مسنداحمد

Musnad Ahmad

ہدی اور قربانی کے جانوروں کے مسائل

اونٹ کا دس افراد کو، گائے کا سات افراد کو اور ایک بکری کا ایک گھر والوں کو بطورِ قربانی کفایت کرنا

۔ (۴۶۸۴)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: کُنَّا مَعَ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِي سَفَرٍ، فَحَضَرَ النَّحْرُ، فَذَبَحْنَا الْبَقَرَۃَ عَنْ سَبْعَۃٍ، وَ الْبَعِیْرَ عَنْ عَشَرَۃٍ۔ (مسند أحمد: ۲۴۸۴)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ سفر میں تھے کہ عید الاضحی کا موقع آگیا، پس ہم نے سات افراد کی طرف سے گائے اور دس افراد کی طرف اونٹ ذبح کیا۔

۔ (۴۶۸۵)۔ عَنْ أَبِيْ عَقِیْلٍ زُھْرَۃَ بْنِ مَعْبَدٍ التَّّیْمِيِّ، عَنْ جَدِّہِ عَبْدِ اللّٰہ بْنِ ھِشَامٍ۔ وَ کَانَ قَدْ أَدْرَکَ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَ ذَھَبَتْ بِِہٖ أُمُّہُ زَیْنَبُ ابْنَۃُ حُمَیْدٍ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! بَایِعْہُ۔ فَقَالَ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ھُوَ صَغِیْرٌ۔)) فَمَسَحَ رَأْسَہُ وَ دَعَا لَہُ، وَ کَانَ یُضَحِّي بِالشَّاۃِ الْوَاحِدَۃِ عَنْ جَمِیْعِ أَھْلِہِ۔ (مسند أحمد: ۱۸۲۱۰)

۔ سیدنا عبد اللہ بن ہشام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جنھوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پایا تھا اور وہ اس طرح کہ ان کی ماں سیدہ زینب بنت حمید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ان کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لے کر گئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! اس سے بیعت لو، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ تو چھوٹا ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور اس کے حق میں دعا کی، یہ صحابی بیان کرتا ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے تمام اہل کی طرف سے ایک بکری قربان کرتے تھے۔

۔ (۴۶۸۶)۔ عَنْ مِخْنَفِ بْنِ سُلَیْمٍ، قَالَ: وَ نَحْنُ مَعَ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَ ھُوَ وَاقِفٌ بِعَرَفَاتٍ، فَقَالَ: یَا أَیُّھَا النَّاسُ إِنَّ عَلٰی کُلِّ أَھْلِ بَیْتٍ (أَوْ عَلٰی کُلِّ أَھْلِ بَیْتٍ) فِي کُلِّ عَامٍ أَضْحَاۃً وَ عَتِیْرَۃً، قَالَ: تَدْرُوْنَ مَا الْعَتِیْرَۃُ؟۔ قَالَ ابْنُ عَوْنٍ: فَلا أَدْرِيْ مَا رَدُّوا۔ قَالَ: ھٰذِہِ الَّتِيْ یَقُوْلُ النَّاسُ: الرَّجَبِیَّۃُ۔ (مسند أحمد: ۱۸۰۴۸)

۔ سیدنا مخنف بن قیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول للہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عرفات میںوقوف کیا ہوا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے لوگو! ہر سال میں ہر گھر والوں پر قربانی اور عتیرہ ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: کیا تم جانتے ہو کہ عتیرہ کیا ہوتا ہے؟ ابن عون راوی کہتے ہیں: میں یہ نہیں جانتا کہ لوگوں نے اس سوال کا کیا جواب دیا تھا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہی جس کو لوگ رجبیہ کہتے ہیں۔

۔ (۴۶۸۷)۔ عَنْ أَبِيْ رَافِعٍ، قَالَ: ضَحّٰی رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِکَبْشَیْنِ أَمْلَحَیْنِ ((مَوْجِیَّیْنِ)) خَصِیَّیْنِ فَقَالَ: أَحَدُھُمَا عَمَّنْ شَھِدَ بِالتَّوْحِیْدِ وَ لَہُ بِالْبَلَاغِ، وَ الآخَرُ عَنْہُ وَ عَنْ أَھْلِ بَیْتِہِ، قَالَ: فَکَأَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ کَفَانَا۔ (مسند أحمد: ۲۴۳۶۱)

۔ مولائے رسول سیدنا ابو رافع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو چتکبرے اور خصی دنبوں کی قربانی کی، ایک دنبہ اللہ تعالیٰ کی توحید کا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حق میں پیغام پہنچا دینے والوں کی طرف سے تھے اور ایک دنبہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اہل بیت کی طرف سے تھا۔ سیدنا ابو رافع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: گویا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں کفایت کر دیا۔

۔ (۴۶۸۸)۔ عَنْ أَبِي الأشَدِّ السُّلَمِيِّ، عَنْ أَبِیْہِ، عَنْ جَدِّہِ۔ قَالَ: کُنْتُ سَابِعَ سَبْعَۃٍ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: فَأَمَرَنَا فَجَمَعَ کُلُّ رَجُلٍ مِنَّا دِرْھَمًا فَاشْتَرَیْنَا أُضْحِیَّۃً بِسَبْعِ الدَّرَاھِمِ فَقُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہ، لَقَدْ أَغْلَیْنَا بِھَا۔ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ أَفْضَلَ الضِّحَایَا أَغْلاھَا وَ أَسْمَنُھَا۔)) وَ أَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَخَذَ رَجُلٌ بِرِجْلٍ وَ رَجُلٌ بِرِجْلٍ وَ رَجُلٌ بِیَدٍ وَ رَجُلٌ بِیَدٍ وَ رَجُلٌ بِقَرْنٍ وَ رَجُلٌ بِقَرْنٍ وَ ذَبَحَھَا السَّابِعُ وَ کَبَّرْنَا عَلَیْھَا جَمِیْعًا۔ (مسند أحمد: ۱۵۵۷۵)

۔ ابو اشد سلمی اپنے باپ سے اور وہ ان کے دادا (سیدنا ابو المعلی یا سیدنا عمرو بن عبسہ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بیان کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: ہم کل سات افراد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں حکم دیا اور ہم میں سے ہر ایک نے ایک ایک درہم جمع کیا اور ہم نے سات درہموں کے عوض قربانی کا ایک جانور خرید تو لیا لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتلاتے ہوئے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم نے تو بہت مہنگا جانور لیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سب سے زیادہ فضیلت والی قربانی وہ ہے، جس کی قیمت سب سے زیادہ ہو اور جو سب سے زیادہ موٹی تازی ہو۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حکم دیا اور ایک آدمی نے پچھلی ٹانگ کو، دوسرے نے بھی دوسری پچھلی ٹانگ کو، ایک نے اگلی ٹانگ کو، دوسرے نے دوسری اگلی ٹانگ کو، ایک نے ایک سینگ کو اور دوسرے نے دوسرے سینگ کو پکڑا اور ساتویں آدمی نے اس کو ذبح کیا اور ہم سب نے تکبیر کہی تھی۔