مسنداحمد

Musnad Ahmad

ہدی اور قربانی کے جانوروں کے مسائل

ہدی کے معیّن جانور کو تبدیل نہ کرنا، اگر وہ نہ پایا جائے، جبکہ وہ اونٹ ہو تو اس کے متبادل سات بکریاں ہوں گی

۔ (۴۶۱۴)۔ عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِیْہِ ، قَالَ: أَھْدٰی عُمَرُ بْنُ الْخَطَابِ بُخْتِیَّۃً ، أُعْطِيَ بِھَا ثَلَاثَمِئَۃِ دِیْنَارٍ، فَأَتَی رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ، أَھْدَیْتُ بُخْتِیَّۃَ لِيْ، أُعْطِیتُ بِھَا ثَلاثَمئَۃِ دِیْنَارٍ، فَأَنْحَرُھَا، أَوْ أَشْتَرِي بِثَمَنِھَا بُدْنًا؟ قَالَ: ((لا، وَ لٰکِنِ انْحَرْھَا إِیَّاھَا۔)) (مسند احمد: ۶۳۲۵)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے خراسانی اونٹ بطورِ ہدی بھیجا، لیکن جب ان کو تین سو دینار کی قیمت کی پیشکش کی گئی تو وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے اپنا ایک خراسانی اونٹ بطورِ ہدی بھیجا ہے اور اب مجھے اس کی قیمت میں تین سو دینار دیئے جا رہے ہیں، اب سوال یہ ہے کہ کیا میں اسی کو نحر کروں یا اس کی قیمت کا کوئی اور اونٹ خرید لوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، اسی کو نحر کر۔

۔ (۴۶۱۵)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ، أَنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَتَاہُ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنَّ عَلَيَّ بَدَنَۃً ، وَ أَنَا مُوسِرٌ لَھَا، وَلا أَجِدُھَا، فَأَشْتَرِیَھَا؟ فَأَمَرَہُ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یَبْتَاعَ سَبْعَ شِیَاہٍ، فَیَذْبَحَھُنَّ۔ (مسند احمد: ۲۸۳۹)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: مجھ پر ایک اونٹ ہے اور اب میں مالی طور پر اس کی گنجائش بھی رکھتا ہوں، لیکن وہ مجھے مل نہیں رہا، کہ میں اسے خرید لوں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو حکم دیا کہ سات بکریاں خرید کر ان کو ذبح کر دے۔