۔ سیدنا عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سناکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکن یمانی اورحجراسود کے درمیانیہ دعا پڑھ رہے تھے: {رَبَّنَا آتِنَا فِیْ الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَ فِیْ الْآخِـرَۃِ حَسَنَـۃً وَقِـنَا عَذَابَ النَّارِ} (اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھلائی عطافرما اورآخرت میں بھی بھلائی نصیب فرمانا اور ہمیں جہنم کے عذاب سے محفوظ فرما)۔ (سورۂ بقرہ:۲۰۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بیت اللہ میں تشریف لاتے اور حجراسود کا استلام کرتے تو یہ الفاظ پڑھتے تھے: بِسْمِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ أَکْبَرُ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیت اللہ کا طواف، صفا مروہ کی سعی اور جمرات کی رمی،یہ سارے امور اللہ تعالی کا ذکر کرنے کی خاطر مشروع کئے گئے ہیں۔
۔ ایک صحابی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: طواف نماز ہی ہے، اس لیے جب تم طواف کرو تو کم باتیں کیا کرو۔
۔ سباع بن ثابت کہتے ہیں: میں نے اہلِ جاہلیت کو سنا کہ وہ طواف کرتے ہوئے یوں کہتے تھے: آج ہماری آنکھوں کو ٹھنڈک ملی ہے کہ ہم صفا مروہ کی سعی کررہے ہیں۔