۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صورتحال تو یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وادیاں تو طے کر کے آئے تھے، لیکن چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ قربانی کا جانور تھا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تو اس کے علاوہ کوئی چارۂ کار نہ تھا کہ آپ وقوفِ عرفہ سے پہلے طواف کریں اور صفا مروہ کی سعی کریں، مکہ والو! رہا مسئلہ تمہارا تو تم لوگ حج سے واپسی تک طواف کو موخر رکھا کرو۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت اللہ کا طواف کررہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ایسے آدمی کو دیکھا جو دوسرے آدمی کی ناک میں رسی ڈال کر اس کو کھینچ رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دست ِ مبارک سے اس رسی کو کاٹ دیا اور اسے حکم دیا کہ وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے کھینچے۔
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت اللہ کا طواف کررہے تھے کہ آپ کا ایک ایسے آدمی کے پاس سے گزر ہوا، جس نے رسی وغیرہ کے ساتھ اپنا ہاتھ دوسرے آدمی کے ساتھ باندھا ہواتھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اس رسی کو کاٹ ڈالا اور فرمایا: اس کا ہاتھ پکڑ کر چلو۔