۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ ضباعہ بنت زبیر رضی اللہ عنہا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئیں اور کہا: میں بھاری جسم والی خاتون ہوں اور میں حج کے لئے جانے کا ارادہ رکھتی ہوں، اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے کیا حکم دیتے ہیں کہ میں کیسے احرام باندھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: احرام باندھ لو اور اللہ سے یہ شرط لگا لوکہ اے اللہ! تو نے مجھے جہاں روک دیا، میں وہیں حلال ہو جائوں گی۔ پھر اس نے حج کر لیا تھا۔
۔ (دوسری سند)انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں حج کی ادائیگی کا ارادہ رکھتی ہوں، تو میں کوئی شرط لگا سکتی ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ انھوں نے کہا: تو پھرمیں کیسے کہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو اس طرح کہہ: لَبَّیْکَ اَللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ مَحِلِّیْ مِنَ الْأَرْضِ حَیْثُ تَحْبِسُنِیْ (میں حاضر ہوں، اے اللہ! میں حاضر ہوں، میرے حلال ہونے کی جگہ وہ ہو گی، جہاں تو مجھے روک لے گا)۔
۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہ روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ سیدہ ضباعہ بنت زبیر رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے، جبکہ وہ بیمار تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: کیا تم اس سفر میں ہمارے ساتھ نہیں چلو گی؟ جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارادہ حجۃ الوداع کا تھا،سیدہ ضباعہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول!میں تو بیماری ہوں اور مجھے یہ خطرہ ہے کہ میری بیماری مجھے روک دے گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم حج کا احرام باندھ لو اور یوں کہو: اے اللہ! تو مجھے جہاں روک دے گا، وہی میرے حلال ہونے کی جگہ ہو گی۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، سیدہ ضباعہ بنت زبیر رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے گئے، انہوں نے کہا: میں حج کا ارادہ رکھتی ہوں، لیکن میں بیماری بھی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم حج کے لئے روانہ ہو جائو اور یہ شرط لگالو کہ اے اللہ تو مجھے جہاں روکے گا، میں وہیں حلال ہو جائوں گی۔
۔ (دوسری سند) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، سیدہ ضباعہ بنت زبیر رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے گئے اوران سے فرمایا: کیا تمہارا حج کا ارادہ ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں تو اپنے آپ کو بیمار سمجھتی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم حج کے لئے نکلواور یہ شرط لگا لو کہ اے اللہ! تو مجھے جہاں روک لے گا، میں اسی مقام پر حلال ہو جاؤں گی۔ یہ خاتون ان دنوں سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں۔
۔ سالم بن عبد اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ حج میں شرط لگانے کو پسند نہیں کرتے تھے اوروہ کہا کرتے تھے: کیا تمہارے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کافی نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی شرط نہیں لگائی تھی۔