۔ (۴۴۳۶) عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضی اللہ عنہما قَالَ: غَدَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مِنْ مِنًی حِیْنَ صَلَّی الصُّبْحَ فِی صَبِیْحَۃِیَوْمِ عَرَفَۃَ حَتّٰی أَتٰی عَرَفَۃَ فَنَزَلَ بِنَمِرَۃَ وَھِیَ مَنْزِلُ الْإِمَامِ الَّذِیْ کَانَ یَنْزِلُ بِہٖ
بِعَرَفَۃَ حَتّٰی إِذَ کَانَ عِنْدَ صَلَاۃِ الظُّہْرِ، رَاحَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مُہَجِّرًا فَجَمَعَ بَیْنَ الظُّہْرِ وَالْعَصْرِ، ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ، ثُمَّ رَاحَ فَوَقَفَ عَلَی الْمَوْقِفِ مِنْ عَرَفَۃَ۔ (مسند احمد: ۶۱۳۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرفہ کے دن یعنی نوذوالحجہ کو صبح کی نماز منیٰ میں ادا کی،اس کے بعد آپ عرفہ کو تشریف لے گئے اور وہاں جاکر وادیٔ نمرہ میں ٹھہرے،یہی وہ جگہ ہے جہاں عرفہ میں آکر امام ٹھہرتے ہیں، جب ظہرکا وقت ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوپہر کے وقت آئے اورظہر اور عصرکی نمازیں جمع کرکے ادا کیں،اس کے بعد لوگوں کوخطبہ دیا، بعد ازاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرفہ میں وقوف کی جگہ پر وقوف کیا۔
Takhreej
(۴۴۳۶) تخریج: اسنادہ حسن ۔ أخرجہ ابوداود: ۱۹۱۳(انظر: ۶۱۳۰)
Explanation
فوائد:… عرفات کے پاس ایک مقام کا نام وادیٔ نمرہ ہے، یہ وادی عرفات کا حصہ نہیں ہے، زوال کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وادیٔ عُرَنہ میں تشریف لائے اور وہاں ظہر و عصر کی نمازیں ادا کیں اور خطبہ ارشاد فرمایا، جمہور اہل علم کے نزدیک وادیٔ عُرَنہ بھی عرفات کا حصہ نہیں ہے۔ اس حدیث سے ثابت ہوا کہ عرفہ میں وقوف کا وقت زوال کے بعد شروع ہوتا ہے، کیونکہ اس وقت سے پہلے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وادیٔ نمرہ میں رہے۔ امام ابو حنیفہ امام شافعی اور امام مالک کا یہی مسلک ہے، لیکن امام احمد زوال سے پہلے بھی وقوف کی اجازت دیتے ہیں، مؤخر الذکر قول راجح معلوم ہوتا ہے، مزید حدیث نمبر (۴۴۴۲)دیکھیں۔
4436
Sahih