مسنداحمد

Musnad Ahmad

احرام، اس کے مواقیت ، طریقے اور اس سے متعلقہ دوسرے احکام کے ابواب

حج تمتع، حج افراد اور حج قران میں سے کوئی ایک ادا کر لینے کا اختیار دینے کا بیان

۔ (۴۱۷۷) عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ قَالَ: أَخْبَرَنِی أَبِی قَالَ: أَخْبَرَتَنِیْ عَائِشَۃُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُوَافِیْنَ لِہِلَالِ ذِی الْحِجَّۃِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : مَنْ أَحَبَّ أَنْ یُہِلَّ بِعُمْرَۃٍ فَلْیُہِلَّ،وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ یُہِلَّ بِحَجَّۃٍ فَلْیُہِلَّ فَلَوْلَا أَنِّی أَہْدَیْتُ لَاَہَلَلْتُ بِعُمْرَۃٍ۔)) قَالَتْ: فَمِنْہُمْ مَنْ أَہَلَّ بِعُمْرَۃٍ وَمِنْہُمْ مِنْ أَہَلَّ بِحَجَّۃٍ، وَکُنْتُ مِمَّنْ أَہَلَّ بِعُمْرَۃٍ، فَحِضْتُ قَبْلَ أَنْ أَدْخُلَ مَکَّۃَ فَأَدْرَکَنِییَوْمُ عَرَفَۃَ وَأَنَا حَائِضٌ فَشَکَوْتُ ذَالِکَ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((دَعِیْ عُمْرَ تَکِ وَانْقُضِیَ رَأْسَکِ وَامْتَشِطِی وَأَہِلِّیْ بِالْحَجِّ۔)) فَفَعَلْتُ، فَلَمَّا کَانَتْ لَیْلَۃُ الْحَصْبَۃِ، أَرْسَلَ مَعِی عَبْدَ الرَّحْمٰنِ إِلَی التَّنْعِیْمِ، فَأَرْدَفَہَا فَأَہَلَّتْ بِعُمْرَۃٍ مَکَانَ عُمْرَتِہَا، فَقَضَی اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ حَجَّہَا وَعُمْرَتَہَا وَلَمْ یَکُنْ فِیْ شَیْئٍ مِنْ ذَالِکَ ہَدْیٌ وَلَا صَوْمٌ، وَلَا صَدَقَۃٌ۔ (مسند احمد: ۲۶۱۰۵)

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: ذوالحجہ کا چاند طلوع ہونے والا تھا کہ ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی معیت میں حج کے لئے روانہ ہو گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی عمرہ کرنا چاہتا ہو، وہ عمرہ کا احرام باندھ لے اور جو آدمی حج کا احرام باندھنا چاہتا ہو وہ حج کا احرام باندھ لے، رہا مسئلہ میرا تو اگر میں قربانی کا جانور ہمراہ نہ لایا ہوتا تو میں بھی صرف عمرہ کا احرام باندھتا۔ سیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: چنانچہ بعض صحابہ نے عمرے کا اور بعض نے حج کا احرام باندھا،میں نے بھی عمرے کا احرام باندھا تھا، لیکن ہوا یوں کہ مکہ مکرمہ میں داخل ہونے سے پہلے مجھے حیض آ گیا اور اسی حالت میں عرفہ کا دن آنے والا ہو گیا، میں نے اس بات کا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے شکوہ کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم عمرے کو چھوڑ دو، اپنا سر کھول کر کنگھی کرو اورحج کا احرام باندھ لو۔ چنانچہ میں نے اسی طرح کیا،جب وادیٔ محصب والی رات تھی، توآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے بھائی عبد الرحمن کو میرے ہمراہ تنعیم کی طرف بھیجا، انہوں نے مجھے اپنے پیچھے سوار کر لیا، میں نے عمرے کا احرام باندھا، یہ عمرہ دراصل پہلے والے عمرے کے عوض میں تھا، اس طرح اللہ تعالی نے میرا حج اور عمرہ دونوں کرا دیئے، جبکہ اس صورت میںنہ تو ہدی تھی، نہ روزہ اور نہ صدقہ۔

۔ (۴۱۷۸) عَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ أَبِیْ بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی إِذَا کُنَّا بِذِیْ الْحُلَیْفَۃِ، قَالَ: ((مَنْ أَرَادَ مِنْکُمْ أَنْ یُّہِلَّ بِالْحَجِّ فَلْیُہِلَّ، وَمَنْ أَرَادَ مِنْکُمْ أَنْ یُّہِلَ بِعُمْرَۃٍ فَلْیُہِلَّ۔)) قَالَتْ أَسْمَائٌ: وَکُنْتُ أَنَا وَعَائِشَۃُ وَالْمِقْدَادُ وَالزُّبَیْرُ مِمَّنْ أَہَلَّ بِعُمْرَۃٍ۔ (مسند احمد: ۲۷۵۰۲)

۔ سیدہ اسما بنت ابی بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی معیت میں حج کو روانہ ہوئے، جب ہم ذوالحلیفہ پہنچے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو آدمی حج کا احرام باندھنا چاہتا ہو وہ حج کا احرام باندھ لے اور تم میں سے جو فرد عمرے کا احرام باندھنا چاہتا ہو وہ عمرے کا احرام باندھ لے۔ سیدہ اسمائ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: میں، سیدہ عائشہ، سیدنا مقداد اور سیدنا زبیر نے عمرے کا احرام باندھا تھا۔

۔ (۴۱۷۹) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثَلَاثَۃَ أَنْوَاعٍ، فَمِنَّا مَنْ أَہَلَّ بِحَجٍّ وَعُمْرَۃٍ، وَمِنَّا مَنْ أَہَلَّ بِحَجٍّ مُفْرَدٍ، وَمِنَّا مَنْ أَہَلَّ بِعُمْرَۃٍ، فَمَنْ کَانَ أَہَلَّ بِحَجٍّ وَعُمْرَۃٍ مَعًا، لَمْیَحِلَّ مِنْ شَیْئٍ مِمَّا حَرَّمَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عَلَیْہِ حَتّٰییَقْضِیَ حَجَّہُ، وَمَنْ أَہَلَّ بِعُمْرَۃٍ ثُمَّ طَافَ بِالْبَیْتِ وَسَعٰی بَیْنَ ا لصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ وَقَصَرَ، أَحَلَّ مِمَّا حَرُمَ مِنْہُ، حَتّٰییَسْتَقْبِلَ حَجًّا۔ (مسند احمد: ۲۵۶۰۹)

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں:ہم تین قسم کے لوگ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے،بعض لوگوں نے حج اور عمرہ دونوں کا، بعض نے حج اِفراد کا اور بعض نے صرف عمرے کا احرام باندھا، جن لوگوں نے حج اور عمرہ دونوں کے لیے اکٹھااحرام باندھا تھا، وہ حج مکمل کرنے تک ان چیزوں سے حلال نہیں ہوا، جو اللہ تعالی نے اس پر احرام کی وجہ سے حرام کی تھیں اور جن حضرات نے صرف عمرے کا احرام باندھا تھا، وہ بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کے بعد بال کٹوا کر حلال ہو گئے اور احرام کی وجہ سے حرام ہونے والی چیزیں ان کے لیے اس وقت تک حلال ہو گئیں، جب تک وہ از سرِ نو حج کے احرام نہ باندھ لیں۔

۔ (۴۱۸۰) (وَعَنْہَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ، فَمِنَّا مَنْ أَہَلَّ بِحَجٍّ، وَمِنَّا مَنْ أَہَلَّ بِعُمْرَۃٍ، فَأَہْدٰی، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِوَسَلَّمَ: ((مَنْ أَہَلَّ بِالْعُمْرَۃِ وَلَمْ یُہْدِ، فَلْیَحِلَّ، وَمَنْ أَہَلَّ بِعُمْرَۃٍ فَأَہْدٰی فَلَا یَحِلُّ، وَمَنْ أَہَلَّ بِحَجٍّ فَلْیُتِمَّ حَجَّہُ۔)) قَالَتْ عَائِشَۃُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا : وَکُنْتُ مِمَّنْ أَہَلَّ بِعُمْرَۃٍ ۔ (مسند احمد: ۲۵۳۸۸)

۔ (دوسری سند) سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتی ہیں: ہم حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے، ہم میں سے بعض نے صرف حج کا اور بعض نے صرف عمرے کا احرام باندھا ہوا تھا اور عمرے کا احرام باندھنے والے بعض لوگ قربانی کا جانور بھی ہمراہ لائے تھے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جن لوگوں نے عمرے کا احرام باندھا تھا اور قربانی کا جانور ان کے ہمراہ نہیں ہے، وہ عمرہ کے بعد احرام کی پابندی سے آزاد ہو جائیں اور جن لوگوں نے عمرے کا احرام باندھا تھا، لیکن قربانی کا جانور ان کے ہمراہ ہے تو وہ احرام نہیں کھولیں گے اور جن لوگوں نے حج کا احرام باندھا تھا وہ اپنا حج پورا کریں گے۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: میں ان لوگوں میں سے تھی جنہوں نے عمرے کا احرام باندھا تھا۔