۔ حنش سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انھوں نے دو دنبوں کی قربانی کی، میں نے ان سے کہا: یہ کیا ہے؟ انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے وصیت کی کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے قربانی کروں۔
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے دو دنبوں کی قربانی کروں، پس میں چاہتا ہوں کہ یہ کام کروں۔ محمد بن عبید محاربی نے اپنی حدیث میں کہا: انھوں نے دو دنبوں کی قربانی کی، ایک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے اور دوسری اپنی طرف سے، جب ان سے پوچھا گیا تو انھوں نے کہا: بیشک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا تھا، پس میں اس کو کبھی بھی نہیں چھوڑوں گا۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن قرط رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے عظیم قربانی والا دن ہے، اس کے بعد روانگی کا دن ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف پانچ چھ اونٹ قریب کیے گئے، وہ اونٹ خود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف قریب ہونے لگے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کس سے شروع کریں گے، پس جب ان کے پہلو گر گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آہستہ سے کوئی بات کی، میں اس کو نہ سمجھ سکا، پس میں نے اپنے قریب والے ایک آدمی سے سوال کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا فرمایا ہے؟ اس نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو چاہتا ہے، گوشت کا ٹ لے۔