مسنداحمد

Musnad Ahmad

احرام، اس کے مواقیت ، طریقے اور اس سے متعلقہ دوسرے احکام کے ابواب

سیدنا کعب بن عجرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ سے مروی حدیث اور اس کے متعدد طرق کا بیان

۔ (۴۲۷۲)عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِی لَیْلٰی عَنْ کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالْحُدَیْبِیَّۃِ، وَنَحْنُ مُحْرِمُوْنَ وَقَدْ حَصَرَنَا الْمُشْرِکُوْنَ وَکَانَتْ لِی وَفْرَۃٌ فَجَعَلَتِ الْہَوَامُّ تَسَاقَطُ عَلٰی وَجْہِی، فَمَرَّ بِیَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((أَیُؤْذِیْکَ ہَوَامُّ رَأْسِکَ؟)) قُلْتُ: نَعَمْ، فَأَمَرَہُ أَنْ یَحْلِقَ، قَالَ: وَنَزَلَتْ ہٰذِہِ الْآیَۃُ: {فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَرِیْضًا أَوْ بِہٖٓأَذًی مِّنْ رَأْسِہِ فَفِدْیَۃٌ مِنْ صِیَامٍ أَوْ صَدَقَۃٍ أَوْ نُسُکٍ}۔ (مسند احمد: ۱۸۲۸۰)

۔ سیدنا کعب بن عجرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ حدیبیہ کے مقام پر احرام کی حالت میں تھے، مشرکین مکہ نے ہمیں آگے جانے سے روک دیا، میرے لمبے لمبے بال تھے اورجوئیں میرے چہرے پر گر رہی تھیں، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا میرے پاس سے گزر ہوا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: کیا تمہارے سر کی جوئیں تمہیں تکلیف دے رہی ہیں؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے سر منڈانے کا حکم دیا اور یہ آیت نازل ہوئی: {فَمَنْ کَانَ … أَوْصَدَقَۃٍ أَوْ نُسُکٍ}(تم میں سے جو آدمی مریض ہو یا اس کے سر میں تکلیف ہو، تو وہ بال منڈوالے اور روزوں کا،یا صدقہ کا یا قربانی کا فدیہ دے)۔

۔ (۴۲۷۳) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ) فَأَمَرَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یَحْلِقَ رَأْسَہُ وَقَالَ: صُمْ ثَلَاثَہَ أَیَّامٍ أَوْ أَطْعِمْ سِتَّۃَ مَسَاکِیْنَ، مُدَّیْنِ مُدَّیْنِ لِکُلِّ إِنْسَانٍ أَوِ انْسُکْ بِشَاۃٍ، أَیَّ ذَالِکَ فَعَلْتَ أَجْزَأَکَ۔)) (مسند احمد: ۱۸۲۸۶)

۔ (دوسری سند) اسی طرح مروی ہے، البتہ اس میں ہے: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے حکم دیا کہ وہ سر منڈوالے اور فرمایا : تم فدیہ میں تین روزے رکھو یا چھ مساکین کو اس طرح کھانا کھلاؤ کہ ہر ایک کو دو دو مُدّ کھانا آ جائے یا ایک بکری ذبح کر دو، تم ان میں سے جو کام بھی کر لو گے، تمہیں کفایت کرے گا۔

۔ (۴۲۷۴) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ) فَأَمَرَنِی أَنْ أَحْلِقَ وَہُمْ بِالْحُدَیْبِیَّۃِ وَلَمْ یََتَبَیَّنْ لَہُمْ أَنَّہُمْ یَحْلِقُوْنَ بِہَا، وَہُمْ عَلٰی طَمَعٍ أَنْ یَدْخُلُوْا مَکَّۃَ، فَأَنْزَلَ اللّٰہُ الْفِدْیَۃَ فَأَمَرَنِی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ اُطْعِمَ فَرْقًا بَیْنَ سِتَّۃِ مَسَاکِیْنَ أَوْ أَصُوْمَ ثَلَاثَۃَ أَیَّامٍ أَوْ أَذْبَحَ شَاۃً۔ (مسند احمد: ۱۸۲۹۳)

۔ (تیسری سند) اسی طرح مروی ہے، البتہ اس میں ہے: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں سر منڈوالوں، جبکہ مسلمان ابھی حدیبیہ کے مقام میں تھے اور ابھی تک ان کو یہ علم نہیں تھا کہ سب کو اسی مقام پر سر منڈوانا پڑے گا، سب کو یہی امید تھی کہ وہ مکہ مکرمہ داخل ہوں گے، اُدھر اللہ تعالیٰ نے فدیہ کا حکم نازل کر دیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں ایک فَرَق چھ مساکین میں تقسیم کر دوں یا تین روزے رکھوں یا ایک بکری ذبح کروں۔

۔ (۴۲۷۵) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ رَابِعٍ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ) قَالَ: فَاحْلِقْہُ وَاذْبَحْ شَاۃً أَوْ صُمْ ثَلَاثَۃَ أَیَّامٍ أَوْ تَصَدَّقْ بِثَلَاثَۃِ آصُعٍ مِنْ تَمْرٍ بَیْنَ سِتَّۃِ مَسَاکِیْنَ۔ (مسند احمد: ۱۸۲۹۷)

۔ (چوتھی سند) یہ حدیث اسی طرح مروی ہے، البتہ اس میں ہے: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سرمنڈوا دو اور بطور فدیہ ایک بکری ذبح کرو یا تین روزے رکھو یا کھجور کے تین صاع چھ مساکین میں تقسیم کر دو۔

۔ (۴۲۷۶) (وَمِنْ طَرِیْقٍ خَامِسٍ) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَعْقِلٍ الْمُزَنِّیِّ قَالَ: قَعَدْتُّ إِلٰی کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ وَہُوَ فِیْ الْمَسْجِدِ (وَفِیْ لَفْظٍ: یَعْنِی مَسْجِدَ الْکُوْفَۃِ) فَسَأَلْتُہُ عَنْ ہٰذِہِ الْآیَۃِ {فَفِدْیَۃٌ مِّنْ صِیَامٍ أَوْ صَدَقَۃٍ أَوْ نُسُکٍ} قَالَ: فَقَالَ کَعْبٌ: نَزَلَتْ فِیَّ، کَانَ بِیْ أَذًی مِنْ رَأْسِیْ فَحُمِلْتُ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَالْقَمْلُ یَتَنَاثَرُ عَلٰی وَجْہِیْ، فَقَالَ: ((مَا کُنْتُ أَرٰی أَنَّ الْجَہْدَ بَلَغَ مِنْکَ مَا أَرٰی، أَتَجِدُ شَاۃً؟)) فَقُلْتُ: لَا، فَنَزَلَتْ ہٰذِہِ الْآیَۃُ: {فَفِدْیَۃٌ مِّنْ صِیَامٍ أَوْ صَدَقَۃٍ أَوْ نُسُکٍِ} قَالَ: صَوْمُ ثَلَاثَۃَ أَیَّامٍ أَوْ إِطْعَامُ سِتَّۃِ مَسَاکِیْنَ، نِصْفَ صَاعٍ طَعَامٍ لِکُلِّ مِسْکِیْنٍ، قَالَ: فَنَزَلَتْ فِیَّ خَاصَّۃً وَہِیَ لَکُمْ عَامَّۃً۔ (مسند احمد: ۱۸۲۸۹)

۔ (پانچویں سند) عبد اللہ بن معقل مزنی کہتے ہیں: میں کوفہ کی مسجد میں سیدنا کعب بن عجرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس بیٹھا ہواتھا، میں نے ان سے اس آیت {فَفِدْیَۃٌ مِّنْ صِیَامٍ أَوْ صَدَقَۃٍ أَوْ نُسُکٍ}(سورۂ بقرہ: ۱۹۶) کی بابت پوچھا، انہوں نے کہا: یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی تھی، میرے سر میں جوئیں تھیں، اس لیے مجھے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لایا گیا، جوئیں میرے چہرے پر گر رہی تھیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرایہ خیال تو نہیں تھا کہ تجھے اس قدر تکلیف اور مشقت ہو گی، کیا تم بکری ذبح کرنے کی استطاعت رکھتے ہو؟ میں نے عرض کیا: جی نہیں، اس وقت یہ آیت نازل ہوئی: {فَفِدْیَۃٌ مِّنْ صِیَامٍ أَوْ صَدَقَۃٍ أَوْ نُسُکٍ} (سورۂ بقرہ: ۱۹۶) یعنی تین روزے رکھنا یا چھ مساکین کو اس طرح کھانا کھلانا کہ ہر ایک کو نصف نصف صاع آ جائے۔ سیدنا کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یہ آیت خاص طور پر نازل تو میرے بارے میں ہوئی، لیکن اس کا حکم تم سب کے لیے عام ہے۔

۔ (۴۲۷۷) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ سَادِسٍ بِنَحْوِہٖوَفِیْہِ:) قَالَ: ((أَتَقْدِرُ عَلٰی نُسُکٍ؟)) قُلْتُ: لَا، قَالَ: ((فَصُمْ ثَلَاثَۃَ أَیَّامٍ أَوْ أَطْعِمْ سِتَّۃَ مَسَاکِیْنَ، لِکُلِّ مِسْکِیْنٍ نِصْفُ صَاعٍ مِنْ تَمْرٍ۔)) (مسند احمد: ۱۸۳۰۰)

۔ (چھٹی سند) اس میں ہے: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم بکری ذبح کرنے کی طاقت رکھتے ہو؟ میں نے کہا: جی نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر تم تین روزے رکھ لو یا چھ مسکینوں کو اس طرح کھانا کھلا دو کہ ہر مسکین کو کھجوروں کا نصف نصف صاع مل جائے۔

۔ (۴۲۷۸) (وَمِنْ طَرِیْقٍ سَابِعٍ) عَنْ أَبِی قِلَابَۃَ عَنْ کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ قَالَ: قَمِلْتُ، حَتّٰی ظَنَنْتُ أَنَّ کُلَّ شَعْرَۃٍ مِنْ رَأْسِی فِیْہَا الْقَمْلُ مِنْ أَصْلِہَا إِلٰی فَرْعِہَا، فَأَمَرَنِیَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِیْنَ رَاٰی ذَالِکَ قَالَ: ((اِحْلِقْ۔))وَنَزَلَتِ الْآیَۃُ، قَالَ: ((أَطْعِمْ سِتَّۃَ مَسَاکِیْنَ ثَلَاثَۃَ آصُعٍ مِنْ تَمْرٍ۔)) (مسند احمد: ۱۸۲۸۱)

۔ (ساتویں سند) سیدنا کعب بن عجرہ کہتے ہیں:میرے سر میں اس قدر جوئیں ہو گئیں کہ مجھے یہ گمان ہونے لگا کہ میرے سر کے ہر ہر بال کی جڑ سے لے کر اوپر تک جوئیں ہی جوئیں ہیں، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرایہ حال دیکھا تو فرمایا: سر منڈا دو۔ اور اس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چھ مساکین کو تین صاع کھجوریں کھلا دو۔