مسنداحمد

Musnad Ahmad

حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان

حج قران کرنے والے کا طواف

۔ (۴۳۷۳) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ قَرَنَ بَیْنَ حَجَّتِہِ وَعُمْرَتِہِ أَجْزَأَہُ لَھُمَا طَوَافٌ وَاحِدٌ۔)) (مسند احمد: ۵۳۵۰)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جوشخص حج قران کرے، اس کے لئے حج اور عمرہ دونوں کے لیے ایک طواف کافی ہے۔

۔ (۴۳۷۴) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: لَمْ یَطُفِ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ إِلَّا طَوَافًا وَاحِدًا طَوَافَہُ الْأَوَّلَ۔ (مسند احمد: ۱۴۴۶۷)

۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صفا مروہ کی ایک ہی سعی کی تھی، جو کہ شروع میں کر لی تھی۔

۔ (۴۳۷۵) وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: قَدِمْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَطُفْنَا بِالْبَیْتِ وَبَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ، فَلَمَّا کَانَ یَوْمُ النَّحْرِ لَمْ نَقْرَبِ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ۔ (مسند احمد: ۱۵۲۴۸)

۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ مکہ مکرمہ آئے اور ہم نے بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کی، قربانی والے دن یعنی دس ذوالحجہ کو ہم صفامروہ کے قریب تک نہیں گئے۔

۔ (۴۳۷۶) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا فِی حَدِیْثٍ لَھَا قَالَتْ: فَطَافَ الَّذِیْنَ أَھَلُّوْا بِالْعُمْرَۃِ بِالْبَیْتِ وَبَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ، ثُمَّ أَحَلُّوْا، ثُمَّ طَافُوْا طَوَافًا آخَرَ بَعْدَ أَنْ رَجَعُوْا مِنْ مِنًی لِحَجِّہِمْ، فَأَمَّا الَّذِیْنَ جَمَعُوْا الْحَجَّ، فَطَافُوْا طَوَافًا وَاحِدًا۔ (مسند احمد: ۲۵۹۵۵)

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اپنی طویل حدیث میں بیان کرتی ہیں کہ جن لوگوں نے عمرہ کا احرام باندھا ہوا تھا، وہ بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کرکے حلال ہوگئے، لیکن انھوں نے اس کے بعد منیٰ سے واپس آکر حج کے لئے الگ سے طواف کیا اور جن لوگوں نے حج اور عمرہ کوجمع کیایعنی حج قران کا احرام باندھا ہوا تھا، انہوں نے ایک ہی طواف کیاتھا۔