مسنداحمد

Musnad Ahmad

حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان

وقوفِ عرفہ کے واجب ہونے اور اس کے وقت اور عرفہ کے سارے مقام کا جائے وقوف ہونے کا بیان

۔ (۴۴۴۱) عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ یَعْمَرَ الدِّیْلِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: شَہِدْتُّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ وَاقِفٌ بِعَرَفَۃَ وَأَتَاہُ نَاسٌ مِنْ أَھْلِ نَجْدٍ، فَقَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! کَیْفَ الْحَجُّ؟ فَقَالَ: ((اَلْحَجُّ عَرَفَۃُ، فَمَنْ جَائَ قَبْلَ صَلَاۃِ الْفَجْرِ مِنْ لَیْلَۃِ جَمْعٍ، فَقَدْ تَمَّ حَجُّہُ، وَأَیَّامُ مِنًی ثَلَاثَۃُ أَیَّامٍ، {فَمَنْ تَعَجَّلَ فِییَوْمَیْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَیْہِ وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَیْہِ} ثُمَّ أَرْدَفَ رَجُلًا خَلْفَہُ فَصَارَ یُنَادِی بِہِنَّ۔ (مسند احمد: ۱۸۹۸۱)

۔ سیدنا عبدالرحمن بن یعمردیلی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عرفہ میں وقوف کیے ہوئے تھے، میں بھی وہاں موجود تھا، اسی دوران نجد کے کچھ لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ٍانہوں نے پوچھا:اے اللہ کے رسول!حج کیسے ہوتا ہے؟آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:حج عرفہ کا نام ہے، جو آدمی مزدلفہ والی رات کو نمازِ فجر سے پہلے پہلے عرفہ پہنچ جائے، اس کا حج مکمل ہے اور حج کے بعد منیٰ میں تین دن گزارنے ہوتے ہیں، ارشادِ باری تعالی ہے: {فَمَنْ تَعَجَّلَ فِییَوْمَیْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَیْہِ وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَیْہِ} (جو آدمیجلدی کرتے ہوئے دو دنوں کے بعد چلاجائے، اس پر کوئی گناہ نہیں اور جو کوئی ٹھہرارہے (اور تین دن پورے کرے) اس پربھی کوئی حرج نہیں)۔ اس کے بعد آپ نے ایک آدمی کو سواری پر اپنے پیچھے سوار کیا، وہ ان مسائل کو پکار پکار کر بیان کرتا جارہا تھا۔

۔ (۴۴۴۲) عَنْ عُرْوَہَ بْنِ مُضَرِّسِ بْنِ أَوْسِ بْنِ حَارِثَۃَ بْنِ لَامٍٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ حَجَّ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَمْ یُدْرِکِ النَّاسَ إِلَّا لَیْلًا وَھُوَ بِجَمْعٍ،فَانْطَلَقَ إِلٰی عَرَفَاتٍ فَأَفَاضَ مِنْہَا، ثُمَّ رَجَعَ فَأَتٰی جَمْعًا، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَتْعَبْتُ نَفْسِی وَأَنْصَبْتُ رَاحِلَتِی، فَہَلْ لِیْ مِنْ حَجِّ؟ فَقَالَ: ((مَنْ صَلّٰی مَعَنَا صَلَاۃَ الْغَدَاۃِ بِجَمْعٍ،ووَقَفَ مَعَنَا حَتّٰی نُفِیْضَ وَقَدْ أَفَاضَ قَبْلَ ذٰلِکَ مِنْ عَرَفَاتٍ لَیْلًا أَوْ نَہَارًا فَقَدْ تَمَّ حَجُّہُ، وَقَضٰی تَفَثَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۶۳۱۰)

۔ سیدنا عروہ بن مضرس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ اس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عہد میں حج کیا، وہ رات کو پہنچا تھا، اس وقت لوگ مزدلفہ میں تھے، وہ عرفات چلا گیا، پھروہاں سے واپس مزدلفہ آگیا اور کہا: اے اللہ کے رسول!میں نے اپنے آپ کو اور اپنی سواری کو خوب مشقت میں ڈالا ہے، کیا میرا حج ہوگیا ہے؟آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے ہمارے ساتھ مزدلفہ میں نماز فجر پڑھی اور پھر ہماری روانگی تک یہیں وقوف کیااور اس سے قبل وہ دن یا رات کے کسی حصہ میںعرفات سے ہوآیا ہو تو اس کا حج مکمل ہے اور اس نے اپنی میل کچیل دور کر لی ہے۔

۔ (۴۴۴۳) (مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: أَتَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ بِجَمْعٍ فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ جِئْتُکَ مِنْ جَبَلَیْ طَیِّیئٍ أَتْعَبْتُ نَفْسِی،…۔ الْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۱۶۳۰۹)

۔ (دوسری سند)سیدنا عروہ بن مضرس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مزدلفہ میں تھے، اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں طی کے دو پہاڑوں سے سفر کرکے آپ کی خدمت میں پہنچا ہوںاور میں نے اپنے آپ کو تھکا دیا ہے …

۔ (۴۴۴۴) عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَفَ بِعَرْفَۃَ وَھُوَ مُرْدِفٌ أُسَامَۃَ بْنَ زَیْدٍ فَقَالَ: ((ھٰذَا الْمَوْقِفُ، وَکُلُّ عَرَفَۃَ مَوْقِفٌ)) (مسند احمد: ۶۱۳)

۔ سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عرفہ میں وقوف کیا اوراس وقت سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے سواری پر سوار تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ جائے وقوف ہے اور سارا عرفہ ٹھہرنے کی جگہ ہے۔

۔ (۴۴۴۵) عَنْ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((کُلُّ عَرَفَاتٍ مَوْقِفٌ، وَارْفَعُوْا عَنْ بَطْنِ عُرَنَۃَ، وَکُلُّ مُزْدَلِفَۃَ مَوْقِفٌ، وَارْفَعُوْا عَنْ مُحَسِّرٍ، وَکُلُّ فِجَاجِ مِنًی مَنْحَرٌ، وَکُلُّ أَیَّامِ التَّشْرِیْقِ ذَبْحٌ۔)) (مسند احمد: ۱۶۸۷۲)

۔ سیدنا جبیر بن مطعم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سارا میدانِ عرفات وقوف کی جگہ ہے، البتہ تم وادیٔ عرنہ سے ہٹ کر رہو، اسی طرح سارامزدلفہ جائے وقوف ہے اور تم وادیٔ محسر سے دور رہو اورمنیٰ کے تمام راستے قربانی کی جگہ ہیں اور تشریق کے تمام ایام قربانی کے دن ہیں۔

۔ (۴۴۴۶) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَمْرٍو، (یَعْنِی ابْنَ دِیْنَارٍ)عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ صَفْوَانَ عَنْ یَزِیْدَ بْنِ شَیْبَانَ قَالَ: أَتَانَا ابْنُ مِرْبَعٍ الْأَنْصَارِیُّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَنَحْنُ فِی مَکَانٍ مِنَ الْمَوْقِفِ بَعِیْدٍ، فَقَالَ: إِنِّی رَسُوْلُ رَسُوْلِ اللّٰہِ إِلَیْکُمْ،یَقُوْلُ: ((کُوْنُوْا عَلٰی مَشَاعِرِکُمْ ھٰذِہِ، فَإِنَّکُمْ عَلٰی إِرْثٍ مِنْ إِرْثِ إِبْرَاھِیْمَ۔)) لِمِکَانٍ تَبَاعَدَہُ عَمْرٌو۔ (مسند احمد: ۱۷۳۶۵)

۔ یزید بن شیبان کہتے ہیں: سیدنا ابن مربع انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہمارے پاس تشریف لائے، جبکہ ہم موقف سے دور ایک مقام میں تھے، اور انہوں نے کہا: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا تمہاری طرف قاصد بن کر آیا ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرما رہے ہیں کہ تم اپنی اسی جگہ پر ٹھہرے رہو، تم ابراہیم علیہ السلام کی میراث پر ہی ہو۔ یہ فرمان اس جگہ کے بارے میں تھا، جس کو عمرو دور سمجھ رہے تھے۔

۔ (۴۴۴۷) عَنْ سُفْیَانَ عَنْ عَمْرٍو عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ: أَضْلَلْتُ بَعِیْرًا لِی بِعَرَفَۃَ فَذَھَبْتُ أَطْلُبُہُ، فَإِذَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاقِفٌ، قُلْتُ: ھٰذَا مِنَ الْحُمْسِ، مَاشَأْنُہُ ھَاھُنَا۔ (مسند احمد: ۱۶۸۵۷)

۔ سیدنا جبیر بن مطعم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: عرفہ میں میرا اونٹ گم ہوگیاتھا، میں اسے تلاش کررہا تھا کہ میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو عرفہ میں وقوف کیے ہوئے دیکھا اور کہا: یہ تو قریشی ہیں، ان کا یہاں کیا کام ہے؟