مسنداحمد

Musnad Ahmad

ہدی اور قربانی کے جانوروں کے مسائل

جانور کی اس عمر کا بیان جو قربانی میں کفایت کرتی ہے

۔ (۴۶۶۶)۔ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لا تَذْبَحُوا إِلاَّ مُسِنَّۃً إِلاَّ أَنْ تَعْسُرَ عَلَیْکُمْ فَتَذْبَحُوا جَذَعَۃً مِنَ الضَّأْنِ۔)) (مسند احمد: ۱۴۵۵۶)

۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم صرف دو دانتا جانور ہی ذبح کرو، ہاں اگر یہ جانور تم پر مشکل ہو جائے تو بھیڑ نسل کا جذعہ ذبح کر سکتے ہو۔

۔ (۴۶۶۷)۔ عَنْ أَبِيْ کِبَاشٍ قَالَ: جَلَبْتُ غَنَمًا ((جُذْعَانًا)) إِلَی الْمَدِیْنَۃِ فَکَسَدَتْ عَلَيَّ، فَلَقِیْتُ أَبَا ھُرَیْرَۃَ فَسَأَلْتُُہُ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((نِعْمَ، أَوْ نِعْمَتِ الأُضْحِیَّۃُ الْجَذَعُ مِنَ الضَّأْنِ۔)) قَالَ: فَانْتَھَبَھَا النَّاسُ۔ (مسند احمد: ۹۷۳۷)

۔ ابو کباش کہتے ہیں: میں بھیڑ نسل کے جذعہ جانور مدینہ میں لایا، لیکن میرا معاملہ تو مندا پڑ گیا،سو میں سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ملا اور ان سے سوال کیا، انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بھیڑ نسل کا جذعہ بہترین قربانی ہے۔ پھر تو لوگ مجھ پر ٹوٹ پڑے اور ان کو خریدنا شروع کر دیا۔

۔ (۴۶۶۸)۔ عَنْ بَعْجَۃَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہ، عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَسَمَ ضَحَایَا بَیْنَ أَصْحَابِہِ، فَأَصَابَ عُقْبَۃُ بْنُ عَامِرٍ جَذَعَۃً، فَسَأَلَ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْھَا؟ فَقَالَ: ((ضَحِّ بِھَا۔)) (مسند احمد: ۱۷۴۳۷)

۔ سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے صحابہ کے ما بین قربانی کے جانور تقسیم کیے، سیدنا عقبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو جذعہ جانور ملا، جب انھوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اس کی قربانی کر لو۔

۔ (۴۶۶۹)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِي الْخَیْرِ، عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَعْطَاہُ غَنَمًا فَقَسَمَھَا عَلَی أَصْحَابِہِ ضَحَایَا، فَبَقِيَ عَتُودٌ مِنْھَا، فَذَکَرَہُ لِرَسُوْلِ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((ضَحِّ بِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۴۷۹)

۔ (دوسری سند) سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو بکریاں دیں تاکہ وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ میں ان کو بطورِ قربانی تقسیم کریں، پس بکری کا ایک سال کا بچہ بچ گیا (جو دو دانتا نہیں تھا)، جب انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتلایا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اس کی قربانی کر لو۔

۔ (۴۶۷۰)۔ عَنْ زَیْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُھَنِيِّ، قَالَ: قَسَمَ رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِيْ أَصْحَابِہِ غَنَمَا لِلضَّحَایَا، فَأَعْطَانِي عَتُودًا جَذَعًا مِنَ الْمَعْزِ، قَالَ: فَجِئْتُہُ بِہِ فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہ، إِنَّہُ جَذَعٌ، قَالَ: ((ضَحِّ بِہِ۔)) فَضَحَّیْتُ بِہِ۔ (مسند احمد: ۲۲۰۳۲)

۔ سیدنا زید بن خالد جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قربانی کے لیے اپنے صحابہ کے درمیان بکریاں تقسیم کیں اور مجھے جذعہ بکری دی،میں اس کو لے کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! یہ تو جذعہ ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اس کی قربانی کر لو۔ پس میں نے اس کی قربانی کی۔

۔ (۴۶۷۱)۔ عَنْ عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ، عَنْ أَبِیْہِ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ مُزَیْنَۃَ، أَوْ جُھَیْنَۃَ، قَالَ: کَانَ أَصْحابُ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا کَانَ قَبْلَ الأَضْحَی بِیَوْمٍ، أَوْ بِیَوْمَیْنِ أَعْطَوْا جَذَعَیْنِ وَ أَخَذُوا ثَنِیًّا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ الْجَذَعَۃَ تُجْزِیُٔ مِمَّا تُجْزِیُٔ مِنْہُ الثَّنِیَّۃُ۔)) (مسند احمد: ۲۳۵۱۱)

۔ مزینہ یا جہینہ قبیلے کا ایک آدمی بیان کرتا ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ عید الاضحی سے ایک دو دن پہلے دو دو جذعے دے کر ایک ایک دوندا جانور لے رہے تھے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک جذعہ بھی اس چیز سے کفایت کرتا ہے، جس سے دو دانتا کفایت کرتا ہے۔

۔ (۴۶۷۳)۔ عَنْ أُمِّ بِلالٍ ابْنَۃِ ھِلَالٍ، عَنْ أَبِیْھَا، أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَجُوْزُ الْجَذَعُ مِنَ الضَّأْنِ أُضْحِیَّۃً۔)) (مسند احمد: ۲۷۶۱۳)

۔ سیدام بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اپنے باپ سیدنا ہلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بھیڑ نسل کے جذعہ کی قربانی درست ہے۔