TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

حج کے مہینوں میں عمرہ کی ادائیگی کے جائز ہونے اور کسی رکاوٹ کی بنا پر احرام کھول دینے کا بیان - حج کے مہینوں میں عمرہ کی ادائیگی کے جائز ہونے اور کسی رکاوٹ کی بنا پر احرام کھول دینے کا بیان - احرام، اس کے مواقیت ، طریقے اور اس سے متعلقہ دوسرے احکام کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 11 of احرام، اس کے مواقیت ، طریقے اور اس سے متعلقہ دوسرے احکام کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 11 of 22 · 4 Hadith
۔ (۴۲۱۶) عَـنْ عُـرْوَۃَ عَنْ عَـائـِشـَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَامَ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ فَأَہْلَلْتُ بِعُمْرَۃٍ وَلَمْ أَکُنْ سُقْتُ الْہَدْیَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ کَانَ مَعَہُ الْہَدْیُ فَلْیُہِلَّ بِالْحَجِّ مَعَ عُمْرَتِہِ، ثُمَّ لَا یَحِلُّ حَتَّییَحِلَّ مِنْہُمَا جَمِیْعًا۔)) فَحِضْتُ، فَلَمَّا دَخَلَتْ لَیْلَۃُ عَرَفَۃَ قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِّی کُنْتُ أَہْلَلْتُ بِعُمْرَۃٍ فَکَیْفَ أَصْنَعُ بِحَجَّتِی؟ قَالَ: ((اُنْقُضِیْ رَأْسَکِ وَامْتَشِطِی وَأَمْسِکِی عَنِ الْعُمْرَۃِ، وَأَہِلِّیْ بِالْحَجِّ۔)) فَلَمَّا قَضَیْتُ حَجَّیِ أَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنَ أَبِی بَکْرٍ فَأَعْمَرَنِیْ مِنَ التَّعْنِیْمِ مَکَانَ عُمْرَتِی الَّتِی نَسَکْتُ عَنْہَا۔ (مسند احمد: ۲۵۸۲۱)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتی ہیں: حجۃ الوداع کے موقع پر ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ حج کے لئے روانہ ہوئے، میں نے عمرے کا احرام باندھا تھا اور میرے ساتھ قربانی کا جانور نہیں تھا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جن لوگوں کے ہمراہ قربانی کا جانور ہے، وہ حج اور عمرہ دونوں کا اکٹھا احرام باندھیں اور وہ ان دونوںکے بعد احرام کھولیں گے۔ اُدھر مجھے حیض آ گیا،جب عرفہ کی رات تھی تو میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے عرض کیا کہ میں نے تو عمرے کا احرام باندھا تھا، اب میرے حج کا کیا بنے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سر کھول کر کنگھی کرو اور عمرہ کو ترک کر دو اور حج کا احرام باندھ لو۔ جب میں نے حج کر لیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے بھائی سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو حکم دیا، پس انہوں نے مجھے تنعیم سے عمرہ کروایا،یہ عمرہ اس عمرے کا متبادل تھا، جس کا میں نے پہلے احرام باندھا تھا۔
Takhreej
(۴۲۱۶) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۱۹، ومسلم: ۱۲۱۱(انظر: ۲۵۳۰۷)
Explanation
فوائد: …سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا صرف عمرے کا احرام باندھ کر آئی تھیں، لیکن حیض کی وجہ سے ابھی تک وہ یہ عمرہ ادا نہ کر سکیںتھیں کہ اُدھر سے حج کے ایام شروع ہونے والے ہو گئے، جب انھوں نے اپنی صورتحال رسول اللہ کے سامنے پیش کی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو اسی احرام کو حج قران میں بدل دینے کا حکم دے دیا اور انھوں نے عمرہ ترک کر کے یہ حج شروع کر دیا۔
4216
Sahih
۔ (۴۲۱۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا یَحْیٰی عَن عُبَیْدِ اللّٰہِ أَخْبَرْنِی نَافِعٌ أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ وَسَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ کَلَّمَا عَبْدَ اللّٰہِ (یَعْنِی ابْنَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ) حِیْنَ نَزَلَ الْحَجَّاجُ لِقِتَالِ ابْنِ الزُّبَیْرِ، فَقَالَا: لَا یَضُرُّکَ أَنْ لَا تَحُجَّ ھٰذَا الْعَامَ، فَإِنَّا نَخْشٰی أَنْ یَکُوْنَ بَیْنَ النَّاسِ قِتَالٌ، وَأَنْ یُحَالَ بَیْنَکَ وَبَیْنَ الْبَیْتِ، قَالَ: إِنْ حِیْلَ بَیْنِی وَبَیْنَہُ فَعَلْتُ کَمَا فَعَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَنَا مَعَہُ حِیْنَ حَالَتْ کُفَّارُ قُرَیْشٍ بَیْنَہُ وَبَیْنَ الْبَیْتِ، اُشْہِدُکُمْ أَنِّی قَدْ أَوْجَبْتُ عُمْرَۃً فَإِنْ خُلِّیَ سَبِیْلِیْ قَضَیْتُ عُمْرَتِی، وَإِنْ حِیْلَ بَیْنِی وَبَیْنَہُ فَعَلْتُ کَمَا فَعَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَنَا مَعَہُ، ثُمَّ خَرَجَ حَتّٰی أَتٰی ذَا الْحُلَیْفَۃِ فَلَبّٰی بِعُمْرَۃٍ ثُمَّ تَلَا {لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ} ثُمَّ سَارَ حَتّٰی إِذَا کَانَ بِظَہْرِ الْبَیْدَائِ، قَالَ: مَا أَمْرُہُمَا إِلَّا وَاحِدٌ، إِنْ حِیْلَ بَیْنِی وَبَیْنَ الْعُمْرَۃِ حِیْلَ بَیْنِی وَبَیْنَ الْحَجِّ، اُشْہِدُکُمْ أَنِّی قَدْ أَوْجَبْتُ حَجَّۃً مَعَ عُمْرَتِیْ، فَانْطَلَقَ حَتّٰی ابْتَاعَ بِقُدَیْدٍ ہَدْیًا ثُمَّ طَافَ لَہُمَا طَوَافًا وَاحِدًا بِالْبَیْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ، ثُمَّ لَمْ یَزَلْکَذَالِکَ إِلٰییَوْمِ النَّحْرِ۔ (مسند احمد: ۵۱۶۵)
۔ نافع کرتے ہیں کہ جس سال حجاج ،سیدنا عبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے لڑائی کرنے کے لیے مکہ مکرمہ آیا ہوا تھا، اس سال سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بیٹوں عبد اللہ اور سالم نے اپنے باپ سے کہا: اس سال جنگ کا خطرہ ہے، اس لئے بہتر یہ ہے کہ آپ حج کے لئے نہ جائیں ، کیونکہیہ اندیشہ ہے کہ لڑائی کی وجہ سے آپ بیت اللہ تک نہیں پہنچ سکیں گے، انہوں نے کہا: اگر بیت اللہ تک جانے میں کوئی رکاوٹ آ گئی تو میں اسی طرح کروں گا، جس طرح رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس موقع پر کیا تھا، جب کفارِ قریش نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بیت اللہ کی طرف جانے سے روک دیا تھا۔ اب میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں عمرہ کا ارادہ کر چکا ہوں، اگر مجھے نہ روکا گیا تو عمرہ ادا کر لوں گا اور اگر بیت اللہ تک پہنچنے میں مجھے رکاوٹ پیش آ گئی تو میں اسی طرح کروں گا جیسے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کیا تھا، جبکہ اُس موقع پر میں بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھا،اس کے بعد سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سفر شروع کر دیا، جب وہ ذوالحلیفہ پہنچے تو انہوں نے عمرے کا احرام باندھا اور تلبیہ پڑھا۔ اور یہ آیت تلاوت کی: {لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ} (سورۂ احزاب: ۲۱) تمہارے لئے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میں بہتریننمونہ ہے۔ اس کے بعد آگے کو روانہ ہوئے اور جب بیداء کے اوپر پہنچے تو کہا: حج اور عمرے کے احکام تو ایک جیسے ہی ہیں، اگر میرے عمرے کے سامنے کوئی رکاوٹ آ گئی تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ میرے حج کے سامنے بھی رکاوٹ آ جائے گی، لہٰذا میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں عمرہ کے ساتھ حج کا احرام بھی باندھ رہا ہوں، اس کے بعد وہ آگے کو روانہ ہوئے اور قدید کے مقام پر جا کر قربانی کا جانور خریدا۔ پھر مکہ پہنچ کر حج اور عمرہ دونوں کے لئے بیت اللہ کا ایک طواف اور صفا مروہ کی ایک سعی کی، اس کے بعد یوم النحریعنی دس ذوالحجہ تک اسی طرح رہے۔
Takhreej
(۴۲۱۷) تخریج: أخرجہ البخاری مختصرا: ۴۱۸۳، ومسلم: ۱۲۳۰(انظر: ۴۱۶۵)
Explanation
فوائد: …جب بنو امیہ کا خلیفہ معاویہ بن یزید بن معاویہ خلیفہ کے تعین کے بغیر فو ت ہو گیا تو دو ماہ اور کچھ دنوں تک کوئی خلیفہ نہ بن سکا، اس دورانیے میں مکہ مکرمہ کے اہل حل و عقد نے سیدنا عبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کی بیعت کر لی اور حجاز، عراق، خراسان اور مشرق کے کچھ علاقے ان کے ماتحت ہو گئے، جبکہ اُدھر شام اور مصر والوں نے مروان بن حکم کی بیعت کر لی، مروان کی وفات تک یہی سلسلہ جاری رہا، جب عبد الملک بن مروان کی خلافت شروع ہوئی تو اس نے اس ڈر سے لوگوں کو حج سے روک دیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ سیدنا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌کی بیعتکر لیں، پھر اہل مکہ سے لڑنے کے لیے اس نے حجاج بن یوسف کی قیادت میں ایک لشکر بھیجا، اس نے اہل مکہ سے قتال کیا اور ان کا محاصرہ کر لیا،یہاں تک کہ ان پر غالب آ گیا اور سیدنا عبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کو قتل کر دیا،یہ۷۳ ھ کا واقعہ ہے۔
4217
Sahih
۔ (۴۲۱۸) (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ نَافِعٍ خَرَجَ ابْنُ عُمَرَ یُرَیْدُ الْعُمْرَۃَ فَأَخْبَرُوْہُ أَنَّ بِمَکَّۃَ أَمَرًا، فَقَالَ: أُہِلُّ بِالْعُمْرَۃِ فَإِنْ حُبِسْتُ صَنَعْتُ کَمَا صَنَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَہَلَّ بِالْعُمْرَۃِ، فَلَمَّا سَارَ قَلِیْلًا وَہُوَ بِالْبَیْدَائِ قَالَ: مَا سَبِیْلُ الْعُمْرَۃِ إِلَّا سَبِیْلُ الْحَجِّ اُوْجِبُ حَجًّا أَوْ قَالَ: اُشْہِدُکُمْ أَنِّیْ قَدْ أَوْجَبْتُ حَجًّا، فَإِنَّ سَبِیْلَ الْحَجِّ سَبِیْلُ الْعُمْرَۃِ، فَقَدِمَ مَکَّۃَ فَطَافَ بِالْبَیْتِ سَبْعًا وَبَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ سَبْعًا، وَقَالَ: ہٰکَذَا رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِوَسَلَّمَفَعَلَ،أَتٰی قُدَیْدًا فَاشْتَرَی ہَدْیًا فَسَاقَہُ۔ (مسند احمد: ۴۵۹۵)
۔ (دوسری سند) نافع کہتے ہیں: سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ عمرہ کے ارادہ سے روانہ ہوئے، جب انہیں بتایا گیا کہ اس دفعہ مکہ میں لڑائی کا خطرہ ہے تو انہوں نے کہا: میں عمرے کا احرام باندھ لیتا ہوں، اگر مجھے آگے جانے سے روک دیا گیا تو میں اسی طرح کروں گا، جس طرح رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کیا تھا۔ چنانچہ انہوں نے عمرے کا احرام باندھ لیا اور ذوالحلیفہ سے تھوڑا آگے جا کر جب بیداء کے ٹیلہ پر پہنچے تو کہنے لگے: حج اور عمرہ کے احکام تو ایک جیسے ہیں، لہٰذا میں حج کا ارادہ کرتاہوں، یایوں کہا: میں تم لوگوں کو گواہ بناتا ہوں کہ میں حج کا ارادہ کرتا ہوں، کیونکہ حج اور عمرہ کے احکام و مسائل ایک جیسے ہیں، پس جب وہ مکہ پہنچے تو بیت اللہ کے گرد سات چکر اور صفا مروہ کی سعی کے بھی سات چکر لگائے اور کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا تھا، اس سفر میں سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ قدید کے مقام سے قربانی کا جانور خرید کر اسے اپنے ساتھ مکہ مکرمہ لے گئے تھے۔
Takhreej
(۴۲۱۸) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد: …رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حدیبیہ کے مقام پر حلال ہو گئے تھے، سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌اسی سنت کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ اس باب سے متعلقہ یہ بات ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے ذوالحلیفہ سے عمرے کا احرام باندھا، لیکن جب بیداء مقام تک پہنچے تو عمرے کے احرام میں حج کو بھی داخل کر لیا۔
4218
Sahih
۔ (۴۲۱۹) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَرَوْحٌ قَالَا حَدَّثَنَا قَالَ رَوْحٌ سَمِعْتُ مُسْلِمًا الْقُرِّیَّ، قَالَ مُحَمَّدٌ عَنْ مُسْلِمٍ الْقُرِّیِّ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما یَقُوْلُ: أَہَلَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالْعُمْرَۃِ وَأَہَلَّ أَصْحَابُہُ بِالْحَجِّ، قَالَ رَوْحٌ أَہْلَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَصْحَابُہُ بِالْحَجِّ فَمَنْ لَمْ یَکُنْ مَعَہُ ہَدْیٌ أَحَلَّ وَکَانَ مِمَّنْ لَمْ یَکُنْ مَعَہُ ہَدْیٌ طَلْحَۃُ وَرَجُلٌ آخَرُ فَأَحَلَّا۔ (مسند احمد: ۲۱۴۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عمرہ کا اور صحابہ نے حج کا احرام باندھا تھا ، روح کی روایت کے مطابق سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور صحابہ نے حج کا احرام باندھا تھا، جن لوگوں کے ہمراہ قربانی کے جانور نہیں تھے، وہ عمرہ کرنے کے بعد حلال ہو گئے تھے یعنی انہوںنے احرام کھول دیا تھا، سیدنا طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور ایک اور آدمی ان لوگوں میں سے تھے، جن کے پاس قربانی کے جانور نہیں تھے، اس لیے وہ بھی عمرہ کی ادائیگی کے بعد حلال ہو گئے۔
Takhreej
(۴۲۱۹) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۲۳۹(انظر: ۲۱۴۱)
Explanation
فوائد: …رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عمرہ کا احرام باندھا، اس کا معنییہ ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عمرہ کا تلبیہ بھی کہا تھا، کیونکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سفر کی ابتدا حج کے احرام سے کی تھی۔ اس حدیث کے مطابق احرام میں یہ تبدیلی کی گئی تھی کہ جن لوگوں نے حج کا احرام باندھا تھا اور ان کے ہمراہ ہدی نہیں تھی، ان کو حکم دیا گیا کہ وہ عمرہ کر کے احرام کھول دیں اور حلال ہو جائیں۔ اس باب کی اور اس موضوع سے متعلقہ احادیث سے حج و عمرہ کو ایک دوسرے میں داخل کر لینے کی درج ذیل صورتیں ثابت ہوئیں: ۱۔ صرف حج کے تلبیے کے ساتھ میقات سے داخل ہو جانے والے کا اسی احرام میں عمرہ کو داخل کر لینا۔ ۲۔ صرف عمرہ کے تلبیے کے ساتھ میقات سے داخل ہو جانے والے کا اسی احرام میں حج کو داخل کر لینا۔ ۳۔ صرف حج کے تلبیے کے ساتھ میقات سے داخل ہو جانے والے کا اس احرام کو عمرہ میں تبدیل کر دینا۔
4219
Sahih

Chapters

22
01
مواقیت ِاحرام کے مقامات کا بیان
13 Hadith
02
صحابہ کرام کا اس بارے میں اختلاف کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کس جگہ سے تلبیہ پڑھا تھا
5 Hadith
03
احرام کا ارادہ کرنے والے کا غسل کرنا اور خوشبو لگانا
8 Hadith
04
حیض اور نفاس والی عورتیں احرام سے پہلے اور اس کے بعد کیا کریں، ان امور کا بیان
5 Hadith
05
احرام میں شرط لگانے کا بیان
6 Hadith
06
مطلق طور پر احرام باندھنے والے یا اس شخص کا بیان جو یہ کہے: میں نے وہ احرام باندھا جو فلاں نے باندھا
2 Hadith
07
حج تمتع، حج افراد اور حج قران میں سے کوئی ایک ادا کر لینے کا اختیار دینے کا بیان
4 Hadith
08
… حج افراد کا بیان
5 Hadith
09
حج قران کا بیان
12 Hadith
10
حج تمتع کا بیان
18 Hadith
11
حج کے مہینوں میں عمرہ کی ادائیگی کے جائز ہونے اور کسی رکاوٹ کی بنا پر احرام کھول دینے کا بیان
4 Hadith
12
تلبیہ اور اس کی کیفیت اور احکام کا بیان تلبیہ کے الفاظ اور اس کی فضیلت کا بیان
9 Hadith
13
تلبیہ کا حکم اور اسے بآواز بلند پکارنا
8 Hadith
14
تلبیہ کے دورانیہ اور نمازوں کے بعد تلبیہ پکارنے کا بیان
7 Hadith
15
محرم کے لئے جائز اور ناجائز امور کا بیان محرم کا سلے ہوئے کپڑے اتار دینے کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ کون سے کپڑے اور خوشبو اس کے لیے ناجائز ہے
15 Hadith
16
محرم کے لیے سینگی لگوانے، سرمہ لگانے اور سر دھونے کا بیان
8 Hadith
17
احرام کی حالت میں گرمی وغیرہ سے بچنے کے لئے سایہ کرنے، مرد کا سر کو اور عورت کا چہرہ کو ڈھانپنے اور محرم کا اپنے خادم کو مارنے کا بیان
5 Hadith
18
سیدنا کعب بن عجرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ سے مروی حدیث اور اس کے متعدد طرق کا بیان
8 Hadith
19
احرام کی حالت میں نکاح کرنے یا کروانے یا نکاح کا پیغام بھیجنے کا بیان
8 Hadith
20
محرم کے لئے خشکی کا شکار کرنے اور اس کو کھانے کے حرام ہونے کا بیان
7 Hadith
21
اس امر کا بیان کہ اگر محرم نہ تو خود شکار کرے اور نہ اس کی خاطر کیا جائے تو اس کے لیے اس کا کھانا جائز ہو گا
11 Hadith
22
ان حیوانات کا بیان، جن کو حرم کی حدود کے اندر اور باہر قتل کرنا محرم کے لئے جائز ہے
10 Hadith
No chapter matched that.