TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

احرام میں شرط لگانے کا بیان - احرام میں شرط لگانے کا بیان - احرام، اس کے مواقیت ، طریقے اور اس سے متعلقہ دوسرے احکام کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 5 of احرام، اس کے مواقیت ، طریقے اور اس سے متعلقہ دوسرے احکام کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 5 of 22 · 6 Hadith
۔ (۴۱۶۹)عَنِ ابْنِ عَبَّا سٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّہُ قَالَ: جَائَ تْ ضُبَاعَۃُ بِنْتُ الزُّبَیْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَتْ: إِنِّیْ امْرَأَۃٌ ثَقِیْلَۃٌ، وَإِنِّی أُرِیْدُ الْحَجَّ فَکَیْفَ تَأْمُرُنِی کَیْفَ أُہِلُّ؟ قَالَ: ((أَہِلِّیْ وَاشْتَرِطِیْ أَنَّ مَحِلِّیْ حَیْثُ حَبَسْتَنِیْ۔)) قَالَ: فَأَدْرَکَتْ۔ (مسند احمد: ۳۱۱۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ ضباعہ بنت زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں آئیں اور کہا: میں بھاری جسم والی خاتون ہوں اور میں حج کے لئے جانے کا ارادہ رکھتی ہوں، اب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھے کیا حکم دیتے ہیں کہ میں کیسے احرام باندھوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: احرام باندھ لو اور اللہ سے یہ شرط لگا لوکہ اے اللہ! تو نے مجھے جہاں روک دیا، میں وہیں حلال ہو جائوں گی۔ پھر اس نے حج کر لیا تھا۔
Takhreej
(۴۱۶۹) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۲۰۸(انظر: ۳۱۱۷)
4169
Sahih
۔ (۴۱۷۰) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) أَنَّہَا قَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إنِیِّ أُرِیْدُ أَنَّ أَحُجَّ فَأَشْتَرِطَ؟ قَالَ: ((نَعَمْ۔)) قَالَتْ: فَکَیْفَ أَقُوْلُ؟ قَالَ: ((قُوْلِی لَبَّیْکَ اَللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ مَحِلِّیْ مِنَ الْأَرْضِ حَیْثُ تَحْبِسُنِیْ۔)) (مسند احمد: ۲۷۵۷۰)
۔ (دوسری سند)انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں حج کی ادائیگی کا ارادہ رکھتی ہوں، تو میں کوئی شرط لگا سکتی ہوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ انھوں نے کہا: تو پھرمیں کیسے کہوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو اس طرح کہہ: لَبَّیْکَ اَللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ مَحِلِّیْ مِنَ الْأَرْضِ حَیْثُ تَحْبِسُنِیْ (میں حاضر ہوں، اے اللہ! میں حاضر ہوں، میرے حلال ہونے کی جگہ وہ ہو گی، جہاں تو مجھے روک لے گا)۔
Takhreej
(۴۱۷۰) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
4170
Sahih
۔ (۴۱۷۱) عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: أَتٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ضُبَاعَۃَ بِنْتَ الزُّبَیْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَہِیَ شَاکِیَۃٌ، فَقَالَ: ((أَلَا تَخْرُجِیْنَ مَعَنَا فِیْ سَفَرِنَا ہٰذَا؟)) وَہُوَ یُرِیْدُ حَجَّۃَ الْوَدَاعِ، قَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِّی شَاکِیَۃٌ، وَأَخْشٰی أَنْ تَحْبِسَنِی شَکْوَایَ، قَالَ: ((فَأَہِلِّی بِالْحَجِّ وَقُوْلِی اَللّٰہُمَّ مَحِلِّی حَیْثُ تَحْبِسُنِی۔)) (مسند احمد: ۲۷۱۲۵)
۔ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ سیدہ ضباعہ بنت زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس تشریف لائے، جبکہ وہ بیمار تھیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: کیا تم اس سفر میں ہمارے ساتھ نہیں چلو گی؟ جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ارادہ حجۃ الوداع کا تھا،سیدہ ضباعہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول!میں تو بیماری ہوں اور مجھے یہ خطرہ ہے کہ میری بیماری مجھے روک دے گی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم حج کا احرام باندھ لو اور یوں کہو: اے اللہ! تو مجھے جہاں روک دے گا، وہی میرے حلال ہونے کی جگہ ہو گی۔
Takhreej
(۴۱۷۱) تخریج: حدیث صحیح لغیرہ ۔ أخرجہ الطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۲۳/ ۸۹۴(انظر: ۲۶۵۹۰)
4171
Sahih
۔ (۴۱۷۲) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: دَخَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی ضُبَاعَۃَ بِنْتِ الزُّبَیْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَتْ: إِنِّی أُرِیْدُ الْحَجَّ وَأَنَا شَاکِیَۃٌ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((حُجِّی وَاشْتَرِطِی أَنَّ مَحِلِّی حَیْثُ حَبَسْتَنِی۔)) (مسند احمد: ۲۵۸۲۲)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، سیدہ ضباعہ بنت زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے ہاں تشریف لے گئے، انہوں نے کہا: میں حج کا ارادہ رکھتی ہوں، لیکن میں بیماری بھی ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم حج کے لئے روانہ ہو جائو اور یہ شرط لگالو کہ اے اللہ تو مجھے جہاں روکے گا، میں وہیں حلال ہو جائوں گی۔
Takhreej
(۴۱۷۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۰۸۹، ومسلم: ۱۲۰۷(انظر: ۲۵۳۰۸)
4172
Sahih
۔ (۴۱۷۳)(وَعَنْہَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَتْ: دَخَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی ضُبَاعَۃَ بِنْتِ الزُّبَیْرِ، فَقَالَ لَہَا: أَرَدْتِّ الْحَجَّ؟ قَالَتْ: وَاللّٰہِ! مَا أَجِدُنِی إِلَّا وَجِعَۃً، فَقَالَ لَہَا: ((حُجِّی وَاشْتَرِطِی۔)) فَقَالَ: ((قُوْلِی اَللّٰہُمَّ مَحِلِّی حَیْثُ حَبَسْتَنِی۔)) وَکَانَتْ تَحْتَ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ۔ (مسند احمد: ۲۶۱۷۸)
۔ (دوسری سند) سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، سیدہ ضباعہ بنت زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے ہاں تشریف لے گئے اوران سے فرمایا: کیا تمہارا حج کا ارادہ ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں تو اپنے آپ کو بیمار سمجھتی ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: تم حج کے لئے نکلواور یہ شرط لگا لو کہ اے اللہ! تو مجھے جہاں روک لے گا، میں اسی مقام پر حلال ہو جاؤں گی۔ یہ خاتون ان دنوں سیدنا مقداد بن اسود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیوی تھیں۔
Takhreej
(۴۱۷۳) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
4173
Sahih
۔ (۴۱۷۴) عَنْ سَالِمِ (بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّہُ کَانَ یَکْرَہُ الْاِشْتِرَاطَ فِیْ الْحَجِّ وَیَقُوْلُ: أَمَا حَسْبُکُمْ بسُنَّۃِ نَبِیِّکُمْ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ لَمْ یَشْتَرِطْ۔ (مسند احمد: ۴۸۸۱)
۔ سالم بن عبد اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ حج میں شرط لگانے کو پسند نہیں کرتے تھے اوروہ کہا کرتے تھے: کیا تمہارے لئے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سنت کافی نہیں ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کوئی شرط نہیں لگائی تھی۔
Takhreej
(۴۱۷۴) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۸۱۰(انظر: ۴۸۸۱)
Explanation
فوائد:… اس باب کی پہلی پانچ احادیث سے معلوم ہوا کہ احرام کے دوران کسی مانع یا رکاوٹ کے خدشہ کے پیش نظر احرام سے حلال ہونے کی شرط لگا لینا جائز ہے، سیدنا عمر ، سیدنا عثمان، سیدنا علی، سیدنا ابن مسعود، سیدنا جابر، سیدنا عبد اللہ بن عباس، سیدنا عمار، سیدہ عائشہ، سیدہ ام سلمہ اور سیدہ ضباعہ بنت زبیر کا یہی موقف تھا، نیز بہت سارے تابعین اور امام احمدبھی اسی نظریے کے قائل تھے، البتہ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌اور امام ابو حنیفہ اور امام مالک کی رائے یہ تھی کہ اس قسم کی شرط لگانا درست نہیں ہے، لیکنیہ رائے مرجوح ہے۔ جب حج وعمرہ کرنے والے شخص کو کسی بیمارییا طوفان یا سیلابیا دشمن یا کسی اور وجہ سے اس طرح روک دیا جائے کہ اس سے حج و عمرہ فوت ہو جائے تو ان تمام صورتوں کو احصار اور ایسے شخص کو مُحْصَر کہتے ہیں۔ ایسا شخص اسی مقام اپنا سر منڈوائے اور قربانی کرے اور احرام کھول کر حلال ہو جائے۔ لیکن اگر کوئی آدمی اس باب کی احادیث کے مطابق مشروط احرام باندھتا ہے اور پھر واقعی کوئی رکاوٹ پیش آ جاتی ہے تو مُحْصَر کی طرح اس پر قربانی وغیرہ لازم نہیں ہو گی۔
4174
Sahih

Chapters

22
01
مواقیت ِاحرام کے مقامات کا بیان
13 Hadith
02
صحابہ کرام کا اس بارے میں اختلاف کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کس جگہ سے تلبیہ پڑھا تھا
5 Hadith
03
احرام کا ارادہ کرنے والے کا غسل کرنا اور خوشبو لگانا
8 Hadith
04
حیض اور نفاس والی عورتیں احرام سے پہلے اور اس کے بعد کیا کریں، ان امور کا بیان
5 Hadith
05
احرام میں شرط لگانے کا بیان
6 Hadith
06
مطلق طور پر احرام باندھنے والے یا اس شخص کا بیان جو یہ کہے: میں نے وہ احرام باندھا جو فلاں نے باندھا
2 Hadith
07
حج تمتع، حج افراد اور حج قران میں سے کوئی ایک ادا کر لینے کا اختیار دینے کا بیان
4 Hadith
08
… حج افراد کا بیان
5 Hadith
09
حج قران کا بیان
12 Hadith
10
حج تمتع کا بیان
18 Hadith
11
حج کے مہینوں میں عمرہ کی ادائیگی کے جائز ہونے اور کسی رکاوٹ کی بنا پر احرام کھول دینے کا بیان
4 Hadith
12
تلبیہ اور اس کی کیفیت اور احکام کا بیان تلبیہ کے الفاظ اور اس کی فضیلت کا بیان
9 Hadith
13
تلبیہ کا حکم اور اسے بآواز بلند پکارنا
8 Hadith
14
تلبیہ کے دورانیہ اور نمازوں کے بعد تلبیہ پکارنے کا بیان
7 Hadith
15
محرم کے لئے جائز اور ناجائز امور کا بیان محرم کا سلے ہوئے کپڑے اتار دینے کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ کون سے کپڑے اور خوشبو اس کے لیے ناجائز ہے
15 Hadith
16
محرم کے لیے سینگی لگوانے، سرمہ لگانے اور سر دھونے کا بیان
8 Hadith
17
احرام کی حالت میں گرمی وغیرہ سے بچنے کے لئے سایہ کرنے، مرد کا سر کو اور عورت کا چہرہ کو ڈھانپنے اور محرم کا اپنے خادم کو مارنے کا بیان
5 Hadith
18
سیدنا کعب بن عجرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ سے مروی حدیث اور اس کے متعدد طرق کا بیان
8 Hadith
19
احرام کی حالت میں نکاح کرنے یا کروانے یا نکاح کا پیغام بھیجنے کا بیان
8 Hadith
20
محرم کے لئے خشکی کا شکار کرنے اور اس کو کھانے کے حرام ہونے کا بیان
7 Hadith
21
اس امر کا بیان کہ اگر محرم نہ تو خود شکار کرے اور نہ اس کی خاطر کیا جائے تو اس کے لیے اس کا کھانا جائز ہو گا
11 Hadith
22
ان حیوانات کا بیان، جن کو حرم کی حدود کے اندر اور باہر قتل کرنا محرم کے لئے جائز ہے
10 Hadith
No chapter matched that.