TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

عرفہ میں سواری پر وقوف کرنے اور وہاں خطبہ دینے اور دعاکرنے کا بیان - عرفہ میں سواری پر وقوف کرنے اور وہاں خطبہ دینے اور دعاکرنے کا بیان - حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 17 of حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 17 of 40 · 7 Hadith
۔ (۴۴۴۸) عَنْ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَبْلَ أَنْ یُنْزَلَ عَلَیْہِ، وَإِنَّہُ لَوَاقِفٌ عَلٰی بَعِیْرٍ لَہُ بِعَرَفَاتٍ مَعَ النَّاسِ حَتَّییَدْفَعَ مَعَہُمْ مِنْہَا تَوْفِیْقًا مِنَ اللّٰہِ لَہُ۔ (مسند احمد: ۱۶۸۷۹)
۔ سیدنا جبیر بن مطعم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو قبل از بعثت لوگوںکے ساتھ عرفات میں دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وہاں وقوف کر رہے تھے،یہاں تک کہ آپ اللہ تعالی کی توفیق سے لوگوں کے ساتھ ہی واپس ہوئے۔
Takhreej
(۴۴۴۸) تخریج: اسنادہ حسن ۔ أخرجہ ابن خزیمۃ: ۳۰۵۷، والحاکم: ۱/ ۴۶۴، والطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۱۵۷۷، ۱۵۷۸(انظر: ۱۶۷۵۷)
Explanation
فوائد:… نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نزول وحی سے قبل بھی اپنی قوم کی عادت کی مخالفت کی اور عام لوگوں کے ساتھ عرفہ میں وقوف کیا،یہ اللہ تعالی کی توفیق سے ہوا، پھر جب دین اسلام کا نزول ہوا تو اللہ تعالی نے قریشیوں کو حکم دیا کہ وہ بھی عام لوگوں کی طرح عرفہ سے واپس لوٹیں۔ اللہ تعالی کے فرمان {ثُمَّ اَفِیْضُوْا مِنْ حَیْثُ اَفَاضَ النَّاسُ} میں یہی حکم دیا جا رہا ہے۔ اگرچہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا عرفات میں جانا اور وہاں سواری پر وقوف کرنا بعثت سے پہلے کا واقعہ ہے، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اللہ تعالی کی طرف سے خاص توفیق حاصل تھی اور اللہ تعالی نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اسی عمل پر برقرار رکھنا تھا، بہرحال حجۃ الوداع کے موقع پر بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سواری پر وقوف کیا اور یہی عمل ہمارے لیے حجت ہے۔
4448
Sahih
۔ (۴۴۴۹) عَنِ الشَّرِیْدِ بْنِ سُوَیْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: أَشْہَدُ لَوَقَفْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِعَرَفَاتٍ، قَالَ: فَمَا مَسَّتْ قَدَمَاہُ الْأَرْضَ حَتّٰی أَتٰی جَمْعًا۔ (مسند احمد: ۱۹۶۹۴)
۔ سیدنا شرید بن سوید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہں: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ عرفات میں وقوف کیا، مزدلفہ آنے تک آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قدم مبارک زمین کو نہ لگے تھے،( یعنی آپ سواری پر سوار تھے)۔
Takhreej
(۴۴۴۹) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم ۔ أخرجہ ابوداود (انظر: ۱۹۴۶۵)
4449
Sahih
۔ (۴۴۵۰) عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ نُبَیْطٍ عَنْ أَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَکَانَ قَدْ حَجَّ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: رَأَیْتُہُیَخْطُبُیَوْمَ عَرَفَۃَ عَلٰی بَعِیْرِہِ (وَفِی لَفْظٍ:) رَأَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَخْطُبُ عَشِیَّۃَ عَرَفَۃَ عَلٰی جَمَلٍ أَحْمَرَ۔ (مسند احمد: ۱۸۹۲۸)
۔ سیدنا نبیط ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ حج ادا کیا تھا، وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو عرفہ کے دن اونٹ پر خطبہ ارشاد فرماتے دیکھاتھا، ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو عرفہ کے دن بعد از زوال ایک سرخ اونٹ پر سوار ہو کر خطبہ دیتے دیکھا تھا۔
Takhreej
(۴۴۵۰) تخریج: حدیث صحیح، وھذا اسناد مضطرب ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۱۲۸۶، والنسائی: ۵/ ۲۵۳(انظر: ۱۸۷۲۱)
Explanation
فوائد:… ’’عَشِیَّۃ‘‘ کا اطلاق زوال سے غروب آفتاب کے وقت تک ہوتا ہے۔ سنن نسائی کی روایت میں ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ خطبہ (ظہر کی) نماز سے پہلے دیا تھا، صحیح مسلم کی روایت کردہ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌کی حدیث میں یہی بات بیان کی گئی ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز سے پہلے خطبہ ارشاد فرمایا تھا۔
4450
Sahih
۔ (۴۴۵۱) عَنْ أَبِی مَالِکٍ الْأَشْجَعِیِّ حَدَّثَنِی نُبَیْطُ بْنُ شُرَیْطٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: إِنِّی لَرَدِیْفُ أَبِی فِیْ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ، إِذْ تَکَلَّمَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُمْتُ عَلٰی عَجُزِ الرَّاحِلَۃِ، فَوَضَعْتُ یَدِی عَلٰی عَاتِقِ أَبِی فَسَمِعْتُہُ یَقُوْلُ: ((أَیُّیَوْمٍ أَحْرَمُ؟)) قَالُوْا: ھٰذَا الْیَوْمُ؟ قَالَ: ((فَاَیُّ بَلَدٍ اَحْرَمُ؟)) قَالُوْا: ھٰذَا الْبَلَدُ، قَالَ: ((فَاَیُّ شَھْرٍ اَحْرَمُ؟)) قَالُوْا:ھٰذَا الشَّہْرُ، قَالَ: ((فَإِنَّ دِمَائَ کُمْ وَأَمْوَالَکُمْ عَلَیْکُمْ حَرَامٌ کَحُرْمَۃِیَوْمِکُمْ ھٰذَا فِیْ شَہْرِ کُمْ ھٰذَا فِیْ بَلَدِکُمْ ھٰذَا، ھَلْ بَلَّغْتُ؟)) قَالُوْا: نَعَمْ، قَالَ: ((اَللّٰہُمَّ اشْہَدْ، اَللّٰہُمَّ اشْہَدْ۔)) (مسند احمد: ۱۸۹۲۹)
۔ سیدنا نبیط بن شریط کہتے ہیں: میں حجۃ الوداع کے موقع پر اپنے والد کے ہمراہ سواری پر سوار تھا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خطبہ شروع فرما دیا،میں سواری کے پچھلے حصہ پر کھڑا ہوگیا، میں نے اپنا ہاتھ اپنے والد کے کندھے پر رکھ لیا، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: کون سادن زیادہ حرمت والا ہے؟ لوگوں نے کہا: آج کا دن۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کون سا شہر زیادہ حرمت والا ہے؟ لوگو ں نے کہا: یہ شہر۔آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کون سا مہینہ زیادہ حرمت والا ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ مہینہ۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارے خون اور مال ایک دوسرے پر اسی طرح احترام اور حرمت ہیں، جیسے آج کے دن کی،اس مہینے اور اس شہر میں حرمت ہے،لوگو !کیا میں نے اللہ کا پیغام تم تک پہنچا دیا ہے؟ لوگوں نے کہا:جی ہاں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! گواہ ہو جاؤ، اے اللہ! گواہ ہو جاؤ۔
Takhreej
(۴۴۵۱) تخریج: اسنادہ صحیح، وانظر الحدیث السابق (انظر: ۱۸۷۲۲)
Explanation
فوائد:… ’’اے اللہ! گواہ ہو جاؤ۔‘‘ یعنی اس بات پر گواہ ہو جاؤ کہ لوگ یہ اقرار کر رہے ہیں کہ میں (محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) نے اِن تک تیرا پیغام پہنچا دیا اور تیرا گواہ ہو جانا ہی کافی ہے۔ قارئین کرام! نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی حیات ِ مبارکہ کا یہ سب سے پہلا اور آخری بڑا اجتماع تھا، اس اجتماع کے موقع پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نبوت و رسالت کا مقصد پورا ہوتا ہوا نظر آ رہا تھا، جبکہ یہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بعثت والی زندگی کا پہلا اور آخری حج تھا، غورکریں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سب سے زیادہ حرمت والے دن میں، سب سے زیادہ حرمت والے شہر میں اور سب سے زیادہ حرمت والے مہینے میں خطاب کر رہے ہیں، حرمتوں پر حرمتیں سوار ہو رہی ہیں، لیکن تعلیم کس چیز کی دی جا رہی ہے کہ دوسرے انسان کی جان، مال اور عزت کا خیال رکھنا۔ کاش! امت ِ مسلمہ اس راز کو سمجھ جاتی اور انسانیت کی قدر ومنزلت کے تقاضے پورے کرنا شروع کر دیتی۔ حضرات! وہ تقاضے کیا ہیں؟یقینایہ اتنا طویل موضوع تو نہیں ہے، لیکن اس کو سمجھنے کے لیے اور اس کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے جس بہت بڑے شرعی مزاج کی ضرورت ہے، اس کا اِس زمانے میں شدید فقدان ہے۔ اپنی ذاتوں سمیت جتنے لوگوں سے ہمارا واسطہ پڑا، ان میں کوئی ایک شخص بھی ایسا نظر نہیں آیا جو احترامِ مسلمان کے تقاضے پورے کر رہا ہو، ہر شخص نے اپنی زندگی کے لیے چند ایک ناقص سی عبادات کا تعین کر رکھا ہے، جن کی بنا پر وہ اتنا کامل مسلمان بن گیا ہے کہ دوسرے ہر مسلمان کو ناقص سمجھتا ہے۔ برائے مہربانی! ان گزارشات کو مفروضہ جات مت سمجھیں،یہ حقائق ہیں، لیکن مصیبتیہ ہے کہ ہمارے مزاجوں کے اندر ان کو تسلیم کرنے کی صلاحیت ہی نہیں ہے۔ اس موقع ہم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ نماز، روزے، حج، زکوۃ اور دوسرے واجباتِ اسلام پر عمل کرنا آسان ہے، لیکن حقوق العباد کی ادائیگی بہت مشکل ہے، الا یہ کہ مزاج کو شریعت کی روشنی سے منوّر کر لیا جائے۔ سیاسی دھڑوں، مذہبی متعصب اور غیرمنصف گروہوں، خاندانی رقابتوں، ذاتیات کے بھوتوں اور قدیم دشمنیوں اور کِینوں کی وجہ ہم نے اسلام کی ٹنڈ منڈ سی شکل کو کامل اسلام سمجھ لیا ہے، آپ خود غور کریں کہ ایک آدمی والدین کا بھی نافرمان ہو، اپنی اولاد کے اسلامی حقوق بھی ادا نہ کر رہا ہو اور اس کے ساتھ ساتھ وہ بے نماز بھی ہو، انصاف سے بتائیں کہ ایسے بندے سے اسلام کی کون سی شِق پورے کرنے کی امید کی جا سکتی ہے، جبکہ محتاط اندازے کے مطابق ہمارے معاشرے کے (۹۳) فی صد لوگ ان جرائم میں مبتلا ہیں۔ آس مقام پر ہم صرف ایک مثال ذکر کرنے پر اکتفا کرتے ہیں: ایک آدمی اپنے خاندان کے ایک بزرگ کے ساتھ نمازِ عید ادا کر کے واپس آ رہا تھا، راستے میں رشتہ دار سیاسی مخالفوں کی عید گاہ پڑتی تھی، اللہ تعالی کاکرنا کہ جب وہ لوگ اپنے مخالفوں کی عید گاہ کے قریب پہنچے تو وہ بھی فارغ ہو کر باہر آنا شروع ہو گئے، اس آدمی نے اپنے بزرگ سے کہا کہ اِن لوگوں سے اب ٹاکرا تو ہو گیا ہے، اس لیے عید کی مناسبت سے ان کو مل لینا چاہیے، لیکن وہ جھٹ سے بولا: ہم کوئی بے غیرت ہیں؟ جبکہ وہ بزرگ حاجی صاحب بھی، حفظِ قرآن کی صفت سے بھی متصف تھے اور نمازوں کے بھی بڑے پابند تھے اور ان کو کافی سارا مذہبی بھی سمجھا جاتا تھا، لیکن خوشی کے موقع پر کسی مسلمان سے ملاقات کر لینا ان کے نزدیک بے غیرتی تھا۔ کئی آیات اور اَن گنت احادیث، جو ان لوگوں سے ملاقات کر لینے کا تقاضا کرتی تھیں، ان کا کیا بنے گا۔ لوگو! اپنی اصلاح کی طرف آؤ اور بزعم خود اپنے آپ کو بہت کچھ نہ سمجھ بیٹھو۔
4451
Sahih
۔ (۴۴۵۲) عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ نُبَیْطٍ الْأَشْجَعِیِّ أَنَّ أَبَاہُ قَدْ أَدْرَکَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَکَانَ رِدْفًا خَلْفَ أَبِیْہِ فِیْ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ، قَالَ: فَقُلْتُ: یَا أَبَتِ! أَرِنِیَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: قُمْ فَخُذْ بِوَاسِطَۃِ الرَّحْلِ، قَالَ: فَقُمْتُ، فَأَخَذْتُ بِوَاسِطَۃِ الرَّحْلِ، فَقَالَ: انْظُرْ إِلٰی صَاحِبِ الْأَحْمَرِ الَّذِیْیُؤْمِیئُ بِیَدِہِ، فِییَدِہِ الْقَضِیْبُ۔ (مسند احمد: ۱۸۹۳۱)
۔ سلمہ بن نبیط اشجعی کہتے ہیں: میرے باپ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پایاتھا، وہ حجۃ الوداع کے موقع پر اپنے باپ کے پیچھے سواری پر سوار تھے، وہ کہتے ہیں: میںنے کہا: ابا جان! آپ مجھے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تو دکھا دیں، انہوں نے کہا: پالان کا آسرالے کر کھڑے ہو جائو۔ جب میں پالان کا سہارا لے کر کھڑا ہوگیا، تو میرے والد نے کہا: وہ سرخ اونٹ پر ہاتھ میں چھڑی لئے جو شخصیت اشارہ کر رہی ہے (اور لوگوں سے ہم کلام ہے)، اس کو دیکھو، وہ اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہیں۔
Takhreej
(۴۴۵۲) تخریج: صحیح، أخرجہ الدارمی: ۱۶۰۸وانظر الحدیث السابق وقبلہ (انظر: ۱۸۷۲۴)
4452
Sahih
۔ (۴۴۵۳) عَنْ أَبِی سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: وَقَفَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِعَرَفَۃَ فَجَعَل یَدْعُوْا ھٰکَذَا،وَجَعَلَ ظَہْرَ کَفَّیْہِ مِمَّا یَلِیْ وَجْہَہُ، وَرَفَعَہُمَا فَوْقَ ثُنْدُوَتِہِ، وَأَسْفَلَ مِنْ مَنْکِبَیْہِ۔ (مسند احمد: ۱۱۸۲۸)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عرفہ میں وقوف کیا اورآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یوں دعاکی کہ آپ کی ہتھیلیوں کی پشت چہرے کی طرف تھی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہاتھوں کو یوں بلند کیا ہوا تھا کہ وہ پستان والی جگہ سے ذرا اوپر اور کندھوں سے ذرا نیچے تھے۔
Takhreej
(۴۴۵۳) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف بشر بن حرب الازدی ۔ أخرجہ الطحاوی فی ’’شرح معانی الآثار‘‘: ۲/ ۱۷۷ (انظر: ۱۱۸۰۶)
4453
Zaeef
۔ (۴۴۵۴) عَنْ عَمْرِوْ بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ: کَانَ أَکْثَرُ دُعَائِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ عَرَفَۃَ: ((لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ بِیَدِہِ الْخَیْرُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ)) (مسند احمد: ۶۹۶۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ عرفہ کے دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے زیادہ تریہ دعا پڑھی: لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ بِیَدِہِ الْخَیْرُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔
Takhreej
(۴۴۵۴) تخریج: حسن لغیرہ ۔ أخرجہ الترمذی: ۳۵۸۵ بلفظ: خیر الدعاء دعاء یوم عرفۃ، وخیر ما قلت انا والنبیون من قبلی: لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ، لہ الملک، ولہ الحمد، وھو علی کل شیء قدیر۔ (انظر: ۶۹۶۱)
Explanation
فوائد:… سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((اَفْضَلُ مَا قُلْتُ اَنَا وَالنَّبِیُّوْنَ عَشِیَّۃَ عَرَفَۃَ: لَااِلٰہَ اِلاَّاللّٰہُ وَحْدَہٗلَاشَرِیْکَ لَہٗ،لَہُالْمُلْکُوَلَہُالْحَمْدُ،وَھُوَعَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔)) …’’سب سے افضل کلمہ‘ جو میں نے اور مجھ سے قبل انبیاء نے عرفہ کی شام کو پڑھا‘ یہ ہے: ’’لَااِلٰہَ اِلاَّاللّٰہُ وَحْدَہٗلَاشَرِیْکَ لَہٗ،لَہُالْمُلْکُوَلَہُالْحَمْدُ،وَھُوَعَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔‘‘ (نہیں کوئی معبود برحق مگر اللہ‘ وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں‘ ساری بادشاہی اور ساری تعریف اسی کی ہے‘ اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔) (الطبرانی: ۱۳/۲) سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((مَا مِنْ یَوْمٍ اَکْثَرَ مِنْ اَنْ یُّعْتِقَ اللّٰہُ فِیْہِ عَبْدًا مِنَ النَّارِ مِنْ یَوْمِ عَرَفَۃَ، وَاِنَّہٗلَیَدْنُوْ ثُمَّ یُبَاھِیْ بِھِمُ الْمَلَائِکَۃَ فَیَقُوْلُ: مَا اَرَادَ ھٰؤُلَائِ۔)) …’’عرفہ کے دن کی بہ نسبت کوئی ایسا دن نہیں ہے، جس میں اللہ تعالی زیادہ لوگوں کو آگ سے آزاد کرتا ہو، وہ قریب ہوتا ہے اور پھر فرشتوں کے سامنے فخر کرتے ہوئے کہتا ہے: یہ لوگ کیا چاہتے ہیں۔‘‘ (صحیح مسلم) صحیح مسلم کی روایت کردہ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌والی طویل حدیث میں ہے: (ظہر و عصر کی ادائیگی کے بعد) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سوار ہوئے اور جائے وقوف میں پہنچ گئے اور وہاں اس طرح کھڑے ہوئے کہ آپ کی قصواء اونٹنی کا پیٹ (جبل رحمت کے نیچے پڑئی ہوئی) چٹانوں کی طرف تھا اور لوگوں کا مجمع آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وہاں قبلہ رخ ہوئے اور غروبِ آفتاب تک اسی طرح کھڑے رہے۔ احادیث نمبر (۴۴۶۵، ۴۴۶۶) سے ثابت ہو گا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وقوفِ عرفہ کے دوران ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے تھے۔ حجاج کرام کو چاہیے کہ وہ وقوفِ عرفات کے سلسلے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تمام سنتوں کا پاس ولحاظ رکھیں، مثلا: امام کا خطبہ سننا اور اس کے ساتھ باجماعت ظہر وعصر ادا کرنا، اگر مرکزی جماعت نہ مل سکے تو اپنے اپنے خیموں میں ان دو نمازوں کو اسی طریقے کے مطابق ادا کرنا، قبلہ رخ ہو کر وقوف کرنا، کثرت سے مخصوص اذکار کرنا، دوسرے اذکار بھی کیے جا سکتے ہیں، گفتگو اور لمبا چوڑا کھانے پینے میں وقت ضائع نہ کرنا۔ غور کریں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ظہر و عصر سے فارغ ہو کر غروب آفتاب تک مسلسل قبلہ رخ ہو کر وقوف کیا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سوار تھے۔ تنبیہ: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حجۃ الوداع کے موقع پر عرفہ والے دن جمعہ تھا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جمعہ ادا نہیں کیا، بلکہ نمازِ ظہر ادا کی تھی۔
4454
Sahih

Chapters

40
01
حج افراد کرنے والے کا طواف
3 Hadith
02
حج قران کرنے والے کا طواف
4 Hadith
03
حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان،یعنی وہ آدمی جو شروع میں صرف عمرے کا احرام باندھتا ہے
2 Hadith
04
اہل مکہ کے طواف اور طواف سے متعلقہ احکام و مسائل اور دورانِ طواف کلام کرنے کا بیان
3 Hadith
05
طواف اور استلام کے موقع پر کیا جانے والا ذکر، جاہلیت والے لوگ طواف میںکیا کہتے تھے اور دورانِ طواف کلام نہ کرنے کا مستحب ہونا، ان سب امور کا بیان
5 Hadith
06
طواف کی دورکعتوں اور ان کی قراء ت اور ان کے بعد حجراسود کے استلام کا بیان
5 Hadith
07
صفا مروہ کی سعی
3 Hadith
08
صفا مروہ کی سعی میں صفا سے ابتدا کرنے اور اس میں چلنے یا رمل کرنے کا بیان
6 Hadith
09
کسی حاجت کے پیش نظر سوار ہو کر صفا مروہ کی سعی کرنے کا بیان
2 Hadith
10
صفااور مروہ کے اوپر وقوف کرنے اور اس دوران اللہ تعالی کا ذکر کرنے کا بیان
3 Hadith
11
حج تمتع کرنے والے کو سعی اور بال منڈوانے یا کٹوانے کے بعد احرام کھول دینے کا حکم دینے کا بیان، الّا یہ کہ وہ قربانی لے کر آیا ہو
6 Hadith
12
حج کو فسخ کر کے عمرہ بنا لینا
19 Hadith
13
اس امر کا بیان کہ حج تمتع کرنے والا کس وقت احرام باندھے، لوگ کس وقت منیٰ کو روانہ ہوں، وہاں کتنا عرصہ ٹھہریں اور منیٰ میں جاکر پہلے کونسی نماز پڑھی جائے؟
6 Hadith
14
منیٰ سے عرفہ کے لیے روانگی،عرفہ میں وقوف اور وہاں سے واپسی کے ابواب منیٰ سے روانگی کا وقت، وادیٔ نمرہ میں نزول اور عرفہ میں وقوف کے وقت کا بیان
2 Hadith
15
عرفہ کی طرف جاتے ہوئے تلبیہ اور تکبیر کہنے کا بیان
3 Hadith
16
وقوفِ عرفہ کے واجب ہونے اور اس کے وقت اور عرفہ کے سارے مقام کا جائے وقوف ہونے کا بیان
7 Hadith
17
عرفہ میں سواری پر وقوف کرنے اور وہاں خطبہ دینے اور دعاکرنے کا بیان
7 Hadith
18
عرفہ سے مزدلفہ کی طرف روانگی کا وقت اور عرفہ اور مزدلفہ کے درمیان اترنے کا بیان
9 Hadith
19
عرفہ سے مزدلفہ کو جاتے وقت نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا لوگوں کو سکون سے چلنے کا حکم دینے کا بیان
3 Hadith
20
مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازوں کو جمع کرنے اور وہاں رات بسر کرنے کا بیان
9 Hadith
21
مشعرِ حرام یعنی مزدلفہ میں وقوف کرنے اور اس کے بعد جمرہ عقبہ کی رمی کرنے تک کے مسائل کا بیان مزدلفہ میں وقوف، اس کے آداب، وہاں سے منی کی طرف روانگی کے وقت، اور جمرۂ عقبہ کی رمی کرنے تک تلبیہ جاری رکھنے کا بیان
8 Hadith
22
مزدلفہ سے منی کی طرف جاتے وقت سکینت کا حکم دینے اور وادیٔ محسر سے تیزی سے گزرنے کا بیان
4 Hadith
23
اس امر کا بیان کہ کمزور اور ضعیف خواتین کو رش سے پہلے پہلے مزدلفہ سے منیٰ کو روانہ کیا جاسکتا ہے
8 Hadith
24
جمرۂ عقبہ کی رمی سے یوم النحرکے آخر تک کے مناسک سے متعلقہ ابواب رمی جمار کی مشروعیت کا سبب اور ان کا حکم اورکنکریوں کی تعداد اور ان کے حجم کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ یہ کنکریاں کہاں سے اٹھائی جائیں
4 Hadith
25
یوم نحریعنی دس ذوالحجہ کوجمرۂ عقبہ کی رمی کے وقت کا بیان
7 Hadith
26
وادی کے درمیان کھڑے ہو کر جمرۂ عقبہ کی رمی کرنے، رمی کی کیفیت اور اس وقت کی دعا کا بیان
5 Hadith
27
جمرۂ عقبہ کی رمی کے لیے سوار ہو کر جانے اور باقی دنوں میں پیدل چل کر جانے کے مستحب ہونے کا بیان
6 Hadith
28
جمرۂ عقبہ کی رمی کے بعد حاجی کے حلال ہو جانے اور اس کے بعد دوسرے افعال کا بیان
4 Hadith
29
قربانی کرنا اور بال منڈوانا یا کترنا
7 Hadith
30
تراشنے کی بہ نسبت بالوں کو مونڈنے کی فضیلت کا بیان
11 Hadith
31
یوم النحر یعنی دس ذوالحجہ کو منی سے طواف کے لیے لوٹنا اور اسی کو طوافِ افاضہ اور طوافِ زیارت کہنے اور شام تک یہ طواف نہ کر سکنے والے کے حکم کا بیان
6 Hadith
32
دس ذوالحجہ کو قربانی، حجامت، رمی اور طواف افاضہ میں تقدیم و تاخیر کے جائز ہو نے کا بیان
6 Hadith
33
یوم النحر یعنی دس ذوالحجہ کو منیٰ میں خطبہ کا بیان
6 Hadith
34
منیٰ کی راتیں منیٰ میں بسر کرنے، ان دنوں میں جمروں کی رمی کرنے اور کچھ دوسرے امور کا بیان یوم النحر یعنی دس ذوالحجہ کے بعد والے دنوں میں کنکریاں مارنے کے وقت اور اس کے آداب کا بیان
5 Hadith
35
اس امر کا بیان کہ اونٹوں کے چرواہوں کے لئے دو دنوں کی رمی ایک دن میں کر لینا اور ضرورت مند لوگوں کا منی کی راتیں مکہ میں گزار لینا جائز ہے
3 Hadith
36
منیٰ میں نمازوں کو قصر کرکے ادا کرنے اور ان دنوں میں روزہ کے ناجائز ہونے کا بیان
3 Hadith
37
ایام تشریق کے وسط میں خطبہ دینے کا بیان
3 Hadith
38
منیٰ سے واپسی پر وادیٔ محصّب میں ٹھہرنے کا بیان
8 Hadith
39
مکہ مکرمہ سے ہجرت کر جانے والا آدمی مناسکِ حج کی ادائیگی کے بعد کتنا عرصہ وہاں قیام کرسکتا ہے؟
1 Hadith
40
طوافِ وداع کی مشروعیت اور حائضہ سے اس کے ساقط ہونے اورملتزم کے پاس دعا کرنے کا بیان طوافِ وِداع: …وہ طواف جو حج سے فراغت کے بعد مکہ مکرمہ سے رخصت ہوتے وقت کیا جاتا ہے۔
5 Hadith
No chapter matched that.