مسنداحمد

Musnad Ahmad

حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان

عرفہ سے مزدلفہ کو جاتے وقت نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا لوگوں کو سکون سے چلنے کا حکم دینے کا بیان

۔ (۴۴۶۴) عَنْ مِقْسِمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما لَمَّا أَفَاضَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ عَرَفَۃَ تَسَارَعَ قَوْمٌ، فَقَالَ: ’’اِمْتَدُّوْا، وَسَدُّوْا لَیْسَ الْبِرُّ بِإِیْضَاعِ الْخَیْلِ، وَلَا الرِّکَابِ۔)) قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَمَا رَأَیْتُ رَافِعَۃًیَدَھَا تَعْدُوْ حَتَّی أَتَیْنَا جَمْعًا۔ (مسند احمد: ۲۰۹۹)

۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عرفہ سے روانہ ہوئے تو کچھ تیز رفتاری سے چلے، لوگ دائیں بائیں نکلے جارہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کی طرف متوجہ ہو کر ان کو فرما رہے تھے: لوگو! آرام سے چلو۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مزدلفہ میں پہنچ گئے، وہاں آکر دونوں نمازوں یعنی مغرب اور عشاء کو جمع کیا، اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مزدلفہ میں ٹھہرے رہے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قُزَح پہاڑ پر وقوف کیا اور روانہ ہوتے وقت سیدنا فضل بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اپنے پیچھے سواری پر بٹھا لیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے تو یہاں وقوف کیا ہوا ہے، لیکن سارا مزدلفہ جائے وقوف ہے۔

۔ (۴۴۶۵) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: أَفَاضَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ عَرَفَۃَ وَرِدْفُہُ أُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ، فَجَالَتْ بِہِ النَّاقَۃُ، وَھُوَ رَافِعٌ یَدَیْہِ، لَا تُجَاوِزَانِ رَأْسَہُ، فَسَارَ عَلٰی ھَیْئَتِہِ، حَتّٰی أَتٰی جَمْعًا، ثُمَّ أَفَاضَ الْغَدَ، وَرِدْفُہُ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ فَمَا زالَ یُلَبِّی حَتّٰی رَمٰی جَمْرَۃَ الْعَقَبَۃِ۔ (مسند احمد: ۱۹۸۶)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عرفہ سے روانہ ہوئے تو لوگوں نے جلد بازی کا مظاہرہ کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کھل کھل کر چلو اور سیدھے سیدھے چلو، گھوڑوں اور سواریوں کو بھگانا نیکی نہیں ہے۔ ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: اس کے بعد میں نے مزدلفہ پہنچنے تک کسی سواری کو نہیں دیکھا کہ اس نے دوڑتے ہوئے اپنی اگلی ٹانگوں کو اٹھایا ہو۔

۔ (۴۴۶۶) وَعَنْہُ أَیْضًا عَنِ الْفَضْلِ (بْنِ عَبَّاسٍ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ فَجَالَتْ بِہِ النَّاقَۃُ وَھُوَ وَاقِفٌ بِعَرَفَاتٍ قَبْلَ أَنْ یُفِیْضَ وَھُوَ رَافِعٌ یَدَیْہِ لَا تُجَاوِزَانِ رَأْسَہُ (وَفِیْہِ:) ثُمَّ أَفَاضَ مِنْ جَمْعٍ وَالْفَضْلُ رِدْفُہُ، قَالَ الْفَضْلُ: مَا زَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہِ وَصَحْبِہِ وَسَلَّمَ یُلَبِّیْ حَتّٰی رَمَی الْجَمْرَۃَ۔ (مسند احمد: ۱۸۱۶)

۔ سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب عرفہ سے روانہ ہوئے تو سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آپ کے پیچھے سواری پر سوار تھے، اونٹنی دوڑ پڑی، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس وقت ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے، تا ہم ہاتھ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سر سے بلند نہ تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مزدلفہ پہنچنے تک آرام سے چلتے رہے، پھر اگلے دن جب مزدلفہ سے روانہ ہوئے تو سیدنا فضل بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آپ کے پیچھے سوار تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جمرۂ عقبہ کی رمی کرنے تک تلبیہ پکارتے رہے۔