TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

حج تمتع، حج افراد اور حج قران میں سے کوئی ایک ادا کر لینے کا اختیار دینے کا بیان - حج تمتع، حج افراد اور حج قران میں سے کوئی ایک ادا کر لینے کا اختیار دینے کا بیان - احرام، اس کے مواقیت ، طریقے اور اس سے متعلقہ دوسرے احکام کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 7 of احرام، اس کے مواقیت ، طریقے اور اس سے متعلقہ دوسرے احکام کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 7 of 22 · 4 Hadith
۔ (۴۱۷۷) عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ قَالَ: أَخْبَرَنِی أَبِی قَالَ: أَخْبَرَتَنِیْ عَائِشَۃُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُوَافِیْنَ لِہِلَالِ ذِی الْحِجَّۃِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : مَنْ أَحَبَّ أَنْ یُہِلَّ بِعُمْرَۃٍ فَلْیُہِلَّ،وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ یُہِلَّ بِحَجَّۃٍ فَلْیُہِلَّ فَلَوْلَا أَنِّی أَہْدَیْتُ لَاَہَلَلْتُ بِعُمْرَۃٍ۔)) قَالَتْ: فَمِنْہُمْ مَنْ أَہَلَّ بِعُمْرَۃٍ وَمِنْہُمْ مِنْ أَہَلَّ بِحَجَّۃٍ، وَکُنْتُ مِمَّنْ أَہَلَّ بِعُمْرَۃٍ، فَحِضْتُ قَبْلَ أَنْ أَدْخُلَ مَکَّۃَ فَأَدْرَکَنِییَوْمُ عَرَفَۃَ وَأَنَا حَائِضٌ فَشَکَوْتُ ذَالِکَ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((دَعِیْ عُمْرَ تَکِ وَانْقُضِیَ رَأْسَکِ وَامْتَشِطِی وَأَہِلِّیْ بِالْحَجِّ۔)) فَفَعَلْتُ، فَلَمَّا کَانَتْ لَیْلَۃُ الْحَصْبَۃِ، أَرْسَلَ مَعِی عَبْدَ الرَّحْمٰنِ إِلَی التَّنْعِیْمِ، فَأَرْدَفَہَا فَأَہَلَّتْ بِعُمْرَۃٍ مَکَانَ عُمْرَتِہَا، فَقَضَی اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ حَجَّہَا وَعُمْرَتَہَا وَلَمْ یَکُنْ فِیْ شَیْئٍ مِنْ ذَالِکَ ہَدْیٌ وَلَا صَوْمٌ، وَلَا صَدَقَۃٌ۔ (مسند احمد: ۲۶۱۰۵)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: ذوالحجہ کا چاند طلوع ہونے والا تھا کہ ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی معیت میں حج کے لئے روانہ ہو گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی عمرہ کرنا چاہتا ہو، وہ عمرہ کا احرام باندھ لے اور جو آدمی حج کا احرام باندھنا چاہتا ہو وہ حج کا احرام باندھ لے، رہا مسئلہ میرا تو اگر میں قربانی کا جانور ہمراہ نہ لایا ہوتا تو میں بھی صرف عمرہ کا احرام باندھتا۔ سیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: چنانچہ بعض صحابہ نے عمرے کا اور بعض نے حج کا احرام باندھا،میں نے بھی عمرے کا احرام باندھا تھا، لیکن ہوا یوں کہ مکہ مکرمہ میں داخل ہونے سے پہلے مجھے حیض آ گیا اور اسی حالت میں عرفہ کا دن آنے والا ہو گیا، میں نے اس بات کا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے شکوہ کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم عمرے کو چھوڑ دو، اپنا سر کھول کر کنگھی کرو اورحج کا احرام باندھ لو۔ چنانچہ میں نے اسی طرح کیا،جب وادیٔ محصب والی رات تھی، توآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے بھائی عبد الرحمن کو میرے ہمراہ تنعیم کی طرف بھیجا، انہوں نے مجھے اپنے پیچھے سوار کر لیا، میں نے عمرے کا احرام باندھا، یہ عمرہ دراصل پہلے والے عمرے کے عوض میں تھا، اس طرح اللہ تعالی نے میرا حج اور عمرہ دونوں کرا دیئے، جبکہ اس صورت میںنہ تو ہدی تھی، نہ روزہ اور نہ صدقہ۔
Takhreej
(۴۱۷۷) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۱۷، ۱۷۸۳، ومسلم: ۱۲۱۱(انظر: ۲۵۵۸۷)
Explanation
فوائد:… حدیث کے آخری جملے کا مفہوم یہ ہے کہ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے احرام کے دوران احرام کی وجہ سے کسی ممنوعہ چیز کا ارتکاب نہیں کیا، جیسے خوشبو لگانا، شکار قتل کرنا، بالوں اور ناخنوں کو کاٹنا وغیرہ وغیرہ۔
4177
Sahih
۔ (۴۱۷۸) عَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ أَبِیْ بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی إِذَا کُنَّا بِذِیْ الْحُلَیْفَۃِ، قَالَ: ((مَنْ أَرَادَ مِنْکُمْ أَنْ یُّہِلَّ بِالْحَجِّ فَلْیُہِلَّ، وَمَنْ أَرَادَ مِنْکُمْ أَنْ یُّہِلَ بِعُمْرَۃٍ فَلْیُہِلَّ۔)) قَالَتْ أَسْمَائٌ: وَکُنْتُ أَنَا وَعَائِشَۃُ وَالْمِقْدَادُ وَالزُّبَیْرُ مِمَّنْ أَہَلَّ بِعُمْرَۃٍ۔ (مسند احمد: ۲۷۵۰۲)
۔ سیدہ اسما بنت ابی بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی معیت میں حج کو روانہ ہوئے، جب ہم ذوالحلیفہ پہنچے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو آدمی حج کا احرام باندھنا چاہتا ہو وہ حج کا احرام باندھ لے اور تم میں سے جو فرد عمرے کا احرام باندھنا چاہتا ہو وہ عمرے کا احرام باندھ لے۔ سیدہ اسمائ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: میں، سیدہ عائشہ، سیدنا مقداد اور سیدنا زبیر نے عمرے کا احرام باندھا تھا۔
Takhreej
(۴۱۷۸) تخریج: اسنادہ ضعیف بھذہ السیاقۃ من حدیث اسمائ، لجھالۃ عبادۃ بن المھاجر، وابن لھیعۃ سییء الحفظ، وقولہ: ((مَنْ أَرَادَ مِنْکُمْ أَنْ یُّہِلَّ بِالْحَجِّ فَلْیُہِلَّ، وَمَنْ أَرَادَ مِنْکُمْ أَنْ یُّہِلَ بِعُمْرَۃٍ فَلْیُہِلَّ۔)) صحیح من حدیث عائشۃ۔ أخرجہ البخاری: ۱۷۹۶،و مسلم: ۱۲۳۷بلفظ: … انہ کان یسمع اسماء کلما مرت بالحجون تقول: لقد نزلنا معہ ھاھنا ونحن یومئذ خفاف الحقائب، قلیل ظھرنا، قلیلۃ ازوادنا، فاعتمرت انا واختی عائشۃ والزبیر، وفلان وفلان، فلما مسحنا البیت احللنا، ثم اھللنا من العشی بالحج۔ (انظر:۲۶۹۶۲)
4178
Sahih
۔ (۴۱۷۹) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثَلَاثَۃَ أَنْوَاعٍ، فَمِنَّا مَنْ أَہَلَّ بِحَجٍّ وَعُمْرَۃٍ، وَمِنَّا مَنْ أَہَلَّ بِحَجٍّ مُفْرَدٍ، وَمِنَّا مَنْ أَہَلَّ بِعُمْرَۃٍ، فَمَنْ کَانَ أَہَلَّ بِحَجٍّ وَعُمْرَۃٍ مَعًا، لَمْیَحِلَّ مِنْ شَیْئٍ مِمَّا حَرَّمَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عَلَیْہِ حَتّٰییَقْضِیَ حَجَّہُ، وَمَنْ أَہَلَّ بِعُمْرَۃٍ ثُمَّ طَافَ بِالْبَیْتِ وَسَعٰی بَیْنَ ا لصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ وَقَصَرَ، أَحَلَّ مِمَّا حَرُمَ مِنْہُ، حَتّٰییَسْتَقْبِلَ حَجًّا۔ (مسند احمد: ۲۵۶۰۹)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں:ہم تین قسم کے لوگ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے،بعض لوگوں نے حج اور عمرہ دونوں کا، بعض نے حج اِفراد کا اور بعض نے صرف عمرے کا احرام باندھا، جن لوگوں نے حج اور عمرہ دونوں کے لیے اکٹھااحرام باندھا تھا، وہ حج مکمل کرنے تک ان چیزوں سے حلال نہیں ہوا، جو اللہ تعالی نے اس پر احرام کی وجہ سے حرام کی تھیں اور جن حضرات نے صرف عمرے کا احرام باندھا تھا، وہ بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کے بعد بال کٹوا کر حلال ہو گئے اور احرام کی وجہ سے حرام ہونے والی چیزیں ان کے لیے اس وقت تک حلال ہو گئیں، جب تک وہ از سرِ نو حج کے احرام نہ باندھ لیں۔
Takhreej
(۴۱۷۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۵۶۲، ومسلم: ۱۲۱۱(انظر: ۲۵۰۹۶)
4179
Sahih
۔ (۴۱۸۰) (وَعَنْہَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ، فَمِنَّا مَنْ أَہَلَّ بِحَجٍّ، وَمِنَّا مَنْ أَہَلَّ بِعُمْرَۃٍ، فَأَہْدٰی، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِوَسَلَّمَ: ((مَنْ أَہَلَّ بِالْعُمْرَۃِ وَلَمْ یُہْدِ، فَلْیَحِلَّ، وَمَنْ أَہَلَّ بِعُمْرَۃٍ فَأَہْدٰی فَلَا یَحِلُّ، وَمَنْ أَہَلَّ بِحَجٍّ فَلْیُتِمَّ حَجَّہُ۔)) قَالَتْ عَائِشَۃُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا : وَکُنْتُ مِمَّنْ أَہَلَّ بِعُمْرَۃٍ ۔ (مسند احمد: ۲۵۳۸۸)
۔ (دوسری سند) سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتی ہیں: ہم حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے، ہم میں سے بعض نے صرف حج کا اور بعض نے صرف عمرے کا احرام باندھا ہوا تھا اور عمرے کا احرام باندھنے والے بعض لوگ قربانی کا جانور بھی ہمراہ لائے تھے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جن لوگوں نے عمرے کا احرام باندھا تھا اور قربانی کا جانور ان کے ہمراہ نہیں ہے، وہ عمرہ کے بعد احرام کی پابندی سے آزاد ہو جائیں اور جن لوگوں نے عمرے کا احرام باندھا تھا، لیکن قربانی کا جانور ان کے ہمراہ ہے تو وہ احرام نہیں کھولیں گے اور جن لوگوں نے حج کا احرام باندھا تھا وہ اپنا حج پورا کریں گے۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: میں ان لوگوں میں سے تھی جنہوں نے عمرے کا احرام باندھا تھا۔
Takhreej
(۴۱۸۰) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… ان احادیث میں حج کی تینوں اقسام میں کوئی حج ادا کرنے کا اختیار دیا گیا ہے، البتہ جس آدمی کے ہمراہ ہدی ہو گی، وہ حج قران ادا کرے گا۔ اس بات میں اختلاف ہے کہ حج کی کون سی قسم افضل ہے۔ بلاشک شبہ حج تمتع اور حج قران دونوں حج افراد کی بہ نسبت افضل ہوں گے، کیونکہ ان کے ساتھ عمرہ بھی اد اکر لیا جاتا ہے اور یہ حج کرنے والوں پر قربانی بھی لازم ہوتی ہے۔ اب رہا یہ مسئلہ کی حج قران اور حج تمتع میں سے کون سی قسم افضل ہے، تو حج قران میں احرام کی پابندی زیادہ ہے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ حج ادا کیا تھا اور حج تمتع میں محنت اور مشقت زیادہ ہے کہ حج اور عمرہ دونوں کے لیے الگ الگ طواف اور سعی کرنا پڑتے ہیں اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک موقع پر یہ حج ادا کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا، درست بات یہی ہے کہ حج قران افضل ہے، حافظ ابن قیم نے اس کی افضلیت پر سیر حاصل بحث کی ہے۔
4180
Sahih

Chapters

22
01
مواقیت ِاحرام کے مقامات کا بیان
13 Hadith
02
صحابہ کرام کا اس بارے میں اختلاف کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کس جگہ سے تلبیہ پڑھا تھا
5 Hadith
03
احرام کا ارادہ کرنے والے کا غسل کرنا اور خوشبو لگانا
8 Hadith
04
حیض اور نفاس والی عورتیں احرام سے پہلے اور اس کے بعد کیا کریں، ان امور کا بیان
5 Hadith
05
احرام میں شرط لگانے کا بیان
6 Hadith
06
مطلق طور پر احرام باندھنے والے یا اس شخص کا بیان جو یہ کہے: میں نے وہ احرام باندھا جو فلاں نے باندھا
2 Hadith
07
حج تمتع، حج افراد اور حج قران میں سے کوئی ایک ادا کر لینے کا اختیار دینے کا بیان
4 Hadith
08
… حج افراد کا بیان
5 Hadith
09
حج قران کا بیان
12 Hadith
10
حج تمتع کا بیان
18 Hadith
11
حج کے مہینوں میں عمرہ کی ادائیگی کے جائز ہونے اور کسی رکاوٹ کی بنا پر احرام کھول دینے کا بیان
4 Hadith
12
تلبیہ اور اس کی کیفیت اور احکام کا بیان تلبیہ کے الفاظ اور اس کی فضیلت کا بیان
9 Hadith
13
تلبیہ کا حکم اور اسے بآواز بلند پکارنا
8 Hadith
14
تلبیہ کے دورانیہ اور نمازوں کے بعد تلبیہ پکارنے کا بیان
7 Hadith
15
محرم کے لئے جائز اور ناجائز امور کا بیان محرم کا سلے ہوئے کپڑے اتار دینے کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ کون سے کپڑے اور خوشبو اس کے لیے ناجائز ہے
15 Hadith
16
محرم کے لیے سینگی لگوانے، سرمہ لگانے اور سر دھونے کا بیان
8 Hadith
17
احرام کی حالت میں گرمی وغیرہ سے بچنے کے لئے سایہ کرنے، مرد کا سر کو اور عورت کا چہرہ کو ڈھانپنے اور محرم کا اپنے خادم کو مارنے کا بیان
5 Hadith
18
سیدنا کعب بن عجرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ سے مروی حدیث اور اس کے متعدد طرق کا بیان
8 Hadith
19
احرام کی حالت میں نکاح کرنے یا کروانے یا نکاح کا پیغام بھیجنے کا بیان
8 Hadith
20
محرم کے لئے خشکی کا شکار کرنے اور اس کو کھانے کے حرام ہونے کا بیان
7 Hadith
21
اس امر کا بیان کہ اگر محرم نہ تو خود شکار کرے اور نہ اس کی خاطر کیا جائے تو اس کے لیے اس کا کھانا جائز ہو گا
11 Hadith
22
ان حیوانات کا بیان، جن کو حرم کی حدود کے اندر اور باہر قتل کرنا محرم کے لئے جائز ہے
10 Hadith
No chapter matched that.