TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

حج افراد کرنے والے کا طواف - حج افراد کرنے والے کا طواف - حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 1 of حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 1 of 40 · 3 Hadith
Whole book
Previous Chapter Next Chapter
۔ (۴۳۷۰) عَنْ وَبَرَۃَ قَالَ: أَتٰی رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما فَقَالَ: أَیَصْلُحُ أَنْ أَطُوْفَ بِالْبَیْتِ وَأَنَا مُحُرِمٌ؟ قَالَ: مَا یَمْنَعُکَ مِنْ ذٰلِکَ؟ قَالَ: إِنَّ فُلَانًا یَنْہَانَا عَنْ ذٰلِکَ حََتّٰییَرْجِعَ النَّاسُ مِنَ الْمَوْقِفِ، وَرَأَیْتُہُ کَأَنَّہُ مَالَتْ بِہِ الدُّنْیَا وَأَنْتَ أَعْجَبُ إِلَیْنَا مِنْہُ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: حَجَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَطَافَ بِالْبَیْتِ وَسَعٰی بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ، وَسُنَّۃُ اللّٰہِ تَعَالیٰ وَرَسُوْلِہِ أَحَقُّ أَنْ تُتَّبَعَ مِنْ سُنَّۃِ ابْنِ فُلَانٍ إِنْ کُنْتَ صَادِقًا۔ (مسند احمد: ۵۱۹۴)
۔ وبرہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کی خدمت میں آیا اور ان سے پو چھا: کیایہ جائز ہے کہ میں (حج افراد کے) احرام کی حالت میں بیت اللہ کا طواف کروں؟ انھوں نے کہا: تمہیں اس سے کونسی چیز مانع ہو سکتی ہے؟ اس نے کہا:فلاں آدمی ہمیں اس سے اس وقت تک منع کررہا ہے، جب تک لوگ عرفات سے واپس نہ آ جائیں، نیز میں نے اسے دیکھا ہے کہ دنیا نے اس کو فتنے میں ڈال رکھا ہے، تاہم ہماری نظر میں آپ اس سے برتر ہیں۔سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے کہا: جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حج کیا تھا تو آپ نے بیت اللہ کا طوا ف اور صفا مروہ کی سعی کی تھی، اگر تمہاری بات درست ہے کہ فلاں آدمی تمہیں احرام کی حالت میں طواف کرنے سے منع کرتا ہے تو یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا طریقہ فلاں کے طریقے سے اولیٰ ہے۔
Takhreej
(۴۳۷۰) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۲۳۳(انظر: ۵۱۹۴)
Explanation
فوائد:… فلاں آدمی سے مراد سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ہیں، ان کا خیالیہ تھا کہ حج افراد کرنے والا طواف نہ کرے، وگرنہ اس کو حج فسخ کرنا پڑے گا جیسا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صحابہ کو حکم دیا تھا۔ لیکن جمہور اہل علم سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کی اس رائے سے متفق نہیں ہیں۔ صحیح مسلم کی روایت کے مطابق جب اس آدمی نے سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے بارے میں کہاکہ ’’دنیا نے اس کو فتنے میں ڈال رکھا ہے‘‘ تو سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے تواضع اور عاجزی کرتے ہوئے کہا: وَاَیُّنَا اَوْ اَیُّکُمْ لَمْ تَفْتِنْہُ الدُّنْیَا۔ … اور ہم میں سے یا تم میں سے کون ہے، جس کو دنیا نے فتنے میں مبتلا نہیں کیا۔سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے بارے میں فتنے والی بات کرنے کی بنیادیہ تھی کہ وہ والی ٔ بصرہ بن گئے تھے، جبکہ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے کسی قسم کی ولایت کو اختیار نہیں کیا تھا۔
4370
Sahih
۔ (۴۳۷۱)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِابْنِ عُمَرَ: أَطُوْفُ بِالْبَیْتِ وَقَدْ أَحْرَمْتُ بِالْحَجِّ؟ قَالَ: وَمَا بَأْسُ ذَلِکَ؟ قَالَ: إِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ نَہٰی عَنْ ذَالِکَ، قَالَ: قَدْ رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہِ وَصَحْبِہِ وَسَلَّمَ أَحْرَمَ بِالْحَجِّ وَطَافَ بِالْبَیْتِ وَبَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ۔ (مسند احمد: ۴۵۱۲)
۔ (دوسری سند)وبرہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے کہا: میں نے حج کا احرام باندھا ہوا ہے تو کیا میں اس حالت میں بیت اللہ کاطواف کرسکتا ہوں؟ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے کہا: اس میں کیا حرج ہے؟اس نے کہا: سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے اس سے منع کیا ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے کہا: میں نے خود دیکھا ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حج کا احرام باندھا ہوا تھا اور آپ نے بیت اللہ کا طواف بھی کیااور صفا مروہ کی سعی بھی کی۔
Takhreej
(۴۳۷۱) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
4371
Sahih
۔ (۴۳۷۲) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ بَدْرٍ أَنَّہُ خَرَجَ فِیْ نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِہِ حُجَّاجًا حَتّٰی وَرَدُوْامَکَّۃَ فَدَخَلُوْا الْمَسْجِدَ فَاسْتَلَمُوْا الْحَجَرَ، ثُمَّ ظُفْنََا بِالْبَیْتِ أُسْبُوعًا، ثُمَّ صَلَّیْنَا خَلْفَ الْمَقَامِ رَکْعَتَیْنِ فَإِذَا رَجُلٌ ضَخْمٌ فِیْ إِزَارٍ وَرِدَائٍ یُصَوِّتُ بِنَا عِنْدَ الْحَوْضِ، فَقُمْنَا إِلَیْہِ وَسَأَلْتُ عَنْہُ، فَقَالُوْا: ابْنُ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، فَلَمَّا أَتَیْنَاہُ قَالَ: مَنْ أَنْتُمْ؟ قُلْنَا: أَھْلُ الْمَشْرِقِ وَثَمَّ أَھْلُ الْیَمَامَۃِ، قَالَ: فَحُجَّاجٌ أَمْ عُمَّارٌ؟ قُلْتُ: بَلٰی حُجَّاجٌ، قَالَ: فَإِنَّکُمْ قَدْ نَقَضْتُمْ حَجَّکُمْ، قُلْتُ: قَدْ حَجَجْتُ مِرَارًا فَکُنْتُ أَفْعَلُ کَذَا، قَالَ: فَانْطَلَقْنَا مَکَانَنَا، حَتّٰییَأْتِیَ ابْنُ عُمَرَ، فَقُلْتُ: یَا ابْنَ عُمَرَ! إِنَّنَا قَدِمْنَا فَقَصَصْنَا عَلَیْہِ قِصَّتَنَا وَأَخْبَرْنَاہُ، قَالَ: إِنَّکُمْ نَقَضْتُمْ حَجَّکُمْ، قَالَ: أُذَکِّرُکُمْ بِاللّٰہِ أَخَرَجْتُمْ حُجَّاجًا؟ قُلْنَا: نَعَمْ، فَقَالَ: وَاللّٰہِ! لَقَدْ حَجَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَبُوْ بَکْرٍ وَعُمَرُ کُلُّہُمْ فَعَلَ مِثْلَ مَا فَعَلْتُمْ۔ (مسند احمد: ۵۹۳۹)
۔ عبداللہ بن بدر سے روایت ہے کہ وہ اپنے چند احباب کے ساتھ حج کو روانہ ہوئے، جب یہ لوگ مکہ مکرمہ پہنچے تو مسجد حرام میں داخل ہوئے اور حجراسود کا استلام کیا، پھر ہم نے بیت اللہ کے گرد سات چکر لگائے، اس کے بعد ہم نے مقام ابراہیم کے پیچھے دورکعت نماز ادا کی، اتنے میں ہم نے دیکھا کہ ایک بھاری بھرکم آدمی، جس نے ایک چادر باندھی ہوئی تھی اور ایک چادر اوپر اوڑھ رکھی تھی، وہ حوض کے پاس بیٹھا ہمیں بلارہا تھا۔ ہم اس کی طرف چلے گئے، جب میں نے اس کے متعلق پوچھا کہ یہ کون آدمی ہے تو لوگوں نے مجھے بتایا کہ یہ سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ہیں، ہم ان کی خدمت میں پہنچے تو انہوں نے پوچھا: تم کون لوگ ہو؟ ہم نے کہا: ہم اہل یمامہ ہیں، جو مشرق کی طرف سے آئے ہیں، انہوں نے پوچھا: حج کے لئے آئے ہو یا عمرہ کرنے کے لئے؟ میں نے کہا: جی حج کے لیے آئے ہیں، انھوں نے کہا: تم لوگوں نے تو اپنا حج فاسد کردیا ہے، میں نے عرض کیا: میں تو متعدد مرتبہ حج کرچکا ہوں اور ہر دفعہ ایسے ہی کرتا رہاہوں۔اس کے بعد ہم اپنی رہائش گاہ کی طرف چلے گئے، تاکہ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما آئیں اور ہم ان سے یہ مسئلہ دریافت کریں۔ میں نے عرض کیا: اے عبد اللہ بن عمر! ہم حج کرنے کے لیے آئے ہیں، پھر ہم نے سارا ماجرا ان کے گوش گزار کیا اور کہا کہ سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے تو ہمیں کہا ہے کہ ہمارا حج فاسد ہو گیا ہے۔سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے کہا: میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں، بتائو کیا تم حج کرنے آئے ہو؟ ہم نے کہا: جی ہاں، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ، ان سب نے حج کی اور سب نے اسی طرح کیا تھا جس طرح تم نے کیا ہے، یعنی تمہارا عمل درست ہے۔
Takhreej
(۴۳۷۲) تخریج: اسنادہ صحیح ۔ أخرجہ النسائی فی ’’الکبری‘‘: ۳۹۰۶(انظر: ۵۹۳۹)
Explanation
فوائد:… نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تو حج قران کر رہے تھے، بہرحال حج افراد کرنے والے کے لیے عرفہ میں وقوف کرنے سے پہلے طواف قدوم اور صفا مروہ کی سعی مشروع ہے، پھر ایسا شخص (۱۰) ذوالحجہ کو طوافِ افاضہ کرے گا اور صفا مروہ کی پہلی سعی پر اکتفا کرتے ہوئے دوبارہ سعی نہیں کرے گا۔
4372
Sahih

Chapters

40
01
حج افراد کرنے والے کا طواف
3 Hadith
02
حج قران کرنے والے کا طواف
4 Hadith
03
حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان،یعنی وہ آدمی جو شروع میں صرف عمرے کا احرام باندھتا ہے
2 Hadith
04
اہل مکہ کے طواف اور طواف سے متعلقہ احکام و مسائل اور دورانِ طواف کلام کرنے کا بیان
3 Hadith
05
طواف اور استلام کے موقع پر کیا جانے والا ذکر، جاہلیت والے لوگ طواف میںکیا کہتے تھے اور دورانِ طواف کلام نہ کرنے کا مستحب ہونا، ان سب امور کا بیان
5 Hadith
06
طواف کی دورکعتوں اور ان کی قراء ت اور ان کے بعد حجراسود کے استلام کا بیان
5 Hadith
07
صفا مروہ کی سعی
3 Hadith
08
صفا مروہ کی سعی میں صفا سے ابتدا کرنے اور اس میں چلنے یا رمل کرنے کا بیان
6 Hadith
09
کسی حاجت کے پیش نظر سوار ہو کر صفا مروہ کی سعی کرنے کا بیان
2 Hadith
10
صفااور مروہ کے اوپر وقوف کرنے اور اس دوران اللہ تعالی کا ذکر کرنے کا بیان
3 Hadith
11
حج تمتع کرنے والے کو سعی اور بال منڈوانے یا کٹوانے کے بعد احرام کھول دینے کا حکم دینے کا بیان، الّا یہ کہ وہ قربانی لے کر آیا ہو
6 Hadith
12
حج کو فسخ کر کے عمرہ بنا لینا
19 Hadith
13
اس امر کا بیان کہ حج تمتع کرنے والا کس وقت احرام باندھے، لوگ کس وقت منیٰ کو روانہ ہوں، وہاں کتنا عرصہ ٹھہریں اور منیٰ میں جاکر پہلے کونسی نماز پڑھی جائے؟
6 Hadith
14
منیٰ سے عرفہ کے لیے روانگی،عرفہ میں وقوف اور وہاں سے واپسی کے ابواب منیٰ سے روانگی کا وقت، وادیٔ نمرہ میں نزول اور عرفہ میں وقوف کے وقت کا بیان
2 Hadith
15
عرفہ کی طرف جاتے ہوئے تلبیہ اور تکبیر کہنے کا بیان
3 Hadith
16
وقوفِ عرفہ کے واجب ہونے اور اس کے وقت اور عرفہ کے سارے مقام کا جائے وقوف ہونے کا بیان
7 Hadith
17
عرفہ میں سواری پر وقوف کرنے اور وہاں خطبہ دینے اور دعاکرنے کا بیان
7 Hadith
18
عرفہ سے مزدلفہ کی طرف روانگی کا وقت اور عرفہ اور مزدلفہ کے درمیان اترنے کا بیان
9 Hadith
19
عرفہ سے مزدلفہ کو جاتے وقت نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا لوگوں کو سکون سے چلنے کا حکم دینے کا بیان
3 Hadith
20
مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازوں کو جمع کرنے اور وہاں رات بسر کرنے کا بیان
9 Hadith
21
مشعرِ حرام یعنی مزدلفہ میں وقوف کرنے اور اس کے بعد جمرہ عقبہ کی رمی کرنے تک کے مسائل کا بیان مزدلفہ میں وقوف، اس کے آداب، وہاں سے منی کی طرف روانگی کے وقت، اور جمرۂ عقبہ کی رمی کرنے تک تلبیہ جاری رکھنے کا بیان
8 Hadith
22
مزدلفہ سے منی کی طرف جاتے وقت سکینت کا حکم دینے اور وادیٔ محسر سے تیزی سے گزرنے کا بیان
4 Hadith
23
اس امر کا بیان کہ کمزور اور ضعیف خواتین کو رش سے پہلے پہلے مزدلفہ سے منیٰ کو روانہ کیا جاسکتا ہے
8 Hadith
24
جمرۂ عقبہ کی رمی سے یوم النحرکے آخر تک کے مناسک سے متعلقہ ابواب رمی جمار کی مشروعیت کا سبب اور ان کا حکم اورکنکریوں کی تعداد اور ان کے حجم کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ یہ کنکریاں کہاں سے اٹھائی جائیں
4 Hadith
25
یوم نحریعنی دس ذوالحجہ کوجمرۂ عقبہ کی رمی کے وقت کا بیان
7 Hadith
26
وادی کے درمیان کھڑے ہو کر جمرۂ عقبہ کی رمی کرنے، رمی کی کیفیت اور اس وقت کی دعا کا بیان
5 Hadith
27
جمرۂ عقبہ کی رمی کے لیے سوار ہو کر جانے اور باقی دنوں میں پیدل چل کر جانے کے مستحب ہونے کا بیان
6 Hadith
28
جمرۂ عقبہ کی رمی کے بعد حاجی کے حلال ہو جانے اور اس کے بعد دوسرے افعال کا بیان
4 Hadith
29
قربانی کرنا اور بال منڈوانا یا کترنا
7 Hadith
30
تراشنے کی بہ نسبت بالوں کو مونڈنے کی فضیلت کا بیان
11 Hadith
31
یوم النحر یعنی دس ذوالحجہ کو منی سے طواف کے لیے لوٹنا اور اسی کو طوافِ افاضہ اور طوافِ زیارت کہنے اور شام تک یہ طواف نہ کر سکنے والے کے حکم کا بیان
6 Hadith
32
دس ذوالحجہ کو قربانی، حجامت، رمی اور طواف افاضہ میں تقدیم و تاخیر کے جائز ہو نے کا بیان
6 Hadith
33
یوم النحر یعنی دس ذوالحجہ کو منیٰ میں خطبہ کا بیان
6 Hadith
34
منیٰ کی راتیں منیٰ میں بسر کرنے، ان دنوں میں جمروں کی رمی کرنے اور کچھ دوسرے امور کا بیان یوم النحر یعنی دس ذوالحجہ کے بعد والے دنوں میں کنکریاں مارنے کے وقت اور اس کے آداب کا بیان
5 Hadith
35
اس امر کا بیان کہ اونٹوں کے چرواہوں کے لئے دو دنوں کی رمی ایک دن میں کر لینا اور ضرورت مند لوگوں کا منی کی راتیں مکہ میں گزار لینا جائز ہے
3 Hadith
36
منیٰ میں نمازوں کو قصر کرکے ادا کرنے اور ان دنوں میں روزہ کے ناجائز ہونے کا بیان
3 Hadith
37
ایام تشریق کے وسط میں خطبہ دینے کا بیان
3 Hadith
38
منیٰ سے واپسی پر وادیٔ محصّب میں ٹھہرنے کا بیان
8 Hadith
39
مکہ مکرمہ سے ہجرت کر جانے والا آدمی مناسکِ حج کی ادائیگی کے بعد کتنا عرصہ وہاں قیام کرسکتا ہے؟
1 Hadith
40
طوافِ وداع کی مشروعیت اور حائضہ سے اس کے ساقط ہونے اورملتزم کے پاس دعا کرنے کا بیان طوافِ وِداع: …وہ طواف جو حج سے فراغت کے بعد مکہ مکرمہ سے رخصت ہوتے وقت کیا جاتا ہے۔
5 Hadith
No chapter matched that.