مسنداحمد

Musnad Ahmad

حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان

صفااور مروہ کے اوپر وقوف کرنے اور اس دوران اللہ تعالی کا ذکر کرنے کا بیان

۔ (۴۴۰۲) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ إِذَا وَقَفَ عَلَی الصَّفَا، یُکَبِّرُ ثَلَاثًا وَیَقُوْلُ:(( لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ، وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔)) یَصْنَعُ ذَالِکَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَیَدْعُوْ وَیَصْنَعُ عَلَی الْمَرْوَۃِ مِثْلَ ذَلِکَ۔ (مسند احمد: ۱۵۲۳۸)

۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب صفا کے اوپر جاکر کھڑے ہوتے تو تین دفعہ اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہتے،پھر تین مرتبہ یہ دعا پڑھتے: لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ، … وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔ اس طرح آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تین دفعہ کرتے تھے اور ہر دفعہ دعا بھی کرتے تھے، پھر مروہ پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہی عمل دوہراتے تھے۔

۔ (۴۴۰۳) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ وَکَانَ عُمَرُ یَأْمُرُ بِالْمَقَامِ عَلَیْہِمَا مِنْ حَیْثُیَرَاھَا۔ (مسند احمد: ۵۶۶۹)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صفا اور مروہ کے اوپر جاکر کھڑے ہوجاتے اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی ان دونوں کے اوپر جاکر ایسی جگہ کھڑے ہونے کا حکم دیاکرتے تھے، جہاں سے بیت اللہ نظر آسکے۔

۔ (۴۴۰۴) وَعَنْہُ أَیْضًا أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَرَجَ إِلَی الصَّفَا ثُمَّ قَرَأَ {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللّٰہِ} ثُمَّ قَالَ: ((نَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللّٰہُ بِہِ۔)) فَرَقِیَ عَلٰی الصَّفَا حَتّٰی إِذَا نَظَرَ إِلَی الْبَیْتِ کَبَّرَ قَالَ: ((لَا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ، لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، أَنْجَزَ وَعْدَہُ، وَصَدَقَ عَبْدَہُ، وَغَلَبَ الْأَحْزَابَ وَحْدَہُ۔)) ثُمَّ دَعَا ثُمَّ رَجَعَ إِلَی ھٰذَا الْکَلَامِ، ثُمَّ نَزَلَ حَتّٰی إِذَا انْصَبَّتْ قَدَمَاہُ فِیْ الْوَادِیْ رَمَلَ، حَتّٰی إِذَا صَعِدَ مَشٰی حَتّٰی أَتَی الْمَرْوَۃَ، فَرَقِیَ عَلَیْہَا حَتّٰی نَظَرَ إِلَی الْبَیْتِ فَقَالَ عَلَیْہَا کَمَا قَالَ عَلَی الصَّفَا۔ (مسند احمد: ۱۴۴۹۳)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صفا کی طرف تشریف لے گئے اور آپ نے یہ آیت تلاوت کی: {إِنَّ الصَّفَا وَالْـمَـرْوَۃَ مِـنْ شَعَائِرِ اللّٰہِ} (صفااور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں) (سورۂ بقرہ: ۱۵۸)پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہم بھی اسیمقام سے ابتدا کریں گے کہ اللہ تعالی نے جس کا ذکر پہلے کیا ہے ۔ اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صفا پر چڑھ گئے، یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بیت اللہ دکھائی دینے لگا، وہاں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہا، اور یہ دعا پڑھی: لَا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ، … وَغَلَبَ الْأَحْزَابَ وَحْدَہُ۔ اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہاں دعائیں کیں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نیچے اتر آئے، اور جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وادی کے درمیان میں پہنچے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دوڑنا شروع کر دیا،یہاں تک کہ جب وادی کو عبور کرکے مروہ کے اوپر چڑھنے لگے تو عام رفتار سے چلنا شروع کر دیا اور جب مروہ کے اوپر پہنچ گئے اور بیت اللہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دکھائی دینے لگا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہاں بھی وہی عمل کیا، جو صفا پر کیا تھا۔