TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

اس امر کا بیان کہ کسی عذر اور ضرورت کی بنا پر اونٹ وغیرہ پر طواف اور چھڑی وغیرہ کے ساتھ حجر اسود کا استلام کیا جا سکتا ہے - اس امر کا بیان کہ کسی عذر اور ضرورت کی بنا پر اونٹ وغیرہ پر طواف اور چھڑی وغیرہ کے ساتھ حجر اسود کا استلام کیا جا سکتا ہے - مکہ مکرمہ میں داخل ہونے اور اس سے متعلقہ دوسرے مسائل کا بیان - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 10 of مکہ مکرمہ میں داخل ہونے اور اس سے متعلقہ دوسرے مسائل کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 10 of 12 · 6 Hadith
۔ (۴۳۵۸) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: جَائَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَکَانَ قَدِ اشْتَکٰی، فَطَافَ بِالْبَیْتِ عَلٰی بَعِیْرٍ وَمَعَہُ مِحْجَنٌ، کُلَّمَا مَرَّ عَلَیْہِ اسْتَلَمَہُ بِہِ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ طَوَافِہِ أَنَاخَ فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۲۷۷۳)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کا بیان ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مکہ مکرمہ تشریف لائے، ان دنوں آپ کچھ بیمار تھے، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اونٹ پر سوارہوکر طواف کیاتھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ایک لاٹھی تھی،جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حجراسود کے پاس سے گزرتے تو اس کے ساتھ حجراسود کا استلام کرتے، پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم طواف سے فارغ ہوئے تو آپ نے اونٹ کو بٹھادیا اور دورکعت نماز ادا کی۔
Takhreej
(۴۳۵۸) تخریج: حدیث صحیح ، وھذا اسناد ضعیف ۔ أخرجہ ابوداود: ۱۸۸۱، وأخرجہ البخاری: ۱۶۰۷، ومسلم: ۱۲۷۲ بلفظ: … عن ابن عباس ان رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم طاف بالبیت علی راحلتہ یستلم الرکن بمحجن۔ (انظر: ۲۷۷۳)
4358
Sahih
۔ (۴۳۵۹)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ: قَالَ:) وَأَتَی السِّقَایَۃَ فَقَالَ: ((اسْقُوْنِیْ۔)) فَقَالُوْا: إِنَّ ھٰذَا یَخُوْضُہُ النَّاسُ وَلٰکِنَّا نَأْتِیْکَ بِہِ مِنَ الْبَیْتِ، فَقَالَ: ((لَا حَاجَۃَ لِیْ فِیْہِ، اِسْقُوْنِیْ مِمَّا یَشْرَبُ مِنْہُ النَّاسُ۔)) (مسند احمد: ۱۸۴۱)
۔ (دوسری سند) یہ حدیث دوسری سندسے بھی اسی طرح مروی ہے، البتہ اس میں ہے: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم طواف کے بعد وہاں تشریف لائے، جہاں زمزم کا پانی پلایا جا رہا تھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے بھی پلائو۔ انہوں نے کہا: اس پانی کو تو لوگ متأثر کرتے رہتے ہیں، ہم آپ کے لیے گھر سے (صاف) پانی لے آتے ہیں، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کی ضرورت نہیںہے، جہاں سے لوگ پی رہے ہیں، وہیں سے مجھے بھی پلا دیں۔
Takhreej
(۴۳۵۹) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول۔ أخرجہ البخاری: ۱۶۳۵ بلفظ: …عن ابن عباس: ان رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جاء الی السقایۃ فاستسقی،فقال العباس: یا فضل! اذھب الی امک فأت رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بشراب من عندھا، فقال: ((اسقنی۔)) قال: یا رسول اللہ! انھم یجعلون ایدیھم فیہ، قال: ((اسقنی۔)) فشرب منہ (انظر: ۱۸۴۱)
Explanation
فوائد:… یہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تواضع، عدم تکلف، سادگی اور حسن اخلاق کا ایک انداز تھا کہ جو چیز عام لوگ استعمال کر رہے ہیں، اسی کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی ذات کیلئے ترجیح دی، جبکہ صاف پانی مہیا کرنے والے لوگ موجود تھے۔
4359
Sahih
۔ (۴۳۶۰) عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّہَا قَدِمَتْ، وَھِیَ مَرِیْضَۃٌ فَذَکَرَتْ ذَالِکَ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((طُوْفِی مِنْ وَرَائِ النَّاسِ، وَأَنْتِ رَاکِبَۃٌ۔)) قَالَتْ: فَسَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ عِنْدَ الْکَعْبَۃِیَقْرَأُ بِالطُّوْرِ۔ قَالَ أَبِیْ: وَقَرَأْتُہُ عَلٰی عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، قَالَتْ: فَطُفْتُ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِیْنَئِذٍیُصَلِّی بِجَنْبِ الْبَیْتِ، وَھُوَ یَقْرَأْ بِالطُّوْرِ وَکِتَابٍ مَسْطُوْرٍ۔ (مسند احمد: ۲۷۲۵۰)
۔ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ جب وہ مکہ مکرمہ آئیں تو وہ ان دنوں بیمار تھیں، انہوں نے اس بات کا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ذکر کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: تم سوار ہوکر لوگوں سے پرے ہٹ کر طواف کرلو۔ وہ کہتی ہیں :رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کعبہ کے پاس تھے اور سورۂ طور کی تلاوت کر رہے تھے۔امام احمد کہتے ہیں: میں نے عبد الرحمن پر یہ روایت پڑھی: سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: پس میں نے طواف کیا، جبکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس وقت بیت اللہ کی ایک جانب نماز ادا کر رہے تھے اور اس میں سورۂ طور کی تلاوت کر رہے تھے۔
Takhreej
(۴۳۶۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۴۶۴، ۱۶۱۹، ۱۶۲۶، ومسلم: ۱۲۷۶(انظر: ۲۶۷۱۴)
4360
Sahih
۔ (۴۳۶۱) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ طَافَ بِالْبَیْتِ عَلٰی نَاقَۃٍ، (وَفِی لَفْظٍ عَلٰی رَاحِلَتِہِ) یَسْتَلِمُ الْحَجَرَ بِمِحْجَنِہِ وَبَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ۔ (مسند احمد: ۲۱۱۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی اونٹنی پر بیت اللہ کا طواف کیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی لاٹھی کے ساتھ حجراسود کا استلام کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صفاومروہ کی سعی بھی سواری پر کی تھی۔
Takhreej
(۴۳۶۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۶۰۷، ومسلم: ۱۲۷۲(انظر: ۲۱۱۸)
4361
Sahih
۔ (۴۳۶۲) وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: طَافَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی بَعِیْرٍ فَکُلَّمَا أَتٰی عَلٰی الرُّکْنِ أَشَارَ إِلَیْہِ وَکَبَّرَ۔ (مسند احمد: ۲۳۷۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے اونٹ پر سوار ہو کر طواف کیا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حجر اسود کے سامنے آتے تو اس کی طرف اشارہ کرکے اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہتے۔
Takhreej
(۴۳۶۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۲۹۹ (انظر: ۲۳۷۸)
4362
Sahih
۔ (۴۳۶۳) عَنْ أَبِی الطُّفَیْلِ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: رَأَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَنَا غُلَامٌ شَابٌّ یَطُوْفُ بِالْبَیْتِ عَلٰی رَاحِلَتِہٖیَسْتِلُمُ الْحَجَرَ بِمِحْجَنِہِ۔ (مسند احمد: ۲۴۲۰۸)
۔ سیدناابوطفیل عامر بن واثلہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ آپ اپنی سواری پر سوار ہو کر بیت اللہ کا طواف کررہے تھے اور اپنی لاٹھی سے حجراسود کااستلام کررہے تھے، جبکہ میں اس وقت جوان تھا۔
Takhreej
(۴۳۶۳) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۲۷۵ (انظر: ۲۳۷۹۸)
Explanation
فوائد:… صحیح مسلم کی روایت میں یہ زیادتی ہے: وَیُقَبِّلُ الْمِحْجَنَ۔ … اور لاٹھی کو بوسہ دیتے تھے۔ سیدنا قدامہ بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا آپ اونٹنی پر سوار تھے اور اپنی لاٹھی سے حجراسود کا استلام کررہے تھے۔ فوائد:… سواری پر طواف اور سعی کرنے کی مزید روایات اور اس کی وجوہات:سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: ((طَافَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ حَوْلَ الْکَعْبَۃِ عَلٰی بَعِیْرِہٖیَسْتَلِمُ الرُّکْنَ کَرَاھِیَۃَ اَنْ یُضْرَبَ عَنْہُ النَّاسُ۔ … نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر کعبہ کے ارد گرد اپنے اونٹ پر طواف کیا، وہیں سے حجر اسود کا استلام کر لیتے، (سوار ہونے کی وجہ یہ تھی کہ) آپ ناپسند کرتے تھے کہ لوگوں کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے دور کرنے کے لیے مارا جائے۔ (صحیح مسلم) سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌کہتے ہیں: ((طَافَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ عَلٰی رَاحِلَتِہٖبِالْبَیْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ لِیَرَاہُ النَّاسُ وَلِیُشْرِفَ وَلِیَسْأَلُوْہُ فَاِنَّ النَّاسَ غَشُوْہُ)) … رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی سواری پر اس لیے کی تھی تاکہ لوگ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھ سکیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوگوں کو اوپر سے دیکھ سکیں اور لوگ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کر سکیں، بات یہ تھی کہ لوگوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر ہجوم کیا ہوا تھا۔ (ابوداود، نسائی) ان تمام احادیث سے معلوم ہوا کہ کسی عذر کی وجہ سے سواری پر طواف اور سعی کی جا سکتی ہے، نیز جو امام لوگوں کی رہنمائی کر رہا ہو یا لوگ جس کی اقتدا کر رہے ہوں یا اس کو اپنی طرف لوگوں کے ہجوم کا خطرہ ہو تو ایسا امام طواف اور سعی کے دوران سوار ہو سکتا ہے۔
4363
Sahih

Chapters

12
01
مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کے لیے غسل کرنا
2 Hadith
02
مکہ مکرمہ میں کس راستے سے اور کس وقت داخل ہوا جائے
4 Hadith
03
مکہ مکرمہ میں داخل ہوتے وقت کی دعا
1 Hadith
04
طواف کے لئے طہارت اور سترہ کا بیان
4 Hadith
05
طوافِ قدوم اور اس میں رمل اور اضطباع کا بیان
11 Hadith
06
طواف، رکن یمانی،حجراسود اور مقامِ ابراہیم کی فضیلت
7 Hadith
07
حجراسود اور رکن یمانی کا استلام کرنے اور دوسرے دو کونوں کا استلام نہ کرنے کا بیان
6 Hadith
08
حجراسود کا استلام کرنے،اس کو بوسہ دینے اوراس وقت کی دعا کا بیان، نیز ہجوم والا بندہ کیا کرے، اس چیز کا بیان
5 Hadith
09
بیت اللہ کے تمام کونوں کا استلام کرنا
2 Hadith
10
اس امر کا بیان کہ کسی عذر اور ضرورت کی بنا پر اونٹ وغیرہ پر طواف اور چھڑی وغیرہ کے ساتھ حجر اسود کا استلام کیا جا سکتا ہے
6 Hadith
11
اس امر کا بیان کہ طواف کرنے والاآدمی حطیم کے باہر سے طواف کرے، تاکہ ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں کے مطابق پورے بیت اللہ کا طواف ہوسکے
3 Hadith
12
ہر وقت میں طواف کے جائز ہونے کا اور بعض اوقات میں اس کو مکروہ سمجھنے والوں کا بیان
3 Hadith
No chapter matched that.