مسنداحمد

Musnad Ahmad

حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان

صفا مروہ کی سعی میں صفا سے ابتدا کرنے اور اس میں چلنے یا رمل کرنے کا بیان

۔ (۴۳۹۴) وَعَنْہُ أَیْضًا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ إِذَا نَزَلَ مِنَ الصَّفَا مَشٰی حَتّٰی إِذَا نْصَبَّتْ قَدَماَہُ فِی بَطْنِ الْوَادِی سَعٰی حَتّٰییَخْرُجَ مِنْہُ۔ (مسند احمد: ۱۵۲۳۹)

۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب صفا سے نیچے اترکر وادی کے درمیان پہنچ جاتے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دوڑتے، یہاں تک کہ وادی کو عبور کر جاتے۔

۔ (۴۳۹۵) عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ رَأَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَسْعٰی بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ فِی الْمَسعٰی کَاشِفًا عَنْ ثَوْبِہِ قَدْ بَلَغَ إِلٰی رُکْبَتَیْہِ۔ (مسند احمد: ۵۹۷)

۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو صفا اور مروہ کے درمیان دوڑنے والی جگہ میںیوں سعی کرتے دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی چادر کو گھٹنوں تک اوپر کیا ہوا تھا۔

۔ (۴۳۹۶) عَنْ بُدَیْلِ بْنِ مَیْسَرَۃَ عَنْ صَفِیَّۃَ بِنْتِ شَیْبَۃَ عَنْ أُمِّ وَلَدِ شَیِبْۃَ (ابْنِ عُثْمَانَ) أَنَّہَا أَبْصَرَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ یَسْعَی بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ،(وَفِی رِوَایَۃٍ: وَقَدِ انْکَشَفَ الثَّوْبُ عَنْ رُکْبَتَیْہِ) یَقُوْلُ: ((لاَ یُقْطَعُ الْأَبْطَحُ إِلَّا شَدًّا)) (مسند احمد: ۲۷۸۲۳)

۔ شیبہ بن عثمان کی ام ولد (سیدہ تملک عبدریہ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو صفا اور مروہ کے درمیان اس طرح سعی کرتے ہوئے دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا کپڑا گھٹنوں سے ہٹ رہا تھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرما رہے تھے: اس وادی کو دوڑ کر ہی عبور کیاجائے۔

۔ (۴۳۹۷) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنِ الْمُغِیْرَۃِ بْنِ حَکِیْمٍ عَنْ صَفِیَّۃَ بِنْتِ شَیْبَۃَ عَنِ امْرَأَۃٍ مِنْہُمْ، أَنَّہَارَأَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ خَوْخَۃٍ وَھُوَ یَسْعٰی فِی بَطْنِ الْمَسِیْلِ وَھُوَ یَقُوْلُ: ((لَا یُقْطَعُ الْوَادِیْ إِلاَّشَدًّا۔)) (مسند احمد: ۲۷۸۲۴)

۔ (دوسری سند) ایک عورت (یعنی سیدہ تملک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ) بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے ایک چھوٹے دروازے سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ آپ وادی میں دوڑرہے تھے اور فرما رہے تھے: اس وادی سے دوڑ کر ہی گزرا جائے۔

۔ (۴۳۹۸) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ الْمِقْدَامِ قَالَ: رَأَیْتُ ابْنَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما یَمْشِی بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ، فَقُلْتُ لَہُ: أَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ! مَالَکَ، لَا تَرْمُلُ؟ فَقَالَ: قَدْ رَمَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَتَرَکَ۔ (مسند احمد: ۴۹۹۳)

۔ عبداللہ بن مقدام کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دیکھا کہ وہ صفااورمروہ کی سعی کے دوران عام رفتار سے چل رہے تھے، اس لیے میں نے ان سے کہا: اے ابوعبدالرحمن! کیا بات ہے، آپ دورڑتے کیوں نہیں؟ انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس دوران دوڑے بھی تھے اور اس کو ترک بھی کیا تھا۔

۔ (۴۳۹۹) عَنْ کَثِیْرِ بْنِ جُمْہَانَ قَالَ: رَأَیْتُ ابْنَ عُمَرَ یَمْشِیْ فِی الْوَادِیْ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ وَلَا یَسْعٰی، فَقُلْتُ لَہُ، فَقَالَ: إِنْ أَسْعَ فَقَدْ رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَسْعٰی، وَإِنْ أَمْشِ فَقَدْ رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَمْشِی وَأَنَا شَیْخٌ کَبِیْرٌ۔ (مسند احمد: ۵۲۶۵)

۔ کثیر بن جمہان کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کو صفا مروہ کے درمیان دیکھا کہ وہ عام رفتار سے چل رہے تھے اور دوڑ نہیں رہے تھے جب میں نے ان سے اس کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے کہا: اگر میں دوڑوں تو میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہاں دوڑتے ہوئے بھی دیکھا ہے اور اگر میں عام رفتار سے چلوں تو میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہاں عام رفتار سے چلتے ہوئے بھی دیکھا ہے، جبکہ اب میں بوڑھا بھی ہوچکا ہوں۔