TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

عرفہ سے مزدلفہ کی طرف روانگی کا وقت اور عرفہ اور مزدلفہ کے درمیان اترنے کا بیان - عرفہ سے مزدلفہ کی طرف روانگی کا وقت اور عرفہ اور مزدلفہ کے درمیان اترنے کا بیان - حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 18 of حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 18 of 40 · 9 Hadith
۔ (۴۴۵۵) عَنْ ھِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: کُنْتُ رَدِیْفَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَشِیَّۃَ عَرَفَۃَ، قَالَ: فَلَمَّا وَقَعَتِ الشَّمْسُ، دَفَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَلَمَّا سَمِعَ حَطْمَۃَ النَّاسِ خَلْفَہُ، قَالَ: ((رُوَیْدًا أَیُّہَا النَّاسُ! عَلَیْکُمُ السَّکِیْنَۃَ، فَإِنَّ الْبِرَّ لَیْسَ بِالْإِیْضَاعِ۔)) قَالَ: فَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا الْتَحَمَ عَلَیْہِ النَّاسُ أَعْنَقَ، وَإِذَا وَجَدَ فُرْجَۃً، نَصَّ، (وَفِیْ لَفْظٍ: وَالنَّصُّ فَوْقَ الْعَنَقِ حَتّٰی مَرَّ بِالشِّعْبِ الَّذِیْیَزْعُمُ کَثِیْرٌ مِنَ النَّاسِ أَنَّہُ صَلّٰی فِیْہِ)، (وَفِیْ لَفْظٍ: فَأَتَی النَّقْبَ الَّذِیْیَنْزِلُ الْأَمَرَائُ وَالْخُلَفَائُ) فَنَزَلَ بِہِ فَبَالَ، مَا یَقُوْلُ: أَھَرَاقَ الْمَائَ کَمَا یَقُوْلُوْنَہُ، ثُمَّ جِئْتُہُ بِالإِدَاوَۃِ، فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ قُلْتُ: الصَّلَاۃَیَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: فَقَالَ: ((اَلصَّلَاۃُ أَمَامَکَ)) قَالَ: فَرَکِبَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَمَا صَلّٰی حَتَّی أَتٰی الْمُزْدَلِفَۃَ فَنَزَلَ بِہَا، فَجَمَعَ بَیْنَ الصَّلَاتَیْنِ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَائِ الْآخِرَۃِ۔ (مسند احمد: ۲۲۱۰۳)
۔ سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں عرفہ کے دن پچھلے پہر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ سواری پر سوار تھا، جب سورج غروب ہو اتو رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وہاں سے روانہ ہوئے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں کا رش دیکھا اور شور سنا تو فرمایا: لوگو! آرام سے چلو، سکون کو لازم پکڑو، تیز چلنا اور مشقت اٹھانا کوئی نیکی نہیں۔ سیدنا اسامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جب لوگوں کا ہجوم ہو جاتا تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آہستہ چلتے اور جب راستہ خالی ہوتا تو ذرا تیز چلتے، ( عَنَق کی بہ نسبت نَصّ میں زیادہ تیزی ہوتی ہے،) یہاں تک کہ جب آپ اس گھاٹی سے گزرے جس کے متعلق اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس میں نماز اداکی تھی، دوسری روایت میں ہے: جب آپ اس گھاٹی پر پہنچے جہاں امرا ء اور خلفاء اترتے ہیں تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہاں اتر کر پیشاب کیا، راوی نے أَھْرَاقَ کے الفاظ نہیں کہے، پھر میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کیخدمت میں پانی کا برتن لے کر آیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وضو کیا۔ پھر میںنے کہا: اے اللہ کے رسول! نماز۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نماز آگے جاکر ادا کریں گے۔ سیدنا اسامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: پھر رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سوار ہو گئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس وقت نماز نہ پڑھی،یہا ں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مزدلفہ جاکر اترے اور آپ نے وہاں مغرب اور عشاء کو جمع کر کے ادا کیا۔
Takhreej
(۴۴۵۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۶۶۶، ومسلم: ۱۲۸۶(انظر: ۲۱۷۶۰)
Explanation
فوائد:… یہ گھاٹی مزدلفہ کے قریب ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہاں اونٹ بٹھا کر پیشاب کیا۔ اس حدیث کے بعض طرق میں ہے کہ خلفاء اس گھاٹی میں نماز مغرب پڑھتے تھے۔ اس سے مراد بنو امیہ کے خلفاء اور امراء ہیں، سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے ان سے موافقت نہیں کی تھی اور جنابِ عکرمہ نے ان پر انکار کیا تھا اور حافظ ابن حجر نے ان خلفاء کے اس عمل کو خلافِ سنت قرار دیا، سنت یہ ہے کہ دو نمازوںکو جمع کر کے مزدلفہ میں ادا کیا جائے۔
4455
Sahih
۔ (۴۴۵۶) عَنْ إِبْرَاھِیْمَ بْنِ عُقْبَۃَ أَخْبَرَنِیْ کُرَیْبٌ أَنَّہُ سَأَلَ أُسَامَۃَ بْنَ زَیْدٍ قَالَ: قُلْتُ: أَخْبِرْنِی کَیْفَ صَنَعْتُمْ عَشِیَّۃَ رَدِفْتَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: جِئْنَا الشِّعْبَ الَّذِیْیُنِیْخُ فِیْہِ النَّاسُ لِلْمَغْرِبِ فَأَنَاخَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَاقَتَہُ ثُمَّ بَالَ مَائً، وَمَا قَالَ: أَھْرَاقَ الْمَائَ، ثُمَّ دَعَا بِالْوَضُوْئِ، فَتَوَضَّأَ وُضُوْئً لَیْسَ بِالْبَالِغِ جِدًّا، قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَلصَّلَاۃَ، قَالَ: ((اَلصَّلَاۃُ أَمَامَکَ۔)) قَالَ: فَرَکِبَ حَتّٰی قَدِمَ الْمُزْدَلِفَۃَ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ، ثُمَّ أَنَاخَ النَّاسُ فِیْ مَنَازِلِہِمْ وَلَمْ یَحُلُّوْا حَتّٰی أَقَامَ الْعِشَائَ فَصَلّٰی ثُمَّ حَلَّ النَّاسُ، قَالَ: فَقُلْتُ: کَیْفَ فَعَلْتُمْ حِیْنَ أَصْبَحْتُمْ؟ قَالَ: رَدِفَہُ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ، وَانْطَلَقْتُ أَنَا فِی سُبَّاقِ قُرَیْشٍ عَلٰی رِجْلَیَّ۔ (مسند احمد: ۲۲۰۸۵)
۔ کریب نے سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سوال کیا کہ جس شام یعنی عرفہ کے دن شام کو جب تم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ سوار تھے تو تم نے کیا کیا تھا؟ سیدنا اسامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ہم اس گھاٹی پر پہنچے جہاں لوگ اتر کر مغرب کی نماز کے لئے ٹھہرتے ہیں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہا ں اپنی اونٹنی کو بٹھا کر پیشاب کیا ، راوی نے أَھْرَاقَ کے الفاظ نہیں کہے، ا اس کے بعد وضو کا پانی منگواکر مختصر سا وضو کیا۔ سیدنا اسامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! نماز، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نماز آگے جاکر پڑھیں گے۔ اس کے بعد آپ سوار ہوکر روانہ ہوئے اور مزدلفہ جاپہنچے۔ آپ نے وہاں مغرب کی نماز ادا کی، بعد ازاں لوگوں نے اپنی اپنی جگہ اونٹوں کو بٹھایا، لیکن ابھی تک انہوںنے سواریوںسے سامان نہیں کھولے تھے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عشاء کی نماز کھڑی کر دی،یہ نماز ادا کر کے لوگوںنے سواریوں سے سامان اتارے، کریب نے پوچھا: آپ لوگوں نے صبح کیا کچھ کیا تھا؟ سیدنا اسامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: سیدنا فضل بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس مرحلے میں آپ کے ساتھ سوار ہوئے تھے اور میں پہلے جانے والے قریشیوںکے ساتھ پیدل چلا گیا تھا۔
Takhreej
(۴۴۵۶) تخریج: أخرجہ بنحوہ تاما ومقطعا البخاری: ۱۵۴۳، ۱۵۴۴، ۱۶۶۹، ۱۶۸۶، ومسلم: ۱۲۸۰(انظر: ۲۱۷۴۲)
Explanation
فوائد:… صحیح بخاری میں اور مسند احمد کی ایک روایت میں ہے: ((فَجَائَ الْمُزْدَلِفَۃَ فَتَوَضَّأَ فَأَسْبَغَ ثُمَّ اُقِیْمَتِ الصَّلَاۃُ فَصَلّٰی الْمَغْرِبَ ثُمَّ اَنَاخَ کُلُّ اِنْسَانٍ بَعِیْرَہٗ مَنْزِلَہٗثُمَّاُقِیْمَتِ الصَّلَاۃُ فَصَلّٰی وَلَمْ یُصَلِّ بَیْنَھُمَا)) … آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مزدلفہ تشریف لائے اور اچھی طرح وضو کیا، پھر نماز کے لیے اقامت کہہ دی گئی، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نمازِ مغرب ادا کی، پھر ہر آدمی نے اپنی جگہ پر اپنا اونٹ بٹھایا، اتنے میں پھر اقامت کہہ دی گئی، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عشا کی نماز پڑھی اور ان دو نمازوں کے درمیان کوئی (نفلی) نماز نہیں پڑھی۔
4456
Sahih
۔ (۴۴۵۷) عَنْ أَنَسِ بْنِ سِیْرِیْنَ قَالَ: کُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ بِعَرَفَاتٍ فَلَمَّا کَانَ حِیْنَ رَاحَ رُحْتُ مَعَہُ، أَتَی الإِمَامُ فَصَلَّی مَعَہُ الْأُوْلٰی وَالْعَصْرَ، ثُمَّ وَقَفَ مَعَہُ وَأَنَا وَأَصْحَابٌ لِیْ حَتّٰی أَفَاضَ الإِمَامُ فَأَفْضََنا مَعَہُ حَتّٰی انْتَہَیْنَا إِلَی الْمَضِیْقِ دُوْنَ الْمَأْ زِمَیْنِ فَأَنَاخَ وَأَنَخْنَا وَنَحْنُ نَحْسَبُ أَنَّہُ یُرِیْدُ أَنْ یُصَلِّیَ، فَقَالَ غُلَامُہُ الَّذِیْیُمْسِکُ رَاحِلَتَہُ: إِنَّہُ لَیْسَیُرِیْدُ الصَّلَاۃَ، وَلٰکِنَّہُ ذَکَرَ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمَّا انْتَہٰی إِلٰی ھٰذَا الْمَکَانِ قَضٰی حَاجَتَہُ، فَہُوَ یُحِبُّ أَنْ یَقْضِیَ حَاجَتَہُ۔ (مسند احمد: ۶۱۵۱)
۔ انس بن سیرین کہتے ہیں: میں عرفات میں سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے ہمراہ تھا، جب روانگی کا وقت ہوا تو میں بھی ان کے ساتھ روانہ ہوا، جب امام آیا تو سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے اس کے ساتھ ظہر اور عصر کی نمازیں ادا کیں، پھر انہوں نے امام کے ساتھ وقوف کیا، میں اور میرے دوسرے احباب بھی ساتھ تھے، جب امام غروب آفتاب کے بعد عرفات سے روانہ ہوا تو ہم بھی ان کے ہمراہ چل پڑے، حتیٰ کہ جب ہم مَأْزِم نامی دو پہاڑوں کے درمیان ایک تنگ راستے میں پہنچ گئے تو سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے اپنی سواری کو بٹھا دیا،یہ دیکھ کر ہم نے بھی سواریاں بٹھادیں، ہم سمجھ رہے تھے کہ وہ نماز ادا کرنا چاہتے ہیں، لیکن ان کے جس غلام نے ان کی سواری کی رسی پکڑی ہوئی تھی، اس نے بتلایا کہ وہ یہاں نماز ادا نہیں کرنا چاہتے،ان کے اترنے کی وجہ یہ ہے کہ ان کو یہ بات یاد آئی ہے کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس مقام پر پہنچے تھے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قضائے حاجت کی تھی، اب سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھییہاں قضائے حاجت کرنا چاہتے ہیں۔
Takhreej
(۴۴۵۷) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم (انظر: ۶۱۵۱)
Explanation
فوائد:… عرفات اور مزدلفہ کے درمیان دو پہاڑ ہیں، ہر ایک کو ’’مَأْزِم‘‘کہتے ہیں، ان کے درمیان ایک تنگ راستہ ہے، یہ فقہاء اور محدثین کا خیال ہے، اہل لغت کہتے ہیں کہ دو پہاڑو ں کے درمیان تنگ جگہ کو ’’مَأْزِم‘‘کہتے ہیں، جبکہ جوہری نے یہ قول نقل کیا ہے کہ لڑائی کی جگہ کو ’’مَأْزِم‘‘کہتے ہیں، اسی سے اس جگہ کا نام ہی ’’مَأْزِمَیْن‘‘ رکھ دیا گیا جو عرفہ اور مزدلفہ کے درمیان ہے۔
4457
Sahih
۔ (۴۴۵۸) عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ یَزِیْدَ قَالَ: حَجَجْنَا مَعَ ابْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فِیْ خِلَافَۃِ عُثْمَانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: فَلَمَّا وَقَفْنَا بِعَرَفَۃَ، قَالَ: فَلَمَّا غَابَتِ الشَّمْسُ قَالَ ابْنُ مَسْعُوْدٍ: لَوْ أَنَّ أَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ أَفَاضَ الْآنَ کَانَ قَدْ أَصَابَ، قَالَ: فَلَا أَدْرِی أَکَلِمَۃُ ابْنِ مَسْعُوْدٍ کَانَتْ أَسْرَعَ أَوْ إِفَاضَۃُ عُثْمَانَ، قَالَ: فَاَوْضَعَ النَّاسُ، وَلَمْ یَزِدِ ابْنُ مَسْعُوْدٍ عَلَی الْعَنَقٍ، حَتّٰی أَتَیْنَا جَمْعًا فَصَلّٰی بِنَا ابْنُ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ الْمَغْرِبَ، ثُمَّ دَعَا بِعَشَائِۃِ ثُمَّ تَعَشّٰی، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّی الْعِشَائَ الآخِرَۃَ، ثُمَّ رَقَدَ حَتّٰی إِذَا طَلَعَ أَوَّلُ الْفَجْرِ، قَامَ فَصَلَّی الْغَدَاۃَ، قَالَ: فَقُلْتُ لَہُ: مَا کُنْتَ تُصَلِّی الصَّلَاۃَ ھٰذِہِ السَّاعَۃَ،قَالَ: وَکَانَ یُسْفِرُ بِالصَّلَاۃِ، قَالَ: إِنِّی رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ ھٰذَا الْیَوْمِ وَھٰذَا الْمَکَانِ یُصَلِّی ھٰذِہِ السَّاعَۃَ۔ (مسند احمد: ۳۸۹۳)
۔ عبدالرحمن بن یزید سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے عہد میں سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ حج ادا کیا، جب ہم نے عرفہ میں وقوف کیا اور سورج غروب ہو گیا تو سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اگر امیر المومنین ابھی روانہ ہوجائیں تو یہ روانگی سنت کے مطابق ہو گی۔ عبدالرحمن کہتے ہیں: میں نہیں جانتا کہ سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بات پہلے ہوئییا سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی روانگی پہلے شروع ہوئی، لوگوں نے تو بہت تیز چلنا شروع کر دیا، لیکن سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی رفتار ہلکی تیز رہی،یہاں تک کہ ہم مزدلفہ پہنچ گئے، سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی، بعد ازاں انہوںنے کھانا منگوا کر کھایا، اس کے بعد عشاء کی اقامت ہوئی اور انہوں نے یہ نماز پڑھائی، پھر وہ سو گئے، جب صبح صاوق ہوئی تو اٹھ کر نمازِ فجر ادا کی۔ عبدالرحمن کہتے ہیں: میں نے عرض کیا : آپ تو صبح کی نماز اس وقت یعنی اس قدر سویرے ادا نہیں کیا کرتے؟ وہ صبح کی نماز روشنی ہونے پر اداکیا کرتے تھے، انھوں نے جواب دیا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس دن اس مقام پر اسی وقت میں نماز فجر ادا کرتے دیکھا ہے۔
Takhreej
(۴۴۵۸) تخریج: حدیث صحیح ۔ أخرجہ بنحوہ البخاری: ۱۶۸۳(انظر: ۳۸۹۳)
4458
Sahih
۔ (۴۴۵۹) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: أَدْلَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنَ الْبَطْحَائِ لَیْلَۃَ النَّفْرِ إِدْلَاجًا۔ (مسند احمد: ۲۴۹۹۸)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے روانگی والی رات بطحاء سے کافی اندھیرا کیا (پھر سفر شروع کیا)۔
Takhreej
(۴۴۵۹) تخریج: اسنادہ قوی۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۳۰۶۸، وأخرجہ مطولا البخاری: ۱۵۶۱، ۱۷۶۲، ومسلم: ۱۲۱۱ (انظر: ۲۴۴۹۳)
Explanation
فوائد:… ’’رات کے شروع‘‘ سے مراد یہ ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم واقعی رات کے داخل ہوجانے کے بعد عرفہ سے روانہ ہوئے تھے۔ عرفہ سے مزدلفہ کو جاتے ہوئے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وادیٔ بطحاء میں چلے۔ وادی بطحاء سے (نہ کہ وادی بطحاء میں) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اندھیرا چھا جانے کے بعد چلے ہیں حدیث میں لیلۃ النفر (کوچ کرنے کی رات) سے تیرہ ذوالحج کی بعد والی رات مراد ہے جب آپ مدینہ واپس آنے کے لیے سفر پر روانہ ہوئے تھے۔
4459
Sahih
۔ (۴۴۶۰) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: لَمْ یَنْزِلْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَیْنَ عَرَفَاتٍ وَجَمْعٍ إِلَّا لِیُہْرِیْقَ الْمَائَ۔ (مسند احمد: ۲۴۶۴)
۔ حدیث سے مقصود عرفہ سے مزدلفہ کے لیے کوچ کرنے کی بات اگرچہ صاحب بلوغ الامانی نے بھی لکھی ہے اور اس کو سامنے رکھ کر انہوں نے زیر مطالعہ باب کے تحت اسے ذکر کیا ہے۔ لیکنیہ بات محل نظر ہے تفصیل ابن ماجہ کی شرح انجاز الحاجہ اور بخاری ومسلم کی مفصل روایات میں دیکھیں۔ (عبداللہ رفیق)
Takhreej
(۴۴۶۰) تخریج: حسن لغیرہ (انظر: ۲۴۶۴)
4460
Sahih
۔ (۴۴۶۱) وَعَنْہُ اَیْضًا أَنَّ أُسَامَۃَ بْنَ زَیْدٍ کَانَ رِدْفَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ عَرَفَۃَ فَدَخَلَ الشِّعْبَ فَنَزَلَ فَأَھْرَاقَ الْمَائَ ثُمَّ تَوَضَّأَ وَرَکِبَ وَلَمْ یُصَلِّ۔ (مسند احمد: ۲۲۶۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عرفات اور مزدلفہ کے درمیان صرف پیشاب کرنے کے لئے اترے تھے۔
Takhreej
(۴۴۶۱) تخریج: انظر الحدیث السابق
4461
Sahih
۔ (۴۴۶۲) عَنِ الْفََضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: لَمَّا أَفَاضَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَنَا مَعَہُ، فَبَلَغْنَا الشِّعْبَ نَزَلَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ رَکِبْنَا حَتّٰی جِئْنَا الْمُزْدَلِفَۃَ۔ (مسند احمد: ۱۸۰۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ عرفہ کے دن سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سواری پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے سوار تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم گھاٹی میں داخل ہوئے تو آپ نے اتر کر پیشاب کیا، اس کے بعد وضو کرکے دوبارہ سوار ہوکر چل پڑے اور وہاں نماز ادا نہیں کی۔
Takhreej
(۴۴۶۲) تخریج: اسنادہ صحیح (انظر: ۱۸۰۰)
Explanation
فوائد:… عرفہ سے مزدلفہ تک آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ردیف سیدنا اسامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌اور مزدلفہ سے مِنٰی تک سیدنا فضل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌تھے، یہ ممکن ہے کہ ’’ہم پھر سوار ہوئے‘‘ سے سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌کی مراد ان کی اپنی ذات نہ ہو ۔ان احادیث سے درج ذیل احکام ثابت ہوئے: غروب آفتاب کے بعد عرفات سے روانہ ہونا چاہیے۔ سکون اور وقار کے ساتھ چلنا چاہیے، جلد بازی اور کسی کو تکلیف دینے سے باز رہنا چاہیے، اگر کوئی کھلی جگہ مل جائے تو قدرے تیزی سے چل لینا چاہیے۔ مزدلفہ پہنچنے تک سفر کو جاری رکھنا چاہیے اور کسی عذر کے بغیر نہیں رکنا چاہیے۔نمازِ مغرب راستے میں ادا نہ کی جائے، بلکہ مزدلفہ پہنچ کر نمازِ عشاء کے ساتھ پڑھی جائے۔ ذکر و تلبیہ والا سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔
4462
Sahih
۔ (۴۴۶۳) عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دَفَعَ یَسِیْرُ الْعَنَقَ وَجَعَلَ النَّاسُ یَضْرِبُوْنَیَمِیْنًا وَشِمَالاً وَھُوَ یَلْتَفِتُ وَیَقُوْلُ: ((اَلسَّکِیْنَۃَ أَیُّہَا النَّاسُ!)) حَتّٰی جَائَ الْمُزْدَلِفَۃَ وَجَمَعَ بَیْنَ الصَّلَاتَیْنِ، ثُمَّ وَقَفَ بِالْمُزْدَلِفَۃِ فَوَقَفَ عَلٰی قُزَحَ، وَأَرْدَفَ الْفَضْلَ بْنَ الْعَبَّاسِ، وَقَالَ: ((ھٰذَا الْمَوْقِفُ وَکُلُّ الْمُزْدَلِفَۃِ مَوْقِفٌ۔)) (مسند احمد: ۶۱۳)
۔ سیدنا فضل بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عرفات سے روانہ ہوئے تو میں آپ کے ہمراہ تھا، جب ہم گھاٹی میں پہنچے تو آپ نے وہاں اتر کر پیشاب کیا اور وضو کیا اس کے بعد ہم پھر سوار ہو کر چل پڑے اور مزدلفہ پہنچ گئے۔
Takhreej
(۴۴۶۳) تخریج: حدیث حسن ۔ أخرجہ ابوداود: ۱۹۲۲، ۱۹۳۵، والترمذی: ۸۸۵(انظر: ۶۱۳)
4463
Sahih

Chapters

40
01
حج افراد کرنے والے کا طواف
3 Hadith
02
حج قران کرنے والے کا طواف
4 Hadith
03
حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان،یعنی وہ آدمی جو شروع میں صرف عمرے کا احرام باندھتا ہے
2 Hadith
04
اہل مکہ کے طواف اور طواف سے متعلقہ احکام و مسائل اور دورانِ طواف کلام کرنے کا بیان
3 Hadith
05
طواف اور استلام کے موقع پر کیا جانے والا ذکر، جاہلیت والے لوگ طواف میںکیا کہتے تھے اور دورانِ طواف کلام نہ کرنے کا مستحب ہونا، ان سب امور کا بیان
5 Hadith
06
طواف کی دورکعتوں اور ان کی قراء ت اور ان کے بعد حجراسود کے استلام کا بیان
5 Hadith
07
صفا مروہ کی سعی
3 Hadith
08
صفا مروہ کی سعی میں صفا سے ابتدا کرنے اور اس میں چلنے یا رمل کرنے کا بیان
6 Hadith
09
کسی حاجت کے پیش نظر سوار ہو کر صفا مروہ کی سعی کرنے کا بیان
2 Hadith
10
صفااور مروہ کے اوپر وقوف کرنے اور اس دوران اللہ تعالی کا ذکر کرنے کا بیان
3 Hadith
11
حج تمتع کرنے والے کو سعی اور بال منڈوانے یا کٹوانے کے بعد احرام کھول دینے کا حکم دینے کا بیان، الّا یہ کہ وہ قربانی لے کر آیا ہو
6 Hadith
12
حج کو فسخ کر کے عمرہ بنا لینا
19 Hadith
13
اس امر کا بیان کہ حج تمتع کرنے والا کس وقت احرام باندھے، لوگ کس وقت منیٰ کو روانہ ہوں، وہاں کتنا عرصہ ٹھہریں اور منیٰ میں جاکر پہلے کونسی نماز پڑھی جائے؟
6 Hadith
14
منیٰ سے عرفہ کے لیے روانگی،عرفہ میں وقوف اور وہاں سے واپسی کے ابواب منیٰ سے روانگی کا وقت، وادیٔ نمرہ میں نزول اور عرفہ میں وقوف کے وقت کا بیان
2 Hadith
15
عرفہ کی طرف جاتے ہوئے تلبیہ اور تکبیر کہنے کا بیان
3 Hadith
16
وقوفِ عرفہ کے واجب ہونے اور اس کے وقت اور عرفہ کے سارے مقام کا جائے وقوف ہونے کا بیان
7 Hadith
17
عرفہ میں سواری پر وقوف کرنے اور وہاں خطبہ دینے اور دعاکرنے کا بیان
7 Hadith
18
عرفہ سے مزدلفہ کی طرف روانگی کا وقت اور عرفہ اور مزدلفہ کے درمیان اترنے کا بیان
9 Hadith
19
عرفہ سے مزدلفہ کو جاتے وقت نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا لوگوں کو سکون سے چلنے کا حکم دینے کا بیان
3 Hadith
20
مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازوں کو جمع کرنے اور وہاں رات بسر کرنے کا بیان
9 Hadith
21
مشعرِ حرام یعنی مزدلفہ میں وقوف کرنے اور اس کے بعد جمرہ عقبہ کی رمی کرنے تک کے مسائل کا بیان مزدلفہ میں وقوف، اس کے آداب، وہاں سے منی کی طرف روانگی کے وقت، اور جمرۂ عقبہ کی رمی کرنے تک تلبیہ جاری رکھنے کا بیان
8 Hadith
22
مزدلفہ سے منی کی طرف جاتے وقت سکینت کا حکم دینے اور وادیٔ محسر سے تیزی سے گزرنے کا بیان
4 Hadith
23
اس امر کا بیان کہ کمزور اور ضعیف خواتین کو رش سے پہلے پہلے مزدلفہ سے منیٰ کو روانہ کیا جاسکتا ہے
8 Hadith
24
جمرۂ عقبہ کی رمی سے یوم النحرکے آخر تک کے مناسک سے متعلقہ ابواب رمی جمار کی مشروعیت کا سبب اور ان کا حکم اورکنکریوں کی تعداد اور ان کے حجم کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ یہ کنکریاں کہاں سے اٹھائی جائیں
4 Hadith
25
یوم نحریعنی دس ذوالحجہ کوجمرۂ عقبہ کی رمی کے وقت کا بیان
7 Hadith
26
وادی کے درمیان کھڑے ہو کر جمرۂ عقبہ کی رمی کرنے، رمی کی کیفیت اور اس وقت کی دعا کا بیان
5 Hadith
27
جمرۂ عقبہ کی رمی کے لیے سوار ہو کر جانے اور باقی دنوں میں پیدل چل کر جانے کے مستحب ہونے کا بیان
6 Hadith
28
جمرۂ عقبہ کی رمی کے بعد حاجی کے حلال ہو جانے اور اس کے بعد دوسرے افعال کا بیان
4 Hadith
29
قربانی کرنا اور بال منڈوانا یا کترنا
7 Hadith
30
تراشنے کی بہ نسبت بالوں کو مونڈنے کی فضیلت کا بیان
11 Hadith
31
یوم النحر یعنی دس ذوالحجہ کو منی سے طواف کے لیے لوٹنا اور اسی کو طوافِ افاضہ اور طوافِ زیارت کہنے اور شام تک یہ طواف نہ کر سکنے والے کے حکم کا بیان
6 Hadith
32
دس ذوالحجہ کو قربانی، حجامت، رمی اور طواف افاضہ میں تقدیم و تاخیر کے جائز ہو نے کا بیان
6 Hadith
33
یوم النحر یعنی دس ذوالحجہ کو منیٰ میں خطبہ کا بیان
6 Hadith
34
منیٰ کی راتیں منیٰ میں بسر کرنے، ان دنوں میں جمروں کی رمی کرنے اور کچھ دوسرے امور کا بیان یوم النحر یعنی دس ذوالحجہ کے بعد والے دنوں میں کنکریاں مارنے کے وقت اور اس کے آداب کا بیان
5 Hadith
35
اس امر کا بیان کہ اونٹوں کے چرواہوں کے لئے دو دنوں کی رمی ایک دن میں کر لینا اور ضرورت مند لوگوں کا منی کی راتیں مکہ میں گزار لینا جائز ہے
3 Hadith
36
منیٰ میں نمازوں کو قصر کرکے ادا کرنے اور ان دنوں میں روزہ کے ناجائز ہونے کا بیان
3 Hadith
37
ایام تشریق کے وسط میں خطبہ دینے کا بیان
3 Hadith
38
منیٰ سے واپسی پر وادیٔ محصّب میں ٹھہرنے کا بیان
8 Hadith
39
مکہ مکرمہ سے ہجرت کر جانے والا آدمی مناسکِ حج کی ادائیگی کے بعد کتنا عرصہ وہاں قیام کرسکتا ہے؟
1 Hadith
40
طوافِ وداع کی مشروعیت اور حائضہ سے اس کے ساقط ہونے اورملتزم کے پاس دعا کرنے کا بیان طوافِ وِداع: …وہ طواف جو حج سے فراغت کے بعد مکہ مکرمہ سے رخصت ہوتے وقت کیا جاتا ہے۔
5 Hadith
No chapter matched that.