہ غسل کرتی تھیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کو منع نہیں کرتے تھے۔

۔ (۴۱۶۲) عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌وَجَدَ رِیْحَ طِیْبٍ بِذِی الْحُلَیْفَۃِ، فَقَالَ: مِمَّنْ ہٰذِہِ الرِّیْحُ؟ فَقَالَ مُعَاوِیَۃُ: مِنِّیْیَا أَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ! فَقَالَ: مِنْکَ لَعَمْرِی، فَقَالَ: طَیِّبَتْنِیأُمُّ حَبِیْبَۃَ، وَزَعَمَتْ أَنْہَا طَیَّبَتْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عِنْدَ إِحْرَامِہِ، فَقَالَ: أِذْہَبْ فَأَقْسِمْ عَلَیْہَا لَمَا غَسَلَتْہُ فَرَجَعَ إِلَیْہَا فَغَسَلَتْہُ۔ (مسند احمد: ۲۷۲۹۵)

۔ سلیمان بن یسار کہتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ذوالحلیفہ میں خوشبو کی مہک محسوس کی اور پوچھا: یہ خوشبو کس سے آ رہی ہے؟ سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: امیر المومنین! مجھ سے۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میری زندگی کی قسم! تم سے آ رہی ہے،انھوں نے کہا: مجھے تو ام المؤمنین سیدہ ام حبیبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے یہ خوشبو لگائی ہے اور ان کا خیال ہے کہ انہوں نے احرام باندھتے وقت رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بھی خوشبو لگائی تھی، لیکن سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جائو اور اس کو قسم دوکہ وہ اس کو ہر صورت میں دھو ڈالے، پھر وہ سیدہ کی طرف گئے اور انھوں نے اس کو دھو ڈالا۔

۔ (۴۱۶۳) عَنْ إِبْرَاہِیْمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ عَنْ أَبِیْہِ أَنَّہُ سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الرَّجُلِ یَتَطَیَّبُ عِنْدَ إِحْرَامِہِ؟ فَقَالَ: لَأَنْ أَطَّلِیَ بِقَطِرَانٍ أَحَبُّ إِلَیَّ مِنْ أَنْ أَفْعَلَہُ، قَالَ: فَسَأَلَ أَبِی عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا فَأَخْبَرَہَا بِقَوْلِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما فَقَالَتْ: یَرْحَمُ اللّٰہُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، کُنْتُ أُطَیِّبُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ یَطُوْفُ عَلٰی نِسَائِہِ ثُمَّ یُصْبِحُ مُحْرِمًا یَنْتَضِحُ طِیْبًا۔ (مسند احمد: ۲۵۹۳۵)

۔ محمد بن منتشر نے سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے احرام کے وقت خوشبو لگانے کے بارے میں سوال کیا، انہوں نے کہا: اگر میںگندھک مل لوں، تو یہ مجھے خوشبو لگانے سے زیادہ پسندیدہ ہو گا، پھر انھوں نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ مسئلہ پوچھا اور سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بات بھی ان کو بتائی، تو سیدہ نے کہا: اللہ تعالیٰ ابو عبد الرحمن پر رحم فرمائے، میں خود رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو خوشبو لگایا کرتی تھی، اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی بیویوں کے پاس جاتے، پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صبح کو احرام باندھتے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے خوشبو آ رہی ہوتی تھی۔