مسنداحمد

Musnad Ahmad

حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان

عرفہ میں سواری پر وقوف کرنے اور وہاں خطبہ دینے اور دعاکرنے کا بیان

۔ (۴۴۴۸) عَنْ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَبْلَ أَنْ یُنْزَلَ عَلَیْہِ، وَإِنَّہُ لَوَاقِفٌ عَلٰی بَعِیْرٍ لَہُ بِعَرَفَاتٍ مَعَ النَّاسِ حَتَّییَدْفَعَ مَعَہُمْ مِنْہَا تَوْفِیْقًا مِنَ اللّٰہِ لَہُ۔ (مسند احمد: ۱۶۸۷۹)

۔ سیدنا جبیر بن مطعم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو قبل از بعثت لوگوںکے ساتھ عرفات میں دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وہاں وقوف کر رہے تھے،یہاں تک کہ آپ اللہ تعالی کی توفیق سے لوگوں کے ساتھ ہی واپس ہوئے۔

۔ (۴۴۴۹) عَنِ الشَّرِیْدِ بْنِ سُوَیْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: أَشْہَدُ لَوَقَفْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِعَرَفَاتٍ، قَالَ: فَمَا مَسَّتْ قَدَمَاہُ الْأَرْضَ حَتّٰی أَتٰی جَمْعًا۔ (مسند احمد: ۱۹۶۹۴)

۔ سیدنا شرید بن سوید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہں: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ عرفات میں وقوف کیا، مزدلفہ آنے تک آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قدم مبارک زمین کو نہ لگے تھے،( یعنی آپ سواری پر سوار تھے)۔

۔ (۴۴۵۰) عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ نُبَیْطٍ عَنْ أَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَکَانَ قَدْ حَجَّ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: رَأَیْتُہُیَخْطُبُیَوْمَ عَرَفَۃَ عَلٰی بَعِیْرِہِ (وَفِی لَفْظٍ:) رَأَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَخْطُبُ عَشِیَّۃَ عَرَفَۃَ عَلٰی جَمَلٍ أَحْمَرَ۔ (مسند احمد: ۱۸۹۲۸)

۔ سیدنا نبیط ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ حج ادا کیا تھا، وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو عرفہ کے دن اونٹ پر خطبہ ارشاد فرماتے دیکھاتھا، ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو عرفہ کے دن بعد از زوال ایک سرخ اونٹ پر سوار ہو کر خطبہ دیتے دیکھا تھا۔

۔ (۴۴۵۱) عَنْ أَبِی مَالِکٍ الْأَشْجَعِیِّ حَدَّثَنِی نُبَیْطُ بْنُ شُرَیْطٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: إِنِّی لَرَدِیْفُ أَبِی فِیْ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ، إِذْ تَکَلَّمَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُمْتُ عَلٰی عَجُزِ الرَّاحِلَۃِ، فَوَضَعْتُ یَدِی عَلٰی عَاتِقِ أَبِی فَسَمِعْتُہُ یَقُوْلُ: ((أَیُّیَوْمٍ أَحْرَمُ؟)) قَالُوْا: ھٰذَا الْیَوْمُ؟ قَالَ: ((فَاَیُّ بَلَدٍ اَحْرَمُ؟)) قَالُوْا: ھٰذَا الْبَلَدُ، قَالَ: ((فَاَیُّ شَھْرٍ اَحْرَمُ؟)) قَالُوْا:ھٰذَا الشَّہْرُ، قَالَ: ((فَإِنَّ دِمَائَ کُمْ وَأَمْوَالَکُمْ عَلَیْکُمْ حَرَامٌ کَحُرْمَۃِیَوْمِکُمْ ھٰذَا فِیْ شَہْرِ کُمْ ھٰذَا فِیْ بَلَدِکُمْ ھٰذَا، ھَلْ بَلَّغْتُ؟)) قَالُوْا: نَعَمْ، قَالَ: ((اَللّٰہُمَّ اشْہَدْ، اَللّٰہُمَّ اشْہَدْ۔)) (مسند احمد: ۱۸۹۲۹)

۔ سیدنا نبیط بن شریط کہتے ہیں: میں حجۃ الوداع کے موقع پر اپنے والد کے ہمراہ سواری پر سوار تھا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خطبہ شروع فرما دیا،میں سواری کے پچھلے حصہ پر کھڑا ہوگیا، میں نے اپنا ہاتھ اپنے والد کے کندھے پر رکھ لیا، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: کون سادن زیادہ حرمت والا ہے؟ لوگوں نے کہا: آج کا دن۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کون سا شہر زیادہ حرمت والا ہے؟ لوگو ں نے کہا: یہ شہر۔آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کون سا مہینہ زیادہ حرمت والا ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ مہینہ۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارے خون اور مال ایک دوسرے پر اسی طرح احترام اور حرمت ہیں، جیسے آج کے دن کی،اس مہینے اور اس شہر میں حرمت ہے،لوگو !کیا میں نے اللہ کا پیغام تم تک پہنچا دیا ہے؟ لوگوں نے کہا:جی ہاں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! گواہ ہو جاؤ، اے اللہ! گواہ ہو جاؤ۔

۔ (۴۴۵۲) عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ نُبَیْطٍ الْأَشْجَعِیِّ أَنَّ أَبَاہُ قَدْ أَدْرَکَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَکَانَ رِدْفًا خَلْفَ أَبِیْہِ فِیْ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ، قَالَ: فَقُلْتُ: یَا أَبَتِ! أَرِنِیَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: قُمْ فَخُذْ بِوَاسِطَۃِ الرَّحْلِ، قَالَ: فَقُمْتُ، فَأَخَذْتُ بِوَاسِطَۃِ الرَّحْلِ، فَقَالَ: انْظُرْ إِلٰی صَاحِبِ الْأَحْمَرِ الَّذِیْیُؤْمِیئُ بِیَدِہِ، فِییَدِہِ الْقَضِیْبُ۔ (مسند احمد: ۱۸۹۳۱)

۔ سلمہ بن نبیط اشجعی کہتے ہیں: میرے باپ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پایاتھا، وہ حجۃ الوداع کے موقع پر اپنے باپ کے پیچھے سواری پر سوار تھے، وہ کہتے ہیں: میںنے کہا: ابا جان! آپ مجھے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تو دکھا دیں، انہوں نے کہا: پالان کا آسرالے کر کھڑے ہو جائو۔ جب میں پالان کا سہارا لے کر کھڑا ہوگیا، تو میرے والد نے کہا: وہ سرخ اونٹ پر ہاتھ میں چھڑی لئے جو شخصیت اشارہ کر رہی ہے (اور لوگوں سے ہم کلام ہے)، اس کو دیکھو، وہ اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہیں۔

۔ (۴۴۵۳) عَنْ أَبِی سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: وَقَفَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِعَرَفَۃَ فَجَعَل یَدْعُوْا ھٰکَذَا،وَجَعَلَ ظَہْرَ کَفَّیْہِ مِمَّا یَلِیْ وَجْہَہُ، وَرَفَعَہُمَا فَوْقَ ثُنْدُوَتِہِ، وَأَسْفَلَ مِنْ مَنْکِبَیْہِ۔ (مسند احمد: ۱۱۸۲۸)

۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عرفہ میں وقوف کیا اورآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یوں دعاکی کہ آپ کی ہتھیلیوں کی پشت چہرے کی طرف تھی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہاتھوں کو یوں بلند کیا ہوا تھا کہ وہ پستان والی جگہ سے ذرا اوپر اور کندھوں سے ذرا نیچے تھے۔

۔ (۴۴۵۴) عَنْ عَمْرِوْ بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ: کَانَ أَکْثَرُ دُعَائِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ عَرَفَۃَ: ((لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ بِیَدِہِ الْخَیْرُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ)) (مسند احمد: ۶۹۶۱)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ عرفہ کے دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے زیادہ تریہ دعا پڑھی: لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ بِیَدِہِ الْخَیْرُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔