۔ (۴۳۷۹) عَنْ عَطَائٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی اللہ عنہما أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَطَعَ الْأَوْدِیَۃَ وَجَائَ بِہَدْیٍ فَلَمْ یَکُنْ لَہُ بُدٌّ مِنْ أَنْ یَطُوْفَ بِالْبَیْتِ وَیَسْعٰی بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ قَبْلَ أَنْ یَقِفَ بِعَرَفَۃَ، فَأَمَّا أَنْتُمْ یَا أَھْلَ مَکَّۃَ! فَأَخِّرُوْا طَوَافَکُمْ حَتّٰی تَرْجِعُوْا۔ (مسند احمد:۲۴۵۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صورتحال تو یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وادیاں تو طے کر کے آئے تھے، لیکن چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ قربانی کا جانور تھا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تو اس کے علاوہ کوئی چارۂ کار نہ تھا کہ آپ وقوفِ عرفہ سے پہلے طواف کریں اور صفا مروہ کی سعی کریں، مکہ والو! رہا مسئلہ تمہارا تو تم لوگ حج سے واپسی تک طواف کو موخر رکھا کرو۔
Takhreej
(۴۳۷۹) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف عبد اللہ بن المؤمل (انظر: ۲۴۵۱)
Explanation
فوائد:… جیسے اہل علم کا اس بات پر اجماع ہے کہ عمرہ کرنے والا صرف طوافِ قدوم ہی کرے گا، یعنییہی طواف اس کے عمرے کے لیے بھی کافی ہو گا، اسی طرح اس حقیقت پر بھی ان کا اجماع ہے کہ اہل مکہ، طوافِ قدوم سے مستثنی ہیں، کیونکہیہ طواف باہر سے آنے والے کے لیے مشروع ہے، اہل مکہ آٹھ ذوالحجہ کو اپنی اپنی رہائش گاہوں سے احرام باندھ کر منیٰ کو روانہ ہوجائیں گے اور دوسرے حاجیوں کی طرح واپس آ کر طوافِ افاضہ کریں گے۔
4379
Zaeef