TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

سیدنا کعب بن عجرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ سے مروی حدیث اور اس کے متعدد طرق کا بیان - سیدنا کعب بن عجرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ سے مروی حدیث اور اس کے متعدد طرق کا بیان - احرام، اس کے مواقیت ، طریقے اور اس سے متعلقہ دوسرے احکام کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 18 of احرام، اس کے مواقیت ، طریقے اور اس سے متعلقہ دوسرے احکام کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 18 of 22 · 8 Hadith
۔ (۴۲۷۲)عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِی لَیْلٰی عَنْ کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالْحُدَیْبِیَّۃِ، وَنَحْنُ مُحْرِمُوْنَ وَقَدْ حَصَرَنَا الْمُشْرِکُوْنَ وَکَانَتْ لِی وَفْرَۃٌ فَجَعَلَتِ الْہَوَامُّ تَسَاقَطُ عَلٰی وَجْہِی، فَمَرَّ بِیَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((أَیُؤْذِیْکَ ہَوَامُّ رَأْسِکَ؟)) قُلْتُ: نَعَمْ، فَأَمَرَہُ أَنْ یَحْلِقَ، قَالَ: وَنَزَلَتْ ہٰذِہِ الْآیَۃُ: {فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَرِیْضًا أَوْ بِہٖٓأَذًی مِّنْ رَأْسِہِ فَفِدْیَۃٌ مِنْ صِیَامٍ أَوْ صَدَقَۃٍ أَوْ نُسُکٍ}۔ (مسند احمد: ۱۸۲۸۰)
۔ سیدنا کعب بن عجرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ حدیبیہ کے مقام پر احرام کی حالت میں تھے، مشرکین مکہ نے ہمیں آگے جانے سے روک دیا، میرے لمبے لمبے بال تھے اورجوئیں میرے چہرے پر گر رہی تھیں، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا میرے پاس سے گزر ہوا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: کیا تمہارے سر کی جوئیں تمہیں تکلیف دے رہی ہیں؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے سر منڈانے کا حکم دیا اور یہ آیت نازل ہوئی: {فَمَنْ کَانَ … أَوْصَدَقَۃٍ أَوْ نُسُکٍ}(تم میں سے جو آدمی مریض ہو یا اس کے سر میں تکلیف ہو، تو وہ بال منڈوالے اور روزوں کا،یا صدقہ کا یا قربانی کا فدیہ دے)۔
Takhreej
(۴۲۷۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۸۱۴، ۱۸۱۶، ۴۵۱۷، ۶۷۰۸، ومسلم: ۱۲۰۱(انظر: ۱۸۱۰۱)
4272
Sahih
۔ (۴۲۷۳) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ) فَأَمَرَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یَحْلِقَ رَأْسَہُ وَقَالَ: صُمْ ثَلَاثَہَ أَیَّامٍ أَوْ أَطْعِمْ سِتَّۃَ مَسَاکِیْنَ، مُدَّیْنِ مُدَّیْنِ لِکُلِّ إِنْسَانٍ أَوِ انْسُکْ بِشَاۃٍ، أَیَّ ذَالِکَ فَعَلْتَ أَجْزَأَکَ۔)) (مسند احمد: ۱۸۲۸۶)
۔ (دوسری سند) اسی طرح مروی ہے، البتہ اس میں ہے: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے حکم دیا کہ وہ سر منڈوالے اور فرمایا : تم فدیہ میں تین روزے رکھو یا چھ مساکین کو اس طرح کھانا کھلاؤ کہ ہر ایک کو دو دو مُدّ کھانا آ جائے یا ایک بکری ذبح کر دو، تم ان میں سے جو کام بھی کر لو گے، تمہیں کفایت کرے گا۔
Takhreej
(۴۲۷۳) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
4273
Sahih
۔ (۴۲۷۴) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ) فَأَمَرَنِی أَنْ أَحْلِقَ وَہُمْ بِالْحُدَیْبِیَّۃِ وَلَمْ یََتَبَیَّنْ لَہُمْ أَنَّہُمْ یَحْلِقُوْنَ بِہَا، وَہُمْ عَلٰی طَمَعٍ أَنْ یَدْخُلُوْا مَکَّۃَ، فَأَنْزَلَ اللّٰہُ الْفِدْیَۃَ فَأَمَرَنِی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ اُطْعِمَ فَرْقًا بَیْنَ سِتَّۃِ مَسَاکِیْنَ أَوْ أَصُوْمَ ثَلَاثَۃَ أَیَّامٍ أَوْ أَذْبَحَ شَاۃً۔ (مسند احمد: ۱۸۲۹۳)
۔ (تیسری سند) اسی طرح مروی ہے، البتہ اس میں ہے: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں سر منڈوالوں، جبکہ مسلمان ابھی حدیبیہ کے مقام میں تھے اور ابھی تک ان کو یہ علم نہیں تھا کہ سب کو اسی مقام پر سر منڈوانا پڑے گا، سب کو یہی امید تھی کہ وہ مکہ مکرمہ داخل ہوں گے، اُدھر اللہ تعالیٰ نے فدیہ کا حکم نازل کر دیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں ایک فَرَق چھ مساکین میں تقسیم کر دوں یا تین روزے رکھوں یا ایک بکری ذبح کروں۔
Takhreej
(۴۲۷۴) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد: …ایک ’’فَرَق‘‘ میں تین صاع کی گنجائش ہوتی ہے اور ایک صاع میں چار مُدّ ہوتے ہیں، اس طرح ہر مسکین کو دو دو مُدّ ہی آئے گے۔
4274
Sahih
۔ (۴۲۷۵) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ رَابِعٍ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ) قَالَ: فَاحْلِقْہُ وَاذْبَحْ شَاۃً أَوْ صُمْ ثَلَاثَۃَ أَیَّامٍ أَوْ تَصَدَّقْ بِثَلَاثَۃِ آصُعٍ مِنْ تَمْرٍ بَیْنَ سِتَّۃِ مَسَاکِیْنَ۔ (مسند احمد: ۱۸۲۹۷)
۔ (چوتھی سند) یہ حدیث اسی طرح مروی ہے، البتہ اس میں ہے: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سرمنڈوا دو اور بطور فدیہ ایک بکری ذبح کرو یا تین روزے رکھو یا کھجور کے تین صاع چھ مساکین میں تقسیم کر دو۔
Takhreej
(۴۲۷۴) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
4275
Sahih
۔ (۴۲۷۶) (وَمِنْ طَرِیْقٍ خَامِسٍ) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَعْقِلٍ الْمُزَنِّیِّ قَالَ: قَعَدْتُّ إِلٰی کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ وَہُوَ فِیْ الْمَسْجِدِ (وَفِیْ لَفْظٍ: یَعْنِی مَسْجِدَ الْکُوْفَۃِ) فَسَأَلْتُہُ عَنْ ہٰذِہِ الْآیَۃِ {فَفِدْیَۃٌ مِّنْ صِیَامٍ أَوْ صَدَقَۃٍ أَوْ نُسُکٍ} قَالَ: فَقَالَ کَعْبٌ: نَزَلَتْ فِیَّ، کَانَ بِیْ أَذًی مِنْ رَأْسِیْ فَحُمِلْتُ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَالْقَمْلُ یَتَنَاثَرُ عَلٰی وَجْہِیْ، فَقَالَ: ((مَا کُنْتُ أَرٰی أَنَّ الْجَہْدَ بَلَغَ مِنْکَ مَا أَرٰی، أَتَجِدُ شَاۃً؟)) فَقُلْتُ: لَا، فَنَزَلَتْ ہٰذِہِ الْآیَۃُ: {فَفِدْیَۃٌ مِّنْ صِیَامٍ أَوْ صَدَقَۃٍ أَوْ نُسُکٍِ} قَالَ: صَوْمُ ثَلَاثَۃَ أَیَّامٍ أَوْ إِطْعَامُ سِتَّۃِ مَسَاکِیْنَ، نِصْفَ صَاعٍ طَعَامٍ لِکُلِّ مِسْکِیْنٍ، قَالَ: فَنَزَلَتْ فِیَّ خَاصَّۃً وَہِیَ لَکُمْ عَامَّۃً۔ (مسند احمد: ۱۸۲۸۹)
۔ (پانچویں سند) عبد اللہ بن معقل مزنی کہتے ہیں: میں کوفہ کی مسجد میں سیدنا کعب بن عجرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس بیٹھا ہواتھا، میں نے ان سے اس آیت {فَفِدْیَۃٌ مِّنْ صِیَامٍ أَوْ صَدَقَۃٍ أَوْ نُسُکٍ}(سورۂ بقرہ: ۱۹۶) کی بابت پوچھا، انہوں نے کہا: یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی تھی، میرے سر میں جوئیں تھیں، اس لیے مجھے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لایا گیا، جوئیں میرے چہرے پر گر رہی تھیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرایہ خیال تو نہیں تھا کہ تجھے اس قدر تکلیف اور مشقت ہو گی، کیا تم بکری ذبح کرنے کی استطاعت رکھتے ہو؟ میں نے عرض کیا: جی نہیں، اس وقت یہ آیت نازل ہوئی: {فَفِدْیَۃٌ مِّنْ صِیَامٍ أَوْ صَدَقَۃٍ أَوْ نُسُکٍ} (سورۂ بقرہ: ۱۹۶) یعنی تین روزے رکھنا یا چھ مساکین کو اس طرح کھانا کھلانا کہ ہر ایک کو نصف نصف صاع آ جائے۔ سیدنا کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یہ آیت خاص طور پر نازل تو میرے بارے میں ہوئی، لیکن اس کا حکم تم سب کے لیے عام ہے۔
Takhreej
(۴۲۷۶) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
4276
Sahih
۔ (۴۲۷۷) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ سَادِسٍ بِنَحْوِہٖوَفِیْہِ:) قَالَ: ((أَتَقْدِرُ عَلٰی نُسُکٍ؟)) قُلْتُ: لَا، قَالَ: ((فَصُمْ ثَلَاثَۃَ أَیَّامٍ أَوْ أَطْعِمْ سِتَّۃَ مَسَاکِیْنَ، لِکُلِّ مِسْکِیْنٍ نِصْفُ صَاعٍ مِنْ تَمْرٍ۔)) (مسند احمد: ۱۸۳۰۰)
۔ (چھٹی سند) اس میں ہے: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم بکری ذبح کرنے کی طاقت رکھتے ہو؟ میں نے کہا: جی نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر تم تین روزے رکھ لو یا چھ مسکینوں کو اس طرح کھانا کھلا دو کہ ہر مسکین کو کھجوروں کا نصف نصف صاع مل جائے۔
Takhreej
(۴۲۷۷) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
4277
Sahih
۔ (۴۲۷۸) (وَمِنْ طَرِیْقٍ سَابِعٍ) عَنْ أَبِی قِلَابَۃَ عَنْ کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ قَالَ: قَمِلْتُ، حَتّٰی ظَنَنْتُ أَنَّ کُلَّ شَعْرَۃٍ مِنْ رَأْسِی فِیْہَا الْقَمْلُ مِنْ أَصْلِہَا إِلٰی فَرْعِہَا، فَأَمَرَنِیَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِیْنَ رَاٰی ذَالِکَ قَالَ: ((اِحْلِقْ۔))وَنَزَلَتِ الْآیَۃُ، قَالَ: ((أَطْعِمْ سِتَّۃَ مَسَاکِیْنَ ثَلَاثَۃَ آصُعٍ مِنْ تَمْرٍ۔)) (مسند احمد: ۱۸۲۸۱)
۔ (ساتویں سند) سیدنا کعب بن عجرہ کہتے ہیں:میرے سر میں اس قدر جوئیں ہو گئیں کہ مجھے یہ گمان ہونے لگا کہ میرے سر کے ہر ہر بال کی جڑ سے لے کر اوپر تک جوئیں ہی جوئیں ہیں، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرایہ حال دیکھا تو فرمایا: سر منڈا دو۔ اور اس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چھ مساکین کو تین صاع کھجوریں کھلا دو۔
Takhreej
(۴۲۷۸) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
4278
Sahih
۔ (۴۲۷۸) (وَمِنْ طَرِیْقٍ سَابِعٍ) عَنْ أَبِی قِلَابَۃَ عَنْ کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ قَالَ: قَمِلْتُ، حَتّٰی ظَنَنْتُ أَنَّ کُلَّ شَعْرَۃٍ مِنْ رَأْسِی فِیْہَا الْقَمْلُ مِنْ أَصْلِہَا إِلٰی فَرْعِہَا، فَأَمَرَنِیَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِیْنَ رَاٰی ذَالِکَ قَالَ: ((اِحْلِقْ۔))وَنَزَلَتِ الْآیَۃُ، قَالَ: ((أَطْعِمْ سِتَّۃَ مَسَاکِیْنَ ثَلَاثَۃَ آصُعٍ مِنْ تَمْرٍ۔)) (مسند احمد: ۱۸۲۸۱)
۔ (آٹھویں سند) سیدنا کعب بن عجرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جوئوں کی وجہ سے ان کو سر منڈوا دینے کا حکم دیا اور فرمایا: تین روزے رکھو یا ہر مسکین کو دو دو مُدّ کر کے چھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ یا ایک بکری ذبح کر دو۔
Takhreej
(۴۲۷۸) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد: …عمرہ کے موقع پر سعی کے بعد اور حج کے موقع پر (۱۰) ذوالحجہ کو حجامت کروائی جاتی ہے، اگر کسی عذر کی وجہ سے وقت سے پہلے سر کی تقصیریا تحلیق کروانا پڑ جائے، تو ایسا کروایا جا سکتا ہے، لیکن فدیہ ادا کرنا پڑے گا، فدیہ کی تفصیل اس باب میں بیان ہوگئی ہے۔
4279
Sahih

Chapters

22
01
مواقیت ِاحرام کے مقامات کا بیان
13 Hadith
02
صحابہ کرام کا اس بارے میں اختلاف کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کس جگہ سے تلبیہ پڑھا تھا
5 Hadith
03
احرام کا ارادہ کرنے والے کا غسل کرنا اور خوشبو لگانا
8 Hadith
04
حیض اور نفاس والی عورتیں احرام سے پہلے اور اس کے بعد کیا کریں، ان امور کا بیان
5 Hadith
05
احرام میں شرط لگانے کا بیان
6 Hadith
06
مطلق طور پر احرام باندھنے والے یا اس شخص کا بیان جو یہ کہے: میں نے وہ احرام باندھا جو فلاں نے باندھا
2 Hadith
07
حج تمتع، حج افراد اور حج قران میں سے کوئی ایک ادا کر لینے کا اختیار دینے کا بیان
4 Hadith
08
… حج افراد کا بیان
5 Hadith
09
حج قران کا بیان
12 Hadith
10
حج تمتع کا بیان
18 Hadith
11
حج کے مہینوں میں عمرہ کی ادائیگی کے جائز ہونے اور کسی رکاوٹ کی بنا پر احرام کھول دینے کا بیان
4 Hadith
12
تلبیہ اور اس کی کیفیت اور احکام کا بیان تلبیہ کے الفاظ اور اس کی فضیلت کا بیان
9 Hadith
13
تلبیہ کا حکم اور اسے بآواز بلند پکارنا
8 Hadith
14
تلبیہ کے دورانیہ اور نمازوں کے بعد تلبیہ پکارنے کا بیان
7 Hadith
15
محرم کے لئے جائز اور ناجائز امور کا بیان محرم کا سلے ہوئے کپڑے اتار دینے کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ کون سے کپڑے اور خوشبو اس کے لیے ناجائز ہے
15 Hadith
16
محرم کے لیے سینگی لگوانے، سرمہ لگانے اور سر دھونے کا بیان
8 Hadith
17
احرام کی حالت میں گرمی وغیرہ سے بچنے کے لئے سایہ کرنے، مرد کا سر کو اور عورت کا چہرہ کو ڈھانپنے اور محرم کا اپنے خادم کو مارنے کا بیان
5 Hadith
18
سیدنا کعب بن عجرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ سے مروی حدیث اور اس کے متعدد طرق کا بیان
8 Hadith
19
احرام کی حالت میں نکاح کرنے یا کروانے یا نکاح کا پیغام بھیجنے کا بیان
8 Hadith
20
محرم کے لئے خشکی کا شکار کرنے اور اس کو کھانے کے حرام ہونے کا بیان
7 Hadith
21
اس امر کا بیان کہ اگر محرم نہ تو خود شکار کرے اور نہ اس کی خاطر کیا جائے تو اس کے لیے اس کا کھانا جائز ہو گا
11 Hadith
22
ان حیوانات کا بیان، جن کو حرم کی حدود کے اندر اور باہر قتل کرنا محرم کے لئے جائز ہے
10 Hadith
No chapter matched that.