۔ وبرہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں آیا اور ان سے پو چھا: کیایہ جائز ہے کہ میں (حج افراد کے) احرام کی حالت میں بیت اللہ کا طواف کروں؟ انھوں نے کہا: تمہیں اس سے کونسی چیز مانع ہو سکتی ہے؟ اس نے کہا:فلاں آدمی ہمیں اس سے اس وقت تک منع کررہا ہے، جب تک لوگ عرفات سے واپس نہ آ جائیں، نیز میں نے اسے دیکھا ہے کہ دنیا نے اس کو فتنے میں ڈال رکھا ہے، تاہم ہماری نظر میں آپ اس سے برتر ہیں۔سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج کیا تھا تو آپ نے بیت اللہ کا طوا ف اور صفا مروہ کی سعی کی تھی، اگر تمہاری بات درست ہے کہ فلاں آدمی تمہیں احرام کی حالت میں طواف کرنے سے منع کرتا ہے تو یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا طریقہ فلاں کے طریقے سے اولیٰ ہے۔
۔ (دوسری سند)وبرہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: میں نے حج کا احرام باندھا ہوا ہے تو کیا میں اس حالت میں بیت اللہ کاطواف کرسکتا ہوں؟ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: اس میں کیا حرج ہے؟اس نے کہا: سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اس سے منع کیا ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں نے خود دیکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج کا احرام باندھا ہوا تھا اور آپ نے بیت اللہ کا طواف بھی کیااور صفا مروہ کی سعی بھی کی۔
۔ عبداللہ بن بدر سے روایت ہے کہ وہ اپنے چند احباب کے ساتھ حج کو روانہ ہوئے، جب یہ لوگ مکہ مکرمہ پہنچے تو مسجد حرام میں داخل ہوئے اور حجراسود کا استلام کیا، پھر ہم نے بیت اللہ کے گرد سات چکر لگائے، اس کے بعد ہم نے مقام ابراہیم کے پیچھے دورکعت نماز ادا کی، اتنے میں ہم نے دیکھا کہ ایک بھاری بھرکم آدمی، جس نے ایک چادر باندھی ہوئی تھی اور ایک چادر اوپر اوڑھ رکھی تھی، وہ حوض کے پاس بیٹھا ہمیں بلارہا تھا۔ ہم اس کی طرف چلے گئے، جب میں نے اس کے متعلق پوچھا کہ یہ کون آدمی ہے تو لوگوں نے مجھے بتایا کہ یہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ہیں، ہم ان کی خدمت میں پہنچے تو انہوں نے پوچھا: تم کون لوگ ہو؟ ہم نے کہا: ہم اہل یمامہ ہیں، جو مشرق کی طرف سے آئے ہیں، انہوں نے پوچھا: حج کے لئے آئے ہو یا عمرہ کرنے کے لئے؟ میں نے کہا: جی حج کے لیے آئے ہیں، انھوں نے کہا: تم لوگوں نے تو اپنا حج فاسد کردیا ہے، میں نے عرض کیا: میں تو متعدد مرتبہ حج کرچکا ہوں اور ہر دفعہ ایسے ہی کرتا رہاہوں۔اس کے بعد ہم اپنی رہائش گاہ کی طرف چلے گئے، تاکہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما آئیں اور ہم ان سے یہ مسئلہ دریافت کریں۔ میں نے عرض کیا: اے عبد اللہ بن عمر! ہم حج کرنے کے لیے آئے ہیں، پھر ہم نے سارا ماجرا ان کے گوش گزار کیا اور کہا کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے تو ہمیں کہا ہے کہ ہمارا حج فاسد ہو گیا ہے۔سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں، بتائو کیا تم حج کرنے آئے ہو؟ ہم نے کہا: جی ہاں، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما ، ان سب نے حج کی اور سب نے اسی طرح کیا تھا جس طرح تم نے کیا ہے، یعنی تمہارا عمل درست ہے۔