TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

منیٰ سے عرفہ کے لیے روانگی،عرفہ میں وقوف اور وہاں سے واپسی کے ابواب منیٰ سے روانگی کا وقت، وادیٔ نمرہ میں نزول اور عرفہ میں وقوف کے وقت کا بیان - منیٰ سے عرفہ کے لیے روانگی،عرفہ میں وقوف اور وہاں سے واپسی کے ابواب منیٰ سے روانگی کا وقت، وادیٔ نمرہ میں نزول اور عرفہ میں وقوف کے وقت کا بیان - حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 14 of حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 14 of 40 · 2 Hadith
۔ (۴۴۳۶) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: غَدَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ مِنًی حِیْنَ صَلَّی الصُّبْحَ فِی صَبِیْحَۃِیَوْمِ عَرَفَۃَ حَتّٰی أَتٰی عَرَفَۃَ فَنَزَلَ بِنَمِرَۃَ وَھِیَ مَنْزِلُ الْإِمَامِ الَّذِیْ کَانَ یَنْزِلُ بِہٖ بِعَرَفَۃَ حَتّٰی إِذَ کَانَ عِنْدَ صَلَاۃِ الظُّہْرِ، رَاحَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُہَجِّرًا فَجَمَعَ بَیْنَ الظُّہْرِ وَالْعَصْرِ، ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ، ثُمَّ رَاحَ فَوَقَفَ عَلَی الْمَوْقِفِ مِنْ عَرَفَۃَ۔ (مسند احمد: ۶۱۳۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عرفہ کے دن یعنی نوذوالحجہ کو صبح کی نماز منیٰ میں ادا کی،اس کے بعد آپ عرفہ کو تشریف لے گئے اور وہاں جاکر وادیٔ نمرہ میں ٹھہرے،یہی وہ جگہ ہے جہاں عرفہ میں آکر امام ٹھہرتے ہیں، جب ظہرکا وقت ہوا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دوپہر کے وقت آئے اورظہر اور عصرکی نمازیں جمع کرکے ادا کیں،اس کے بعد لوگوں کوخطبہ دیا، بعد ازاں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عرفہ میں وقوف کی جگہ پر وقوف کیا۔
Takhreej
(۴۴۳۶) تخریج: اسنادہ حسن ۔ أخرجہ ابوداود: ۱۹۱۳(انظر: ۶۱۳۰)
Explanation
فوائد:… عرفات کے پاس ایک مقام کا نام وادیٔ نمرہ ہے، یہ وادی عرفات کا حصہ نہیں ہے، زوال کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وادیٔ عُرَنہ میں تشریف لائے اور وہاں ظہر و عصر کی نمازیں ادا کیں اور خطبہ ارشاد فرمایا، جمہور اہل علم کے نزدیک وادیٔ عُرَنہ بھی عرفات کا حصہ نہیں ہے۔ اس حدیث سے ثابت ہوا کہ عرفہ میں وقوف کا وقت زوال کے بعد شروع ہوتا ہے، کیونکہ اس وقت سے پہلے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وادیٔ نمرہ میں رہے۔ امام ابو حنیفہ امام شافعی اور امام مالک کا یہی مسلک ہے، لیکن امام احمد زوال سے پہلے بھی وقوف کی اجازت دیتے ہیں، مؤخر الذکر قول راجح معلوم ہوتا ہے، مزید حدیث نمبر (۴۴۴۲)دیکھیں۔
4436
Sahih
۔ (۴۴۳۷) عَنْ سَعِیْدِ بْنِ حَسَّانَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَنْزِلُ بِعَرَفَۃَ وَادِی نَمِرَۃَ، فَلَمَّا قَتَلَ الْحَجَّاجُ ابْنَ الزُّبَیْرِ، أَرْسَلَ إِِلَی ابْنِ عُمَرَ أَیَّۃُ سَاعَۃٍ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہِ وَصَحْبِہِ وَسَلَّمَ یَرُوْحُ فِیْ ھٰذَا الْیَوْمِ؟ قَالَ: إِذَا کَانَ ذَاکَ رُحْنَا، فَأَرْسَلَ الْحَجَّاجُ رَجُلًا یَنْظُرُ أَیَّ سَاعَۃٍیَرُوْحُ، فَلَمَّا أَرَادَ ابْنُ عُمَرَ أَنْ یَرُوْحَ قَالَ: أَزَاغَتِ الشَّمْسُ؟ قَالُوْا: لَمْ تَزِغِ الشَّمْسُ، قَالَ: أَزَاغَتِ الشَّمْسُ؟ قَالُوْا: لَمْ تَزِغْ، فَلَمَّا قَالُوْا: قَدْ زَاغَتْ، اِرْتَحَلَ۔ (مسند احمد: ۴۷۸۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عرفہ میں وادیٔ نمرہ میں ٹھہراکرتے تھے، جب حجاج نے سیدنا عبدا للہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو قتل کیا تو اس نے سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف پیغام بھیج کر دریافت کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس دن کس وقت یہاں سے روانہ ہوتے تھے؟ انھوں نے کہا :جب وہ وقت ہوگا تو ہم چل پڑیں گے، حجاج نے ایک آدمی کو بھیجا تاکہ وہ خیال رکھے کہ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کس وقت روانہ ہوتے ہیں، پس جب انھوں نے روانہ ہونے کا ارادہ کیا تو پوچھا :آیا سورج ڈھل چکاہے؟لوگوں نے بتلایا: جی نہیں، ابھی تک نہیں ڈھلا، پھر کچھ دیر بعد انھوں نے پوچھا: کیا سورج ڈھل چکا ہے، لوگوں نے کہا: جی نہیں ڈھلا، جب لوگوں نے یہ بتلایاکہ سورج ڈھل گیاہے تو وہ چل پڑے۔
Takhreej
(۴۴۳۷) تخریج: اسنادہ ضعیف، سعید بن حسان الحجازی لم یرو عنہ الا ابراہیم بن نافع و نافع بن عمر الجمحی، ولم یؤثر توثیقہ عن احد غیر ان ابن حبان ذکرہ فی الثقات ۔ أخرجہ ابوداود: ۱۹۱۴، وابن ماجہ: ۳۰۰۹(انظر: ۴۷۸۲)
Explanation
فوائد:… حجاج کرام نو ذوالحجہ کو طلوع آفتاب کے بعد مِنٰی سے عرفات کے لیے روانہ ہوں گے، وہاں پہنچ کر وقوف کریں گے اور زوال آفتاب کے بعد ظہر کے پہلے وقت میں ظہرو عصر کی قصر نمازیں جمع کر کے ادا کریں، پھر خطبہ سنیں اور پھر غروبِ آفتاب تک وقوف جاری رکھیں اور غروبِ آفتاب کے بعد مزدلفہ کے لیے روانہ ہو جائیں، نمازِ مغرب مزولفہ میں نمازِ عشاء کے ساتھ ادا کی جائے گی۔ ابن منذر نے کہا: اس بات پر اہل علم کا اجماع اور اتفاق ہے کہ امام اور اس کی اقتدا میں نماز پڑھنے والے عرفہ میں ظہر اور عصر کی نمازیں جمع کر کے ادا کریں گے۔ یہ حقیقت تو ہر کوئی تسلیم کرتا ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عرفات میں ظہر و عصر کی قصر نمازیں ظہر کے وقت میں جمع کر کے ادا کیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ اہل مکہ بھی حج کر رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو جمع بین الصلاتین اور قصر کو ترک کرنے کا حکم نہیں دیا، اس سے ان لوگوں کے مسلک کی تائید ہوتی ہے، جو کوئی حد بندی کیے بغیر مطلق سفر کو قصر کا سبب قرار دیتے ہیں۔ لیکن اس معاملے میں احناف نے عجیب قسم کے رویے اختیار کر رکھے ہیں، عرفات میں ان کی طرف سے درج ذیل مختلف باتیں سنائی دیتے ہیں: ۱۔ جو آدمی امام کے ساتھ ظہر و عصر کی نمازیں ادا کرے گا، وہ قصر اور جمع کرے گا، وگرنہ پوری نماز پڑھی جائے گی اور اپنے اپنے وقت پر ادا کی جائے گی۔ ۲۔ جو آدمی مسجد میں نماز پڑھے گا، وہ جمع اور قصر کرے گا، وگرنہ ہر نماز اس کے وقت پر پوری پڑھنا پڑے گی۔ ۳۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور صحابہ نے سفر کی وجہ سے جمع اور قصر کیا تھا، چونکہ ہم لوگ عرفات میں مقیم ہیں، اس لیے ہم نہ جمع کریں گے اور نہ قصر۔ قصر اور جمع کے لیے امام یا مسجد یا منفرد یا غیر مسجد کی قید لگا کر فرق کرنا اتنی غیر معقول بات ہے کہ ممکن ہے یہ عُقدہ کسی کو سمجھایا ہی نہ جا سکے، یہ بات تو تسلیم کر لی گئی کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے باجماعت نماز ادا کی اور قصر اور جمع کا اہتمام کیا، لیکن اس سے یہ کیسے لازم آگیا کہ جو جماعت کے ساتھ شریک نہیں ہو گا، وہ نہ قصر کر سکتا ہے اور نہ اس کو جمع کر نے کا حق حاصل ہے۔ مسجد کا چونکہ اُس عہد میں وجود ہی نہ تھا، اس لیے اس کو بنیاد بنا کر جمع اور قصر میں فرق کرنا بھی خودساختہ سی بات لگتی ہے۔ رہا معاملہ آخری بات کا تو گزارش ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ منورہ سے اپنے سابق شہر میں پہنچ کر عرفات میں جمع اور قصر کرتے ہیں، لیکن پاکستان اور دوسرے ممالک سے جانے والے جب ایک دن یا نصف دن کے لیے عرفات میں قیام کے لیے جاتے ہیں تو یہ مقیم بن جاتے ہیں۔ سبحان اللہ! اس سے حیران کن بات یہ ہے کہ جب اسی دن کی شام کو مغرب اور عشا کی نمازیں مزدلفہ میں جمع کر کے ادا کی جاتی ہیں، تو اس وقت یہ لوگ سارے نقطے بھول جاتے ہیں، نہ تو مزدلفہ میں اجتماعی جماعت ہوتی ہے، نہ وہاں کوئی مسجد ہے، اس پر مستزاد یہ کہ مسافت بھی کم ہو جاتی ہے، کیونکہ مزدلفہ، عرفات کی بہ نسبت مکہ مکرمہ کے قریب ہے۔
4437
Zaeef

Chapters

40
01
حج افراد کرنے والے کا طواف
3 Hadith
02
حج قران کرنے والے کا طواف
4 Hadith
03
حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان،یعنی وہ آدمی جو شروع میں صرف عمرے کا احرام باندھتا ہے
2 Hadith
04
اہل مکہ کے طواف اور طواف سے متعلقہ احکام و مسائل اور دورانِ طواف کلام کرنے کا بیان
3 Hadith
05
طواف اور استلام کے موقع پر کیا جانے والا ذکر، جاہلیت والے لوگ طواف میںکیا کہتے تھے اور دورانِ طواف کلام نہ کرنے کا مستحب ہونا، ان سب امور کا بیان
5 Hadith
06
طواف کی دورکعتوں اور ان کی قراء ت اور ان کے بعد حجراسود کے استلام کا بیان
5 Hadith
07
صفا مروہ کی سعی
3 Hadith
08
صفا مروہ کی سعی میں صفا سے ابتدا کرنے اور اس میں چلنے یا رمل کرنے کا بیان
6 Hadith
09
کسی حاجت کے پیش نظر سوار ہو کر صفا مروہ کی سعی کرنے کا بیان
2 Hadith
10
صفااور مروہ کے اوپر وقوف کرنے اور اس دوران اللہ تعالی کا ذکر کرنے کا بیان
3 Hadith
11
حج تمتع کرنے والے کو سعی اور بال منڈوانے یا کٹوانے کے بعد احرام کھول دینے کا حکم دینے کا بیان، الّا یہ کہ وہ قربانی لے کر آیا ہو
6 Hadith
12
حج کو فسخ کر کے عمرہ بنا لینا
19 Hadith
13
اس امر کا بیان کہ حج تمتع کرنے والا کس وقت احرام باندھے، لوگ کس وقت منیٰ کو روانہ ہوں، وہاں کتنا عرصہ ٹھہریں اور منیٰ میں جاکر پہلے کونسی نماز پڑھی جائے؟
6 Hadith
14
منیٰ سے عرفہ کے لیے روانگی،عرفہ میں وقوف اور وہاں سے واپسی کے ابواب منیٰ سے روانگی کا وقت، وادیٔ نمرہ میں نزول اور عرفہ میں وقوف کے وقت کا بیان
2 Hadith
15
عرفہ کی طرف جاتے ہوئے تلبیہ اور تکبیر کہنے کا بیان
3 Hadith
16
وقوفِ عرفہ کے واجب ہونے اور اس کے وقت اور عرفہ کے سارے مقام کا جائے وقوف ہونے کا بیان
7 Hadith
17
عرفہ میں سواری پر وقوف کرنے اور وہاں خطبہ دینے اور دعاکرنے کا بیان
7 Hadith
18
عرفہ سے مزدلفہ کی طرف روانگی کا وقت اور عرفہ اور مزدلفہ کے درمیان اترنے کا بیان
9 Hadith
19
عرفہ سے مزدلفہ کو جاتے وقت نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا لوگوں کو سکون سے چلنے کا حکم دینے کا بیان
3 Hadith
20
مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازوں کو جمع کرنے اور وہاں رات بسر کرنے کا بیان
9 Hadith
21
مشعرِ حرام یعنی مزدلفہ میں وقوف کرنے اور اس کے بعد جمرہ عقبہ کی رمی کرنے تک کے مسائل کا بیان مزدلفہ میں وقوف، اس کے آداب، وہاں سے منی کی طرف روانگی کے وقت، اور جمرۂ عقبہ کی رمی کرنے تک تلبیہ جاری رکھنے کا بیان
8 Hadith
22
مزدلفہ سے منی کی طرف جاتے وقت سکینت کا حکم دینے اور وادیٔ محسر سے تیزی سے گزرنے کا بیان
4 Hadith
23
اس امر کا بیان کہ کمزور اور ضعیف خواتین کو رش سے پہلے پہلے مزدلفہ سے منیٰ کو روانہ کیا جاسکتا ہے
8 Hadith
24
جمرۂ عقبہ کی رمی سے یوم النحرکے آخر تک کے مناسک سے متعلقہ ابواب رمی جمار کی مشروعیت کا سبب اور ان کا حکم اورکنکریوں کی تعداد اور ان کے حجم کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ یہ کنکریاں کہاں سے اٹھائی جائیں
4 Hadith
25
یوم نحریعنی دس ذوالحجہ کوجمرۂ عقبہ کی رمی کے وقت کا بیان
7 Hadith
26
وادی کے درمیان کھڑے ہو کر جمرۂ عقبہ کی رمی کرنے، رمی کی کیفیت اور اس وقت کی دعا کا بیان
5 Hadith
27
جمرۂ عقبہ کی رمی کے لیے سوار ہو کر جانے اور باقی دنوں میں پیدل چل کر جانے کے مستحب ہونے کا بیان
6 Hadith
28
جمرۂ عقبہ کی رمی کے بعد حاجی کے حلال ہو جانے اور اس کے بعد دوسرے افعال کا بیان
4 Hadith
29
قربانی کرنا اور بال منڈوانا یا کترنا
7 Hadith
30
تراشنے کی بہ نسبت بالوں کو مونڈنے کی فضیلت کا بیان
11 Hadith
31
یوم النحر یعنی دس ذوالحجہ کو منی سے طواف کے لیے لوٹنا اور اسی کو طوافِ افاضہ اور طوافِ زیارت کہنے اور شام تک یہ طواف نہ کر سکنے والے کے حکم کا بیان
6 Hadith
32
دس ذوالحجہ کو قربانی، حجامت، رمی اور طواف افاضہ میں تقدیم و تاخیر کے جائز ہو نے کا بیان
6 Hadith
33
یوم النحر یعنی دس ذوالحجہ کو منیٰ میں خطبہ کا بیان
6 Hadith
34
منیٰ کی راتیں منیٰ میں بسر کرنے، ان دنوں میں جمروں کی رمی کرنے اور کچھ دوسرے امور کا بیان یوم النحر یعنی دس ذوالحجہ کے بعد والے دنوں میں کنکریاں مارنے کے وقت اور اس کے آداب کا بیان
5 Hadith
35
اس امر کا بیان کہ اونٹوں کے چرواہوں کے لئے دو دنوں کی رمی ایک دن میں کر لینا اور ضرورت مند لوگوں کا منی کی راتیں مکہ میں گزار لینا جائز ہے
3 Hadith
36
منیٰ میں نمازوں کو قصر کرکے ادا کرنے اور ان دنوں میں روزہ کے ناجائز ہونے کا بیان
3 Hadith
37
ایام تشریق کے وسط میں خطبہ دینے کا بیان
3 Hadith
38
منیٰ سے واپسی پر وادیٔ محصّب میں ٹھہرنے کا بیان
8 Hadith
39
مکہ مکرمہ سے ہجرت کر جانے والا آدمی مناسکِ حج کی ادائیگی کے بعد کتنا عرصہ وہاں قیام کرسکتا ہے؟
1 Hadith
40
طوافِ وداع کی مشروعیت اور حائضہ سے اس کے ساقط ہونے اورملتزم کے پاس دعا کرنے کا بیان طوافِ وِداع: …وہ طواف جو حج سے فراغت کے بعد مکہ مکرمہ سے رخصت ہوتے وقت کیا جاتا ہے۔
5 Hadith
No chapter matched that.