مسنداحمد

Musnad Ahmad

حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان

حج تمتع کرنے والے کو سعی اور بال منڈوانے یا کٹوانے کے بعد احرام کھول دینے کا حکم دینے کا بیان، الّا یہ کہ وہ قربانی لے کر آیا ہو

۔ (۴۴۰۵) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی حَجَّۃِ الْوَدَاعِ، فَمِنَّا مَنْ أَھَلَّ بِحَجٍّ وَمِنَّا مَنْ أَھَلَّ بِعُمْرَۃٍ فَأَھْدٰی، فَقَالَ: ((مَنْ أَھَلَّ بِالْعُمْرَۃِ وَلَمْ یُہْدِ فَلْیحِلَّ، وَمَنْ أَھَلَّ بِعُمْرَۃٍ فَأَھْدٰی فَلَا یَحِلَّ، وَمَنْ أَھَلَّ بِحَجٍّ فَلْیُتِمَّ حَجَّہُ۔)) قَالَتْ عَائِشَۃُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا : وَکنُتْ ُمِمَّنْ أَھَلَّ بِعُمْرَۃٍ۔ (مسند احمد: ۲۵۳۸۸)

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: ہم حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ حج کو روانہ ہوئے، ہم میں سے بعض افراد نے حج کا احرام باندھا ہوا تھا اور بعض افراد نے عمرے کا احرام باندھا ہوا تھا، لیکن ان کے پاس قربانی کے جانور تھے۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جن لوگوں نے عمرے کا احرام باندھا ہے اور ان کے پاس قربانی کا جانور نہیں ہے تو وہ عمرہ کرکے احرام کھول دیں اور جن لوگوں نے عمرے کا احرام باندھا ہے، لیکن قربانی کا جانور ان کے ساتھ ہے تو وہ احرام نہیں کھولیں گے اور جن لوگوں نے حج کا احرام باندھا ہے، وہ اپنا حج پورا کریں۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں ان لوگوں میں سے تھی جنہوں نے عمرے کا احرام باندھا تھا۔

۔ (۴۴۰۶) (وَعَنْہَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ، بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ) ((وَمَنْ أَھَلَّ بِعُمْرَۃٍ ثُمَّ طَافَ بِالْبَیْتِ وَسَعٰی بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ وَقَصَّرَ أَحَلَّ مِمَّا حَرُمَ مِنْہُ حَتّٰییَسْتَقْبِلَ حَجًّا۔)) (مسند احمد: ۲۵۶۰۹)

۔ (دوسری سند) اس میں ہے: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اور جس نے عمرے کا احرام باندھاہے اور اس نے بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کے بعد بال کٹوا لئے ہیں، وہ احرام کی پابندی سے آزاد ہوگیا ہے اور وہ دوبارہ حج کے لیے نئے سرے سے احرام باندھے گا۔

۔ (۴۴۰۷)عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ حَفْصَۃَ أَخْبَرَتْہُ قَالَتْ: أَمَرَنِی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ أَحِلَّ فِی حَجَّتِہِ الَّتِی حَجَّ۔ (مسند احمد: ۲۶۹۶۷)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ سیدہ حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حج کے موقع پر ان کو حلال ہو جانے کا حکم دیاتھا۔

۔ (۴۴۰۸) عَنْ حَفْصَۃَ بِنْتِ عُمَرَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: لَمَّا أَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نِسَائَ ہُ أَنْ یَحْلِلْنَ بِعُمْرَۃٍ، قُلْنَ: فَمَا یَمْنَعُکَیَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَنْ تَحِلَّ مَعَنَا؟ قَالَ: ((إِنِّی قَدْ أَھْدَیْتُ وَلَبَّدْتُّ، فَلَا أَحِلُّ حَتّٰی أَنْحَرَ ھَدْیِیْ۔)) (مسند احمد: ۲۶۹۶۹)

۔ زوجۂ رسول سیدہ حفصہ بنت عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی بیویوں کو عمرہ کے بعد حلال ہونے کا حکم دیا تو انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ کو ہمارے ساتھ حلال ہو جانے سے کون سی چیز مانع ہے؟آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے ساتھ تو قربانی کا جانور ہے اورمیں نے اپنے بالوں کو لیپ کر رکھا ہے، اس لیے میں جب تک قربانی نہ کرلوں، حلال نہیں ہوں گا۔

۔ (۴۴۰۹) وَعَنْہَا أَیْضًا قَالَتْ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَاشَأْنُ النَّاسِ حَلُّوْا وَلَمْ تَحِلَّ مِنْ عُمْرَتِکَ؟ قَالَ: ((إِنِّی قَدْ قَلَّدْتُّ ھَدْیِیْ وَلَبَّدْتُّ رَأْسِیْ فَلَا أَحِلُّ حَتّٰی أَحِلَّ مِنَ الْحَجِّ۔)) (مسند احمد: ۲۶۹۵۶)

۔ سیدہ حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا بات ہے کہ لوگ تو عمرہ کے بعد احرام کھول رہے ہیں، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حلال نہیں ہو رہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : میرے پاس قرآنی کا جانور ہے اور میں نے اسے قلادہ ڈالا ہوا ہے اور اپنے سر کو لیپ کیا ہوا ہے، لہٰذا حج سے فارغ ہونے تک حلال نہیں ہوں گا۔

۔ (۴۴۱۰) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَبَّدَ رَأْسَہُ وَأَھْدٰی، فَلَمَّا قَدِمَ مَکَّۃَ أَمَرَ نِسَائَ ہُ أَنْ یَحْلِلْنَ، قُلْنَ: مَالَکَ أَنْتَ لَاتَحِلُّ؟ قَالَ: ((إِنِّی قَلَّدْتُّ ھَدْیِیْ وَلَبَّدْتُّ رَأْسِی، فَلَا أَحِلُّ حَتَّی أَحِلَّ مِنْ حَجَّتِی وَأَحْلِقَ رَأْسِی۔)) (مسند احمد: ۶۰۶۸)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے سر کو لیپ دیا تھا اور قربانی کا جانور بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھا، مکہ مکرمہ پہنچ کر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی بیویں کو احرام کھولنے کا حکم دیا تو انھوں نے کہا: کیا بات ہے کہ آپ خود تو احرام نہیں کھو ل رہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں تو قربانی کے جانور کے گلے میں قلادہ ڈال چکا ہوں اور سر کو لیپ کر رکھا ہے، لہٰذا میں جب تک حج اور سر منڈوانے سے فارغ نہ ہو جاؤں، اس وقت تک حلال نہیں ہوں گا۔