مسنداحمد

Musnad Ahmad

احرام، اس کے مواقیت ، طریقے اور اس سے متعلقہ دوسرے احکام کے ابواب

حج کے مہینوں میں عمرہ کی ادائیگی کے جائز ہونے اور کسی رکاوٹ کی بنا پر احرام کھول دینے کا بیان

۔ (۴۲۱۶) عَـنْ عُـرْوَۃَ عَنْ عَـائـِشـَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَامَ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ فَأَہْلَلْتُ بِعُمْرَۃٍ وَلَمْ أَکُنْ سُقْتُ الْہَدْیَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ کَانَ مَعَہُ الْہَدْیُ فَلْیُہِلَّ بِالْحَجِّ مَعَ عُمْرَتِہِ، ثُمَّ لَا یَحِلُّ حَتَّییَحِلَّ مِنْہُمَا جَمِیْعًا۔)) فَحِضْتُ، فَلَمَّا دَخَلَتْ لَیْلَۃُ عَرَفَۃَ قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِّی کُنْتُ أَہْلَلْتُ بِعُمْرَۃٍ فَکَیْفَ أَصْنَعُ بِحَجَّتِی؟ قَالَ: ((اُنْقُضِیْ رَأْسَکِ وَامْتَشِطِی وَأَمْسِکِی عَنِ الْعُمْرَۃِ، وَأَہِلِّیْ بِالْحَجِّ۔)) فَلَمَّا قَضَیْتُ حَجَّیِ أَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنَ أَبِی بَکْرٍ فَأَعْمَرَنِیْ مِنَ التَّعْنِیْمِ مَکَانَ عُمْرَتِی الَّتِی نَسَکْتُ عَنْہَا۔ (مسند احمد: ۲۵۸۲۱)

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتی ہیں: حجۃ الوداع کے موقع پر ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ حج کے لئے روانہ ہوئے، میں نے عمرے کا احرام باندھا تھا اور میرے ساتھ قربانی کا جانور نہیں تھا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جن لوگوں کے ہمراہ قربانی کا جانور ہے، وہ حج اور عمرہ دونوں کا اکٹھا احرام باندھیں اور وہ ان دونوںکے بعد احرام کھولیں گے۔ اُدھر مجھے حیض آ گیا،جب عرفہ کی رات تھی تو میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے عرض کیا کہ میں نے تو عمرے کا احرام باندھا تھا، اب میرے حج کا کیا بنے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سر کھول کر کنگھی کرو اور عمرہ کو ترک کر دو اور حج کا احرام باندھ لو۔ جب میں نے حج کر لیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے بھائی سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو حکم دیا، پس انہوں نے مجھے تنعیم سے عمرہ کروایا،یہ عمرہ اس عمرے کا متبادل تھا، جس کا میں نے پہلے احرام باندھا تھا۔

۔ (۴۲۱۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا یَحْیٰی عَن عُبَیْدِ اللّٰہِ أَخْبَرْنِی نَافِعٌ أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ وَسَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ کَلَّمَا عَبْدَ اللّٰہِ (یَعْنِی ابْنَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ) حِیْنَ نَزَلَ الْحَجَّاجُ لِقِتَالِ ابْنِ الزُّبَیْرِ، فَقَالَا: لَا یَضُرُّکَ أَنْ لَا تَحُجَّ ھٰذَا الْعَامَ، فَإِنَّا نَخْشٰی أَنْ یَکُوْنَ بَیْنَ النَّاسِ قِتَالٌ، وَأَنْ یُحَالَ بَیْنَکَ وَبَیْنَ الْبَیْتِ، قَالَ: إِنْ حِیْلَ بَیْنِی وَبَیْنَہُ فَعَلْتُ کَمَا فَعَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَنَا مَعَہُ حِیْنَ حَالَتْ کُفَّارُ قُرَیْشٍ بَیْنَہُ وَبَیْنَ الْبَیْتِ، اُشْہِدُکُمْ أَنِّی قَدْ أَوْجَبْتُ عُمْرَۃً فَإِنْ خُلِّیَ سَبِیْلِیْ قَضَیْتُ عُمْرَتِی، وَإِنْ حِیْلَ بَیْنِی وَبَیْنَہُ فَعَلْتُ کَمَا فَعَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَنَا مَعَہُ، ثُمَّ خَرَجَ حَتّٰی أَتٰی ذَا الْحُلَیْفَۃِ فَلَبّٰی بِعُمْرَۃٍ ثُمَّ تَلَا {لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ} ثُمَّ سَارَ حَتّٰی إِذَا کَانَ بِظَہْرِ الْبَیْدَائِ، قَالَ: مَا أَمْرُہُمَا إِلَّا وَاحِدٌ، إِنْ حِیْلَ بَیْنِی وَبَیْنَ الْعُمْرَۃِ حِیْلَ بَیْنِی وَبَیْنَ الْحَجِّ، اُشْہِدُکُمْ أَنِّی قَدْ أَوْجَبْتُ حَجَّۃً مَعَ عُمْرَتِیْ، فَانْطَلَقَ حَتّٰی ابْتَاعَ بِقُدَیْدٍ ہَدْیًا ثُمَّ طَافَ لَہُمَا طَوَافًا وَاحِدًا بِالْبَیْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ، ثُمَّ لَمْ یَزَلْکَذَالِکَ إِلٰییَوْمِ النَّحْرِ۔ (مسند احمد: ۵۱۶۵)

۔ نافع کرتے ہیں کہ جس سال حجاج ،سیدنا عبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے لڑائی کرنے کے لیے مکہ مکرمہ آیا ہوا تھا، اس سال سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بیٹوں عبد اللہ اور سالم نے اپنے باپ سے کہا: اس سال جنگ کا خطرہ ہے، اس لئے بہتر یہ ہے کہ آپ حج کے لئے نہ جائیں ، کیونکہیہ اندیشہ ہے کہ لڑائی کی وجہ سے آپ بیت اللہ تک نہیں پہنچ سکیں گے، انہوں نے کہا: اگر بیت اللہ تک جانے میں کوئی رکاوٹ آ گئی تو میں اسی طرح کروں گا، جس طرح رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس موقع پر کیا تھا، جب کفارِ قریش نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بیت اللہ کی طرف جانے سے روک دیا تھا۔ اب میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں عمرہ کا ارادہ کر چکا ہوں، اگر مجھے نہ روکا گیا تو عمرہ ادا کر لوں گا اور اگر بیت اللہ تک پہنچنے میں مجھے رکاوٹ پیش آ گئی تو میں اسی طرح کروں گا جیسے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کیا تھا، جبکہ اُس موقع پر میں بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھا،اس کے بعد سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سفر شروع کر دیا، جب وہ ذوالحلیفہ پہنچے تو انہوں نے عمرے کا احرام باندھا اور تلبیہ پڑھا۔ اور یہ آیت تلاوت کی: {لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ} (سورۂ احزاب: ۲۱) تمہارے لئے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میں بہتریننمونہ ہے۔ اس کے بعد آگے کو روانہ ہوئے اور جب بیداء کے اوپر پہنچے تو کہا: حج اور عمرے کے احکام تو ایک جیسے ہی ہیں، اگر میرے عمرے کے سامنے کوئی رکاوٹ آ گئی تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ میرے حج کے سامنے بھی رکاوٹ آ جائے گی، لہٰذا میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں عمرہ کے ساتھ حج کا احرام بھی باندھ رہا ہوں، اس کے بعد وہ آگے کو روانہ ہوئے اور قدید کے مقام پر جا کر قربانی کا جانور خریدا۔ پھر مکہ پہنچ کر حج اور عمرہ دونوں کے لئے بیت اللہ کا ایک طواف اور صفا مروہ کی ایک سعی کی، اس کے بعد یوم النحریعنی دس ذوالحجہ تک اسی طرح رہے۔

۔ (۴۲۱۸) (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ نَافِعٍ خَرَجَ ابْنُ عُمَرَ یُرَیْدُ الْعُمْرَۃَ فَأَخْبَرُوْہُ أَنَّ بِمَکَّۃَ أَمَرًا، فَقَالَ: أُہِلُّ بِالْعُمْرَۃِ فَإِنْ حُبِسْتُ صَنَعْتُ کَمَا صَنَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَہَلَّ بِالْعُمْرَۃِ، فَلَمَّا سَارَ قَلِیْلًا وَہُوَ بِالْبَیْدَائِ قَالَ: مَا سَبِیْلُ الْعُمْرَۃِ إِلَّا سَبِیْلُ الْحَجِّ اُوْجِبُ حَجًّا أَوْ قَالَ: اُشْہِدُکُمْ أَنِّیْ قَدْ أَوْجَبْتُ حَجًّا، فَإِنَّ سَبِیْلَ الْحَجِّ سَبِیْلُ الْعُمْرَۃِ، فَقَدِمَ مَکَّۃَ فَطَافَ بِالْبَیْتِ سَبْعًا وَبَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ سَبْعًا، وَقَالَ: ہٰکَذَا رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِوَسَلَّمَفَعَلَ،أَتٰی قُدَیْدًا فَاشْتَرَی ہَدْیًا فَسَاقَہُ۔ (مسند احمد: ۴۵۹۵)

۔ (دوسری سند) نافع کہتے ہیں: سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ عمرہ کے ارادہ سے روانہ ہوئے، جب انہیں بتایا گیا کہ اس دفعہ مکہ میں لڑائی کا خطرہ ہے تو انہوں نے کہا: میں عمرے کا احرام باندھ لیتا ہوں، اگر مجھے آگے جانے سے روک دیا گیا تو میں اسی طرح کروں گا، جس طرح رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کیا تھا۔ چنانچہ انہوں نے عمرے کا احرام باندھ لیا اور ذوالحلیفہ سے تھوڑا آگے جا کر جب بیداء کے ٹیلہ پر پہنچے تو کہنے لگے: حج اور عمرہ کے احکام تو ایک جیسے ہیں، لہٰذا میں حج کا ارادہ کرتاہوں، یایوں کہا: میں تم لوگوں کو گواہ بناتا ہوں کہ میں حج کا ارادہ کرتا ہوں، کیونکہ حج اور عمرہ کے احکام و مسائل ایک جیسے ہیں، پس جب وہ مکہ پہنچے تو بیت اللہ کے گرد سات چکر اور صفا مروہ کی سعی کے بھی سات چکر لگائے اور کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا تھا، اس سفر میں سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ قدید کے مقام سے قربانی کا جانور خرید کر اسے اپنے ساتھ مکہ مکرمہ لے گئے تھے۔

۔ (۴۲۱۹) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَرَوْحٌ قَالَا حَدَّثَنَا قَالَ رَوْحٌ سَمِعْتُ مُسْلِمًا الْقُرِّیَّ، قَالَ مُحَمَّدٌ عَنْ مُسْلِمٍ الْقُرِّیِّ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما یَقُوْلُ: أَہَلَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالْعُمْرَۃِ وَأَہَلَّ أَصْحَابُہُ بِالْحَجِّ، قَالَ رَوْحٌ أَہْلَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَصْحَابُہُ بِالْحَجِّ فَمَنْ لَمْ یَکُنْ مَعَہُ ہَدْیٌ أَحَلَّ وَکَانَ مِمَّنْ لَمْ یَکُنْ مَعَہُ ہَدْیٌ طَلْحَۃُ وَرَجُلٌ آخَرُ فَأَحَلَّا۔ (مسند احمد: ۲۱۴۱)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عمرہ کا اور صحابہ نے حج کا احرام باندھا تھا ، روح کی روایت کے مطابق سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور صحابہ نے حج کا احرام باندھا تھا، جن لوگوں کے ہمراہ قربانی کے جانور نہیں تھے، وہ عمرہ کرنے کے بعد حلال ہو گئے تھے یعنی انہوںنے احرام کھول دیا تھا، سیدنا طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور ایک اور آدمی ان لوگوں میں سے تھے، جن کے پاس قربانی کے جانور نہیں تھے، اس لیے وہ بھی عمرہ کی ادائیگی کے بعد حلال ہو گئے۔