۔ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں عرفہ کے دن پچھلے پہر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ سواری پر سوار تھا، جب سورج غروب ہو اتو رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں سے روانہ ہوئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کا رش دیکھا اور شور سنا تو فرمایا: لوگو! آرام سے چلو، سکون کو لازم پکڑو، تیز چلنا اور مشقت اٹھانا کوئی نیکی نہیں۔ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جب لوگوں کا ہجوم ہو جاتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آہستہ چلتے اور جب راستہ خالی ہوتا تو ذرا تیز چلتے، ( عَنَق کی بہ نسبت نَصّ میں زیادہ تیزی ہوتی ہے،) یہاں تک کہ جب آپ اس گھاٹی سے گزرے جس کے متعلق اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں نماز اداکی تھی، دوسری روایت میں ہے: جب آپ اس گھاٹی پر پہنچے جہاں امرا ء اور خلفاء اترتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں اتر کر پیشاب کیا، راوی نے أَھْرَاقَ کے الفاظ نہیں کہے، پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیخدمت میں پانی کا برتن لے کر آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو کیا۔ پھر میںنے کہا: اے اللہ کے رسول! نماز۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نماز آگے جاکر ادا کریں گے۔ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوار ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس وقت نماز نہ پڑھی،یہا ں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مزدلفہ جاکر اترے اور آپ نے وہاں مغرب اور عشاء کو جمع کر کے ادا کیا۔
۔ کریب نے سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ جس شام یعنی عرفہ کے دن شام کو جب تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سوار تھے تو تم نے کیا کیا تھا؟ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم اس گھاٹی پر پہنچے جہاں لوگ اتر کر مغرب کی نماز کے لئے ٹھہرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہا ں اپنی اونٹنی کو بٹھا کر پیشاب کیا ، راوی نے أَھْرَاقَ کے الفاظ نہیں کہے، ا اس کے بعد وضو کا پانی منگواکر مختصر سا وضو کیا۔ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! نماز، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نماز آگے جاکر پڑھیں گے۔ اس کے بعد آپ سوار ہوکر روانہ ہوئے اور مزدلفہ جاپہنچے۔ آپ نے وہاں مغرب کی نماز ادا کی، بعد ازاں لوگوں نے اپنی اپنی جگہ اونٹوں کو بٹھایا، لیکن ابھی تک انہوںنے سواریوںسے سامان نہیں کھولے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عشاء کی نماز کھڑی کر دی،یہ نماز ادا کر کے لوگوںنے سواریوں سے سامان اتارے، کریب نے پوچھا: آپ لوگوں نے صبح کیا کچھ کیا تھا؟ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ نے کہا: سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ اس مرحلے میں آپ کے ساتھ سوار ہوئے تھے اور میں پہلے جانے والے قریشیوںکے ساتھ پیدل چلا گیا تھا۔
۔ انس بن سیرین کہتے ہیں: میں عرفات میں سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ہمراہ تھا، جب روانگی کا وقت ہوا تو میں بھی ان کے ساتھ روانہ ہوا، جب امام آیا تو سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کے ساتھ ظہر اور عصر کی نمازیں ادا کیں، پھر انہوں نے امام کے ساتھ وقوف کیا، میں اور میرے دوسرے احباب بھی ساتھ تھے، جب امام غروب آفتاب کے بعد عرفات سے روانہ ہوا تو ہم بھی ان کے ہمراہ چل پڑے، حتیٰ کہ جب ہم مَأْزِم نامی دو پہاڑوں کے درمیان ایک تنگ راستے میں پہنچ گئے تو سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی سواری کو بٹھا دیا،یہ دیکھ کر ہم نے بھی سواریاں بٹھادیں، ہم سمجھ رہے تھے کہ وہ نماز ادا کرنا چاہتے ہیں، لیکن ان کے جس غلام نے ان کی سواری کی رسی پکڑی ہوئی تھی، اس نے بتلایا کہ وہ یہاں نماز ادا نہیں کرنا چاہتے،ان کے اترنے کی وجہ یہ ہے کہ ان کو یہ بات یاد آئی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس مقام پر پہنچے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قضائے حاجت کی تھی، اب سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ بھییہاں قضائے حاجت کرنا چاہتے ہیں۔
۔ عبدالرحمن بن یزید سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد میں سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج ادا کیا، جب ہم نے عرفہ میں وقوف کیا اور سورج غروب ہو گیا تو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر امیر المومنین ابھی روانہ ہوجائیں تو یہ روانگی سنت کے مطابق ہو گی۔ عبدالرحمن کہتے ہیں: میں نہیں جانتا کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی بات پہلے ہوئییا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی روانگی پہلے شروع ہوئی، لوگوں نے تو بہت تیز چلنا شروع کر دیا، لیکن سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی رفتار ہلکی تیز رہی،یہاں تک کہ ہم مزدلفہ پہنچ گئے، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی، بعد ازاں انہوںنے کھانا منگوا کر کھایا، اس کے بعد عشاء کی اقامت ہوئی اور انہوں نے یہ نماز پڑھائی، پھر وہ سو گئے، جب صبح صاوق ہوئی تو اٹھ کر نمازِ فجر ادا کی۔ عبدالرحمن کہتے ہیں: میں نے عرض کیا : آپ تو صبح کی نماز اس وقت یعنی اس قدر سویرے ادا نہیں کیا کرتے؟ وہ صبح کی نماز روشنی ہونے پر اداکیا کرتے تھے، انھوں نے جواب دیا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس دن اس مقام پر اسی وقت میں نماز فجر ادا کرتے دیکھا ہے۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روانگی والی رات بطحاء سے کافی اندھیرا کیا (پھر سفر شروع کیا)۔
۔ حدیث سے مقصود عرفہ سے مزدلفہ کے لیے کوچ کرنے کی بات اگرچہ صاحب بلوغ الامانی نے بھی لکھی ہے اور اس کو سامنے رکھ کر انہوں نے زیر مطالعہ باب کے تحت اسے ذکر کیا ہے۔ لیکنیہ بات محل نظر ہے تفصیل ابن ماجہ کی شرح انجاز الحاجہ اور بخاری ومسلم کی مفصل روایات میں دیکھیں۔ (عبداللہ رفیق)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عرفات اور مزدلفہ کے درمیان صرف پیشاب کرنے کے لئے اترے تھے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عرفہ کے دن سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سواری پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے سوار تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھاٹی میں داخل ہوئے تو آپ نے اتر کر پیشاب کیا، اس کے بعد وضو کرکے دوبارہ سوار ہوکر چل پڑے اور وہاں نماز ادا نہیں کی۔
۔ سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عرفات سے روانہ ہوئے تو میں آپ کے ہمراہ تھا، جب ہم گھاٹی میں پہنچے تو آپ نے وہاں اتر کر پیشاب کیا اور وضو کیا اس کے بعد ہم پھر سوار ہو کر چل پڑے اور مزدلفہ پہنچ گئے۔