مسنداحمد

Musnad Ahmad

حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان

حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان،یعنی وہ آدمی جو شروع میں صرف عمرے کا احرام باندھتا ہے

۔ (۴۳۷۷) عَنْ عَمْرِو بْنِ دِیْنَارٍ أَنَّہُ سَمِعَ رَجُلًا سَأَلَ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَیُصِیْبُ الرَّجُلُ امْرَأَتَہُ قَبْلَ أَن یَطُوْفَ بالصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ؟ قَالَ: أَمَّا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَدِمَ فَطَافَ بِالْبَیْتِ ثُمَّ رَکَعَ رَکْعَتَیْنِ، ثُمَّ طَافَ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ، ثُمَّ تَلَا: {لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ۔} (مسند احمد: ۱۴۳۶۸)

۔ عمرو بن دینا رسے روایت ہے کہ ایک آدمی نے سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ سوال کیا کہ کیا کوئی آدمی صفا مروہ کی سعی کرنے سے پہلے اپنی بیوی سے مجامعت کرسکتا ہے؟ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب تشریف لائے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پہلے بیت اللہ کا طواف کیا، بعد ازاں دو رکعت نماز ادا کی، اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صفا مروہ کی سعی کی۔ پھر سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے یہ آیت تلاوت کی: {لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ أُسْـوَۃٌ حَسَنَۃٌ۔} (تمہارے لئے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عمل میں بہترین نمونہ ہے۔)

۔ (۴۳۷۸) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّ أَصْحَابَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الَّذِیْنَ أَھَلُّوْا بِالْعُمْرَۃِ طَافُوْا بِالْبَیْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ، ثُمَّ طَافُوْا بَعْدَ أَنْ رَجَعُوْا مِنْ مِنًی لَحِجَّہِمْ، وَالَّذِیْنَ قَرَنُوْا طَافُوْا طَوَافًا وَاحِدًا۔ (مسند احمد: ۲۵۹۵۵)

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے جن صحابہ نے عمرہ کا احرام باندھا تھا،انہوں نے بیت اللہ کا طواف اورصفا مروہ کی سعی کرنے کے بعد احرام کھول دیاتھا، اس کے بعد منیٰ سے واپسی پر انہوں نے حج کے لئے طواف کیاتھا اور جن لوگوں نے حج قران کا احرام باندھا تھا، انہوں نے ایک ہی طواف کیا تھا۔