مسنداحمد

Musnad Ahmad

احرام، اس کے مواقیت ، طریقے اور اس سے متعلقہ دوسرے احکام کے ابواب

تلبیہ کا حکم اور اسے بآواز بلند پکارنا

۔ (۴۲۲۹) عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((یَا آلَ مُحَمَّدٍ! مَنْ حَجَّ مِنْکُمْ فَلْیُہِلَّ فِی حَجِّہِ أَوْ حَجَّتِہِ۔)) شَکَّ أَبُوْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ۔ (مسند احمد: ۲۷۲۲۸)

۔ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اے آل محمد! تم میں سے جو کوئی حج کرے تو اسے چاہیے کہ وہ تلبیہ کہے۔

۔ (۴۲۳۰) عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ قَالَ: أَتَیْتُ عَلَی ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بِعَرَفَۃَ وَہُوَ یَأْکُلُ رُمَّانًا، فَقَالَ: أَفْطَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِعَرَفَۃَ وَقَدْ بَعَثَتْ إِلَیْہِ أُمُّ الْفَضْلِ بِلَبَنٍ فَشَرِبَہُ، وَقَالَ: لَعَنَ اللّٰہُ فُلَانًا، عَمَدُوْا إِلٰی أَعْظَمِ أَیَّامِ الْحَجِّ، فَمَحَوْا زِیْنَتَہُ، وَإِنَّمَا زِیْنَۃُ الْحَجِّ التَّلْبِیَۃُ۔ (مسند احمد: ۱۸۷۰)

۔ سعید بن جبیر کہتے ہیں: میں عرفہ میں سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، وہ انار کھا رہے تھے، انہوںنے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عرفہ میں روزہ نہیں رکھا تھا، سیدہ ام فضل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں دودھ بھیجا تھا ، جسے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نوش فرما لیا تھا، پھرآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا: اللہ تعالی فلاں آدمی پر لعنت کرے،انہوں نے ایام حج میں سے سب سے زیادہ عظمت والے دن کی طرف قصد کیا اور اس کی زینت کو مٹا ڈالا، حج کی زینت تلبیہ ہے۔

۔ (۴۲۳۱)عَنْ خَلَاَّدِ بْنِ السَّائِبِ بْنِ خَلَاَّدٍ عَنْ أَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((أَتَانِی جِبْرِیْلُ علیہ السلام فَقَالَ: مُرْ أَصْحَابَکَ فَلْیَرْفَعُوْا أَصْوَاتَہُمْ بِالْإِہْلَالِ)) (مسند احمد: ۱۶۶۷۲)

۔ سیدنا سائب بن خلاد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے پاس جبریل علیہ السلام تشریف لائے اور انہوںنے کہا: آپ انپے صحابہ کو حکم دیں کہ وہ تلبیہ پکارتے وقت آواز بلند رکھیں۔

۔ (۴۲۳۲) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِیْہِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ: أَتَانِی جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلَامُ فَقَالَ: أَنْ آمُرَ أَصْحَابِی أَوْ مَنْ مَعِیَ أَنْ یَرْفَعُوْا أَصْوَاتَہُمْ بِألتَّلْبِیَۃِ، أَوْ لْإِہْلَالِ یُرِیْدُ أَحْدَہُمَا۔ (مسند احمد: ۱۶۶۸۳)

۔ (دوسری سند) سیدنا سائب بن خلاد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے پاس جبریل علیہ السلام آئے اور انہوں نے مجھے کہا کہ میں اپنے صحابہ یا ساتھیوں کو یہ حکم دوں کہ وہ بلند آواز سے تلبیہ پکاریں۔

۔ (۴۲۳۳)عَنِ السَّائِبِ بْنِ خَلَّادٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌أَنَّ جِبْرِیْلَ عَلَیْہِ السَّلَامُ أَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: کُنْ عَجَّابًا ثَجَّاجًا، وَالْعَجُّ التَّلْبِیَۃُ، وَالثَّجُّ نَحْرُ الْبُدْنِ۔ (مسند احمد: ۱۶۶۸۲)

۔ سیدنا سائب بن خلاد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جبریل علیہ السلام ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور کہا: آپ بہت زیادہ تلبیہ کہنے والے اور بہت زیادہ جانوروں کے خون بہانے والے ہو جائیں۔ عَجّ کے معانی تلبیہ کے اور ثَجّ کے معانی اونٹوں کو نحر کرنے کے ہیں۔

۔ (۴۲۳۴) عَنْ زَیْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُہَنِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((جَائَ نِی جِبْرِیْلُ علیہ السلام فَقَالَ: یَا مُحَمَّدُ! مُرْ أَصْحَابَکَ فَلْیَرْفَعُوْا أَصْوَاتَہُمْ بِالتَّلْبِیَۃِ، فَإِنَّہَا مِنْ شَعَائِرِ الدِّیْنِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۰۱۸)

۔ سیدنا زید بن خالد جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے پاس جبریل علیہ السلام آئے اور کہا: اے محمد! آپ اپنے صحابہ کو حکم دیں کہ وہ بلند آواز سے تلبیہ پکاریں، کیونکہیہدین کے شعائر اورعلامات میں سے ہے۔

۔ (۴۲۳۵)عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَمَرَنِیْ جِبْرِیْلُ بِرَفْعِ الصَّوْتِ فِیْ الْإِہْلَالِ فَإِنَّہُ مِنْ شَعَائِرِ الْحَجِّ۔)) (مسند احمد: ۸۲۹۷)

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جبریل علیہ السلام نے مجھے بلند آواز سے تلبیہ پکارنے کا حکم دیا ہے، کیونکہیہ حج کے شعائر اور علامات میں سے ہے۔

۔ (۴۲۳۵)عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَمَرَنِیْ جِبْرِیْلُ بِرَفْعِ الصَّوْتِ فِیْ الْإِہْلَالِ فَإِنَّہُ مِنْ شَعَائِرِ الْحَجِّ۔)) (مسند احمد: ۸۲۹۷)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حضرت جبریل علیہ السلام میرے پاس آئے اور مجھ سے کہا کہ میں بلند آواز سے تلبیہ پکاروں۔