TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

وقوفِ عرفہ کے واجب ہونے اور اس کے وقت اور عرفہ کے سارے مقام کا جائے وقوف ہونے کا بیان - وقوفِ عرفہ کے واجب ہونے اور اس کے وقت اور عرفہ کے سارے مقام کا جائے وقوف ہونے کا بیان - حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 16 of حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 16 of 40 · 7 Hadith
۔ (۴۴۴۱) عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ یَعْمَرَ الدِّیْلِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: شَہِدْتُّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ وَاقِفٌ بِعَرَفَۃَ وَأَتَاہُ نَاسٌ مِنْ أَھْلِ نَجْدٍ، فَقَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! کَیْفَ الْحَجُّ؟ فَقَالَ: ((اَلْحَجُّ عَرَفَۃُ، فَمَنْ جَائَ قَبْلَ صَلَاۃِ الْفَجْرِ مِنْ لَیْلَۃِ جَمْعٍ، فَقَدْ تَمَّ حَجُّہُ، وَأَیَّامُ مِنًی ثَلَاثَۃُ أَیَّامٍ، {فَمَنْ تَعَجَّلَ فِییَوْمَیْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَیْہِ وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَیْہِ} ثُمَّ أَرْدَفَ رَجُلًا خَلْفَہُ فَصَارَ یُنَادِی بِہِنَّ۔ (مسند احمد: ۱۸۹۸۱)
۔ سیدنا عبدالرحمن بن یعمردیلی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عرفہ میں وقوف کیے ہوئے تھے، میں بھی وہاں موجود تھا، اسی دوران نجد کے کچھ لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ٍانہوں نے پوچھا:اے اللہ کے رسول!حج کیسے ہوتا ہے؟آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:حج عرفہ کا نام ہے، جو آدمی مزدلفہ والی رات کو نمازِ فجر سے پہلے پہلے عرفہ پہنچ جائے، اس کا حج مکمل ہے اور حج کے بعد منیٰ میں تین دن گزارنے ہوتے ہیں، ارشادِ باری تعالی ہے: {فَمَنْ تَعَجَّلَ فِییَوْمَیْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَیْہِ وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَیْہِ} (جو آدمیجلدی کرتے ہوئے دو دنوں کے بعد چلاجائے، اس پر کوئی گناہ نہیں اور جو کوئی ٹھہرارہے (اور تین دن پورے کرے) اس پربھی کوئی حرج نہیں)۔ اس کے بعد آپ نے ایک آدمی کو سواری پر اپنے پیچھے سوار کیا، وہ ان مسائل کو پکار پکار کر بیان کرتا جارہا تھا۔
Takhreej
(۴۴۴۱) تخریج: اسنادہ صحیح ۔ أخرجہ النسائی: ۵/ ۲۵۶، وابن ماجہ: ۳۰۱۵، والترمذی: ۸۸۹، ۸۹۰(انظر: ۱۸۷۷۴)
Explanation
فوائد:… یعنی حج کا بڑا رکن عرفہ کا وقوف ہے، اس کے رہ جانے سے حج فوت ہو جائے گا۔ امام شوکانی نے کہا: اس کا ظاہری مفہوم یہی ہے کہ عرفہ کی سرزمین کے کسی حصے میں اس وقت میں لمحہ بھر کا وقوف کفایت کرے گا۔مزید وضاحت اگلی حدیث میں ہو گی ۔
4441
Sahih
۔ (۴۴۴۲) عَنْ عُرْوَہَ بْنِ مُضَرِّسِ بْنِ أَوْسِ بْنِ حَارِثَۃَ بْنِ لَامٍٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ حَجَّ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَمْ یُدْرِکِ النَّاسَ إِلَّا لَیْلًا وَھُوَ بِجَمْعٍ،فَانْطَلَقَ إِلٰی عَرَفَاتٍ فَأَفَاضَ مِنْہَا، ثُمَّ رَجَعَ فَأَتٰی جَمْعًا، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَتْعَبْتُ نَفْسِی وَأَنْصَبْتُ رَاحِلَتِی، فَہَلْ لِیْ مِنْ حَجِّ؟ فَقَالَ: ((مَنْ صَلّٰی مَعَنَا صَلَاۃَ الْغَدَاۃِ بِجَمْعٍ،ووَقَفَ مَعَنَا حَتّٰی نُفِیْضَ وَقَدْ أَفَاضَ قَبْلَ ذٰلِکَ مِنْ عَرَفَاتٍ لَیْلًا أَوْ نَہَارًا فَقَدْ تَمَّ حَجُّہُ، وَقَضٰی تَفَثَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۶۳۱۰)
۔ سیدنا عروہ بن مضرس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ اس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عہد میں حج کیا، وہ رات کو پہنچا تھا، اس وقت لوگ مزدلفہ میں تھے، وہ عرفات چلا گیا، پھروہاں سے واپس مزدلفہ آگیا اور کہا: اے اللہ کے رسول!میں نے اپنے آپ کو اور اپنی سواری کو خوب مشقت میں ڈالا ہے، کیا میرا حج ہوگیا ہے؟آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے ہمارے ساتھ مزدلفہ میں نماز فجر پڑھی اور پھر ہماری روانگی تک یہیں وقوف کیااور اس سے قبل وہ دن یا رات کے کسی حصہ میںعرفات سے ہوآیا ہو تو اس کا حج مکمل ہے اور اس نے اپنی میل کچیل دور کر لی ہے۔
Takhreej
(۴۴۴۲) تخریج: اسنادہ صحیح ۔ أخرجہ الترمذی: ۸۹۱، والنسائی: ۵/ ۲۶۳، وابن ماجہ: ۳۰۱۶(انظر: ۱۶۲۰۹)
Explanation
فوائد:… اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نو ذوالحجہ کا دن اور اس کے بعد آنے والی رات، اس دورانیے میں کسی وقت بھی عرفات میں وقوف کیا جا سکتا ہے، لیکن جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنٰی سے عرفات میں پہنچے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے زوال تک وادیٔ نمرہ میں قیام کیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وادیٔ عرنہ میں تشریف لائے، وہاں خطبہ ارشاد فرمایا اور جمع تقدیم کے ساتھ ظہر و عصر کی نمازیں ادا کیں ، بعد ازاں عرفہ میں تشریف لا کر وقوف شروع کیا۔ ذہن نشین رہے کہ نمرہ اور عرنہ کی وادیاں عرفہ کا حصہ نہیں ہیں۔ اب ایک طرف آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا قول عام ہے کہ دن اور رات کی کسی گھڑی میں وقوف کیا جا سکتا ہے، لیکن دوسری طرف آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا فعل خاص ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے زوال کے بعد وقوفِ عرفہ شروع کیا۔ امام ابو حنیفہ، امام شافعی اور امام مالک نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فعل کی روشنی میں قول کو خاص کر دیا ہے، جبکہ امام احمد نے قولی حدیث کے عموم کو باقی رکھا ہے، یعنی ان کے نزدیک زوال سے پہلے بھی وقوف ہو سکتا ہے۔ امام احمد کا قول راجح معلوم ہوتا ہے، کیونکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا کسی عام کے بعض افراد پر عمل کر لینا اور دوسروں کی نفی نہ کرنا، اس سے تخصیص لازم نہیں آتی۔ اس نے اپنی میل کچیل دور کر لی ہے مشہور بات یہ ہے کہ ’’تَفَث‘‘ سے مراد وہ چیز ہے جو محرِم حلال ہوتے وقت سر کے بال کاٹنے یا مونڈنے، زیرِ ناف بال صاف کرنے، بغلوں کے بال اکھاڑنے اور دوسرے امورِ فطرت کو سرانجام دینے کی صورت میں کرتا ہے، ویسے ایک لحاظ سے اس میں قربانیاں کرنا اور حج کے تمام مناسک ادا کرنا بھی آ جاتا ہے، کیونکہ ان مناسک کے بعد ہی ’’تَفَث‘‘ کے تقاضے پورے کیے جاتے ہیں۔ ’’تَفَث‘‘ کے اصل معانی میل کچیل کے ہیں۔ دراصل اس جملے سے مزدلفہ اور عرفات کے وقوف کی اہمیت کو ثابت کیا جا رہا ہے۔
4442
Sahih
۔ (۴۴۴۳) (مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: أَتَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ بِجَمْعٍ فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ جِئْتُکَ مِنْ جَبَلَیْ طَیِّیئٍ أَتْعَبْتُ نَفْسِی،…۔ الْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۱۶۳۰۹)
۔ (دوسری سند)سیدنا عروہ بن مضرس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مزدلفہ میں تھے، اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں طی کے دو پہاڑوں سے سفر کرکے آپ کی خدمت میں پہنچا ہوںاور میں نے اپنے آپ کو تھکا دیا ہے …
Takhreej
(۴۴۴۳) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… پہلے یہ ترتیب بیان کی جا چکی ہے کہ حجاج کرام نو ذوالحجہ کو طلوع آفتاب کے بعد مِنٰی سے روانہ ہو جائیں گے اور عرفات پہنچ کر غروب ِ آفتاب تک وقوف کریں، سورج کے اچھی طرح غروب ہوتنے کے بعد مزدلفہ کی طرف روانہ ہو جائیںاور یہاں مغرب وعشاء کو جمع کر کے اور نماز فجر کو اس کے پہلے وقت میں ادا کریں گے۔ لیکن اگر کوئی آدمی اس وقت تک عرفات میں پہنچ ہی نہ سکے تو وہ رات کا کچھ حصہ وقوف کر کے مزدلفہ پہنچ کر نمازِ فجر ادا کرے۔
4443
Sahih
۔ (۴۴۴۴) عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَفَ بِعَرْفَۃَ وَھُوَ مُرْدِفٌ أُسَامَۃَ بْنَ زَیْدٍ فَقَالَ: ((ھٰذَا الْمَوْقِفُ، وَکُلُّ عَرَفَۃَ مَوْقِفٌ)) (مسند احمد: ۶۱۳)
۔ سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عرفہ میں وقوف کیا اوراس وقت سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے سواری پر سوار تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ جائے وقوف ہے اور سارا عرفہ ٹھہرنے کی جگہ ہے۔
Takhreej
(۴۴۴۴) تخریج: حدیث حسن ۔ أخرجہ ابوداود: ۱۹۲۲، ۱۹۳۵، والترمذی: ۸۸۵(انظر: ۶۱۳)
Explanation
فوائد:… یعنی جس طرح وہ جگہ موقِف ہے، جہاں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ٹھہرے ہوئے تھے، اسی طرح سارا عرفہ موقِف ہے۔
4444
Sahih
۔ (۴۴۴۵) عَنْ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((کُلُّ عَرَفَاتٍ مَوْقِفٌ، وَارْفَعُوْا عَنْ بَطْنِ عُرَنَۃَ، وَکُلُّ مُزْدَلِفَۃَ مَوْقِفٌ، وَارْفَعُوْا عَنْ مُحَسِّرٍ، وَکُلُّ فِجَاجِ مِنًی مَنْحَرٌ، وَکُلُّ أَیَّامِ التَّشْرِیْقِ ذَبْحٌ۔)) (مسند احمد: ۱۶۸۷۲)
۔ سیدنا جبیر بن مطعم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سارا میدانِ عرفات وقوف کی جگہ ہے، البتہ تم وادیٔ عرنہ سے ہٹ کر رہو، اسی طرح سارامزدلفہ جائے وقوف ہے اور تم وادیٔ محسر سے دور رہو اورمنیٰ کے تمام راستے قربانی کی جگہ ہیں اور تشریق کے تمام ایام قربانی کے دن ہیں۔
Takhreej
(۴۴۴۵) تخریج: حدیث صحیح لغیرہ ۔ أخرجہ البزار: ۱۱۲۶، وابن حبان: ۳۸۵۴،و البیھقی: ۹/ ۲۹۵(انظر: ۱۶۷۵۱)
Explanation
فوائد:… مِنٰی اور عرفہ کے درمیان وادیٔ عرنہ اور مِنٰی اور مزدلفہ کے درمیان وادیٔ مُحَسِّر واقع ہے۔ چونکہ وادیٔ عرنہ عرفہ کا اور وادیٔ محسر مزدلفہ کا حصہ نہیں ہیں، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دورانِ وقوف ان سے دور رہنے کا حکم دیا ہے، حدیث نمبر (۴۴۸۵)میں یہ بات آ رہی ہے کہ وادی محسر مِنی کا حصہ ہے، بہرحال اس میں قیام کرنا منع ہے۔ وادیٔ مُحَسِّر کی وجہ تسمیہیہ ہے کہ ابرہہ کا ہاتھی اس وادی میں آ کر تھک گیا، اس پر ابرہہ اور اس کے ساتھیوں کو حسرت ہوئی، جبکہ مُحَسِّر کا معانی حسرت میں ڈالنے والا ہے۔ ایک پتھر کی پھینک تک اس وادی کا احاطہ ہے۔حدیث کے آخری ٹکڑے سے معلوم ہوا کہ (۱۳) ذوالحجہ کے دن غروبِ آفتاب تک قربانی کی جا سکتی ہے۔
4445
Sahih
۔ (۴۴۴۶) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَمْرٍو، (یَعْنِی ابْنَ دِیْنَارٍ)عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ صَفْوَانَ عَنْ یَزِیْدَ بْنِ شَیْبَانَ قَالَ: أَتَانَا ابْنُ مِرْبَعٍ الْأَنْصَارِیُّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَنَحْنُ فِی مَکَانٍ مِنَ الْمَوْقِفِ بَعِیْدٍ، فَقَالَ: إِنِّی رَسُوْلُ رَسُوْلِ اللّٰہِ إِلَیْکُمْ،یَقُوْلُ: ((کُوْنُوْا عَلٰی مَشَاعِرِکُمْ ھٰذِہِ، فَإِنَّکُمْ عَلٰی إِرْثٍ مِنْ إِرْثِ إِبْرَاھِیْمَ۔)) لِمِکَانٍ تَبَاعَدَہُ عَمْرٌو۔ (مسند احمد: ۱۷۳۶۵)
۔ یزید بن شیبان کہتے ہیں: سیدنا ابن مربع انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہمارے پاس تشریف لائے، جبکہ ہم موقف سے دور ایک مقام میں تھے، اور انہوں نے کہا: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا تمہاری طرف قاصد بن کر آیا ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرما رہے ہیں کہ تم اپنی اسی جگہ پر ٹھہرے رہو، تم ابراہیم علیہ السلام کی میراث پر ہی ہو۔ یہ فرمان اس جگہ کے بارے میں تھا، جس کو عمرو دور سمجھ رہے تھے۔
Takhreej
(۴۴۴۶) اسنادہ صحیح ۔ أخرجہ ابوداود: ۱۹۱۹، والترمذی: ۸۸۳، والنسائی: ۵/ ۲۵۵(انظر: ۱۷۲۳۳)
4446
Sahih
۔ (۴۴۴۷) عَنْ سُفْیَانَ عَنْ عَمْرٍو عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ: أَضْلَلْتُ بَعِیْرًا لِی بِعَرَفَۃَ فَذَھَبْتُ أَطْلُبُہُ، فَإِذَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاقِفٌ، قُلْتُ: ھٰذَا مِنَ الْحُمْسِ، مَاشَأْنُہُ ھَاھُنَا۔ (مسند احمد: ۱۶۸۵۷)
۔ سیدنا جبیر بن مطعم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: عرفہ میں میرا اونٹ گم ہوگیاتھا، میں اسے تلاش کررہا تھا کہ میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو عرفہ میں وقوف کیے ہوئے دیکھا اور کہا: یہ تو قریشی ہیں، ان کا یہاں کیا کام ہے؟
Takhreej
(۴۴۴۷) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۶۶۴، ومسلم: ۱۲۲۰(انظر: ۱۶۷۳۷)
Explanation
فوائد:… قاضی عیاض نے کہا: یہ واقعہ ہجرت سے پہلے کسی حج کا ہے، اس وقت سیدنا جبیر کافر تھے اور فتح مکہ یا غزوۂ خیبر کے موقع پر مسلمان ہوئے، ان کو اس سے تعجب ہو رہا ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تو قریشی ہیں اور عرفات میں وقوف کر رہے ہیں۔ اگلے باب کی پہلی حدیث سے اس بات کی تائید ہوتی ہے۔ دورِ جاہلیت میں قریشی لوگ وقوفِ عرفہ ترک کر کے مزدلفہ میں ہی ٹھہر جاتے اور کہتے تھے: ہم لوگ ’’حُمْس‘‘ ہیں، اس لیے ہم حرم سے نہیں نکلیں گے اور باقی سارے لوگ عرفہ میں پہنچ کر وقوف کرتے تھے۔’’حُمْس‘‘ ، ’’تَحَمُّس‘‘ سے ماخوذ ہے، جس کے معانی تشدّد اور مذہب میں سخت اور پکے ہونے کے ہیں، اس سے مراد قریشی اور وہ قبائل ہیں، جنہوں نے اُن کی طرح تشدّد اختیار کیا ہوا تھا۔ عرفہ کا وقوف حج کا سب سے مشہور رکن ہے، اس کے رہ جانے سے حج فوت ہو جائے گا۔ اس دن کا وقوف کیسے کیا جائے؟ اس کا بیان اگلے باب میں آ رہا ہے۔
4447
Sahih

Chapters

40
01
حج افراد کرنے والے کا طواف
3 Hadith
02
حج قران کرنے والے کا طواف
4 Hadith
03
حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان،یعنی وہ آدمی جو شروع میں صرف عمرے کا احرام باندھتا ہے
2 Hadith
04
اہل مکہ کے طواف اور طواف سے متعلقہ احکام و مسائل اور دورانِ طواف کلام کرنے کا بیان
3 Hadith
05
طواف اور استلام کے موقع پر کیا جانے والا ذکر، جاہلیت والے لوگ طواف میںکیا کہتے تھے اور دورانِ طواف کلام نہ کرنے کا مستحب ہونا، ان سب امور کا بیان
5 Hadith
06
طواف کی دورکعتوں اور ان کی قراء ت اور ان کے بعد حجراسود کے استلام کا بیان
5 Hadith
07
صفا مروہ کی سعی
3 Hadith
08
صفا مروہ کی سعی میں صفا سے ابتدا کرنے اور اس میں چلنے یا رمل کرنے کا بیان
6 Hadith
09
کسی حاجت کے پیش نظر سوار ہو کر صفا مروہ کی سعی کرنے کا بیان
2 Hadith
10
صفااور مروہ کے اوپر وقوف کرنے اور اس دوران اللہ تعالی کا ذکر کرنے کا بیان
3 Hadith
11
حج تمتع کرنے والے کو سعی اور بال منڈوانے یا کٹوانے کے بعد احرام کھول دینے کا حکم دینے کا بیان، الّا یہ کہ وہ قربانی لے کر آیا ہو
6 Hadith
12
حج کو فسخ کر کے عمرہ بنا لینا
19 Hadith
13
اس امر کا بیان کہ حج تمتع کرنے والا کس وقت احرام باندھے، لوگ کس وقت منیٰ کو روانہ ہوں، وہاں کتنا عرصہ ٹھہریں اور منیٰ میں جاکر پہلے کونسی نماز پڑھی جائے؟
6 Hadith
14
منیٰ سے عرفہ کے لیے روانگی،عرفہ میں وقوف اور وہاں سے واپسی کے ابواب منیٰ سے روانگی کا وقت، وادیٔ نمرہ میں نزول اور عرفہ میں وقوف کے وقت کا بیان
2 Hadith
15
عرفہ کی طرف جاتے ہوئے تلبیہ اور تکبیر کہنے کا بیان
3 Hadith
16
وقوفِ عرفہ کے واجب ہونے اور اس کے وقت اور عرفہ کے سارے مقام کا جائے وقوف ہونے کا بیان
7 Hadith
17
عرفہ میں سواری پر وقوف کرنے اور وہاں خطبہ دینے اور دعاکرنے کا بیان
7 Hadith
18
عرفہ سے مزدلفہ کی طرف روانگی کا وقت اور عرفہ اور مزدلفہ کے درمیان اترنے کا بیان
9 Hadith
19
عرفہ سے مزدلفہ کو جاتے وقت نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا لوگوں کو سکون سے چلنے کا حکم دینے کا بیان
3 Hadith
20
مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازوں کو جمع کرنے اور وہاں رات بسر کرنے کا بیان
9 Hadith
21
مشعرِ حرام یعنی مزدلفہ میں وقوف کرنے اور اس کے بعد جمرہ عقبہ کی رمی کرنے تک کے مسائل کا بیان مزدلفہ میں وقوف، اس کے آداب، وہاں سے منی کی طرف روانگی کے وقت، اور جمرۂ عقبہ کی رمی کرنے تک تلبیہ جاری رکھنے کا بیان
8 Hadith
22
مزدلفہ سے منی کی طرف جاتے وقت سکینت کا حکم دینے اور وادیٔ محسر سے تیزی سے گزرنے کا بیان
4 Hadith
23
اس امر کا بیان کہ کمزور اور ضعیف خواتین کو رش سے پہلے پہلے مزدلفہ سے منیٰ کو روانہ کیا جاسکتا ہے
8 Hadith
24
جمرۂ عقبہ کی رمی سے یوم النحرکے آخر تک کے مناسک سے متعلقہ ابواب رمی جمار کی مشروعیت کا سبب اور ان کا حکم اورکنکریوں کی تعداد اور ان کے حجم کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ یہ کنکریاں کہاں سے اٹھائی جائیں
4 Hadith
25
یوم نحریعنی دس ذوالحجہ کوجمرۂ عقبہ کی رمی کے وقت کا بیان
7 Hadith
26
وادی کے درمیان کھڑے ہو کر جمرۂ عقبہ کی رمی کرنے، رمی کی کیفیت اور اس وقت کی دعا کا بیان
5 Hadith
27
جمرۂ عقبہ کی رمی کے لیے سوار ہو کر جانے اور باقی دنوں میں پیدل چل کر جانے کے مستحب ہونے کا بیان
6 Hadith
28
جمرۂ عقبہ کی رمی کے بعد حاجی کے حلال ہو جانے اور اس کے بعد دوسرے افعال کا بیان
4 Hadith
29
قربانی کرنا اور بال منڈوانا یا کترنا
7 Hadith
30
تراشنے کی بہ نسبت بالوں کو مونڈنے کی فضیلت کا بیان
11 Hadith
31
یوم النحر یعنی دس ذوالحجہ کو منی سے طواف کے لیے لوٹنا اور اسی کو طوافِ افاضہ اور طوافِ زیارت کہنے اور شام تک یہ طواف نہ کر سکنے والے کے حکم کا بیان
6 Hadith
32
دس ذوالحجہ کو قربانی، حجامت، رمی اور طواف افاضہ میں تقدیم و تاخیر کے جائز ہو نے کا بیان
6 Hadith
33
یوم النحر یعنی دس ذوالحجہ کو منیٰ میں خطبہ کا بیان
6 Hadith
34
منیٰ کی راتیں منیٰ میں بسر کرنے، ان دنوں میں جمروں کی رمی کرنے اور کچھ دوسرے امور کا بیان یوم النحر یعنی دس ذوالحجہ کے بعد والے دنوں میں کنکریاں مارنے کے وقت اور اس کے آداب کا بیان
5 Hadith
35
اس امر کا بیان کہ اونٹوں کے چرواہوں کے لئے دو دنوں کی رمی ایک دن میں کر لینا اور ضرورت مند لوگوں کا منی کی راتیں مکہ میں گزار لینا جائز ہے
3 Hadith
36
منیٰ میں نمازوں کو قصر کرکے ادا کرنے اور ان دنوں میں روزہ کے ناجائز ہونے کا بیان
3 Hadith
37
ایام تشریق کے وسط میں خطبہ دینے کا بیان
3 Hadith
38
منیٰ سے واپسی پر وادیٔ محصّب میں ٹھہرنے کا بیان
8 Hadith
39
مکہ مکرمہ سے ہجرت کر جانے والا آدمی مناسکِ حج کی ادائیگی کے بعد کتنا عرصہ وہاں قیام کرسکتا ہے؟
1 Hadith
40
طوافِ وداع کی مشروعیت اور حائضہ سے اس کے ساقط ہونے اورملتزم کے پاس دعا کرنے کا بیان طوافِ وِداع: …وہ طواف جو حج سے فراغت کے بعد مکہ مکرمہ سے رخصت ہوتے وقت کیا جاتا ہے۔
5 Hadith
No chapter matched that.