مسنداحمد

Musnad Ahmad

حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان

منیٰ سے عرفہ کے لیے روانگی،عرفہ میں وقوف اور وہاں سے واپسی کے ابواب منیٰ سے روانگی کا وقت، وادیٔ نمرہ میں نزول اور عرفہ میں وقوف کے وقت کا بیان

۔ (۴۴۳۶) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: غَدَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ مِنًی حِیْنَ صَلَّی الصُّبْحَ فِی صَبِیْحَۃِیَوْمِ عَرَفَۃَ حَتّٰی أَتٰی عَرَفَۃَ فَنَزَلَ بِنَمِرَۃَ وَھِیَ مَنْزِلُ الْإِمَامِ الَّذِیْ کَانَ یَنْزِلُ بِہٖ بِعَرَفَۃَ حَتّٰی إِذَ کَانَ عِنْدَ صَلَاۃِ الظُّہْرِ، رَاحَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُہَجِّرًا فَجَمَعَ بَیْنَ الظُّہْرِ وَالْعَصْرِ، ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ، ثُمَّ رَاحَ فَوَقَفَ عَلَی الْمَوْقِفِ مِنْ عَرَفَۃَ۔ (مسند احمد: ۶۱۳۰)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عرفہ کے دن یعنی نوذوالحجہ کو صبح کی نماز منیٰ میں ادا کی،اس کے بعد آپ عرفہ کو تشریف لے گئے اور وہاں جاکر وادیٔ نمرہ میں ٹھہرے،یہی وہ جگہ ہے جہاں عرفہ میں آکر امام ٹھہرتے ہیں، جب ظہرکا وقت ہوا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دوپہر کے وقت آئے اورظہر اور عصرکی نمازیں جمع کرکے ادا کیں،اس کے بعد لوگوں کوخطبہ دیا، بعد ازاں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عرفہ میں وقوف کی جگہ پر وقوف کیا۔

۔ (۴۴۳۷) عَنْ سَعِیْدِ بْنِ حَسَّانَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَنْزِلُ بِعَرَفَۃَ وَادِی نَمِرَۃَ، فَلَمَّا قَتَلَ الْحَجَّاجُ ابْنَ الزُّبَیْرِ، أَرْسَلَ إِِلَی ابْنِ عُمَرَ أَیَّۃُ سَاعَۃٍ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہِ وَصَحْبِہِ وَسَلَّمَ یَرُوْحُ فِیْ ھٰذَا الْیَوْمِ؟ قَالَ: إِذَا کَانَ ذَاکَ رُحْنَا، فَأَرْسَلَ الْحَجَّاجُ رَجُلًا یَنْظُرُ أَیَّ سَاعَۃٍیَرُوْحُ، فَلَمَّا أَرَادَ ابْنُ عُمَرَ أَنْ یَرُوْحَ قَالَ: أَزَاغَتِ الشَّمْسُ؟ قَالُوْا: لَمْ تَزِغِ الشَّمْسُ، قَالَ: أَزَاغَتِ الشَّمْسُ؟ قَالُوْا: لَمْ تَزِغْ، فَلَمَّا قَالُوْا: قَدْ زَاغَتْ، اِرْتَحَلَ۔ (مسند احمد: ۴۷۸۲)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عرفہ میں وادیٔ نمرہ میں ٹھہراکرتے تھے، جب حجاج نے سیدنا عبدا للہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو قتل کیا تو اس نے سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف پیغام بھیج کر دریافت کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس دن کس وقت یہاں سے روانہ ہوتے تھے؟ انھوں نے کہا :جب وہ وقت ہوگا تو ہم چل پڑیں گے، حجاج نے ایک آدمی کو بھیجا تاکہ وہ خیال رکھے کہ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کس وقت روانہ ہوتے ہیں، پس جب انھوں نے روانہ ہونے کا ارادہ کیا تو پوچھا :آیا سورج ڈھل چکاہے؟لوگوں نے بتلایا: جی نہیں، ابھی تک نہیں ڈھلا، پھر کچھ دیر بعد انھوں نے پوچھا: کیا سورج ڈھل چکا ہے، لوگوں نے کہا: جی نہیں ڈھلا، جب لوگوں نے یہ بتلایاکہ سورج ڈھل گیاہے تو وہ چل پڑے۔