۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ایک آدمی نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! محرم کس قسم کا لباس پہن سکتا ہے؟ یا اس نے کہا کہ محرم کس قسم کا لباس نہیں پہن سکتا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ قمیص، شلوار، پگڑی اور موزے نہیں پہن سکتا، ہاں اگر اسے جوتے دستیاب نہ ہوں تو موزوں کو ٹخنوں سے نیچے تک (کاٹ کر) پہن سکتا ہے، اسی طرح کوٹ یا برانڈی نہیں پہن سکتا اور وہ کپڑے بھی نہیں پہن سکتا، جس کو ورس اور زعفران کی خوشبو لگی ہو ئی ہو۔
۔ (دوسری سند) یہ حدیث بھی سابقہ حدیث کی مانند ہے، البتہ اس میں یہ الفاظ زائد ہیں: اور احرام والی عورت نہ نقاب اوڑھے اور نہ دستانے پہنے۔
۔ (تیسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: محرم کوٹ یا برانڈی، قمیص، پگڑی، شلوار اور موزے نہیں پہن سکتا، اگر جوتے دستیاب نہ ہوں تو موزوں کو ٹخنوں سے نیچے تک کاٹ کر استعمال کر سکتا ہے، نیز وہ کپڑا بھی نہیں پہن سکتا، جس کو ورس یا زعفران خوشبو لگی ہوئی ہو، الّا یہ کہ وہ دھو لیا جائے۔
۔ (چوتھی سند) سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس منبر پر فرماتے ہوئے سنا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو احرام کے دوران ان امور سے منع کر رہے تھے، جو ان کے لیے ناپسند کیے جاتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: احرام کی حالت میں پگڑیاں نہ باندھا کرو،…۔ باقی حدیث سابقہ حدیث کی مانند ہے۔
۔ عطاء سے روایت ہے وہ اس بات میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے کہ محرم زعفران سے رنگے ہوئے کپڑے کو اس طرح دھو کر استعمال کرے کہ نہ تو اس میں اتنا رنگ رہے کہ وہ جسم کو لگے اور نہ اس میں اس کی خوشبو رہے۔
۔ عکرمہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی قسم کی ایک حدیث بیان کی ہے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب محرم کو جوتے دستیاب نہ ہوں تو وہ موزے پہن لے، لیکن ٹخنوں کے نیچے سے ان کو کاٹ دے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ دیا اور فرمایا: جب محرم کو چادر دستیاب نہ ہو تو وہ شلوار پہن سکتا ہے اور اسی طرح جب جوتے دستیاب نہ ہوں تو وہ موزے پہن سکتا ہے۔
۔ سیدناجابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح کی ایک حدیث بیان کی ہے۔
۔ امام نافع ، جن کی بیوی سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی ام ولد تھی، بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ کے راستے میں ایک لونڈی خریدی اور اسے آزاد کر کے اس کو حکم دیا کہ وہ ان کے ساتھ حج کرے، پھر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے لئے جوتے تلاش کئے، لیکن وہ نہ ملے، اس لیے انہوں نے موزوں کو ٹخنوں کے نیچے سے کاٹ دیا۔ ابن اسحاق کہتے ہیں: جب میں نے اس بات کا ابن شہاب سے ذکر کیا تو انہوںنے کہا کہ سالم نے اس کو بیان کیا ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ایسے ہی کیا کرتے تھے، لیکن بعد میں جب صفیہ بنت ابی عبید نے ابن عمر رضی اللہ عنہ کو بتلایا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے تو یہ بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خواتین کے لئے موزوں کی اجازت دیا کرتے تھے، یہ سن کر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے یہ عمل ترک کر دیا تھا۔
۔ امام نافع کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو احرام کی حالت میں شدید سردی محسوس ہونے لگی، اس لیے انھوں نے کہا: مجھ پر کوئی کپڑا ڈالو، میں نے ان کے اوپر کوٹ ڈال دیا،لیکن انہوں نے اسے ہٹا دیا اور کہا: تم مجھ پر ایسا کپڑا ڈال رہے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے محرم کو جس کو پہننے سے منع فرمایا تھا۔
۔ صفوان بن یعلی بن امیہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنایعلی، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا کرتے تھے کہ میری خواہش ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی نازل ہو رہی ہو تو میں اس کیفیت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھوں۔ بعد میں ایک دن جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جعرانہ مقام میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اوپر ایک کپڑے سے سایہ کیا گیا تھا، صحابہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے، اسی دوران ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا، جبکہ اس نے ایک جبہ پہنا ہوا تھا اور اس سے خوشبو آ رہی تھی، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس آدمی کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے جس نے اچھی طرح خوشبو ملنے کے بعد جبہ میں عمرہ کا احرام باندھا ہو؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ دیر اس کی طرف دیکھا اور پھر خاموش ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی کا نزول شروع ہو گیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنایعلی رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کیا کہ ادھر آئو، چنانچہ سیدنایعلی رضی اللہ عنہ آئے اور اپنا سر کپڑے کے اندر داخل کر لیا، انھوں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرۂ مبارک سرخ ہو رہا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خراٹے لے رہے تھے، کچھ دیریہی کیفیت رہی، بعد ازاںیہ زائل ہو گئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی ابھی عمرہ کے بارے میں پوچھ رہا تھا، وہ کہاں ہے؟ جب اس شخص کو تلاش کرکے لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم پر جو خوشبو لگی ہوئی ہے، اسے تین دفعہ اچھیطرح دھو ڈالو، اور یہ جبہ اتار دو اور عمرہ کے لئے باقی سارے کام اسی طرح کرو جیسے حج میں کرتے ہو۔
۔ (دوسری سند) سیدنایعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا، جبکہ اس نے جبہ پہنا ہوا تھا اور اس پر زعفران کی خوشبو کے نشانات واضح تھے، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے جس حال میں دیکھ رہے ہیں، میں نے اسی حالت میں احرام باندھا ہے، جبکہ لوگ مجھ سے مذاق کر رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ دیر کے لیے سر جھکا لیا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس شخص کو بلایا اور اس سے فرمایا: تم یہ جبہ اتار دو اور اس زعفران کو دھو ڈالو اورعمرہ میں باقی کام اسی طرح انجام دو، جیسے حج میں کرتے ہو۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی (حج کے سفر میں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا، اسے اس کی اونٹنی نے گرایا اور وہ اس وجہ سے احرام کی حالت میں ہی فوت ہو گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دے کر اس کے انہی دو کپڑوں میں کفن دے دو اور اسے خوشبو لگاؤ نہ اس کا سر ڈھانپو، کیونکہ اسے قیامت کے دن اس حال میں اٹھایا جائے گا کہ یہ تلبیہ پکار رہا ہو گا۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم احرام باندھتے وقت ایسا تیل لگایا کرتے تھے، جو خوشبو والا نہیں ہوتا تھا۔