مسنداحمد

Musnad Ahmad

حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان

طواف اور استلام کے موقع پر کیا جانے والا ذکر، جاہلیت والے لوگ طواف میںکیا کہتے تھے اور دورانِ طواف کلام نہ کرنے کا مستحب ہونا، ان سب امور کا بیان

۔ (۴۳۸۲) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ السَائِبِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقْرَأُ بَیْنَ الرُّکْنِ الْیَمَانِیِّ وَالْحَجَرِ: {رَبَّنَا آتِنَا فِیْ الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَ فِیْ الْآخِرَۃِ حَسَنَۃً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔} (مسند احمد: ۱۵۴۷۴)

۔ سیدنا عبداللہ بن سائب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سناکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رکن یمانی اورحجراسود کے درمیانیہ دعا پڑھ رہے تھے: {رَبَّنَا آتِنَا فِیْ الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَ فِیْ الْآخِـرَۃِ حَسَنَـۃً وَقِـنَا عَذَابَ النَّارِ} (اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھلائی عطافرما اورآخرت میں بھی بھلائی نصیب فرمانا اور ہمیں جہنم کے عذاب سے محفوظ فرما)۔ (سورۂ بقرہ:۲۰۱)

۔ (۴۳۸۳) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَأْتِی الْبَیْتَ فَیَسْتَلِمُ الْحَجَرَ وَیَقُوْلُ: ((بِسْمِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ أَکْبَرُ۔)) (مسند احمد: ۴۶۲۸)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب بیت اللہ میں تشریف لاتے اور حجراسود کا استلام کرتے تو یہ الفاظ پڑھتے تھے: بِسْمِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ أَکْبَرُ

۔ (۴۳۸۴) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّمَا جُعِلَ الطَّوَافُ بِالْبَیْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ وَرَمْیُ الْجِمَارِ لِإِقَامَۃِ ذِکْرِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ)) (مسند احمد: ۲۵۵۹۲)

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیت اللہ کا طواف، صفا مروہ کی سعی اور جمرات کی رمی،یہ سارے امور اللہ تعالی کا ذکر کرنے کی خاطر مشروع کئے گئے ہیں۔

۔ (۴۳۸۶) عَنْ سِبَاعِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَھْلَ الْجَاھِلِیَّۃِیَطُوْفُوْنَ وَھُمْ یَقُوْلُوْنَ: اَلْیَوْمُ قَرْنَا عَیْنَا نَقْرَعُ الْمَرْوَتَیْنَا۔ (مسند احمد: ۲۷۶۸۱)

۔ سباع بن ثابت کہتے ہیں: میں نے اہلِ جاہلیت کو سنا کہ وہ طواف کرتے ہوئے یوں کہتے تھے: آج ہماری آنکھوں کو ٹھنڈک ملی ہے کہ ہم صفا مروہ کی سعی کررہے ہیں۔